Resources Word

From Armageddon to Gog and Magog, Understanding the Final Events of Bible Prophecy.

ہرمجدون، ہزار سالہ بادشاہت اور جوج و ماجوج , آخری زمانہ کی مکمل ترتیب

(کلام اور پیغام کی روشنی میں ایک مکمل سمجھ)

جنگِ ہرمجدون ,خدا اور انسانی نظام کا آخری ٹکراؤ

جنگِ ہرمجدون آخری زمانہ کا وہ فیصلہ کن مرحلہ ہے جہاں زمین کا پورا نظام خدا کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے اور خداوند یسوع مسیح اپنی دُلہن کے ساتھ ظاہر ہو کر اس بغاوت کا خاتمہ کرتا ہے۔
مکاشفہ 16باب13-16 ●
میں بتایا گیا ہے کہ ناپاک روحیں دنیا کے بادشاہوں کو اکٹھا کرتی ہیں تاکہ وہ “خدا قادرِ مطلق کے بڑے دن کی لڑائی” کے لیے جمع ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگ صرف زمینی نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی پس منظر رکھتی ہے۔
یوایل 3باب9-14 ●
یوایل نبی بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قومیں خدا کے فیصلے کے لیے اکٹھی کی جاتی ہیں۔ اس لیے ہرمجدون کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایک عالمی روحانی تصادم کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ صرف ایک فوجی لڑائی کے طور پر۔

مسیح کی آمد اور کلام کی عدالت , مختصر مگر گہری سمجھ

مکاشفہ 19باب11-16 ●

میں یسوع مسیح کی واپسی ایک جلالی اور سنجیدہ منظر کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ وہ سفید گھوڑے پر جو سَچّا اور برحق کہلاتا ہے اور وہ راستی کے ساتھ اِنصاف اور لڑائی کرتا ہے۔ اور اُس کی آنکھیں آگ کے شعلے ہیں اور اُس کے سر پر بہُت سے تاج ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب صرف نجات دہندہ نہیں بلکہ ایک عادل بادشاہ اور منصف کے طور پر آتا ہے۔ یہاں اُس کی آمد فضل کے لیے نہیں بلکہ عدالت کے لیے ہے۔

اُس کے منہ سے نکلنے والی تلوار دراصل کلامِ خدا کی علامت ہے۔ عبرانیوں 4:12 کے مطابق ،کِیُونکہ خُدا کا کلام زِندہ اور مؤثّر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زِیادہ تیز ہے اور جان اور رُوح اور بند بند اور گُودے گُودے کو جُدا کر کے گُذر جاتا ہے اور دِل کے خیالوں اور اِرادوں کو جانچتا ہے۔۔ اس کا مطلب ہے کہ عدالت صرف ظاہری اعمال پر نہیں بلکہ دل کی حالت پر ہوگی۔
یوحنا 12:48 ●
میں یسوع فرماتا ہے کہ جو مُجھے نہِیں مانتا اور میری باتوں کو قُبُول نہِیں کرتا اُس کا ایک مُجرم ٹھہرانے والا ہے یعنی جو کلام مَیں نے کِیا ہے آخری دِن وُہی اُسے مُجرم ٹھہرائے گا۔

برادر برینہم نے سکھایا کہ مسیح ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے کلام سے فتح حاصل کرتا ہے، اور ہر انسان کا فیصلہ اسی کلام کے مطابق ہوگا جو اُس کے زمانے میں بھیجا گیا۔
یسعیاہ11:4 ●
بھی یہی دکھاتا ہے کہ بلکہ وہ راستی سے مسکینوں کا انصاف کریگا اور عدل سے زمین کے خاکساروں کا فیصلہ کریگا اور اپنی زبان کلے عصا سے زمین کو ماریگا اور اپنے لبوں کے دم سے شریروں کو فنا کرڈالیگا۔

یہ سچائی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان جس کلام کو آج سنتا ہے، وہی کل اُس کے سامنے گواہی دے گا۔ اسی میں زندگی بھی ہے اور اسی میں عدالت بھی۔

مخالفِ مسیح کا نظام اور اُس کی انتہا

کلام ہمیں دکھاتا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک ایسا نظام قائم ہوتا ہے جو مذہبی اور سیاسی دونوں پہلوؤں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ 2 تھسلنیکیوں 2باب3-10 میں اس “گناہ کے آدمی” کا ذکر ہے جو دھوکے اور جھوٹے نشانوں کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ مکاشفہ 13باب16-18 میں اُس کے نشان کا ذکر ہے جو لوگوں کو ایک خاص نظام کے تابع کر دیتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ نشان صرف کوئی ظاہری چیز نہیں بلکہ ایک روحانی قبولیت ہے، یعنی انسان کا کلام کے خلاف نظام کو قبول کرنا۔ یہی نظام آخر میں ہرمجدون میں اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔

یہ نظام ظاہری طور پر مذہب کا رنگ رکھتا ہے مگر اُس کی بنیاد سچائی پر نہیں بلکہ سمجھوتے پر ہوتی ہے۔ دانی ایل 7:25 میں لکھا ہے کہ اور وہ حق تعالٰی کے مُقدسوں کو تنگ کرے گااور مُقررہ اُوقات و شریعت کو بدلنے کی کوشش کرے گا، یعنی اصل کلام کو بدلنے کی روح اس نظام میں کام کرتی ہے۔ مکاشفہ 17 ہمیں دکھاتا ہے کہ یہ ایک متحدہ مذہبی طاقت ہے جو دنیا کے بادشاہوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ برادر برینہم نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ آخری دھوکہ یہی ہوگا کہ لوگ کلام کو چھوڑ کر ایک منظم مذہبی نظام کو قبول کر لیں گے۔ اسی لیے یہ صرف ایک سیاسی یا مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ کلام کے ساتھ وفاداری کا امتحان ہے۔ اور آخر میں یہی نظام خدا کے کلام کے سامنے ٹھہر نہیں پاتا بلکہ مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

ہرمجدون میں عدالت اور ہلاکت

جب ہرمجدون کی جنگ اپنے نقطۂ عروج پر پہنچتی ہے تو مسیح اپنی عدالت کو نافذ کرتا ہے۔ مکاشفہ 19باب20-21 کے مطابق حیوان اور جھوٹا نبی پکڑے جاتے ہیں اور آگ کی جھیل میں ڈالے جاتے ہیں، جبکہ اُن کے پیروکار بھی ہلاک ہوتے ہیں۔ مکاشفہ 14باب9-10 واضح کرتا ہے کہ جو لوگ مخالفِ مسیح کا نشان لیتے ہیں وہ خدا کے غضب کا پیالہ پیتے ہیں۔ یہ مکمل اور حتمی عدالت ہے جہاں باغی نظام ختم ہو جاتا ہے اور کوئی درمیانی راستہ باقی نہیں رہتا۔

یہاں زکریاہ 14:12 میں ایک سخت منظر بیان ہوتا ہے کہ خدا کا عذاب اُن پر نازل ہوتا ہے جو اُس کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ 2 تھسلنیکیوں 1باب7-9 بھی ظاہر کرتا ہے کہ خداوند اپنی قدرت کے ساتھ اُن لوگوں سے بدلہ لیتا ہے جو خدا کو نہیں مانتے۔ یہ وہ وقت ہے جب کلام اپنی پوری طاقت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور ہر جھوٹ کو ختم کر دیتا ہے۔ یہ عدالت کسی جذبات پر نہیں بلکہ سچائی پر مبنی ہوتی ہے۔ اور آخر میں صرف وہی باقی رہتا ہے جو کلام کے ساتھ کھڑا تھا۔

کون بچ جائیں گے؟ قوموں کی عدالت کی روشنی میں

اگرچہ یہ جنگ بہت بڑی تباہی لاتی ہے، مگر کلام یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ سب لوگ ختم نہیں ہوتے۔ متی 25باب31-46 میں یسوع قوموں کی عدالت کرتا ہے اور “بھیڑوں” کو “بکریوں” سے جدا کرتا ہے۔ جو لوگ راستبازی کے مطابق عمل کرتے ہیں اُنہیں بادشاہی میں داخل ہونے دیا جاتا ہے۔
زکریاہ 14:16 ●
اور یروشیلم سے لڑنے والی قوموں میں سے جو بچ رہیں گی سال بسال بادشاہ ربُ لافواج کو سجدہ کرنے اور عید خیام منانے کو آئیں گے۔
اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کچھ قومیں باقی رہتی ہیں جو بادشاہ کی عبادت کے لیے آئیں گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مخالفِ مسیح کا نشان نہیں لیا اور مکمل بغاوت کا حصہ نہیں بنے، اگرچہ وہ دُلہن کا حصہ بھی نہیں ہوتے۔

یہ لوگ دراصل ایک درمیانی حالت میں ہوتے ہیں، نہ وہ مکمل انکار کرنے والے ہوتے ہیں اور نہ ہی دُلہن کی طرح مکمل کلام میں ہوتے ہیں۔ رومیوں 2باب14-15 ہمیں دکھاتا ہے کہ کچھ لوگ فطری طور پر راستبازی کے مطابق عمل کرتے ہیں، حالانکہ اُن کے پاس مکمل روشنی نہیں ہوتی۔ برادر برینہم کے مطابق یہ “قومیں” ہیں جو ہزار سالہ بادشاہت میں داخل ہوں گی اور زمین پر زندگی گزاریں گی۔ یہ لوگ انسانی جسم میں رہتے ہوئے مسیح کی حکومت کے تابع ہوں گے اور نئی نسل پیدا کریں گے۔ مگر اُن کے دل کی مکمل آزمائش ابھی باقی ہوتی ہے، جو بعد میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس طرح خدا کا انصاف نہایت متوازن اور مکمل نظر آتا ہے۔

ہزار سالہ بادشاہت , زمین کی بحالی

مکاشفہ 20باب1-6 کے مطابق ہرمجدون کے بعد ایک نیا دور شروع ہوتا ہے جسے ہزار سالہ بادشاہت کہا جاتا ہے۔ اس دوران شیطان قید ہوتا ہے، مسیح زمین پر حکومت کرتا ہے، اور دُلہن اُس کے ساتھ بادشاہی کرتی ہے۔یسعیاہ 2باب:2-4 اور یسعیاہ11باب6-9 ہمیں اس دور کی تصویر دکھاتے ہیں جہاں امن، انصاف اور بحالی ہوتی ہے۔ برادر برینہم نے سکھایا کہ یہ زمین کی اصل حالت کی بحالی ہے، جہاں وہ دوبارہ ایک درست نظم میں آ جاتی ہے جیسا کہ ابتدا میں تھا۔

اس دور میں زمین پر لعنت کا اثر کم ہو جاتا ہے اور فطرت ایک نئی ہم آہنگی میں آ جاتی ہے۔ یسعیاہ 65باب20-25 اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی لمبی اور پُرامن ہو گی، اور انسان خوف کے بغیر رہے گا۔ زکریاہ 8:4-5 میں بزرگ اور بچے امن کے ساتھ رہتے ہوئے دکھائے گئے ہیں، جو مکمل سکون کی علامت ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ وہ وقت ہے جب خدا کا وعدہ عملی طور پر زمین پر ظاہر ہوتا ہے اور انسان ایک ترتیب کے تحت زندگی گزارتا ہے۔ یہ دور ہمیں دکھاتا ہے کہ جب خدا کی حکومت قائم ہوتی ہے تو زمین اپنی اصل خوبصورتی میں واپس آ جاتی ہے۔

ہزار سالہ بادشاہت میں رہنے والے لوگ , تین گروہ

اس دور میں تین مختلف گروہ واضح ہوتے ہیں۔🔹
پہلا گروہ دُلہن ہے جو جلالی بدن میں مسیح کے ساتھ حکومت کرتی ہے۔
دوسرا گروہ وہ ایماندار ہیں جو مصیبت کے دوران وفادار رہے، جنہیں اکثر “عظیم مصیبت کے زمانہ کے ایماندار” کہا جاتا ہے۔
تیسرا گروہ وہ قومیں ہیں جو ہرمجدون سے بچ جاتی ہیں اور عام انسانی حالت میں زمین پر زندگی گزارتی ہیں۔ یہی قومیں نسل بڑھاتی ہیں اور اسی نسل میں سے آگے چل کر جوج و ماجوج کی بغاوت ظاہر ہوتی ہے۔

مکاشفہ 20:4 اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جو لوگ گواہی کی وجہ سے مارے گئے تھے وہ دوبارہ زندہ ہو کر مسیح کے ساتھ حکومت کرتے ہیں۔ یہ اُن ایمانداروں کی تصویر ہے جنہوں نے سخت آزمائش میں بھی وفاداری نہ چھوڑی۔ دُلہن کے بارے میں مکاشفہ 3:21 میں وعدہ ہے کہ وہ مسیح کے ساتھ اُس کے تخت پر بیٹھے گی، جو اُس کے خاص اور قریبی مقام کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ صرف نجات یافتہ نہیں بلکہ شریکِ حکومت ہے۔

جبکہ قومیں، جیسا کہ زکریاہ 14:16 میں لکھا ہے، بادشاہ کے حضور آتی ہیں اور اُس کی فرمانبرداری میں زندگی گزارتی ہیں۔ یہ لوگ عام انسانی جسم میں ہوتے ہیں، اُن کی زندگیاں جاری رہتی ہیں، وہ گھر بناتے ہیں، نسل بڑھاتے ہیں اور ایک منظم اور پُرامن معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ مگر اُن کے دلوں کی مکمل آزمائش ابھی باقی ہوتی ہے، کیونکہ اُنہوں نے جلالی تبدیلی نہیں پائی ہوتی۔

برادر برینہم کے مطابق یہ تینوں گروہ خدا کے منصوبہ میں الگ الگ مقام رکھتے ہیں: دُلہن حکمرانی کرتی ہے، مصیبت کے مقدس اپنی وفاداری کا اجر پاتے ہیں، اور قومیں زمین پر ایک نئے نظم کے تحت رہتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کی بادشاہی میں صرف نجات ہی نہیں بلکہ ترتیب، پہچان اور ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ اور ہر ایک کو اُس کے حصے کے مطابق جگہ دی جاتی ہے۔

جوج و ماجوج , آخری بغاوت کی حقیقت

جب ہزار سال مکمل ہوتے ہیں تو مکاشفہ 20باب7-8 کے مطابق شیطان کو تھوڑی دیر کے لیے چھوڑا جاتا ہے، اور وہ زمین کی قوموں کو گمراہ کرتا ہے جنہیں جوج اور ماجوج کہا گیا ہے۔ یہ کسی ایک قوم کا نام نہیں بلکہ ایک علامتی اظہار ہے اُن تمام لوگوں کے لیے جو خدا کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ حزقی ایل 38-39 میں بھی جوج کا ذکر ملتا ہے جو ایک پیشگی تصویر فراہم کرتا ہے۔ یہ بغاوت ظاہر کرتی ہے کہ انسان کا دل اگر تبدیل نہ ہو تو وہ بہترین حالات میں بھی خدا کے خلاف جا سکتا ہے۔

یہ لوگ وہی نسلیں ہیں جو ہزار سالہ بادشاہت کے دوران پیدا ہوئیں اور جنہوں نے کامل اطاعت کو دل سے قبول نہیں کیا۔ جب شیطان کو موقع ملتا ہے تو وہ اُن کے اندر چھپی ہوئی بغاوت کو ظاہر کر دیتا ہے۔ اس طرح آخری وقت میں واضح ہو جاتا ہے کہ کون حقیقت میں خدا کے ساتھ ہے اور کون صرف ظاہری امن میں چل رہا تھا۔

یہ لوگ کہاں سے آئے؟ ایک گہرا سوال

جوج و ماجوج دراصل وہی لوگ ہیں جو ہرمجدون سے بچ گئے تھے اور اُن کی نسلیں جو ہزار سالہ بادشاہت کے دوران پیدا ہوئیں۔ انہوں نے مخالفِ مسیح کا نشان نہیں لیا تھا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُن کے دل مکمل طور پر تبدیل ہو چکے تھے۔ یرمیاہ 17:9 ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دل فطری طور پر حیلہ باز ہے۔ اس لیے جب شیطان کو چھوڑا جاتا ہے تو وہ اُنہیں بہکا لیتا ہے اور وہ بغاوت میں شامل ہو جاتے ہیں۔

یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے کہ ظاہری اطاعت اور اندرونی تبدیلی ایک جیسی چیز نہیں ہیں۔ یہ لوگ ایک درست ماحول میں رہے، جہاں مسیح کی حکومت تھی، مگر اُن کے دلوں نے مکمل طور پر خدا کے کلام کو قبول نہیں کیا۔ اسی لیے آزمائش کے وقت اُن کی اصل حالت ظاہر ہو جاتی ہے۔ رومیوں 8:7 بھی بتاتا ہے کہ جسمانی ذہن خدا کی شریعت کے تابع نہیں ہو سکتا۔ برادر برینہم کے مطابق یہی وجہ ہے کہ آخر میں ایک آخری آزمائش ضروری ہے، تاکہ ہر دل کی حقیقت ظاہر ہو جائے۔ اس طرح خدا کی عدالت مکمل اور منصفانہ ثابت ہوتی ہے۔

آخری انجام , فوری اور حتمی عدالت

مکاشفہ 20:9 میں بتایا گیا ہے کہ جب یہ لوگ خدا کے خلاف جمع ہوتے ہیں تو آسمان سے آگ نازل ہوتی ہے اور اُنہیں فوراً ختم کر دیتی ہے۔ یہاں کوئی لمبی جنگ نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک فوری اور حتمی فیصلہ ہے۔ اس کے بعد شیطان کو بھی ہمیشہ کے لیے آگ کی جھیل میں ڈال دیا جاتا ہے، اور یوں ہر بغاوت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

یہ عدالت ظاہر کرتی ہے کہ خدا کے سامنے کوئی بغاوت آخر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ 2 پطرس 3:7 اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موجودہ نظام آگ کے لیے رکھا گیا ہے تاکہ عدالت کے دن ختم کیا جائے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ وہ لمحہ ہے جہاں وقت ختم ہوتا ہے اور ابدیت کا دروازہ کھلتا ہے۔ یہاں ہر چیز اپنے آخری انجام کو پہنچتی ہے اور صرف وہی باقی رہتا ہے جو خدا کی طرف سے ہے۔

روحانی سمجھ , نظام اور دل کی دو بغاوتیں

یہ پوری ترتیب دو مختلف حقیقتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ ہرمجدون ہمیں دکھاتا ہے کہ دنیا کا نظام خدا کے خلاف ہے، جبکہ جوج و ماجوج کی بغاوت ہمیں دکھاتی ہے کہ انسانی دل بھی بغیر نئی پیدائش کے وفادار نہیں رہتا۔ اسی لیے یسوع نے یوحنا 3:3 میں کہا کہ جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا۔ یہ تعلیم ہمیں ظاہری مذہب سے آگے لے جا کر اندرونی تبدیلی کی طرف بلاتی ہے۔

مکمل ترتیب , ایک سادہ اور واضح ٹائم لائن

یہ تمام واقعات ایک ترتیب میں سامنے آتے ہیں، اور اگر اسے سادہ انداز میں سمجھا جائے تو پوری تصویر آسان ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے دُلہن اُٹھائی جاتی ہے، جسے ہم ریپچرکہتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب سچے ایماندار جلالی بدن میں تبدیل ہو کر مسیح کے ساتھ ملتے ہیں (1 تھسلنیکیوں 4باب16-17)۔ اس کے بعد زمین پر مصیبت کا دور شروع ہوتا ہے، جہاں مخالفِ مسیح کا نظام ظاہر ہوتا ہے اور دنیا کو ایک بڑے دھوکے میں لے جاتا ہے (دانی ایل 9:27، مکاشفہ 13)۔

پھر اس مصیبت کا انجام جنگِ ہرمجدون پر ہوتا ہے، جہاں مسیح اپنی دُلہن کے ساتھ واپس آتا ہے اور باغی نظام کو ختم کرتا ہے (مکاشفہ 19باب11-21)۔ اس کے بعد ہزار سالہ بادشاہت قائم ہوتی ہے، جہاں شیطان قید ہوتا ہے اور مسیح زمین پر حکومت کرتا ہے، اور زمین امن اور بحالی میں آ جاتی ہے (مکاشفہ 20:1-6، یسعیاہ11باب6-9)۔

ہزار سال مکمل ہونے کے بعد شیطان کو تھوڑی دیر کے لیے چھوڑا جاتا ہے، اور وہ لوگوں کو ایک آخری بار بہکاتا ہے، جسے جوج و ماجوج کی بغاوت کہا جاتا ہے (مکاشفہ 20باب7-8)۔ مگر یہ بغاوت زیادہ دیر نہیں چلتی، کیونکہ خدا آسمان سے آگ نازل کر کے اسے فوراً ختم کر دیتا ہے (مکاشفہ 20:9)۔

آخر میں حتمی عدالت آتی ہے، جہاں ہر انسان اپنے اعمال کے مطابق فیصلہ پاتا ہے (مکاشفہ 20باب11-15)۔ اس طرح یہ پوری ترتیب ہمیں دکھاتی ہے کہ خدا ہر مرحلے میں صبر، عدالت اور سچائی کے ساتھ اپنا منصوبہ مکمل کرتا ہے، اور آخر میں صرف وہی باقی رہتا ہے جو اُس کے کلام کے ساتھ کھڑا تھا۔

آخری خاموش نصیحت

یہ تعلیم ہمیں خوف میں ڈالنے کے لیے نہیں بلکہ سیدھا کرنے کے لیے ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون بچ جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ کون واقعی بدل گیا ہے۔ کیونکہ نجات صرف تباہی سے بچنے کا نام نہیں بلکہ دل کے بدل جانے کا نام ہے۔ جیسا کہ متی 24:13 میں لکھا ہے، “مگر جو آخِر تک برداشت کرے گا وہ نِجات پائے گا۔” اور یہی وہ سادہ مگر گہرا فرق آمین ہے جو آخر میں سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔آمین

براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔

✝️
جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)

مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج
از ہلسنکی فن لینڈ

2 thoughts on “From Armageddon to Gog and Magog, Understanding the Final Events of Bible Prophecy.”

Leave a Comment