Resources Word

Wars and Rumors of Wars: A Biblical View from Genesis to the End Time

جنگیں اور جنگوں کی افواہیں — پیدائش سے آخری زمانہ تک ایک بائبلی نظر

جنگ اور جنگوں کی افواہیں

پیدایش سے مکاشفہ تک — موجودہ زمانہ کی روشنی میں 🟦

آج کی دنیا میں جنگوں کی خبریں، سیاسی کشیدگیاں اور قوموں کے درمیان تناؤ عام بات بن چکی ہے۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ یہ حالات اچانک پیدا نہیں ہوئے بلکہ انسانی تاریخ کے آغاز سے ہی ایک خاص روحانی اور زمینی جدوجہد جاری ہے۔ خدا کا کلام اس پوری تاریخ کو ایک روحانی ترتیب کے ساتھ بیان کرتا ہے۔

پیدایش میں جنگ کی روح کا آغاز

انسانی تاریخ میں پہلی خونریزی ہمیں کتابِ پیدایش میں نظر آتی ہے۔ آدم اور حوا کے گناہ کے بعد جب انسان خدا کی کامل حضوری سے دور ہوا تو انسانی دل کی حالت بھی بدل گئی۔ اسی بدلتی ہوئی حالت کا پہلا واضح اظہارقاؔئنِ اور ہابل کے واقعہ میں ظاہر ہوا۔
پیدایش 4:8 میں لکھا ہے:🔹
“ اور قاؔئنِ نے اپنے بھائی ہاؔبل کو کُچھ کہا اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یُوں ہوا کہ قاؔئنِ نے اپنے بھائی ہاؔبل پر حملہ کِیا اور اُسے قتل کر ڈالا ۔”

یہ واقعہ صرف ایک خاندانی جھگڑا نہیں تھا بلکہ ایک گہری روحانی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ قاؔئنِ کے دل میں حسد اس وقت پیدا ہوا جب خدا نے ہابل کی قربانی قبول کی اور اس کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ اس حسد نے جلد ہی نفرت اور پھر قتل کی شکل اختیار کر لی۔ اس طرح انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ خون بہایا گیا۔ بائبل ہمیں دکھاتی ہے کہ گناہ صرف خدا سے جدائی ہی پیدا نہیں کرتا بلکہ انسان کو انسان کے خلاف بھی کھڑا کر دیتا ہے۔ اسی مقام سے دشمنی، قتل اور خونریزی کی وہ روح دنیا میں ظاہر ہوئی جو بعد میں قوموں اور سلطنتوں کی جنگوں کی صورت میں بار بار ظاہر ہوتی رہی۔

اگر ہم پیدایش کی کتاب کو آگے پڑھیں تو ہمیں جلد ہی ایک وسیع تر جنگ کا ذکر بھی ملتا ہے۔ پیدایش باب 14 میں کئی بادشاہوں کے درمیان ایک بڑی لڑائی کا بیان ہے۔ اس جنگ میں مختلف شہروں اور علاقوں کے بادشاہ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو گئے۔

پیدایش 14:2 میں ذکر ہے کہ یوُں ہوا کہ اُنہوں نے سؔدوم کے بادشاہ برَعؔ اور عمؔورہ کے بادشاہ برؔشع اور ادمؔہ کے بادشاہ سنؔی اب اور ضبوئیم کے بادشاہ شؔمیبر اور باؔلع یعنی ضُغر کے بادشاہ سے جنگ کی۔ یہ انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے جب بائبل واضح طور پر قوموں اور سلطنتوں کے درمیان جنگ کا ذکر کرتی ہے۔

یہ واقعہ ہمیں دکھاتا ہے کہ جس روح نے پہلے ایک خاندان کے اندر قتل پیدا کیا تھا وہ اب قوموں کے درمیان تصادم کی صورت میں ظاہر ہونے لگی۔ انسانی معاشرہ بڑھتا گیا، مگر دل کی وہی حالت باقی رہی۔ اس لیے تاریخ میں بار بار طاقت، زمین اور اقتدار کے لیے جنگیں ہوتی رہیں۔ اس حقیقت کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ جنگ صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی فطرت کی گہری روحانی خرابی کا نتیجہ ہے۔

اسی پس منظر کو دیکھتے ہوئے بعد میں مکاشفہ کی کتاب میں لال گھوڑے کی علامت سامنے آتی ہے جس کے بارے میں لکھا ہے کہ اسے زمین سے صلح اٹھا لینے کا اختیار دیا گیا۔ جب ہم پیدایش سے مکاشفہ تک کلام کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خونریزی کی یہ روح تاریخ کے آغاز سے کام کرتی رہی ہے اور آخری زمانہ میں اس کی شدت اور بھی بڑھتی جائے گی۔

مختصر طور پر کہا جائے تو پیدایش میں قائن اور ہابل کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جنگ کی اصل جڑ انسان کے دل میں ہے، اور یہی جڑ بعد میں خاندانوں، قوموں اور سلطنتوں کے درمیان بڑی جنگوں کی صورت میں ظاہر ہوتی رہی۔

لال گھوڑے کی روح — پیدایش سے جاری

جب رسول یوحنا نے مکاشفہ کی رویا دیکھی تو اسے زمین پر کام کرنے والی مختلف روحانی قوتوں کی تصویر دکھائی گئی۔ سات مہروں کے کھلنے کے ساتھ چار گھوڑے ظاہر ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک لال گھوڑا ہے جو خاص طور پر جنگ اور خونریزی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔

مکاشفہ 6:4 🔹

“پھِر ایک اور گھوڑا نِکلا جِس کا رنگ لال تھا۔ اُس کے سوار کو یہ اِختیّار دِیا گیا کہ زمِین پر سے صُلح اُٹھا لے تاکہ لوگ ایک دُوسرے کو قتل کریں اور اُسے ایک بڑی تلوار دی گئی۔”

یہ منظر ہمیں بتاتا ہے کہ زمین پر ایسی ایک روحانی قوت کام کرتی ہے جو امن کو ختم کر کے انسانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیتی ہے۔ جب یہ روح سرگرم ہوتی ہے تو معاشروں میں نفرت، قوموں میں دشمنی اور دنیا میں جنگیں بڑھنے لگتی ہیں۔

خدا کے خادم ولیم مارین برینہم نے سات مہروں کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گھوڑے دراصل مختلف روحانی قوتوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو تاریخ کے مختلف زمانوں میں ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق لال گھوڑا اس روح کو ظاہر کرتا ہے جو زمین سے امن اٹھا لیتی ہے اور انسان کو خونریزی کی طرف دھکیلتی ہے۔

برادر برینہم نے یہ بھی سمجھایا کہ یہ روح صرف مکاشفہ کے زمانہ میں اچانک ظاہر نہیں ہوئی بلکہ انسانی تاریخ کے آغاز سے ہی کام کرتی رہی ہے۔ مکاشفہ میں ہمیں اس روح کا ایک واضح اور علامتی اظہار دکھایا گیا ہے، لیکن اس کی جڑیں بہت پہلے سے موجود تھیں۔ جب ہم پیدایش کی کتاب میں قائن اور ہابل کا واقعہ دیکھتے ہیں تو وہاں پہلی مرتبہ وہی روح نظر آتی ہے جس نے ایک بھائی کو دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا۔ یہی روح بعد میں قوموں، سلطنتوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان جنگوں کی صورت میں ظاہر ہوتی رہی۔

برادر برینہم نے یہ بھی وضاحت کی کہ مکاشفہ میں دکھائے گئے گھوڑوں کے رنگ دراصل ایک ہی نظام یا روح کے مختلف مرحلے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ کبھی یہ دھوکے کی صورت میں آتی ہے، کبھی ظلم کی صورت میں اور کبھی کھلی جنگ اور خونریزی کی صورت میں۔ لال رنگ خاص طور پر خون اور قتل کی علامت ہے، اس لیے لال گھوڑا دنیا میں جنگوں کے بڑھنے کو ظاہر کرتا ہے۔

اگر ہم انسانی تاریخ کو غور سے دیکھیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ پیدایش سے لے کر آج تک دنیا مسلسل جنگوں اور تنازعات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ سلطنتیں اٹھتی اور گرتی رہی ہیں، قومیں ایک دوسرے کے خلاف لڑتی رہی ہیں اور زمین پر امن بار بار ٹوٹتا رہا ہے۔ یہ سب کچھ اسی روحانی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے مکاشفہ کی کتاب لال گھوڑے کے ذریعے ظاہر کرتی ہے۔

آخری زمانہ میں جب قومیں پہلے سے زیادہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہوں گی تو یہ نشان اور بھی واضح ہو جائے گا کہ زمین سے صلح اٹھتی جا رہی ہے اور دنیا ایک بڑے نبوتی دور میں داخل ہو رہی ہے۔

یسوع مسیح کی آخری زمانہ کی پیشگوئی

جب یسوع مسیح یروشلیم کی ہیکل سے نکل رہے تھے تو شاگردوں نے اُن سے آنے والے زمانوں کے بارے میں سوال کیا۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ دنیا کے اختتام اور مسیح کی آمد سے پہلے کون سی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ اس سوال کے جواب میں یسوع نے اُنہیں چند اہم روحانی اور تاریخی نشانیاں بتائیں۔ ان نشانیوں میں ایک نمایاں نشان جنگیں اور جنگوں کی افواہیں ہیں۔

متی 24باب6-7 🟦
“اور تُم لڑائِیاں اور لڑائِیوں کی افواہ سُنو گے۔ خَبردار! گھبرا نہ جانا! کِیُونکہ اِن باتوں کا واقِع ہونا ضرُور ہے لیکِن اُس وقت خاتِمہ نہ ہوگا۔
کِیُونکہ قَوم پر قَوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھُونچال آَئیں گے۔”

یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ آخری زمانہ میں دنیا ایک ایسی حالت میں داخل ہو گی جہاں مسلسل بے چینی اور خوف کا ماحول ہوگا۔ جنگ صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مختلف قومیں اور سلطنتیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہوں گی۔ یہاں یسوع نے صرف جنگ کا ذکر نہیں کیا بلکہ جنگوں کی افواہوں کا بھی ذکر کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں ایسا ماحول پیدا ہوگا جہاں مسلسل جنگ کا خطرہ محسوس کیا جائے گا، قومیں ہتھیار جمع کریں گی اور عالمی سیاست کشیدگی سے بھری ہوگی۔

اگر ہم موجودہ زمانہ کو دیکھیں تو یہ الفاظ اور بھی واضح محسوس ہوتے ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں۔ مختلف خطوں میں جنگیں جاری ہیں اور کئی مقامات پر جنگ کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ عالمی اتحاد، فوجی معاہدے، جدید ہتھیار اور ایٹمی طاقتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قومیں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ سب حالات ہمیں یسوع کے الفاظ کی یاد دلاتے ہیں کہ آخری زمانہ میں قوم قوم کے خلاف اور سلطنت سلطنت کے خلاف اٹھے گی۔

اس کے باوجود یسوع نے ایک اہم بات بھی کہی: “خبردار گھبرا نہ جانا۔” یعنی ایماندارکے لیے یہ حالات حیران کن نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ خدا کے کلام نے پہلے ہی ان کا ذکر کر دیا ہے۔ یہ واقعات ہمیں اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ خدا کے منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے اور دنیا ایک ایسے مرحلے کی طرف جا رہی ہے جہاں خدا کی بادشاہی ظاہر ہونے والی ہے۔

موجودہ عالمی صورتحال — اسرائیل، امریکہ اور ایران

مشرقِ وسطیٰ ایک طویل عرصہ سے عالمی سیاست کا مرکز رہا ہے، مگر حالیہ برسوں میں یہاں کی کشیدگی نے پوری دنیا کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ خاص طور پر اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تنازع ایک بڑی بین الاقوامی کشمکش کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔

فروری 2026 کے آخر میں حالات اس وقت زیادہ سنگین ہو گئے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اندر مختلف عسکری اور اسٹریٹیجک مقامات پر حملے شروع کیے۔ ان حملوں کا مقصد ایران کے میزائل، عسکری اور جوہری پروگرام کو کمزور کرنا بتایا گیا۔ اس کارروائی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑے فوجی تصادم کی طرف دھکیل دیا۔

ان حملوں کے بعد ایران نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔ کئی مقامات پر فوجی تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جس سے پورے خطے میں عدمِ استحکام پیدا ہو گیا۔

اس جنگ کا اثر صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا۔ مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود کے بند ہونے سے عالمی فضائی سفر شدید متاثر ہوا اور ہزاروں پروازیں منسوخ یا تبدیل کرنی پڑیں۔ تیل اور توانائی کی عالمی سپلائی بھی متاثر ہوئی، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا۔

اسی دوران ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے مختلف ممالک میں سائبر حملوں اور غیر روایتی جنگ کے طریقوں کا بھی استعمال دیکھا گیا، جس سے یہ تنازع صرف عسکری نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں بھی پھیلنے لگا۔

ان واقعات کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش کا حصہ بن سکتی ہے۔ جب بڑے ممالک ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔

نبوتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے عالمی تاریخ اور بائبل کی پیشگوئیوں کا مرکز رہا ہے۔ اسی خطے میں اسرائیل موجود ہے جس کے گرد اکثر بڑی سیاسی اور فوجی کشمکش پیدا ہوتی رہی ہے۔ جب ہم موجودہ حالات کو بائبل کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو یسوع مسیح کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں کہ قوم قوم پر اور سلطنت سلطنت پر چڑھائی کرے گی۔

یہ سب واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دنیا مسلسل بے چینی کے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں امن کم اور کشیدگی زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایماندارکے لیے یہ حالات خوف کا باعث نہیں بلکہ بیداری کا سبب ہونے چاہئیں، کیونکہ خدا کا کلام پہلے ہی بتا چکا ہے کہ آخری زمانہ میں زمین پر ایسی ہی بے چینی ظاہر ہوگی۔

عالمی سیاست کا روحانی پہلو

جب ہم دنیا کی سیاست اور جنگوں کو دیکھتے ہیں تو اکثر یہ سب کچھ صرف انسانی منصوبوں، طاقت کی خواہش یا قومی مفادات کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر بائبل اس سے ایک گہری حقیقت ظاہر کرتی ہے۔ کلامِ مقدس کے مطابق زمین پر ہونے والے بہت سے واقعات کے پیچھے صرف انسانی قوتیں نہیں بلکہ روحانی قوتیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسی لیے پولس رسول ایمانداروں کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کشمکش صرف زمینی سطح پر نہیں بلکہ ایک روحانی دائرے میں بھی جاری ہے۔

افسیوں 6:12 🔹

“ کِیُونکہ ہمیں خُون اور گوشت سے کُشتی نہِیں کرنا ہے بلکہ خُکُومت والوں اور اِختیّار والوں اور اِس دُنیا کی تارِیکی کے حاکِموں اور شرارت کی اُن رُوحانی فَوجوں سے جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔”

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کے نظام کے پیچھے مختلف روحانی اثرات بھی کام کرتے ہیں۔ بعض اوقات قومیں ایک دوسرے کے خلاف اس شدت سے کھڑی ہو جاتی ہیں کہ انسانی عقل سے اس کی مکمل وجہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بائبل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زمین پر ہونے والی بہت سی لڑائیاں دراصل ایک بڑی روحانی کشمکش کا حصہ ہیں جو اچھائی اور بدی کے درمیان جاری ہے۔

پرانے عہد نامہ میں بھی ہمیں اس حقیقت کی جھلک ملتی ہے۔ دانی ایل 10 باب میں بیان ہے کہ جب دانی ایل دعا کر رہا تھا تو ایک فرشتہ اس کے پاس آیا اور بتایا کہ فارس کی سلطنت کے ایک روحانی “سردار” نے اس کی راہ روکی۔ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قوموں کے پیچھے روحانی قوتوں کا ایک نظام بھی کام کرتا ہے جو زمینی واقعات کو متاثر کرتا ہے۔

اسی تناظر میں مکاشفہ کی کتاب میں لال گھوڑے کی علامت سامنے آتی ہے۔ لال گھوڑا اس روح کی تصویر ہے جو زمین سے صلح اٹھا لیتی ہے اور انسانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتی ہے۔ جب یہ روح غالب ہوتی ہے تو معاشروں میں نفرت بڑھتی ہے، قوموں کے درمیان دشمنی پیدا ہوتی ہے اور دنیا میں جنگوں کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔

خدا کے خادم برادر برینہم نے بھی اپنی تعلیم میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مکاشفہ کے گھوڑے صرف تاریخی واقعات نہیں بلکہ ایسی روحانی قوتوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو مختلف زمانوں میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو بار بار ایسے ادوار نظر آتے ہیں جہاں دنیا پر جنگ اور خونریزی کا سایہ گہرا ہو جاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی تاریخ صرف سیاسی کہانی نہیں بلکہ ایک روحانی جدوجہد کا حصہ بھی ہے۔

اس لیے ایماندار کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف زمینی خبروں کو نہ دیکھے بلکہ خدا کے کلام کی روشنی میں دنیا کے حالات کو سمجھے۔ جب دنیا میں بے چینی اور جنگیں بڑھتی ہیں تو یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین کے نظام عارضی ہیں، مگر خدا کی بادشاہی قائم رہنے والی ہے۔ ایماندار کی نگاہ آخرکار اسی بادشاہی پر رہتی ہے جہاں حقیقی امن اور راستبازی ہمیشہ قائم رہے گی۔

اسرائیل کا نبوت میں کردار

بائبل کی نبوتوں میں اسرائیل کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اگر ہم کلامِ مقدس کی تاریخ کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے منصوبے میں یہ قوم مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ابرہام کے زمانہ سے لے کر انبیاء کے دور تک اور پھر نئے عہد نامہ میں بھی اسرائیل خدا کے منصوبۂ نجات کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اسی لیے بہت سی نبوتیں اس قوم اور اس کی سرزمین کے گرد گھومتی ہیں۔

یسوع مسیح نے بھی یروشلم اور اسرائیل کے بارے میں ایک اہم پیشگوئی بیان کی۔

لوقا 21:24 🔹

“یروشلِیم غَیر قَوموں سے پامال ہوتی رہے گی۔”

یہ الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک طویل عرصہ تک یروشلم اور اسرائیل پر غیر قوموں کا اثر اور تسلط رہے گا۔ تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ یروشلم مختلف سلطنتوں کے قبضے میں رہا—رومی، بازنطینی، عرب، عثمانی اور بعد میں دیگر قوتیں بھی اس خطے پر اثر انداز رہیں۔ مگر وقت کے ساتھ اسرائیل دوبارہ ایک قوم کے طور پر ظاہر ہوا اور یہ واقعہ بہت سے بائبلی مبصرین کے نزدیک نبوتی اہمیت رکھتا ہے۔

آخری زمانہ کے تناظر میں اسرائیل کے اردگرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بھی ایک اہم نشان سمجھا جاتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی بہت سی جنگیں اسی خطے کے گرد ہوتی رہی ہیں۔ مختلف قومیں اور عالمی طاقتیں اس علاقے میں اپنے مفادات رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے یہاں سیاسی اور فوجی تناؤ بار بار پیدا ہوتا ہے۔ بائبل کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ صورتحال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اسرائیل کی سرزمین عالمی توجہ کا مرکز بنتی رہے گی۔

انبیاء نے بھی اس خطے کے بارے میں کئی باتیں بیان کی ہیں۔ مثال کے طور پر زکریاہ 12باب2-3 میں یروشلم کو ایک ایسے “پیالۂ لڑکھڑاہٹ” کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کے باعث بہت سی قومیں متاثر ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یروشلم اور اس کے اردگرد کے حالات عالمی سطح پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اس لیے جب ہم موجودہ عالمی حالات میں اسرائیل کے اردگرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگوں کو دیکھتے ہیں تو یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بائبل کی نبوتیں تاریخ کے ساتھ ساتھ اپنی تکمیل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ مگر ایماندارکے لیے اصل توجہ اس بات پر رہتی ہے کہ خدا اپنے منصوبے کو پورا کر رہا ہے اور آخرکار اس کا مقصد راستبازی اور امن کی بادشاہی کو قائم کرنا ہے۔

دُلہن کے لیے پیغام

جب دنیا میں جنگیں بڑھتی ہیں، قومیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں اور انسان خوف اور بے چینی میں مبتلا ہوتا ہے توایماندارکے لیے خدا کا کلام ایک مختلف راستہ دکھاتا ہے۔ بائبل ہمیں سکھاتی ہے کہ خدا کے لوگوں کو ان حالات میں گھبراہٹ یا مایوسی میں نہیں بلکہ روحانی بیداری میں رہنا چاہیے۔ دنیا کے حالات بدلتے رہتے ہیں، مگر خدا کا منصوبہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔

یسوع مسیح نے آخری زمانہ کے انہی حالات کا ذکر کرتے ہوئے ایک اہم ہدایت دی۔
لوقا 21:28 🔹

“ اور جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہو کر سر اُوپر اُٹھانا اِس لِئے کہ تُمہاری مخلصی نزدِیک ہوگی۔”

یہ الفاظ ایماندارکے دل میں ایک مختلف امید پیدا کرتے ہیں۔ دنیا کے لیے جنگیں اور بحران خوف کا باعث ہو سکتے ہیں، مگر خدا کے لوگوں کے لیے یہ اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ خدا کا وعدہ اپنی تکمیل کے قریب ہے۔ جب زمین پر بے چینی بڑھتی ہے توایماندار اپنے دل کو خدا کے کلام کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے اور اپنے بلائے جانے کو یاد کرتا ہے۔

خدا کی دُلہن کے لیے یہ وقت خاص طور پر روحانی بیداری اور تیاری کا ہے۔ دنیا کے شور اور سیاسی کشمکش کے درمیان ایماندار کی نگاہ مسیح پر رہتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ زمینی سلطنتیں عارضی ہیں، مگر خدا کی بادشاہی قائم رہنے والی ہے۔ اسی لیے ایمان رکھنے والے لوگ دنیا کے حالات کو صرف خبروں کی طرح نہیں دیکھتے بلکہ انہیں خدا کے منصوبے کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔

جب جنگیں اور افواہیں بڑھتی ہیں تو دُلہن کے لیے اصل پیغام یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط رکھے، دعا میں قائم رہے اور خدا کے کلام کے ساتھ اپنی زندگی کو درست کرے۔ یہ وقت گھبراہٹ کا نہیں بلکہ بیداری کا ہے، کیونکہ ایماندار جانتا ہے کہ خدا کا وعدہ کبھی ناکام نہیں ہوتا اور جو کچھ کلام میں لکھا ہے وہ اپنے وقت پر پورا ہوگا۔

اختتامی خیال

پیدایش سے آج تک انسان کی تاریخ جنگوں اور خونریزی سے بھری رہی ہے۔ یہی وہ حالت ہے جسے مکاشفہ میں لال گھوڑے کی علامت سے ظاہر کیا گیا ہے جو زمین سے صلح اٹھا لیتا ہے۔

مگر ایمان رکھنے والا جانتا ہے کہ تاریخ بے مقصد نہیں چل رہی۔ سب کچھ خدا کے منصوبہ میں اپنے وقت پر پورا ہو رہا ہے۔

مکاشفہ 11:15 🔹

“ اور جب ساتویں فرِشتہ نے نرسِنگا پھُونکا تو آسمان پر بڑی آوازیں اِس مضمُون کی پَیدا ہُوئیں کہ دُنیا کی بادشاہی ہمارے خُداوند اور اُس کے مسِیح کی ہو گئی اور وہ ابدُالآباد بادشاہی کرے گا۔”

اس لیے ایماندارکی نظر صرف دنیا کی سیاست پر نہیں بلکہ خدا کے کلام پر رہتی ہے، کیونکہ آخرکار حقیقی حکومت مسیح کی ہی قائم ہوگی۔

براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔

✝️
جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)

مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج
از ہلسنکی فن لینڈ

1 thought on “Wars and Rumors of Wars: A Biblical View from Genesis to the End Time”

Leave a Comment