یوحنا رسول نے آسمان پر ایک حیرت انگیز مکاشفاتی منظر دیکھا، جہاں خدا کے تخت کے گرد چار جاندار مسلسل اُس کی عبادت اور تمجید کر رہے تھے (مکاشفہ 4:6-8)۔
یہ منظر صرف آسمانی عبادت کی تصویر نہیں بلکہ خدا کے جلال، اُس کی قدرت اور اپنے لوگوں کی حفاظت کے الٰہی انتظام کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
یہ چار جاندار شیر ببر، بچھڑا، انسان اور عقاب کی صورت میں دکھائے گئے ہیں۔ بھائی برینہم کی روحانی تشریح کے مطابق یہ خدا کی چار قوتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جو اُس کے کلام، قدرت اور کلیسیا کی حفاظت سے تعلق رکھتی ہیں۔
یہی چار علامتیں پرانے عہدنامے میں حزقی ایل کی رویا، اسرائیل کے خیمۂ اجتماع کے گرد قبائلی انتظام اور نئے عہدنامے میں خدا کے تخت کے گرد نظر آتی ہیں۔
بھائی ولیم میرین برینہم نے اپنے پیغام Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
میں وضاحت کی کہ یہ چار جاندار خدا کے تخت کے محافظوں اور اُس کے کلام کی حفاظت کرنے والی چار روحانی قوتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شیر ببر، جو بادشاہی اختیار، دلیری اور ایمان کی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔ بچھڑا یا بیل، جو خدمت، قربانی، صبر اور برداشت کی علامت ہے۔ انسان، جو حکمت، فہم اور خدا کے کلام کی سمجھ کی نمائندگی کرتا ہے۔ عقاب، جو بلند روحانی نگاہ، الٰہی مکاشفے اور نبوتی بصیرت کی علامت ہے۔
بھائی برینہم کی تعلیم کے مطابق یہ چار قوتیں صرف آسمانی تخت کی حفاظت کی تصویر نہیں بلکہ زمین پر خدا کے کلام اور اُس کے لوگوں کی حفاظت کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں۔
کلیسیا کے مختلف ادوار میں خدا نے اپنے لوگوں کو روحانی قوت، برداشت، حکمت اور مکاشفہ عطا کیا، تاکہ وہ مخالف مسیح کی قوتوں کے مقابلے میں اصل کلام پر قائم رہیں۔
پرانے عہدنامے میں ان علامتوں کا تعلق کروبیوں، اسرائیل کے قبائلی انتظام اور خدا کی حضوری سے ظاہر ہوتا ہے۔ نئے عہدنامے میں بھائی برینہم نے انہیں چار اناجیل اور کلیسیا کے مختلف ادوار میں خدا کی حفاظت کے ساتھ جوڑا۔
نئے یروشلیم میں بھی چاروں سمتوں کی ترتیب نظر آتی ہے، جہاں بارہ دروازے ہیں، ہر سمت میں تین دروازے (مکاشفہ 21:12-13)۔ یہ خدا کے مکمل اور ابدی منصوبے کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتے ہیں۔
اس مضمون میں ہم ان چار جانداروں کے روحانی مفہوم کو باغِ عدن سے لے کر خدا کے تخت، اسرائیل، چار اناجیل، کلیسیائی ادوار اور نئے یروشلیم تک بائبل اور بھائی برینہم کی تعلیم کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
اس مطالعے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ خدا نے کس طرح اپنے کلام اور اپنے لوگوں کی حفاظت کی، اور کس طرح آخری زمانے کی دلہن کو اُس کی آواز پہچاننے اور اصل کلام پر قائم رہنے کے لیے روحانی راہنمائی عطا کی ہے۔
کیونکہ ان چار جانداروں کا اصل مرکز کوئی انسانی قوت نہیں بلکہ وہی قادرِ مطلق خدا ہے جو ازل سے ابد تک یکساں ہے، اور جس کے تخت کے گرد یہ آواز مسلسل بلند ہوتی ہے:
"قدوس، قدوس، قدوس، خداوند خدا قادرِ مطلق، جو تھا اور جو ہے اور جو آنے والا ہے۔"
(مکاشفہ 4:8)
حزقی ایل اور یسعیاہ میں چار جاندار
چار جانداروں کی پہلی واضح تصویر ہمیں پرانے عہدنامے میں حزقی ایل نبی کی رویا میں ملتی ہے۔ خدا نے اپنے تخت اور جلال کے ساتھ ان جانداروں کو ظاہر کیا، جو اس کی حضوری، قدرت اور الٰہی انتظام سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ رویا ظاہر کرتی ہے کہ خدا کی حکمرانی صرف کسی زمینی مقام تک محدود نہیں بلکہ وہ آسمان اور زمین دونوں پر قادرِ مطلق ہے۔
حزقی ایل 1:5-10 🔹
"ان کے چہروں کی مشابہت یوں تھی کہ ان چاروں کا ایک ایک چہرہ انسان کا، ایک ایک شیر ببر کا ان کی دہنی طرف اور ان چاروں کا ایک ایک چہرہ سانڈ کا بائیں طرف اور ان کا ایک ایک چہرہ عقاب کا تھا۔"
(حزقی ایل 1:10)
حزقی ایل نے یہ رویا بابل کی اسیری کے دوران دریائے کبار کے کنارے دیکھی۔ اسرائیل اپنی سرزمین سے دور تھا، لیکن خدا نے ظاہر کیا کہ اس کی حضوری اور قدرت کسی مخصوص مقام تک محدود نہیں ہے۔
حزقی ایل نے ان جانداروں کے ساتھ پہیے بھی دیکھے، جو روح کی راہنمائی کے مطابق حرکت کرتے تھے (حزقی ایل 1:15-21)۔ یہ منظر خدا کے متحرک جلال اور اس کی حکمرانی کی ایک عظیم تصویر پیش کرتا ہے۔
بعد میں حزقی ایل نے ان جانداروں کو کروبیوں کے طور پر پہچانا (حزقی ایل 10:20)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ جاندار خدا کے تخت اور اس کی جلالی حضوری کے ساتھ خاص تعلق رکھتے ہیں۔
حزقی ایل اور یسعیاہ کے مکاشفوں میں فرق حزقی ایل اور یسعیاہ دونوں نبیوں نے خدا کی حضوری اور اس کے جلال کے عظیم مناظر دیکھے، لیکن ان کے مکاشفوں کی صورت اور مقصد میں فرق تھا۔
حزقی ایل نے خدا کے جلال کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔ اس کے ساتھ چار جاندار اور پہیے تھے، جو روح کی راہنمائی کے مطابق حرکت کرتے تھے۔
یہ رویا ظاہر کرتی ہے کہ خدا اپنی قوم کے حالات سے بے خبر نہیں، بلکہ اس کا اختیار اور قدرت اسیری اور مصیبت کے زمانے میں بھی قائم رہتے ہیں۔
دوسری طرف یسعیاہ نبی نے خداوند کو ایک بلند تخت پر بیٹھے دیکھا، اور اس کے لباس کے دامن سے ہیکل معمور تھی۔
یسعیاہ 6:1-3
"میں نے خداوند کو بڑی بلندی پر اونچے تخت پر بیٹھے دیکھا اور اس کے لباس کے دامن سے ہیکل معمور ہو گئی۔ اس کے آس پاس سرافیم کھڑے تھے جن میں سے ہر ایک کے چھ پر تھے۔"
سرافیم اپنے دو پروں سے چہرہ، دو سے پاؤں ڈھانپتے اور دو سے اڑتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو پکار کر کہتے تھے:
"قدوس، قدوس، قدوس رب الافواج ہے۔ ساری زمین اس کے جلال سے معمور ہے۔"
(یسعیاہ 6:3)
یسعیاہ کی رویا خدا کی پاکیزگی، جلال، عبادت اور نبی کی خدمت کے لیے پاک کیے جانے کی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔
یوں حزقی ایل نے خدا کے جلال کو حرکت میں دیکھا، جبکہ یسعیاہ نے خداوند کو تخت پر بیٹھے دیکھا، جس کے حضور سرافیم اس کی قدوسیت کا اعلان کر رہے تھے۔
کروبیوں اور سرافیم میں فرق🔹 حزقی ایل کے جانداروں کے چار چہرے اور چار پر تھے، جبکہ یسعیاہ نے چھ پروں والے سرافیم دیکھے۔
حزقی ایل نے ان جانداروں کو کروبیوں کے طور پر پہچانا، جبکہ یسعیاہ نے انہیں سرافیم کہا۔ اس لیے دونوں کو ہر لحاظ سے ایک ہی مخلوق قرار دینا درست نہیں، اگرچہ دونوں خدا کے جلال اور اس کے تخت سے تعلق رکھتے ہیں۔
بھائی برینہم کی روحانی تشریح میں شیر ببر بادشاہی اختیار اور دلیری، بیل خدمت اور قربانی، انسان حکمت اور فہم، جبکہ عقاب بلند روحانی بصیرت اور مکاشفے کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ چار صورتیں خدا کے کام اور اس کی حفاظت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
بھائی برینہم کی وضاحت 🔹 بھائی برینہم نے اپنے پیغام
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
میں چار جانداروں کو خدا کے تخت کی حفاظت کرنے والے کروبیوں اور روحانی محافظوں کے طور پر بیان کیا۔
ان کی تعلیم کے مطابق جس طرح پرانے عہدنامے میں خدا کی حضوری کے گرد محافظوں کی تصویر موجود تھی، اسی طرح نئے عہدنامے میں چار اناجیل خدا کے کلام کی سچائی کی گواہی دیتی ہیں۔
بھائی برینہم نے ان چار علامتوں کو خدا کی قدرت، حکمت، خدمت اور روحانی حفاظت کے ساتھ جوڑا، جو کلیسیا کی تاریخ میں بھی ظاہر ہوتی ہیں۔
مکاشفاتی حقیقت 🔹
مکاشفہ 4:6-8 میں یوحنا رسول نے بھی خدا کے تخت کے گرد چار جاندار دیکھے۔ ایک شیر ببر کی مانند، دوسرا بچھڑے کی مانند، تیسرا انسان کے چہرے والا اور چوتھا اڑتے ہوئے عقاب کی مانند تھا۔
یہ منظر حزقی ایل کی رویا سے گہری مشابہت رکھتا ہے، اگرچہ دونوں بیان کی ظاہری تفصیلات ایک جیسی نہیں ہیں۔
بھائی برینہم کی تشریح کے مطابق یہ چار علامتیں خدا کے کلام کی حفاظت اور کلیسیا کے مختلف ادوار میں روحانی قوتوں کی کارگزاری سے تعلق رکھتی ہیں۔
اس طرح پرانے اور نئے عہدنامے میں خدا کے تخت، اس کی حضوری اور اس کی قدرت کا ایک مسلسل روحانی تعلق دکھائی دیتا ہے۔
خلاصہ 🔹 حزقی ایل نے خدا کے جلال کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا، جبکہ یسعیاہ نے خداوند کو تخت پر بیٹھے دیکھا اور سرافیم اس کی پاکیزگی کا اعلان کر رہے تھے۔
یوحنا رسول نے مکاشفہ میں خدا کے تخت کے گرد چار جاندار دیکھے، جو مسلسل اس کی عبادت کرتے ہیں۔
بھائی برینہم کی روحانی تشریح میں ان چار صورتوں کا تعلق بادشاہی قوت، قربانی اور خدمت، حکمت اور الٰہی مکاشفے سے ہے۔
ان تمام رویاؤں کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ خدا کی قدرت، پاکیزگی اور حکمرانی ہر زمانے میں قائم رہتی ہے۔ وہی خدا جو اسرائیل کے ساتھ تھا، آج بھی اپنے کلام کے ذریعے اپنی کلیسیا کی راہنمائی کرتا ہے۔
بھائی برینہم کا اصل حوالہ:
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
8 جنوری 1961، جیفرسن ول، انڈیانا، امریکہ۔
اس پیغام میں بھائی برینہم نے چار جانداروں، کروبیوں، خدا کے تخت کے محافظوں اور چار اناجیل کے روحانی تعلق کی وضاحت کی۔
چار جاندار، دو عہدنامے — نجات کے منصوبے کی مکاشفاتی تصویر
پرانے عہدنامے میں چار جانداروں کا روحانی تعلق
پرانا اور نیا عہدنامہ دونوں خدا کے نجاتی منصوبے کو مختلف پہلوؤں سے ظاہر کرتے ہیں۔ مطالعے کی سہولت کے لیے پرانے عہدنامے کی کتابوں کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: توریت، تاریخی کتب، حکمت و عبادت کی کتب اور صحائفِ انبیاء۔
ان چار حصوں کے مطالعے میں شیر ببر، بچھڑے، انسان اور عقاب کی علامتوں کے ذریعے خدا کے کام کے مختلف پہلوؤں کو سمجھا جا سکتا ہے۔
شیر بادشاہی اختیار اور دلیری، بچھڑا خدمت اور قربانی، انسان حکمت اور فہم، جبکہ عقاب نبوتی مکاشفے اور آسمانی بصیرت کی تصویر پیش کرتا ہے۔
بھائی برینہم نے چار جانداروں کو خدا کے کلام کی حفاظت، اسرائیل کے قبائلی انتظام اور چار اناجیل سے جوڑا۔ تاہم پرانے عہدنامے کے چار حصوں کو ان جانداروں سے جوڑنا ایک روحانی مطالعہ ہے، بائبل کی براہِ راست مقرر کردہ تقسیم نہیں۔
توریت: شیر ببر کی علامت، اختیار اور شریعت توریت میں پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استثنا کی کتابیں شامل ہیں۔ ان کتابوں میں خدا کی تخلیقی قدرت، اُس کے عہد، شریعت اور اپنی قوم پر اختیار کو ظاہر کیا گیا ہے۔
شیر ببر بادشاہی اختیار اور دلیری کی علامت ہے۔ اس روحانی تصویر کے ذریعے ہم دیکھتے ہیں کہ خدا نے موسیٰ کے وسیلے سے اسرائیل کو اپنی شریعت دی اور قوم کو اپنے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی ہدایت فرمائی۔
موسیٰ خدا کے کلام کی راہنمائی میں قوم کو مصر سے نکال کر بیابان میں لے گیا۔ کوہِ سینا پر خدا کی قدرت اور جلال ظاہر ہوا، اور اسرائیل کو خدا کے عہد کی ذمہ داری سونپی گئی۔
خروج 19:5
"سو اب اگر تم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میری خاص ملکیت ٹھہرو گے کیونکہ ساری زمین میری ہے۔"
یہاں خدا کے کلام کا اختیار اور فرمانبرداری کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ شیر ببر کی علامت اس بادشاہی قوت اور اختیار کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے جس کے تحت خدا اپنی قوم کی راہنمائی کرتا ہے۔
تاریخی کتب: بچھڑے کی علامت، خدمت اور وفاداری تاریخی کتب میں یشوع، قضاۃ، روت، سموئیل، سلاطین، تواریخ، عزرا، نحمیاہ اور آستر جیسی کتابیں شامل ہیں۔ ان میں اسرائیل کی عملی زندگی، جنگوں، عبادت، بادشاہت اور خدا کے ساتھ عہد کی وفاداری کا بیان ملتا ہے۔
بچھڑا یا بیل محنت، خدمت، صبر اور قربانی کی علامت ہے۔ اسی روحانی پہلو سے تاریخی کتب میں خدا کے خادموں کی مسلسل خدمت اور ذمہ داری کو دیکھا جا سکتا ہے۔
یشوع نے قوم کی راہنمائی کی، سموئیل نے خدا کی خدمت کی، داؤد نے خدا کی عبادت کو اہمیت دی، جبکہ عزرا اور نحمیاہ نے قوم کی روحانی اور اجتماعی بحالی میں کردار ادا کیا۔
اگرچہ قربانیوں کا نظام توریت میں قائم ہوا تھا، لیکن تاریخی کتب میں اس نظام کی عملی صورت اور قوم کی عبادت کا تسلسل بھی دکھائی دیتا ہے۔
2 تواریخ 15:7
"لیکن تم مضبوط بنو اور تمہارے ہاتھ ڈھیلے نہ ہونے پائیں کیونکہ تمہارے کام کا اجر ملے گا۔"
یہ آیت خدمت میں ثابت قدم رہنے کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔ بچھڑے کی علامت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدا کی خدمت صرف قوت کا اظہار نہیں بلکہ وفاداری، برداشت اور قربانی کا تقاضا بھی کرتی ہے۔
زبور اور حکمت کی کتب: انسان کی علامت، فہم اور روحانی
تجربہ ایوب، زبور، امثال، واعظ اور غزل الغزلات میں انسانی زندگی کے مختلف پہلو بیان ہوئے ہیں۔ ان کتابوں میں حکمت، عبادت، دکھ، خوشی، توبہ، محبت اور خدا کے ساتھ انسان کے تعلق کو نمایاں کیا گیا ہے۔
انسان کا چہرہ حکمت، سمجھ اور شعور کی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس روحانی تصویر میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا انسان کے دل اور ذہن کو اپنی سچائی سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔
داؤد نے اپنے زبور میں خدا کی حمد، توبہ اور اُس پر اعتماد ظاہر کیا۔ سلیمان نے حکمت اور خدا کے خوف کی تعلیم دی، جبکہ ایوب نے دکھ اور آزمائش کے درمیان خدا پر بھروسے کی مثال پیش کی۔
زبور 51:10
"اے خدا! میرے اندر پاک دل پیدا کر اور میرے باطن میں ازسرنو مستقیم روح ڈال۔"
یہ دعا ظاہر کرتی ہے کہ حقیقی روحانی فہم صرف انسانی عقل سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ خدا کے سامنے جھکنے اور اُس کی راہنمائی قبول کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔
بھائی برینہم نے چار جانداروں کی تشریح میں انسان کے چہرے کو حکمت اور سمجھ کی علامت کے طور پر بیان کیا۔ اسی اصول کی روشنی میں حکمت کی کتابوں میں خدا کی عطا کردہ بصیرت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
صحائفِ انبیاء: عقاب کی علامت، نبوت اور مکاشفہ صحائفِ انبیاء میں یسعیاہ، یرمیاہ، حزقی ایل، دانی ایل اور دوسرے انبیاء کی کتابیں شامل ہیں۔ ان کے ذریعے خدا نے اپنی قوم کو خبردار کیا، توبہ کی دعوت دی اور آنے والے واقعات اور مسیح کے متعلق وعدے ظاہر کیے۔
عقاب بلند پرواز اور دور تک دیکھنے والی نگاہ کی علامت ہے۔ بھائی برینہم نے عقاب کو خاص طور پر نبی اور مکاشفاتی بصیرت کے ساتھ جوڑا۔
یسعیاہ نے آنے والے مسیح کے متعلق نبوت کی، حزقی ایل نے خدا کے جلال کی رویا دیکھی، جبکہ دانی ایل کو آنے والی سلطنتوں اور خدا کی ابدی بادشاہی کے متعلق مکاشفے دیے گئے۔
عاموس 3:7
"یقیناً خداوند خدا کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمت گزار نبیوں پر پہلے آشکارا نہ کرے۔"
یہ آیت نبوتی خدمت کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔ خدا نے اپنے انبیاء کو ایسی باتیں دکھائیں جو انسانی سمجھ سے بالاتر تھیں، تاکہ اُس کی قوم اُس کے منصوبے اور وعدوں کو پہچان سکے۔
عقاب کی روحانی تصویر اسی آسمانی بصیرت اور مکاشفے کو ظاہر کرتی ہے، جس کے ذریعے خدا اپنے کلام کی گہری حقیقتوں کو اپنے مقررہ وقت پر ظاہر کرتا ہے۔
خلاصہ پرانے عہدنامے کی چار بڑی تقسیم میں خدا کے کام کے مختلف پہلو نظر آتے ہیں۔
توریت میں شریعت اور الٰہی اختیار، جسے شیر ببر کی علامت سے سمجھا جا سکتا ہے۔
تاریخی کتب میں خدمت، وفاداری اور قربانی، جن کی تصویر بچھڑا پیش کرتا ہے۔
زبور اور حکمت کی کتب میں انسانی فہم، عبادت اور روحانی تجربہ، جنہیں انسان کی علامت سے سمجھا جا سکتا ہے۔
صحائفِ انبیاء میں نبوت، الٰہی مکاشفہ اور آسمانی بصیرت، جن کی تصویر عقاب پیش کرتا ہے۔
یہ تمام کتابیں ایک ہی خدا کی قدرت، حکمت اور نجاتی منصوبے کی گواہی دیتی ہیں۔ ان کا مرکزی مقصد انسان کو خدا کی مرضی اور آنے والے مسیح کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
نئے عہدنامے میں چار جانداروں کا روحانی تعلق
چار علامتیں، ایک ہی خدا کا نجاتی منصوبہ
نیا عہدنامہ خدا کے نجاتی منصوبے کو یسوع مسیح میں ظاہر کرتا ہے۔ اس میں مسیح کی زمینی خدمت، روح القدس کا نزول، رسولوں کی تعلیم اور خدا کے منصوبے کی آخری تکمیل کا بیان موجود ہے۔
نئے عہدنامے کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: اناجیل، اعمالِ رسول، رسولوں کے خطوط اور مکاشفہ۔
مکاشفہ 4:7 میں شیر ببر، بچھڑے، انسان اور عقاب کی چار صورتیں بیان ہوئی ہیں۔ بھائی برینہم نے ان صورتوں کا تعلق خاص طور پر چار اناجیل، متی، مرقس، لوقا اور یوحنا، سے جوڑا۔
ان کی تعلیم کے مطابق چاروں اناجیل ایک ہی یسوع مسیح کی گواہی دیتی ہیں اور خدا کے کلام کی حفاظت کرنے والے چار محافظوں کی مانند ہیں۔
اسی بنیاد پر نئے عہدنامے کے دوسرے حصوں میں بھی اختیار، خدمت، حکمت اور مکاشفے کے روحانی پہلوؤں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
چار اناجیل: شیر ببر کی قوت اور مسیح کا بادشاہی اختیار متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی اناجیل میں خداوند یسوع مسیح کی زندگی، خدمت، تعلیم، موت اور جی اٹھنے کا بیان موجود ہے۔
یسوع مسیح نے بیماری، بدروحوں، گناہ اور موت پر اپنا اختیار ظاہر کیا۔ اُس نے بادشاہی کی منادی کی اور لوگوں کو خدا کے کلام کی سچائی سکھائی۔
مرقس 1:22
"اور لوگ اُس کی تعلیم سے حیران ہوئے کیونکہ وہ اُن کو فقیہوں کی طرح نہیں بلکہ صاحبِ اختیار کی طرح تعلیم دیتا تھا۔"
شیر ببر کی علامت مسیح کے بادشاہی اختیار اور اُس کے کلام کی قوت کو ظاہر کرتی ہے۔ مکاشفہ 5:5 میں اُسے یہوداہ کے قبیلے کا شیر ببر کہا گیا ہے۔
لیکن چاروں اناجیل صرف شیر کی قوت تک محدود نہیں۔ بھائی برینہم نے انہیں چار جانداروں کی مختلف خصوصیات کے ساتھ جوڑا، کیونکہ یہ سب ایک ہی مسیح کی مکمل گواہی دیتی ہیں۔
ان کی تشریح میں متی کو شیر، مرقس کو بیل، لوقا کو انسان اور یوحنا کو عقاب کی صورت سے جوڑا گیا۔
اعمالِ رسول: بچھڑے کی علامت، خدمت اور قربانی اعمالِ رسول میں پینتیکُست کے دن روح القدس کے نزول اور ابتدائی کلیسیا کی خدمت کا بیان موجود ہے۔
روح القدس سے معمور ہونے کے بعد رسولوں نے دلیری سے مسیح کی گواہی دی۔ انہوں نے مخالفت، قید، تکلیف اور آزمائشوں کے باوجود انجیل کی منادی جاری رکھی۔
بچھڑا یا بیل مسلسل محنت اور قربانی اٹھانے کی علامت ہے۔ اس لحاظ سے اعمالِ رسول میں ابتدائی کلیسیا کی خدمت اور وفاداری کو اس روحانی تصویر کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔
رومیوں 12:1
"اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لیے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔"
رسولوں کی زندگیوں میں یہی خدمت اور قربانی کا جذبہ نمایاں تھا۔ انہوں نے اپنی زندگیوں کو مسیح کی گواہی کے لیے وقف کر دیا۔
بھائی برینہم نے چار اناجیل کو اعمالِ رسول میں ظاہر ہونے والی روح القدس کی کارگزاری کے محافظوں کے طور پر بیان کیا۔ ان کے مطابق چاروں اناجیل اعمال کی تعلیم اور مسیح کے کام کی گواہی دیتی ہیں۔
رسولوں کے خطوط: انسان کی علامت، حکمت اور تعلیم رومیوں سے یہوداہ تک رسولوں کے خطوط کلیسیا کی تعلیم، روحانی تربیت، اصلاح اور ایمانداروں کی عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔
پولس، پطرس، یوحنا، یعقوب اور یہوداہ نے اپنے خطوط میں ایمان، نجات، تقدیس، محبت، روحانی نعمتوں اور جھوٹی تعلیمات سے بچنے کے بارے میں راہنمائی دی۔
انسان کا چہرہ حکمت اور فہم کی علامت ہے۔ اسی روحانی تصور کے ذریعے ہم رسولوں کے خطوط میں خدا کی عطا کردہ تعلیم اور روحانی سمجھ کی اہمیت دیکھتے ہیں۔
2 تیمتھیس 3:16
"ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لیے فائدہ مند بھی ہے۔"
ان خطوط کا مقصد کلیسیا کو صرف معلومات دینا نہیں بلکہ ایمانداروں کو مسیح کی صورت میں پختہ کرنا تھا۔
افسیوں 4:13 میں پولس رسول کلیسیا کے اس مقصد کو بیان کرتا ہے کہ سب خدا کے بیٹے کے ایمان اور پہچان میں ایک ہو کر مسیح کی معموری کے قد تک پہنچیں۔
یہاں انسان کی علامت حکمت اور روحانی فہم کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ رسولوں کے خطوط صرف ایک ہی روحانی قوت تک محدود ہیں۔
مکاشفہ: عقاب کی علامت، الٰہی مکاشفہ اور آسمانی بصیرت نئے عہدنامے کی آخری کتاب مکاشفہ ہے، جس میں خداوند یسوع مسیح نے یوحنا رسول کو کلیسیا کے ادوار، آسمانی تخت، سات مہروں، عدالت اور خدا کے ابدی منصوبے کی مختلف حقیقتیں دکھائیں۔
عقاب بلند روحانی نگاہ اور نبوتی مکاشفے کی علامت ہے۔ اس تصور کے ذریعے مکاشفہ کی کتاب میں خدا کے آسمانی منصوبے کو ظاہر کیے جانے کی حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
مکاشفہ 4:1
"ان باتوں کے بعد جو میں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ آسمان میں ایک دروازہ کھلا ہوا ہے۔"
یوحنا رسول کو آسمانی منظر دکھایا گیا، جہاں اُس نے خدا کا تخت، چار جاندار اور آنے والے نبوتی واقعات دیکھے۔
بھائی برینہم نے عقاب کی علامت کو خاص طور پر آخری زمانے کی نبوتی خدمت اور خدا کے کلام کے مکاشفے سے جوڑا۔ ان کی تعلیم کے مطابق آخری زمانے میں دلہن کو اصل کلام کی پہچان اور اُس پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔
تاہم مکاشفہ کی کتاب کو صرف عقاب کی علامت تک محدود نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں خدا کی بادشاہی، قربانی کے برّے، عدالت، نجات اور ابدی زندگی کی تمام حقیقتیں موجود ہیں۔
بھائی برینہم کی تعلیم میں چار جانداروں کی اہمیت
بھائی برینہم نے اپنے پیغام
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
میں وضاحت کی کہ چار جاندار خدا کے تخت کے محافظوں کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
پرانے عہدنامے میں انہوں نے ان کا تعلق اسرائیل کے چار بڑے قبائلی نشانوں سے جوڑا، جبکہ نئے عہدنامے میں چار اناجیل کو خدا کے کلام کی حفاظت کرنے والے چار محافظوں کے طور پر بیان کیا۔
ان کی تعلیم کے مطابق شیر دلیری اور قوت، بیل برداشت اور خدمت، انسان حکمت اور سمجھ، جبکہ عقاب بلندی اور تیز روحانی نگاہ کو ظاہر کرتا ہے۔
اس لیے ان چار صورتوں کا مقصد چار الگ خداؤں یا چار الگ نجاتی منصوبوں کو ظاہر کرنا نہیں بلکہ ایک ہی خدا کے کلام اور اُس کے کام کے مختلف پہلوؤں کو سمجھانا ہے۔
نتیجہ🔹
نئے عہدنامے کے چار بڑے حصوں میں خدا کے نجاتی منصوبے کے مختلف پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔
چار اناجیل میں مسیح کی زندگی، بادشاہی اختیار اور نجات کی تکمیل ظاہر ہوتی ہے۔
اعمالِ رسول میں روح القدس کی قدرت، خدمت، قربانی اور انجیل کے پھیلاؤ کی گواہی ملتی ہے۔
رسولوں کے خطوط میں ایمان، حکمت، تعلیم اور کلیسیا کی روحانی تعمیر واضح ہوتی ہے۔
مکاشفہ میں خدا کے آسمانی تخت، آخری زمانے کے واقعات اور اُس کے ابدی منصوبے کی تکمیل ظاہر ہوتی ہے۔
یہ تقسیم ایک روحانی مطالعے کا طریقہ ہے۔ بھائی برینہم کی اصل تعلیم میں چار جانداروں کا نمایاں تعلق چار اناجیل اور خدا کے کلام کی حفاظت کے ساتھ ہے۔
پرانے اور نئے عہدنامے کا مرکزی پیغام ایک ہی ہے: خدا اپنے کلام کے ذریعے اپنا نجاتی منصوبہ ظاہر کرتا ہے، اور اس منصوبے کی تکمیل خداوند یسوع مسیح میں ہوتی ہے۔
آخری زمانے کی دلہن کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف علامتوں کی پہچان تک محدود نہ رہے بلکہ اُس مسیح کو پہچانے جس کی گواہی پوری بائبل دیتی ہے۔
بھائی برینہم کا اصل حوالہ
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
8 جنوری 1961، جیفرسن ول، انڈیانا، امریکہ۔
اس پیغام میں بھائی برینہم نے اسرائیل کے چار قبائلی نشانوں، چار جانداروں، چار اناجیل اور اعمالِ رسول کے درمیان روحانی تعلق کی وضاحت کی۔
چار اناجیل میں چار پہلو
چاروں اناجیل، متی، مرقس، لوقا اور یوحنا، خداوند یسوع مسیح کی شخصیت، خدمت اور قدرت کے مختلف مگر ایک دوسرے سے ہم آہنگ پہلو ظاہر کرتی ہیں۔
یہ چار پہلو ان چار جانداروں کی علامتوں سے روحانی تعلق رکھتے ہیں جو خدا کے تخت کے گرد دکھائی دیتے ہیں (مکاشفہ 4:6-8)۔
بھائی برینہم نے اپنے پیغام
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
میں چار اناجیل کو خدا کے کلام کی حفاظت کرنے والے چار محافظوں کے طور پر بیان کیا۔ ان کی تعلیم کے مطابق یہ چاروں ایک ہی یسوع مسیح کی گواہی دیتی ہیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔
متی کی انجیل: شیر ببر، بادشاہی اور اختیار متی کی انجیل میں یسوع مسیح کو وعدہ کیے ہوئے بادشاہ اور داؤد کی نسل سے آنے والے مسیح کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اس انجیل میں اُس کا شاہی نسب نامہ، آسمان کی بادشاہی کی تعلیم اور خدا کے کلام کا اختیار نمایاں ہے۔
شیر ببر بادشاہی، دلیری اور قوت کی علامت ہے۔ یسوع نے اپنی تعلیم اور معجزات کے ذریعے ظاہر کیا کہ اُسے آسمان اور زمین کا کل اختیار دیا گیا ہے۔
متی 28:18
"آسمان اور زمین کا کل اختیار مجھے دیا گیا ہے۔"
مکاشفہ 5:5 میں یسوع مسیح کو یہوداہ کے قبیلے کا شیر ببر کہا گیا ہے۔ یہ اُس کی بادشاہی، قدرت اور فتح کو ظاہر کرتا ہے۔
یوں متی کی انجیل میں شیر ببر کی روحانی علامت ہمیں اُس مسیح کی طرف متوجہ کرتی ہے جو بادشاہوں کا بادشاہ اور تمام اختیار کا مالک ہے۔
مرقس کی انجیل: بچھڑا، خدمت اور قربانی
مرقس کی انجیل میں یسوع مسیح کی مسلسل خدمت، اُس کے معجزات اور انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے کام کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔
بچھڑا یا بیل خدمت، محنت، برداشت اور قربانی کی علامت ہے۔ اسی طرح یسوع نے بیماروں کو شفا دی، ضرورت مندوں کی مدد کی اور دوسروں کی نجات کے لیے اپنی زندگی قربان کی۔
مرقس 10:45
"کیونکہ ابنِ آدم بھی اس لیے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اس لیے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے۔"
یہ آیت یسوع مسیح کی خادمانہ زندگی اور اُس کی قربانی کے مقصد کو واضح کرتی ہے۔
وہ بادشاہ ہونے کے باوجود خدمت کرنے والا بنا۔ اُس نے اپنی مرضی کے بجائے باپ کی مرضی پوری کی اور صلیب پر اپنی جان دے کر نجات کا راستہ کھولا۔
یوں مرقس کی انجیل میں بچھڑے کی علامت مسیح کی خدمت، وفاداری، فروتنی اور قربانی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
لوقا کی انجیل: انسان، محبت اور فہم
لوقا کی انجیل میں یسوع مسیح کی کامل انسانیت، ہمدردی اور انسانوں کے ساتھ اُس کے تعلق کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔
یہاں یسوع کو ایسے کامل انسان کے طور پر دکھایا گیا ہے جو انسانی دکھ، کمزوری اور ضرورت کو سمجھتا ہے، لیکن خود گناہ سے پاک ہے۔
انسان کا چہرہ فہم، حکمت اور شعور کی علامت ہے۔ یسوع نے محبت، رحم اور حکمت کے ذریعے خدا کی مرضی ظاہر کی۔
لوقا 19:10
"کیونکہ ابنِ آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے۔"
لوقا کی انجیل میں ہم دیکھتے ہیں کہ یسوع مسیح غریبوں، بیماروں، گنہگاروں اور معاشرے کے نظرانداز کیے گئے لوگوں کے ساتھ محبت اور رحم سے پیش آیا۔
یہ انجیل ظاہر کرتی ہے کہ یسوع صرف قدرت رکھنے والا بادشاہ نہیں بلکہ کامل انسان بھی ہے، جو اپنے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھتا ہے۔
یوں انسان کی علامت مسیح کی کامل انسانیت، حکمت، محبت اور ہمدردی کی گواہی دیتی ہے۔
یوحنا کی انجیل: عقاب، الوہیت اور مکاشفہ
یوحنا کی انجیل میں یسوع مسیح کی الوہیت اور اُس کی ازلی حقیقت خاص طور پر نمایاں ہوتی ہے۔
عقاب بلند نگاہ، آسمانی بصیرت اور مکاشفے کی علامت ہے۔ اسی طرح یوحنا کی انجیل ابتدا ہی سے ہمیں مسیح کی ازلی حقیقت کی طرف لے جاتی ہے۔
یوحنا 1:1
"ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔"
یوحنا 1:14
"اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا۔"
یہاں خداوند یسوع مسیح کی الوہیت اور اُس کے جسم میں ظاہر ہونے کی حقیقت بیان ہوتی ہے۔
یوحنا کی انجیل مسیح کے معجزات اور تعلیمات کے ساتھ اُس کی اصل پہچان بھی ظاہر کرتی ہے، تاکہ لوگ ایمان لائیں کہ یسوع ہی مسیح اور خدا کا بیٹا ہے اور اُس کے نام سے زندگی پائیں (یوحنا 20:31)۔
بھائی برینہم کی تعلیم میں عقاب کی علامت بلند روحانی بصیرت اور الٰہی مکاشفے سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی روحانی مفہوم سے یوحنا کی انجیل میں مسیح کی الوہیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
چار اناجیل، ایک ہی یسوع مسیح یوں چار اناجیل میں یسوع مسیح کی شخصیت کے چار اہم پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔
متی میں شیر ببر کی مانند بادشاہی اختیار اور قدرت۔
مرقس میں بچھڑے کی مانند خدمت، فروتنی اور قربانی۔
لوقا میں کامل انسان کی محبت، حکمت اور ہمدردی۔
یوحنا میں عقاب کی مانند آسمانی بصیرت اور الوہیت کا مکاشفہ۔
یہ چاروں الگ الگ مسیح پیش نہیں کرتیں بلکہ ایک ہی خداوند یسوع مسیح کی مکمل گواہی دیتی ہیں۔
بھائی برینہم کی تعلیم کے مطابق چار اناجیل خدا کے کلام کی حفاظت کرنے والے چار محافظوں کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ ان کا مقصد ایک دوسرے کی مخالفت کرنا نہیں بلکہ ایک ہی انجیل کی سچائی کی تصدیق کرنا ہے۔
نتیجہ چار جانداروں کی علامتیں ہمیں خداوند یسوع مسیح کی بادشاہی، خدمت، کامل انسانیت اور الوہیت کے مختلف پہلو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
وہی مسیح بادشاہ بھی ہے، خدمت کرنے والا بھی، کامل انسان بھی اور جسم میں ظاہر ہونے والا خدا کا کلام بھی۔
چاروں اناجیل کی اصل گواہی یہی ہے کہ خدا نے اپنا نجاتی منصوبہ یسوع مسیح میں ظاہر کیا، اور اسی میں ہمیشہ کی زندگی موجود ہے۔
بھائی برینہم کا اصل حوالہ
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
8 جنوری 1961، جیفرسن ول، انڈیانا، امریکہ۔
اس پیغام میں بھائی برینہم نے چار جانداروں، چار اناجیل اور خدا کے کلام کی حفاظت کے درمیان روحانی تعلق کی وضاحت کی۔
چار روحانی قوتیں اور کلیسیا کی خدمات
خداوند یسوع مسیح نے اپنی کلیسیا کو مختلف روحانی خدمتیں عطا کیں، تاکہ ایماندار خدا کے کلام میں مضبوط ہوں، روحانی طور پر ترقی کریں اور مسیح کی معموری تک پہنچیں۔
شیر ببر، بچھڑے، انسان اور عقاب کی چار علامتیں ہمیں دلیری، خدمت، حکمت اور روحانی بصیرت کے مختلف پہلو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
بھائی برینہم نے اپنے پیغامات میں ان چار جانداروں کو خدا کے تخت، کلام کی حفاظت اور کلیسیا کی روحانی زندگی سے جوڑا۔
تاہم بائبل میں کلیسیا کی خدمات کو صرف چار حصوں میں تقسیم نہیں کیا گیا۔ افسیوں 4:11 میں پانچ خدمتی عہدوں کا ذکر ہے: رسول، نبی، مبشر، چرواہے اور استاد۔
ان خدمات میں چار جانداروں کی خصوصیات کا روحانی تقابل کیا جا سکتا ہے، لیکن ہر خدمت کو صرف ایک جاندار کے ساتھ محدود نہیں کرنا چاہیے۔
رسولی خدمت: شیر ببر کی دلیری اور اختیار رسولی خدمت میں خدا کے کلام کی منادی، کلیسیا کی بنیاد اور سچائی کے لیے دلیری سے کھڑے رہنے کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔
رسولوں نے مخالفت، آزمائش اور قید کے باوجود خداوند یسوع مسیح کی گواہی دی۔ اُن کی قوت انسانی اختیار سے نہیں بلکہ روح القدس کی کارگزاری سے تھی۔
اعمال 4:31
"اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے اور خدا کا کلام دلیری سے سناتے رہے۔"
شیر ببر کی علامت اس دلیری اور خدا کے کلام کے اختیار کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
رسولوں نے اپنی تعلیم اور گواہی کے ذریعے کلیسیا کو مسیح کی بنیاد پر قائم کیا، کیونکہ حقیقی بنیاد خود خداوند یسوع مسیح ہے (1 کرنتھیوں 3:11)۔
مبشری خدمت: بچھڑے کی خدمت اور قربانی مبشر کا کام نجات کی خوشخبری لوگوں تک پہنچانا اور انہیں خداوند یسوع مسیح کی طرف بلانا ہے۔
اس خدمت میں محنت، محبت، صبر اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچھڑا یا بیل مسلسل خدمت اور برداشت کی علامت ہے۔
اسی روحانی تصویر کے ذریعے مبشر کی وفاداری اور انجیل کی خاطر محنت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
پولس رسول نے تیمتھیس کو ہدایت دی:
"مبشر کا کام انجام دے۔ اپنی خدمت کو پورا کر۔"
(2 تیمتھیس 4:5)
حقیقی مبشر اپنی شہرت یا کسی مذہبی تنظیم کو بڑھانے کے بجائے لوگوں کو یسوع مسیح کی طرف لے جاتا ہے۔
اس کی خدمت کا مرکز نجات کا پیغام اور خدا کے کلام کی وفادار منادی ہے۔
استادی خدمت: انسان کی حکمت اور فہم استاد کی خدمت خدا کے کلام کی وضاحت کرنا اور ایمانداروں کو سچی تعلیم میں مضبوط بنانا ہے۔
یہ خدمت روحانی فہم، صبر، حکمت اور کلام کی درست سمجھ کی ضرورت رکھتی ہے۔
انسان کے چہرے کی علامت حکمت، فہم اور شعور کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی روحانی تصور کے ذریعے استادی خدمت کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے۔
2 تیمتھیس 2:15
"اپنے آپ کو خدا کے سامنے مقبول اور ایسا کام کرنے والا پیش کرنے کی کوشش کر جس کو شرمندہ ہونا نہ پڑے اور جو حق کے کلام کو درستی سے کام میں لاتا ہو۔"
حقیقی استاد کا مقصد انسانی نظریات کو فروغ دینا نہیں بلکہ خدا کے کلام کو درست طور پر سمجھانا ہے۔
وہ ایمانداروں کو روحانی پختگی کی طرف لے جاتا ہے، تاکہ وہ ہر نئی تعلیم یا گمراہ کرنے والے نظریے سے متاثر نہ ہوں (افسیوں 4:14)۔
نبوتی خدمت: عقاب کی روحانی بصیرت نبوتی خدمت کا تعلق خدا کے پیغام کو وفاداری سے پہنچانے، اُس کی مرضی ظاہر کرنے اور لوگوں کو اُس کے کلام کی طرف متوجہ کرنے سے ہے۔
عقاب بلند پرواز اور دور تک دیکھنے والی نگاہ کی علامت ہے۔ بھائی برینہم نے اسے خاص طور پر نبی اور مکاشفاتی بصیرت کے ساتھ جوڑا۔
پرانے عہدنامے میں خدا نے اپنے انبیاء کے ذریعے اپنی قوم کو خبردار کیا اور آنے والے واقعات کے متعلق مکاشفے عطا کیے۔
عاموس 3:7
"یقیناً خداوند خدا کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمت گزار نبیوں پر پہلے آشکارا نہ کرے۔"
بھائی برینہم کی تعلیم میں عقاب کی علامت آخری زمانے کی نبوتی خدمت اور خدا کے کلام کے مکاشفے سے بھی تعلق رکھتی ہے۔
تاہم ہر نبوتی دعوے اور روحانی تجربے کو خدا کے کلام کی روشنی میں جانچنا ضروری ہے (1 یوحنا 4:1)۔
حقیقی نبوتی خدمت کا مقصد لوگوں کو کسی انسان کے تابع کرنا نہیں بلکہ خداوند یسوع مسیح اور اُس کے کلام کی طرف لے جانا ہے۔
چرواہے کی خدمت: نگہبانی اور روحانی حفاظت افسیوں 4:11 میں چرواہے کی خدمت بھی بیان ہوئی ہے، اس لیے اسے کلیسیا کی خدمتی ترتیب سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
چرواہے کی ذمہ داری خدا کے لوگوں کی دیکھ بھال، راہنمائی، تعلیم اور روحانی حفاظت کرنا ہے۔
اس خدمت میں شیر ببر کی دلیری، بچھڑے کی برداشت، انسان کی حکمت اور عقاب کی روحانی بصیرت، سب کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
خداوند یسوع مسیح نے فرمایا:
"اچھا چرواہا میں ہوں۔ اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہے۔"
(یوحنا 10:11)
خداوند یسوع خود اچھے چرواہے کا کامل نمونہ ہے، کیونکہ اُس نے اپنی بھیڑوں سے محبت کی اور ان کی نجات کے لیے اپنی جان دی۔
اسی لیے حقیقی چرواہے کی خدمت اختیار جتانے کے بجائے محبت، خدمت اور ذمہ داری پر قائم ہونی چاہیے۔
بھائی برینہم کی وضاحت
بھائی برینہم نے اپنے پیغام
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
میں چار جانداروں کو خدا کے تخت اور اُس کے کلام کی حفاظت کے ساتھ جوڑا۔
انہوں نے چار اناجیل کو ایسے محافظوں کے طور پر پیش کیا جو اعمالِ رسول میں ظاہر ہونے والی روح القدس کی کارگزاری کی گواہی دیتی ہیں۔
ان کی تعلیم کے مطابق شیر ببر قوت اور دلیری، بیل محنت اور برداشت، انسان حکمت اور سمجھ، جبکہ عقاب بلند روحانی نگاہ کی علامت ہے۔
یہ خصوصیات کلیسیا کی مختلف خدمات میں روحانی طور پر نظر آ سکتی ہیں، لیکن انہیں ہر خدمتی عہدے کے لیے خدا کی مقرر کردہ الگ اور مستقل تقسیم نہیں سمجھنا چاہیے۔
خدا نے مختلف خدمتیں ایک ہی مقصد کے لیے عطا کی ہیں، تاکہ اُس کے لوگوں کی روحانی تعمیر ہو اور وہ مسیح کے کلام میں قائم رہیں۔
کلیسیا کی تعمیر کا اصل مقصد پولس رسول نے افسیوں 4:12-13 میں بتایا کہ روحانی خدمات کا مقصد مقدسوں کو خدمت کے کام کے لیے تیار کرنا اور مسیح کے بدن کی تعمیر کرنا ہے۔
یہ خدمات ایمانداروں کو کسی انسانی شخصیت کا پیروکار بنانے کے لیے نہیں بلکہ ایمان، خدا کے بیٹے کی پہچان اور روحانی پختگی میں ترقی دینے کے لیے ہیں۔
جب کلیسیا کا ہر خادم خدا کے کلام کے تابع رہ کر اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے تو پوری کلیسیا کی روحانی تعمیر ہوتی ہے۔
یہی وہ زندگی ہے جس میں خدا کے کلام کی سچائی، روح القدس کی کارگزاری، محبت، خدمت اور حکمت ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتی ہیں۔
نتیجہ چار جانداروں کی علامتیں خدا کی قدرت، خدمت، حکمت اور مکاشفے کے مختلف پہلوؤں کی تصویر پیش کرتی ہیں۔
کلیسیا میں رسول، نبی، مبشر، چرواہے اور استاد کی خدمات خداوند یسوع مسیح کی طرف سے ایمانداروں کی تعمیر اور روحانی پختگی کے لیے عطا کی گئی ہیں۔
ان خدمات کا مقصد الگ الگ جماعتیں یا انسانی اقتدار قائم کرنا نہیں بلکہ مسیح کے بدن کو اصل کلام میں متحد اور مضبوط کرنا ہے۔
آخری زمانے کی دلہن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان روحانی خدمتوں کی اہمیت کو سمجھے، لیکن اپنی امید کسی انسان یا خدمت کے بجائے خداوند یسوع مسیح میں رکھے۔
کیونکہ دلہن کی اصل تکمیل چار جانداروں کی علامتوں میں نہیں بلکہ اُس مسیح میں ہے جس کی یہ تمام روحانی تصویریں گواہی دیتی ہیں۔
بھائی برینہم کا اصل حوالہ
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
8 جنوری 1961، جیفرسن ول، انڈیانا، امریکہ۔
اس پیغام میں بھائی برینہم نے چار جانداروں، چار اناجیل اور خدا کے کلام کی حفاظت کے روحانی تعلق کی وضاحت کی۔
بائبلی حوالہ جات:
مکاشفہ 4:6-8؛ افسیوں 4:11-14؛ اعمال 4:31؛ 2 تیمتھیس 2:15، 4:5؛ عاموس 3:7؛ یوحنا 10:11؛ 1 یوحنا 4:1۔
سات کلیسیائی ادوار اور چار قوتوں کا تعلق
بھائی ولیم میرین برینہم کی تعلیم کے مطابق مکاشفہ 4 میں بیان کیے گئے چار جاندار، شیر ببر، بچھڑا، انسان اور عقاب، کلیسیا کے مختلف ادوار میں خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی چار روحانی قوتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
خدا نے ہر دور میں اپنی کلیسیا کو مخالف مسیح کی قوتوں، جھوٹی تعلیمات، ظلم و ستم اور روحانی تاریکی کے مقابلے میں قائم رکھنے کے لیے ضروری قوت اور راہنمائی عطا کی۔
بھائی برینہم نے اپنے پیغام
The Fifth Seal (63-0322)
میں وضاحت کی کہ جیسے جیسے مخالف مسیح کی قوت نے اپنا طریقہ تبدیل کیا، خدا نے بھی اپنی کلیسیا کی حفاظت کے لیے مناسب روحانی قوت ظاہر کی۔
افسس کا دور شیر ببر کی قوت افسس پہلا کلیسیائی دور تھا، جس کی ابتدا رسولوں کے زمانے سے ہوئی۔اس دور میں شیر ببر کی قوت نمایاں تھی، جو خدا کے اصل کلام، ایمان، دلیری اور روحانی اختیار کی علامت ہے۔
رسولوں نے روح القدس کی قدرت سے انجیل کی منادی کی اور جھوٹی تعلیمات کے مقابلے میں خدا کے خالص کلام کو قائم رکھا۔
بھائی برینہم کے مطابق شیر ببر کی قوت نے ابتدائی کلیسیا کو مخالف مسیح کی جھوٹی تعلیم کے خلاف سچائی پر قائم رکھا۔
سمرنہ کا دور ظلم کے درمیان برداشت سمرنہ کا دور سخت مخالفت، آزمائش اور شہادتوں سے تعلق رکھتا ہے۔ بہت سے ایمانداروں نے اپنے ایمان کی خاطر تکلیف برداشت کی۔
مکاشفہ 2:10 میں خداوند نے فرمایا:
"جان دینے تک بھی وفادار رہ تو میں تجھے زندگی کا تاج دوں گا۔"
اس دور میں شیر ببر کی اصل رسولی گواہی برقرار رہی، جبکہ ایذا رسانی کے بڑھنے سے بچھڑے کی برداشت اور قربانی والی قوت بھی نمایاں ہونے لگی۔
ایمانداروں نے موت کے خوف کے باوجود مسیح اور اُس کے کلام سے وفاداری برقرار رکھی۔
پرگمن کا دور جھوٹی تعلیمات کے مقابلے میں کلام پرگمن کے دور میں کلیسیا کے اندر انسانی عقائد، مذہبی اختیار اور دنیاوی نظام کے اثرات بڑھنے لگے۔
مکاشفہ 2:14-15 میں خداوند نے بعض غلط تعلیمات کے بارے میں خبردار فرمایا۔
اس دور میں خدا کے کلام کی سچائی کو محفوظ رکھنا نہایت ضروری تھا۔ شیر ببر کی قوت اصل رسولی تعلیم کی حفاظت کی تصویر پیش کرتی ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مخالفت کلیسیا کو قربانی اور برداشت کے اگلے مرحلے کی طرف لے جا رہی تھی۔
اس لیے پرگمن کو مستقل طور پر انسان کے مسح کا دور قرار دینا بھائی برینہم کی بیان کردہ بنیادی ترتیب کے مطابق نہیں ہے۔
تھواتیرہ کا دور بچھڑے کی قوت بھائی برینہم نے خاص طور پر تھواتیرہ کے دور کو بچھڑے یا بیل کی قوت کے ساتھ جوڑا۔
یہ وہ زمانہ تھا جسے ان کی تعلیم میں مذہبی تاریکی، سخت مخالفت اور ایمانداروں کی قربانی سے متعلق سمجھایا گیا۔
بچھڑا محنت، صبر، برداشت اور قربانی کی علامت ہے۔ اس دور میں خدا کے وفادار لوگوں نے شدید دباؤ کے باوجود اپنے ایمان کو محفوظ رکھا۔
مکاشفہ 2:19 میں خداوند فرماتا ہے:
"میں تیرے کاموں اور محبت اور ایمان اور خدمت اور صبر کو جانتا ہوں۔"
بھائی برینہم کے مطابق اس دور میں بچھڑے کی روحانی قوت نے کلیسیا کو ظلم کے مقابلے میں ثابت قدم رکھا۔
سردیس کا دور انسان کی قوت اور اصلاح سردیس کا دور بھائی برینہم کی تعلیم میں اصلاحی تحریک کے آغاز سے تعلق رکھتا ہے۔
اس دور میں مارٹن لوتھر کے ذریعے ایمان سے راستباز ٹھہرائے جانے کی تعلیم دوبارہ نمایاں ہوئی۔
انسان کا چہرہ حکمت، فہم اور سمجھ کی علامت ہے۔ خدا نے اصلاحی خادموں کے ذریعے لوگوں کو انسانی روایات سے ہٹا کر بائبل کی سچائیوں کی طرف متوجہ کیا۔
بھائی برینہم کے مطابق انسان کی قوت نے اصلاحی ادوار میں خدا کے کلام کو سمجھنے اور غلط تعلیمات کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
فلادلفیہ کا دور محبت، تقدیس اور روحانی بیداری فلادلفیہ کا دور بھائی چارے کی محبت، روحانی بیداری اور انجیل کی منادی سے متعلق ہے۔
بھائی برینہم نے اس دور کو جان ویسلی اور تقدیس کی تحریک کے ساتھ جوڑا۔
یہ دور انسان کی حکمت اور روحانی سمجھ سے متعلق اصلاحی مرحلے کا تسلسل تھا، جس میں پاکیزگی، خدمت اور خدا کے کلام کی فرمانبرداری پر زور دیا گیا۔
مکاشفہ 3:8 میں خداوند فرماتا ہے:
"تُو نے میرے کلام پر عمل کیا ہے اور میرے نام کا انکار نہیں کیا۔"
اس دور میں خدا کے لوگوں نے ایمان اور محبت کے ساتھ انجیل کو پھیلایا اور روحانی بیداری کی خدمت جاری رکھی۔
لودیکیہ کا دورہ
عقاب کی قوت اور آخری زمانے کا مکاشفہ
بھائی برینہم کی تعلیم کے مطابق لودیکیہ آخری کلیسیائی دور ہے، جس میں روحانی بے پروائی اور مذہبی خود اطمینانی کے خلاف خداوند نے تنبیہ فرمائی۔
مکاشفہ 3:17-20 میں کلیسیا کی روحانی حالت اور دروازے پر کھڑے مسیح کی تصویر بیان ہوئی ہے۔
بھائی برینہم نے آخری زمانے کی بحالی کو عقاب کی قوت سے جوڑا، جو نبوتی بصیرت، خدا کے کلام کے مکاشفے اور اصل رسولی ایمان کی طرف واپسی کی علامت ہے۔
ان کی تشریح کے مطابق عقاب کی خدمت کا مقصد کوئی نئی انجیل پیش کرنا نہیں بلکہ وہی اصل کلام ظاہر کرنا ہے جو رسولوں کے زمانے میں دیا گیا تھا۔
یہ آخری زمانے کی دلہن کے لیے اہم ہے، کیونکہ اُسے خداوند یسوع مسیح کی آواز پہچان کر اُس کے کلام پر قائم رہنا ہے۔
بھائی برینہم کی وضاحت
بھائی برینہم نے چار روحانی قوتوں کی بنیادی ترتیب اس طرح بیان کی:
شیر ببر: ابتدائی رسولی کلیسیا میں اصل کلام کی دلیری اور قدرت۔ بچھڑا: ظلم و ستم اور تاریکی کے زمانے میں برداشت، محنت اور قربانی۔
انسان: اصلاحی ادوار میں حکمت، فہم اور خدا کے کلام کی دوبارہ پہچان۔
عقاب: آخری زمانے میں نبوتی مکاشفہ اور اصل رسولی ایمان کی بحالی۔
یہ چار قوتیں سات الگ الگ جانداروں کی نمائندگی نہیں کرتیں، بلکہ بھائی برینہم کی روحانی تشریح میں خدا کی طرف سے مختلف تاریخی مراحل میں ظاہر ہونے والی حفاظت اور راہنمائی کی تصویر ہیں۔
نتیجہ سات کلیسیائی ادوار کے مطالعے میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا نے ہر زمانے میں اپنے لوگوں کو مناسب روحانی قوت عطا کی۔
ابتدائی رسولی دور میں شیر ببر کی دلیری، ظلم و ستم کے زمانے میں بچھڑے کی قربانی، اصلاحی ادوار میں انسان کی حکمت اور آخری زمانے میں عقاب کی نبوتی بصیرت نمایاں ہوتی ہے۔
بھائی برینہم کی تعلیم کے مطابق یہ تمام قوتیں ایک ہی مقصد کے لیے کام کرتی ہیں، یعنی خدا کے اصل کلام کی حفاظت اور دلہن کلیسیا کی روحانی تیاری۔
اس لیے دلہن کا مرکز کوئی روحانی علامت نہیں بلکہ خداوند یسوع مسیح ہے، جو کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے (عبرانیوں 13:8)۔
بھائی برینہم کے اصل حوالہ جات
The Fifth Seal (63-0322)
22 مارچ 1963، جیفرسن ول، انڈیانا، امریکہ۔
اس پیغام میں بھائی برینہم نے شیر ببر، بچھڑے، انسان اور عقاب کی قوتوں کو کلیسیا کے مختلف تاریخی مراحل اور مخالف مسیح کی قوتوں کے مقابلے میں خدا کی حفاظت سے جوڑا۔
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
آٹھ جنوری 1961، جیفرسن ول، انڈیانا، امریکہ۔
اس پیغام میں چار جانداروں، خدا کے تخت اور چار اناجیل کے روحانی تعلق کی وضاحت موجود ہے۔
سات مہریں اور چار قوتوں کا تعلق
بھائی ولیم میرین برینہم کی تعلیم کے مطابق مکاشفہ 6 میں بیان کیے گئے پہلے چار گھوڑے، سفید، سرخ، سیاہ اور زرد، مخالف مسیح کی ایک ہی روح کے چار مختلف مراحل کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان کے مطابق شیطان نے مختلف ادوار میں جھوٹی تعلیم، ظلم و ستم، مذہبی اختیار اور موت کے ذریعے کلیسیا کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
لیکن خدا نے اپنی کلیسیا کو بے سہارا نہیں چھوڑا۔ ہر مرحلے میں اُس نے ایک مناسب روحانی قوت ظاہر کی، جس کی نمائندگی شیر ببر، بچھڑا، انسان اور عقاب کرتے ہیں۔
پہلی مہر: سفید گھوڑا اور شیر ببر کی قوت
مکاشفہ 6:1-2 میں پہلی مہر کھلنے پر ایک سفید گھوڑا ظاہر ہوتا ہے، جس کا سوار کمان رکھتا ہے اور اُسے تاج دیا جاتا ہے۔
بھائی برینہم کی تشریح کے مطابق یہ سفید گھوڑا مخالف مسیح کی روح کے ابتدائی مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے، جو بظاہر سچائی اور مذہبی پاکیزگی کی صورت میں ظاہر ہوئی، لیکن اس کا مقصد کلیسیا کو اصل کلام سے دور کرنا تھا۔
اس کے مقابلے میں خدا نے شیر ببر کی قوت ظاہر کی، جو رسولی ایمان، دلیری اور خدا کے کلام کے اختیار کی علامت تھی۔
ابتدائی رسولی کلیسیا نے روح القدس کی قدرت سے جھوٹی تعلیمات کا مقابلہ کیا اور اصل کلام کی گواہی کو قائم رکھا۔
دوسری مہر: سرخ گھوڑا اور بچھڑے کی قوت مکاشفہ 6:3-4 میں دوسری مہر کھلنے پر سرخ گھوڑا ظاہر ہوتا ہے۔ اُس کے سوار کو زمین سے صلح اٹھا لینے اور لوگوں کو قتل کرنے کی قدرت دی گئی۔
بھائی برینہم کے مطابق یہ مخالف مسیح کی قوت کا وہ مرحلہ تھا جب مذہبی اور سیاسی طاقت کے ذریعے خدا کے لوگوں پر ظلم و ستم کیا گیا۔
اس کے مقابلے میں خدا نے بچھڑے یا بیل کی قوت ظاہر کی، جو صبر، برداشت، خدمت اور قربانی کی علامت ہے۔
ایمانداروں نے شدید مخالفت اور شہادتوں کے باوجود اپنے ایمان کو محفوظ رکھا۔ انہوں نے موت کے خوف کے بجائے خدا کے کلام سے وفاداری کو اہمیت دی۔
بچھڑے کی قوت اس حقیقت کی تصویر تھی کہ کلیسیا قربانی اور ثابت قدمی کے ذریعے ظلم و ستم کے مقابلے میں قائم رہی۔
تیسری مہر: سیاہ گھوڑا اور انسان کی قوت
مکاشفہ 6:5-6 میں تیسری مہر کھلنے پر سیاہ گھوڑا ظاہر ہوتا ہے، جس کے سوار کے ہاتھ میں ترازو ہے۔
بھائی برینہم نے اس گھوڑے کو مذہبی تجارت، انسانی عقائد اور خدا کے کلام کو مذہبی اختیار کے تابع کرنے کی کوششوں سے جوڑا۔
ان کی تعلیم کے مطابق اس مرحلے میں مخالف مسیح کی قوت نے روحانی خوراک اور مذہبی نظام کو انسانی اقتدار کے ذریعے قابو کرنے کی کوشش کی۔
اس کے مقابلے میں خدا نے انسان کے چہرے کی قوت ظاہر کی، جو حکمت، فہم اور کلام کی سمجھ کی علامت ہے۔
بھائی برینہم نے اس قوت کو خاص طور پر لوتھر اور ویسلی کی اصلاحی خدمات سے جوڑا، جن کے ذریعے ایمان سے راستبازی اور تقدیس کی سچائیاں دوبارہ نمایاں ہوئیں۔
اس طرح انسان کی قوت نے روحانی تاریکی کے مقابلے میں خدا کے کلام کی روشنی اور سمجھ کو ظاہر کیا۔
چوتھی مہر: زرد گھوڑا اور عقاب کی قوت
مکاشفہ 6:7-8 میں چوتھی مہر کھلنے پر زرد گھوڑا ظاہر ہوتا ہے، جس کے سوار کا نام موت ہے اور عالمِ ارواح اُس کے پیچھے آتا ہے۔
بھائی برینہم کی تشریح کے مطابق زرد گھوڑا پہلے تین گھوڑوں کی قوتوں کا مجموعہ ہے، جہاں مذہبی فریب، سیاسی جبر اور غلط تعلیمات ایک ہی نظام میں جمع ہو جاتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں خدا نے عقاب کی قوت ظاہر کی، جو نبوتی بصیرت، خدا کے کلام کے مکاشفے اور روحانی بلندی کی علامت ہے۔
بھائی برینہم نے عقاب کی قوت کو آخری زمانے کی نبوتی خدمت کے ساتھ جوڑا، جس کا مقصد مخالف مسیح کے فریب کو ظاہر کرنا اور دلہن کو اصل رسولی کلام کی طرف واپس لانا ہے۔
اس قوت کا مقصد کسی نئی انجیل کو ظاہر کرنا نہیں بلکہ خدا کے پہلے سے دیے ہوئے کلام کی سچائی کو واضح کرنا ہے۔
پانچویں، چھٹی اور ساتویں مہریں
پہلی چار مہروں میں چار گھوڑے اور چار جانداروں کی آوازیں بیان کی گئی ہیں، لیکن پانچویں، چھٹی اور ساتویں مہروں کا موضوع مختلف ہے۔
پانچویں مہر میں قربان گاہ کے نیچے شہیدوں کی روحیں دکھائی دیتی ہیں (مکاشفہ 6:9-11)۔
بھائی برینہم نے اپنے پیغام
The Fifth Seal (63-0322)
میں ان روحوں کی تشریح اسرائیلی شہیدوں کے طور پر کی، نہ کہ دلہن کلیسیا کے طور پر۔
چھٹی مہر میں زلزلے، سورج کے تاریک ہونے، چاند کے خون کی مانند ہونے اور آسمانی نشانوں کا ذکر ہے (مکاشفہ 6:12-17)۔
بھائی برینہم کے مطابق چھٹی مہر کا تعلق خدا کی عدالت، اسرائیل کے زمانے اور عظیم مصیبت کے واقعات سے ہے۔ ان کی تعلیم میں دلہن اس مصیبت سے پہلے اٹھائی جا چکی ہوگی۔
ساتویں مہر مکاشفہ 8:1 میں بیان ہوتی ہے، جہاں اس کے کھلنے پر آسمان میں تقریباً آدھے گھنٹے کی خاموشی چھا جاتی ہے۔
بھائی برینہم نے اپنے پیغام
The Seventh Seal (63-0324E)
میں ساتویں مہر کو خدا کے انتہائی گہرے راز اور تمام چیزوں کے اختتامی منصوبے سے جوڑا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ساتویں مہر کا مکمل بھید ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے اس کے تمام رازوں کو مکمل طور پر کھل جانے کا دعویٰ کرنا درست نہیں۔
دلہن کلیسیا کی ذمہ داری خدا کے کلام میں قائم رہنا اور خداوند یسوع مسیح کی آمد کے لیے تیار رہنا ہے، نہ کہ اُن رازوں کی اپنی طرف سے تشریح کرنا جنہیں خدا نے پوشیدہ رکھا ہے۔
روحانی نتیجہ پہلی چار مہروں میں چار جانداروں اور چار گھوڑوں کا تعلق ایک اہم روحانی حقیقت ظاہر کرتا ہے۔
شیر ببر کی قوت نے جھوٹے ایمان کے مقابلے میں اصل رسولی کلام کی دلیری ظاہر کی۔
بچھڑے کی قوت نے ظلم و ستم کے مقابلے میں صبر، قربانی اور وفاداری ظاہر کی۔
انسان کی قوت نے مذہبی تاریکی کے مقابلے میں حکمت، اصلاح اور کلام کی سمجھ ظاہر کی۔
عقاب کی قوت نے آخری زمانے میں نبوتی بصیرت اور خدا کے کلام کے مکاشفے کو نمایاں کیا۔
بھائی برینہم کی تعلیم کے مطابق یہ چار روحانی قوتیں خدا کی طرف سے اپنی کلیسیا کی حفاظت اور راہنمائی کی تصویر ہیں۔
مخالف مسیح کی قوت نے مختلف صورتیں اختیار کیں، لیکن خدا نے ہر زمانے میں اپنے لوگوں کے لیے روحانی حفاظت فراہم کی۔
آخری زمانے میں دلہن کی حقیقی حفاظت کسی علامت یا انسانی شخصیت میں نہیں بلکہ خداوند یسوع مسیح اور اُس کے اصل کلام میں ہے۔
یہی وہ کلام ہے جو دلہن کو روحانی پختگی کی طرف لے جاتا ہے، تاکہ وہ اپنے دلہے کے استقبال اور رپچر کے لیے تیار رہے۔
بھائی برینہم کے اصل حوالہ جات
The First Seal (63-0318)
اٹھارہ مارچ1963۔
The Second Seal (63-0319)
انیس مارچ 1963۔
The Third Seal (63-0320)
بیس مارچ 1963۔
The Fourth Seal (63-0321)
ایکیس مارچ 1963۔
The Fifth Seal (63-0322)
بائیس مارچ 1963۔
The Sixth Seal (63-0323)
تییس مارچ 1963 ۔
The Seventh Seal (63-0324E)
چوییس مارچ 1963
یہ تمام پیغامات جیفرسن ول، انڈیانا، امریکہ میں دیے گئے۔
خیمۂ اجتماع کے گرد چار قبائلی جھنڈے اور چار جاندار
پرانے عہدنامے میں جب خدا نے موسیٰ کو خیمۂ اجتماع بنانے کا حکم دیا تو اُس نے اپنی قوم کے درمیان اپنی حضوری ظاہر کرنے کے لیے ایک خاص انتظام مقرر کیا (خروج 25–27)۔
بعد میں خدا نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ خیمۂ اجتماع کے چاروں اطراف ایک مقررہ ترتیب سے قیام کریں (گنتی 2 باب)۔
ہر سمت میں تین قبائل کا ایک گروہ تھا، جس کی قیادت ایک بڑا قبیلہ کرتا تھا۔ چاروں بڑے قبائل یہوداہ، افرائیم، رؤبن اور دان تھے، اور ہر گروہ اپنے مخصوص جھنڈے کے تحت خیمہ ڈالتا تھا۔
بھائی ولیم میرین برینہم نے اپنے پیغام
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
میں ان چار قبائلی جھنڈوں کو مکاشفہ 4 کے چار جانداروں، شیر ببر، بچھڑے، انسان اور عقاب، کے ساتھ جوڑا۔
: مشرق کی سمت یہوداہ اور شیر ببر مشرق کی طرف یہوداہ کے قبیلے نے قیام کیا، اور اُس کے ساتھ اِشکار اور زبولون کے قبائل تھے (گنتی 2:3-9)۔
بھائی برینہم کی تشریح کے مطابق یہوداہ کے جھنڈے کی علامت شیر ببر تھی، جو بادشاہی اختیار، دلیری اور قوت کو ظاہر کرتی ہے۔
پیدائش 49:9 میں یعقوب نے یہوداہ کو شیر ببر سے تشبیہ دی۔ اسی قبیلے سے داؤد بادشاہ آیا اور بعد میں خداوند یسوع مسیح جسم کے اعتبار سے اسی نسل میں پیدا ہوا۔
مکاشفہ 5:5 میں مسیح کو یہوداہ کے قبیلے کا شیر ببر کہا گیا ہے۔
یوں مشرق کی سمت خدا کی بادشاہی، اختیار اور اُس کے کلام کی قوت کی ایک روحانی تصویر پیش کرتی ہے۔
: مغرب کی سمت افرائیم اور بچھڑا مغرب کی طرف افرائیم کے قبیلے نے قیام کیا، اور اُس کے ساتھ منسی اور بنیمین کے قبائل تھے (گنتی 2:18-24)۔
بھائی برینہم نے افرائیم کے جھنڈے کو بیل یا بچھڑے کی علامت سے جوڑا۔
بیل محنت، برداشت، خدمت اور قربانی کی علامت ہے۔ یہ اُس وفادار خدمت کی تصویر پیش کرتا ہے جس میں صبر اور مسلسل محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی روحانی مفہوم کو ہم خداوند یسوع مسیح کی خادمانہ زندگی میں دیکھتے ہیں، جو خدمت لینے کے بجائے خدمت کرنے اور اپنی جان قربان کرنے آیا (مرقس 10:45)۔
یوں مغرب کی سمت خدمت، وفاداری اور قربانی کی روحانی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
: جنوب کی سمت رؤبن اور انسان جنوب کی طرف رؤبن کے قبیلے نے قیام کیا، اور اُس کے ساتھ شمعون اور جد کے قبائل تھے (گنتی 2:10-16)۔
بھائی برینہم کی تشریح میں رؤبن کے جھنڈے کی علامت انسان کا چہرہ تھا۔
انسان کا چہرہ فہم، عقل، شعور اور سمجھ کی علامت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا نے انسان کو اپنے کلام کو سننے، سمجھنے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی ذمہ داری دی ہے۔
تاہم انسانی حکمت اپنے آپ میں کامل نہیں، اس لیے حقیقی روحانی سمجھ خدا کے کلام اور اُس کی راہنمائی سے حاصل ہوتی ہے۔
یوں جنوب کی سمت حکمت، سمجھ اور خدا کے کلام کی پہچان کی روحانی تصویر پیش کرتی ہے۔
: شمال کی سمت دان اور عقاب شمال کی طرف دان کے قبیلے نے قیام کیا، اور اُس کے ساتھ آشر اور نفتالی کے قبائل تھے (گنتی 2:25-31)۔
بھائی برینہم نے دان کے جھنڈے کو عقاب کی علامت سے جوڑا، جو بلند روحانی نگاہ، تیز بصیرت اور مکاشفے کو ظاہر کرتی ہے۔
عقاب بلند پرواز ہوتا ہے اور دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح نبوتی خدمت میں خدا اپنے خادموں کو ایسی روحانی بصیرت عطا کرتا ہے جس کے ذریعے وہ اُس کے کلام اور منصوبے کو سمجھتے ہیں۔
بھائی برینہم کی تعلیم میں عقاب کی علامت خاص طور پر نبوتی مکاشفے اور آخری زمانے میں خدا کے اصل کلام کی بحالی سے تعلق رکھتی ہے۔
یوں شمال کی سمت روحانی بصیرت اور الٰہی مکاشفے کی تصویر پیش کرتی ہے۔
خیمۂ اجتماع کے درمیان خدا کی حضوری ان چاروں قبائلی گروہوں کے درمیان خیمۂ اجتماع تھا، جبکہ لاویوں کے خیمے اُس کے قریب قائم کیے جاتے تھے (گنتی 2:17؛ 3 باب)۔
خیمۂ اجتماع کے پاک ترین مقام میں عہد کا صندوق رکھا گیا تھا، جس کے اوپر کفارہ گاہ اور دو کروبی بنائے گئے تھے۔
خدا نے موسیٰ سے فرمایا کہ وہ کفارہ گاہ کے اوپر، دونوں کروبیوں کے درمیان سے اُس کے ساتھ کلام کرے گا (خروج 25:22)۔
یہ انتظام ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی حضوری اسرائیل کی عبادت اور اجتماعی زندگی کا مرکز تھی۔
بھائی برینہم نے اس زمینی ترتیب کا موازنہ آسمانی تخت کے گرد چار جانداروں سے کیا، جنہیں انہوں نے خدا کے تخت اور کلام کی حفاظت کرنے والے محافظوں کی تصویر قرار دیا۔
بھائی برینہم کی وضاحت اپنے پیغام
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
میں بھائی برینہم نے واضح کیا کہ اسرائیل کے چار بڑے قبائلی گروہ خیمۂ اجتماع کے چاروں اطراف موجود تھے۔
ان کے مطابق یہوداہ کا جھنڈا شیر ببر، افرائیم کا بیل، رؤبن کا انسان اور دان کا عقاب تھا۔
انہوں نے اس ترتیب کو مکاشفہ 4:7 کے چار جانداروں کے ساتھ جوڑا اور وضاحت کی کہ خدا کے تخت کی حفاظت کا روحانی نمونہ پرانے اور نئے عہدنامے میں نظر آتا ہے۔
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ گنتی 2 میں چاروں قبائلی جھنڈوں اور ان کی سمتوں کا ذکر تو موجود ہے، لیکن اُن جھنڈوں پر شیر، بیل، انسان اور عقاب کی تصویروں کی واضح تفصیل نہیں دی گئی۔ یہ تعلق روایتی علامتی تشریح اور بھائی برینہم کی تعلیم میں بیان ہوا ہے۔
اسی طرح خیمۂ اجتماع کے چار دروازے نہیں تھے، بلکہ اُس کے صحن کا ایک مرکزی داخلی دروازہ مشرق کی طرف تھا (خروج 27:13-16)۔ چار سمتیں دراصل اسرائیل کے قبائلی پڑاؤ کی تھیں۔
روحانی نتیجہ خیمۂ اجتماع کے گرد اسرائیل کے چار قبائلی گروہوں کی ترتیب خدا کے مقرر کردہ انتظام کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتی ہے۔
شیر ببر بادشاہی اختیار اور دلیری، بیل خدمت اور قربانی، انسان حکمت اور سمجھ، جبکہ عقاب روحانی بصیرت اور مکاشفے کو ظاہر کرتا ہے۔
بھائی برینہم کی تعلیم کے مطابق ان چاروں علامتوں کا تعلق خدا کی حضوری، اُس کے تخت اور اُس کے کلام کی حفاظت سے ہے۔
جس طرح پرانے عہدنامے میں خدا کی حضوری اسرائیل کے درمیان تھی، اسی طرح نئے عہدنامے میں خداوند یسوع مسیح اپنی کلیسیا کی روحانی زندگی کا مرکز ہے۔
آخری زمانے کی دلہن کی اصل حفاظت بھی کسی زمینی نظام یا انسانی شخصیت میں نہیں بلکہ خداوند یسوع مسیح اور اُس کے اصل کلام میں ہے۔
بھائی برینہم کا اصل حوالہ
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
آٹھ جنوری 1961، جیفرسن ول، انڈیانا، امریکہ۔
خصوصاً پیراگراف 306-321، جہاں بھائی برینہم نے چار قبائلی جھنڈوں، اُن کی سمتوں اور مکاشفہ کے چار جانداروں کے درمیان تعلق بیان کیا۔
:بائبلی حوالہ جات
گنتی 2:1-34؛ خروج 25:10-22؛ خروج 27:13-16؛ پیدائش 49:9؛ مرقس 10:45؛ مکاشفہ 4:6-8؛ مکاشفہ 5:5۔
نیا خیمۂ اجتماع انسان کا جسم، روح اور جان
چار جاندار اور انسان کی روحانی زندگی چار جانداروں کی علامتوں کے ذریعے انسان کی روحانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
شیر ببر ایمان، دلیری اور خدا کے کلام کے اختیار کی تصویر پیش کرتا ہے۔
بچھڑا خدمت، قربانی، صبر اور وفاداری کی علامت ہے۔
انسان حکمت، فہم اور روحانی سمجھ کو ظاہر کرتا ہے۔
عقاب بلند روحانی بصیرت اور الٰہی مکاشفے کی تصویر پیش کرتا ہے۔
یہ خصوصیات ایماندار کی زندگی میں ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ مل کر کام کر سکتی ہیں۔
روحانی نتیجہ انسان کے جسم، روح اور جان کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ خدا صرف ہماری ظاہری زندگی نہیں بلکہ ہمارے اندرونی وجود کو بھی بدلنا چاہتا ہے۔
جسم خدا کی خدمت کے لیے وقف ہو، روح کی سوچ اور احساسات خدا کے کلام کے تابع ہوں، اور انسان کی باطنی زندگی روح القدس کی راہنمائی میں قائم رہے۔
بھائی برینہم کی تعلیم کا بنیادی زور یہی تھا کہ حقیقی تبدیلی صرف بیرونی مذہبی صورت میں نہیں بلکہ انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔
خداوند یسوع مسیح اپنے لوگوں کو صرف ظاہری عبادت کے لیے نہیں بلاتا بلکہ ایسی زندگی کے لیے بلاتا ہے جس میں اُس کا کلام اور اُس کی روح حقیقی طور پر کام کریں۔
اس لیے نئے عہد کا سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ ایماندار اپنی پوری زندگی خدا کے لیے مخصوص کرے اور خداوند یسوع مسیح کے آنے تک وفادار رہے۔
بھائی برینہم کے اصل حوالہ جات
The Messiah (61-0117)
سترہ جنوری 1961۔
انسان کا خیمۂ اجتماع سے موازنہ اور خدا کی اندرونی حضوری کی وضاحت۔
Power Of Transformation (65-1031M)
31 اکتوبر 1965۔
انسان کے اندرونی وجود، جان اور کنٹرول ٹاور کی وضاحت۔
Works Is Faith Expressed (65-1126)
چھبس نومبر 1965۔
خصوصاً پیراگراف 207-210، جہاں بھائی برینہم نے جان، روح اور بدن کے تعلق اور کنٹرول ٹاور کی وضاحت کی۔
:بائبلی حوالہ جات
1 تھسلنیکیوں 5:23؛ 1 کرنتھیوں 6:19-20؛ خروج 25:22؛ رومیوں 12:1-2؛ عبرانیوں 9:1-7۔
نیا یروشلیم اور چار سمتوں میں بارہ دروازے
نیا یروشلیم اور خدا کا ابدی منصوبہ مکاشفہ 21 میں یوحنا رسول نے نئے یروشلیم کا ایک عظیم اور جلالی منظر دیکھا۔ یہ مقدس شہر آسمان سے خدا کی طرف سے اتر رہا تھا، اور اس کے اندر خدا کا جلال ظاہر ہو رہا تھا۔
مکاشفہ 21:13
"تین دروازے مشرق کی طرف تھے۔ تین دروازے شمال کی طرف۔ تین دروازے جنوب کی طرف اور تین دروازے مغرب کی طرف۔"
اس آیت کے مطابق نئے یروشلیم کے چار نہیں بلکہ بارہ دروازے ہیں، جو چاروں سمتوں میں تین تین کی تعداد میں موجود ہیں۔
مکاشفہ 21:12 کے مطابق ان دروازوں پر بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے نام لکھے ہوئے ہیں، جبکہ شہر کی بارہ بنیادوں پر برّہ کے بارہ رسولوں کے نام ہیں (مکاشفہ 21:14)۔
یہ ترتیب خدا کے نجاتی منصوبے میں اسرائیل اور رسولی گواہی کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔
نیا یروشلیم اور برّہ کی دلہن مکاشفہ 21:9 میں فرشتہ یوحنا سے کہتا ہے:
"اِدھر آ۔ میں تجھے دلہن یعنی برّہ کی بیوی دکھاؤں۔"
اس کے بعد یوحنا کو مقدس شہر یروشلیم دکھایا جاتا ہے، جو آسمان سے خدا کی طرف سے اتر رہا تھا۔
یہ مکاشفاتی منظر نئے یروشلیم اور برّہ کی دلہن کے درمیان ایک گہرا روحانی تعلق ظاہر کرتا ہے۔
یہ شہر خدا کی ابدی حضوری، اُس کے جلال اور اُس کے نجات یافتہ لوگوں کی مبارک امید کی تصویر پیش کرتا ہے۔
چار سمتیں اور چار روحانی علامتیں پرانے عہدنامے میں اسرائیل کے بارہ قبائل خیمۂ اجتماع کے چاروں طرف مقررہ ترتیب سے قیام کرتے تھے (گنتی 2 باب)۔
بھائی ولیم میرین برینہم نے اپنے پیغام
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
میں ان چار قبائلی گروہوں کا تعلق شیر ببر، بیل، انسان اور عقاب کی علامتوں کے ساتھ بیان کیا۔
ان چار جانداروں کی روحانی خصوصیات کو نئے یروشلیم کے جلالی منظر کے ساتھ بھی ایک علامتی مطالعے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم مکاشفہ 21 میں شہر کے چاروں رخوں کو براہِ راست چار جانداروں کے نام نہیں دیے گئے۔ اس لیے ان کے درمیان تعلق کو روحانی تشبیہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ دروازوں کی بائبلی شناخت۔
شیر ببر: بادشاہی اور اختیار شیر ببر بادشاہی، دلیری اور اختیار کی علامت ہے۔
مکاشفہ 5:5 میں خداوند یسوع مسیح کو یہوداہ کے قبیلے کا شیر ببر کہا گیا ہے، جس نے فتح حاصل کی۔
نئے یروشلیم کی اصل بادشاہی اور جلال بھی اسی غالب آنے والے مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔
شیر ببر کی علامت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدا کا ابدی منصوبہ اُس کے بادشاہی اختیار کے تحت مکمل ہوتا ہے۔ بچھڑا: خدمت اور قربانی بچھڑا یا بیل خدمت، برداشت اور قربانی کی علامت ہے۔
خداوند یسوع مسیح نے اپنی زمینی خدمت میں دوسروں کی نجات کے لیے اپنی جان قربان کی۔
مرقس 10:45 کے مطابق وہ خدمت لینے نہیں بلکہ خدمت کرنے اور اپنی جان فدیہ میں دینے آیا۔
نئے یروشلیم میں نجات یافتہ لوگوں کی موجودگی اسی برّہ کی نجات بخش قربانی سے تعلق رکھتی ہے۔
مکاشفہ 21:27 واضح کرتا ہے کہ شہر میں وہی داخل ہوں گے جن کے نام برّہ کی کتابِ حیات میں لکھے ہوئے ہیں۔
:انسان حکمت اور فہم انسان کا چہرہ حکمت، فہم اور سمجھ کی علامت ہے۔
خدا نے اپنے کلام کے ذریعے انسان پر اپنی مرضی ظاہر کی اور اُسے اپنی سچائی سمجھنے کی دعوت دی۔
نئے یروشلیم کی بارہ بنیادوں پر رسولوں کے نام ہمیں اُس رسولی گواہی کی یاد دلاتے ہیں جس کے ذریعے خداوند یسوع مسیح کی تعلیم دنیا تک پہنچی۔
یہ حقیقت خدا کے نجاتی منصوبے میں کلام، سچائی اور روحانی فہم کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔
:عقاب مکاشفہ اور آسمانی بصیرت عقاب بلند روحانی نگاہ اور نبوتی مکاشفے کی علامت ہے۔
یوحنا رسول کو روح میں ایک بلند پہاڑ پر لے جایا گیا، جہاں اُس نے خدا کی طرف سے اترتے ہوئے نئے یروشلیم کا منظر دیکھا (مکاشفہ 21:10)۔
یہ رویا اُس ابدی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے جسے انسان صرف اپنی قدرت اور عقل سے دریافت نہیں کر سکتا۔
بھائی برینہم کی تعلیم میں عقاب خدا کے کلام کے مکاشفے اور نبوتی بصیرت کی علامت ہے۔
اس روحانی تصویر کے ذریعے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ خدا اپنے مقررہ وقت پر اپنے منصوبے کی حقیقت اپنے کلام میں ظاہر کرتا ہے۔
:شہر کا اصل مرکز خدا اور برّہ نئے یروشلیم کے بارہ دروازوں، چار سمتوں اور بارہ بنیادوں کے درمیان سب سے اہم حقیقت خدا اور برّہ کی حضوری ہے۔
مکاشفہ 21:22 میں یوحنا بیان کرتا ہے کہ اُس نے شہر میں کوئی ہیکل نہ دیکھی، کیونکہ خداوند خدا قادرِ مطلق اور برّہ ہی اُس کی ہیکل ہیں۔
مکاشفہ 21:23 کے مطابق شہر کو سورج یا چاند کی روشنی کی ضرورت نہیں، کیونکہ خدا کا جلال اسے روشن کرتا ہے اور برّہ اُس کا چراغ ہے۔
یہاں خدا کی حضوری کسی زمینی خیمے یا مخصوص عمارت تک محدود نہیں، بلکہ اُس کے ابدی جلال کی معموری ظاہر ہوتی ہے۔
:روحانی نتیجہ پرانے عہدنامے میں بنی اسرائیل خیمۂ اجتماع کے چاروں طرف قیام کرتے تھے، جبکہ نئے یروشلیم میں چار سمتوں پر بارہ دروازے دکھائے گئے ہیں۔
یہ دونوں مناظر خدا کے مقرر کردہ انتظام اور اُس کی حضوری کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ دونوں کی قبائلی ترتیب کو ایک جیسا سمجھنا ضروری نہیں۔
شیر ببر کی بادشاہی، بچھڑے کی خدمت، انسان کی حکمت اور عقاب کا مکاشفہ خدا کے کام کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
لیکن نئے یروشلیم کی اصل عظمت ان چار علامتوں میں نہیں بلکہ خداوند یسوع مسیح کی ابدی بادشاہی اور اُس کے جلال میں ہے۔
وہی خدا جو پرانے عہدنامے میں اپنی قوم کے درمیان تھا، نئے عہدنامے میں روح القدس کے وسیلے سے اپنے لوگوں میں سکونت کرتا ہے، اور ابدیت میں اُن کے ساتھ اپنی مکمل رفاقت ظاہر کرے گا۔
"دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا۔"
(مکاشفہ 21:3)
:بھائی برینہم کے اصل حوالہ جات
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
آٹھ جنوری 1961۔
چار قبائلی جھنڈوں، چار جانداروں اور خدا کے تخت سے متعلق روحانی تشریح۔
The Future Home Of The Heavenly Bridegroom And The Earthly Bride (64-0802)
دو اگست 1964۔
نئے یروشلیم، برّہ کی دلہن اور ابدی گھر سے متعلق تعلیم۔:
:بائبلی حوالہ جات
گنتی 2؛ حزقی ایل 48:30-35؛ مکاشفہ 4:6-8؛ 5:5؛ 21:3، 9-14، 21-27۔
پرانے خیمہ سے نیا یروشلیم تک — ایک ہی الٰہی ترتیب
پرانے عہدنامے میں خدا نے خیمۂ اجتماع کے ذریعے اپنی حضوری بنی اسرائیل کے درمیان ظاہر کی۔ خیمۂ اجتماع قوم کی عبادت اور خدا کے ساتھ رفاقت کا مرکز تھا۔
نئے عہدنامے میں خدا نے روح القدس کے وسیلے سے اپنے لوگوں کے اندر سکونت اختیار کی۔ اب خدا کی حضوری کسی ایک زمینی عمارت تک محدود نہیں بلکہ اُس کے نجات یافتہ لوگوں کی زندگی میں ظاہر ہوتی ہے۔
اور ابدیت میں یہی الٰہی منصوبہ نئے یروشلیم میں اپنی کامل تکمیل کو پہنچتا ہے، جہاں خدا اپنے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ سکونت کرے گا۔
مکاشفہ 21:3
"دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خدا ہوگا۔"
پرانے خیمے میں خدا کی حضوری پرانے خیمۂ اجتماع کے گرد اسرائیل کے بارہ قبائل چار بڑے گروہوں میں قیام کرتے تھے۔ ہر سمت میں تین قبائل کا جتھا موجود تھا (گنتی 2 باب)۔
بھائی برینہم نے ان چار قبائلی جھنڈوں کو شیر ببر، بیل، انسان اور عقاب کی علامتوں کے ساتھ جوڑا۔
ان کی مکاشفاتی تشریح میں یہ چار جاندار خدا کے تخت، اُس کی قدرت اور کلام کی حفاظت سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس ترتیب میں خیمۂ اجتماع کا مرکزی مقام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا خود اپنی قوم کی زندگی کا مرکز تھا۔
نئے خیمے میں روح القدس کی سکونت نئے عہدنامے میں ایمانداروں کو روح القدس کا مقدس کہا گیا ہے۔
1 کرنتھیوں 3:16
"کیا تم نہیں جانتے کہ تم خدا کا مقدس ہو اور خدا کا روح تم میں بسا ہوا ہے؟"
اب خدا کے لوگ روح القدس کے ذریعے ایک روحانی گھرانے اور مقدس ہیکل کی صورت میں تعمیر کیے جا رہے ہیں (افسیوں 2باب21-22)۔
شیر ببر کی دلیری، بچھڑے کی خدمت، انسان کی حکمت اور عقاب کی روحانی بصیرت، ایماندار کی زندگی میں خدا کی کارگزاری کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
بھائی برینہم کی تعلیم کے مطابق خدا کی حقیقی حضوری کا تعلق صرف ظاہری مذہبی نظام سے نہیں بلکہ اُس زندگی سے ہے جو خدا کے اصل کلام کے تابع ہو۔
نئے یروشلیم میں الٰہی منصوبے کی تکمیل مکاشفہ 21 میں یوحنا رسول نے نئے یروشلیم کو آسمان سے اترتے دیکھا، جو برّہ کی دلہن کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔
اس مقدس شہر کے چاروں رخوں پر بارہ دروازے تھے، ہر سمت میں تین دروازے (مکاشفہ 21باب12-13)۔
بھائی برینہم نے اپنے پیغام:
The Future Home Of The Heavenly Bridegroom And The Earthly Bride (64-0802)
میں نئے یروشلیم کی عظمت، اُس کی ترتیب اور آسمانی دلہے اور زمینی دلہن کے ابدی گھر کی وضاحت کی۔
ان کی تعلیم کے مطابق خدا اپنے لوگوں کے لیے ایک ابدی گھر تیار کر رہا ہے، جہاں گناہ، موت، دکھ اور جدائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔
یوں پرانے خیمۂ اجتماع سے لے کر نئے یروشلیم تک خدا کی اپنے لوگوں کے درمیان سکونت کا ایک مسلسل روحانی تعلق نظر آتا ہے۔
چار سمتیں اور چار روحانی قوتیں بھائی برینہم کی چار جانداروں سے متعلق تشریح کی روشنی میں ان علامتوں کے ذریعے خدا کی قدرت اور کام کے چار پہلو سمجھ سکتے ہیں۔
مشرق اور شیر ببر — بادشاہی اختیار، ایمان اور خدا کے کلام کی دلیری۔
مغرب اور بچھڑا — خدمت، وفاداری، برداشت اور قربانی۔
جنوب اور انسان — حکمت، فہم اور روحانی سمجھ۔
شمال اور عقاب — نبوتی بصیرت، مکاشفہ اور آسمانی راہنمائی۔
یہ چار سمتیں اسرائیل کے قدیم قبائلی پڑاؤ کی علامتی ترتیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ نئے یروشلیم کے دروازوں کو ان چار جانداروں کے ساتھ جوڑنا ایک روحانی تشریح ہے، کیونکہ مکاشفہ 21 میں دروازوں پر بارہ قبائل کے نام لکھے ہیں۔
اس روحانی تعلق کا مقصد خدا تک پہنچنے کے چار الگ راستے ظاہر کرنا نہیں، کیونکہ خداوند یسوع مسیح نے خود فرمایا:
"دروازہ میں ہوں۔ اگر کوئی مجھ سے داخل ہو تو نجات پائے گا۔"
(یوحنا 10:9)
روحانی نتیجہ پرانا خیمۂ اجتماع، نئے عہدنامے کی روحانی ہیکل اور نیا یروشلیم، تینوں خدا کی اپنے لوگوں کے ساتھ سکونت کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں۔
پرانے عہد میں خدا نے اپنی حضوری خیمۂ اجتماع میں ظاہر کی۔
نئے عہد میں وہ روح القدس کے وسیلے سے اپنے لوگوں کے اندر سکونت کرتا ہے۔
اور ابدیت میں اُس کی حضوری نئے یروشلیم میں اپنے لوگوں کے ساتھ کامل طور پر ظاہر ہوگی۔
بھائی برینہم کی مکاشفاتی تعلیم میں چار جانداروں کی قوتیں خدا کے کلام کی حفاظت، کلیسیا کی روحانی راہنمائی اور اُس کے ابدی منصوبے کو سمجھنے میں اہم مقام رکھتی ہیں۔
لیکن اس پورے منصوبے کا اصل مرکز خداوند یسوع مسیح ہے، کیونکہ نئے یروشلیم میں کسی علیحدہ ہیکل کی ضرورت نہیں ہوگی۔
مکاشفہ 21باب22-23
"اور میں نے اُس میں کوئی مقدس نہ دیکھا اس لیے کہ خداوند خدا قادرِ مطلق اور برّہ اُس کا مقدس ہیں۔"
"اور اُس شہر میں سورج یا چاند کی روشنی کی کچھ حاجت نہیں کیونکہ خدا کے جلال نے اُسے روشن کر رکھا ہے اور برّہ اُس کا چراغ ہے۔"
یہی خدا کے نجاتی منصوبے کی عظیم تکمیل ہے کہ اُس کے لوگ ہمیشہ اُس کی حضوری میں رہیں گے، اور اُس کا جلال ابد تک اُن کی روشنی ہوگا۔
بھائی برینہم کے اصل حوالہ جات
Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
آٹھ جنوری 1961۔
خیمۂ اجتماع کے گرد چار قبائلی گروہوں، چار جانداروں اور خدا کے تخت کے روحانی تعلق کی وضاحت۔
The Future Home Of The Heavenly Bridegroom And The Earthly Bride (64-0802)
دو اگست 1964۔
نئے یروشلیم، آسمانی دلہے، زمینی دلہن اور خدا کے ابدی گھر کے بارے میں تعلیم۔
:بائبلی حوالہ جات
خروج 25:8؛ گنتی 2؛ یوحنا 10:9؛ 1 کرنتھیوں 3:16؛ افسیوں 2:21-22؛ مکاشفہ 21:2-3، 12-14، 22-23۔
ماخذ و حوالہ جات
اس مضمون کی بنیاد بائبل مقدس اور بھائی ولیم میرین برینہم کے اصل آڈیو پیغامات اور تحریری خطبات پر رکھی گئی ہے۔
بھائی برینہم کی تعلیم کو خدا نے بائبل کے بہت سے پوشیدہ بھید اور روحانی حقیقتیں انہیں الٰہی مکاشفے کے ذریعے ظاہر کیں۔ ان میں چار جانداروں، خدا کے تخت، سات کلیسیائی ادوار، سات مہروں، خیمۂ اجتماع اور دلہن کلیسیا کے درمیان روحانی تعلقات بھی شامل ہیں۔
اس مضمون میں بائبل کے واضح بیانات کے ساتھ بھائی برینہم کی مکاشفاتی تشریحات کو بھی اُن کے اصل پیغامات کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔
بائبل مقدس پیدائش 49؛ خروج 25–27؛ گنتی 2؛ یسعیاہ 6؛ حزقی ایل 1، 10، 48؛ متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی اناجیل؛ اعمالِ رسول؛ افسیوں 4؛ 1 تھسلنیکیوں 5؛ مکاشفہ 2–8، 10، 21–22۔ بھائی برینہم کے اصل پیغامات 1. The Revelation Of Jesus Christ (60-1204M)
چار دسمبر 1960۔
مکاشفہ اور سات کلیسیائی ادوار کا تعارف۔
2 .Revelation, Chapter Four Part III (61-0108)
آٹھ جنوری 1961۔
چار جاندار، خدا کا تخت، چار قبائلی جھنڈے اور چار اناجیل۔
3. The Messiah (61-0117)
سترہ جنوری 1961۔
انسان کے اندرونی وجود اور خیمۂ اجتماع کی روحانی تشریح۔
4. The First Seal تا The Seventh Seal (63-0318 تا 63-0324E)
اٹھارہ تا چوبیس مارچ 1963۔
سات مہریں، چار گھوڑے، مخالف مسیح کی قوتیں اور خدا کی حفاظت۔
5. The Future Home Of The Heavenly Bridegroom And The Earthly Bride (64-0802)
دو اگست 1964۔
نیا یروشلیم، آسمانی دلہا، زمینی دلہن اور ابدی گھر۔
6. Power Of Transformation (65-1031M)
31 اکتوبر 1965۔
خدا کے کلام کے ذریعے انسان کی اندرونی تبدیلی۔
7. Works Is Faith Expressed (65-1126)
چھبس نومبر 1965۔
انسان کے جسم، روح، جان اور کنٹرول ٹاور کی وضاحت۔
تمام اصل آڈیو پیغامات اور دستیاب تحریری نسخے
Voice of God Recordings
کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہیں:
https://branham.org
اس مضمون کا بنیادی مقصد چار جانداروں کی علامتوں کے ذریعے خدا کے کلام، اُس کی حفاظت، مکاشفاتی تعلیم اور اُس کے ابدی منصوبے کو سمجھنا ہے، جس کا مرکز خداوند یسوع مسیح ہے۔
براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں
واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔
✝️ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)
مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج از ہلسنکی فن لینڈ
2 thoughts on “The Four Living Creatures — God’s Fourfold Power from Eternity to Eternity”
So wonderful message.. God bless you brother 🙏
God bless you Dear Brother