Resources Word

The Three Pulls: From Signs to the Revealing of the Word – Part 2

تین کھچاؤ: نشانات سے کلام کے ظہور تک

حصہ دوئم

حصہ دوم کا تعارف

پہلے حصے میں ہم نے دیکھا کہ بھائی ولیم برینہم نے اپنی خدمت کے تین مراحل کو پہلا، دوسرا اور تیسرا کھچاؤ کہا۔ پہلا کھچاؤ شفا اور ہاتھ کے نشان سے، دوسرا دلوں کے بھید جاننے سے، جبکہ تیسرا کھچاؤ بتدریج کلام کے کھلنے اور پوشیدہ بھیدوں کے ظاہر ہونے سے وابستہ ہوتا گیا۔

اب حصہ دوم میں ہم تیسرے کھچاؤ کی مزید گہرائی میں جائیں گے۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ تیسرے کھچاؤ میں کیا غیر معمولی واقعات پیش آئے، بلکہ یہ ہے کہ برینہم نے خیمے کی رویا، بادشاہ کی تلوار، فرمودہ کلام(سپوکن ورڈ)، سات مہروں اور دلہن کے ساتھ اس کا کیا تعلق بیان کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کون سی باتیں انہوں نے واضح طور پر کہیں اور کن باتوں کو انہوں نے راز میں رہنے دیا۔

اس مطالعہ کا مرکز کسی انسان یا معجزے کو بڑا کرنا نہیں بلکہ کلام کو مرکز میں رکھنا ہے۔ کیونکہ نشان اپنی جگہ اہم ہوسکتا ہے، لیکن نشان کا مقصد بالآخر ہمیں خدا کے کلام کی طرف لے جانا ہے۔ جیسا کہ لکھا ہے: آسمان اور زمِیں ٹل جائیں گے لیکِن میری باتیں ہرگِز نہ ٹلیں گی۔(متی 24:35)۔

اسی بنیاد پر حصہ دوم میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ تیسرا کھچاؤ آخری زمانہ کی دلہن کے لیے کیا معنی رکھتا ہے، اور کیوں اس کا گہرا تعلق صرف قدرت کے اظہار سے نہیں بلکہ ظاہر شدہ کلام کو پہچاننے، قبول کرنے اور اس میں قائم رہنے سے ہے۔

یسوع مسیح کی خدمت میں تین مراحل

بھائی برینہم نے اپنے پیغام روحِیں جو اس وقت قید میں ہیں
Souls That Are In Prison Now
میں یسوع مسیح کی خدمت کو بھی تین مراحل کے نمونے میں بیان کیا۔ پہلے مرحلے میں شفا اور معجزات نمایاں تھے۔ یسوع بیماروں کو شفا دیتے اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے، جس کے نتیجے میں بڑی بھیڑیں اُن کے پیچھے آتی تھیں۔ یہ خدمت کا وہ مرحلہ تھا جس میں لوگ خدا کی قدرت کے ظاہری کاموں کی طرف بڑی تعداد میں متوجہ ہوئے۔

دوسرے مرحلے میں خدمت نبوت اور دلوں کی حالت ظاہر ہونے کی طرف بڑھی۔ یسوع نے صرف جسمانی ضرورتوں کو پورا نہیں کیا بلکہ انسان کے اندر کی حالت اور پوشیدہ باتوں کو بھی ظاہر کیا، جیسا کہ سامری عورت اور نتن ایل کے واقعات میں دکھائی دیتا ہے (یوحنا 4باب16-19؛ 1باب47-49)۔ برینہم اس مرحلے کو روحانی پہچان کے ساتھ جوڑتے تھے، اور اسی کے ساتھ مخالفت بھی زیادہ نمایاں ہونے لگی۔

تیسرے مرحلے میں زور کلام اور اُس کے نتیجے میں آنے والے فیصلے پر آتا ہے۔ یوحنا 6 میں یسوع کی تعلیم ایسی جگہ پہنچی جہاں بہت سے لوگ اسے قبول نہ کرسکے۔ چنانچہ لکھا ہے: “اس پر اُس کے شاگردوں میں سے بہتیرے الٹے پھر گئے اور اس کے بعد کبھی اُس کے ساتھ نہ رہے” (یوحنا 6:66)۔ لیکن پطرس اور باقی شاگرد قائم رہے۔ اِس پر اُس کے شاگِردوں میں سے بہُتیرے اُلٹے پِھر گئے اور اِس کے بعد اُس کے ساتھ نہ رہے۔پَس یِسُوع نے اُن بارہ سے کہا کیا تُم بھی چلا جانا چاہتے ہو؟۔ شمعُون پطرس نے اُسے جواب دِیا اَے خُداوند!ہم کِس کے پاس جائیں؟ہمیشہ کی زِندگی کی باتیں تو تیرے ہی پاس ہیں۔” (یوحنا 6:68)۔

یہاں ایک گہرا روحانی اصول سامنے آتا ہے: معجزہ بھیڑ کو جمع کرسکتا ہے، لیکن کلام ظاہر کرتا ہے کہ حقیقت میں کون قائم رہے گا۔ نشان انسان کو اپنی طرف متوجہ کرسکتا ہے، مگر جب کلام انسان کی سوچ، روایت اور خواہش کو چیلنج کرتا ہے تو اصل ایمان آزمائش میں آتا ہے۔ اسی نمونے کو بھائی برینہم تیسرے کھچاؤ کی وضاحت میں اہم سمجھتے تھے: آخرکار توجہ نشان پر نہیں بلکہ ظاہر کیے گئے کلام اور اس کے سامنے انسان کے ردِعمل پر آتی ہے۔

تیسرا کھچاؤ اور دلہن

بھائی برینہم کی آخری زمانہ کی تعلیم میں دلہن کا تصور بہت اہم ہے۔ لیکن دلہن کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ نشان اور معجزات دیکھتی ہے، کیونکہ بائبل آخری زمانہ میں جھوٹے نشانوں سے بھی خبردار کرتی ہے (متی 24:24)۔ اصل پہچان یہ ہے کہ دلہن خدا کے کلام کو پہچانتی اور قبول کرتی ہے۔

یسوع نے فرمایا: میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں اور مَیں اُنہِیں جانتا ہُوں اور وہ میرے پِیچھے پِیچھے چلتی ہیں۔ (یوحنا 10:27)۔ یہاں اصل زور نشان دیکھنے پر نہیں بلکہ آواز سننے اور چرواہے کے پیچھے چلنے پر ہے۔ اسی طرح دلہن کی روحانی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے زمانہ میں خدا کے کلام کی آواز کو پہچانتی ہے۔

اگر تیسرا کھچاؤ کلام کے کھلنے اور بھیدوں کے ظاہر ہونے سے متعلق ہے، تو اس کا مقصد دلہن کو کسی انسان یا شخصیت کے گرد جمع کرنا نہیں ہوسکتا۔ اس کا مرکز مسیح ہے، کیونکہ یوحنا 1:1 اور 1:14 کے مطابق کلام مجسم ہوا اور ہمارے درمیان رہا۔ حقیقی خدمت انسان کو اپنی طرف نہیں بلکہ مسیح، زندہ کلام، کی طرف واپس لے جاتی ہے۔

یہ فرق بہت ضروری ہے۔ نشان توجہ حاصل کرسکتا ہے، خادم خدا کے مقصد میں استعمال ہوسکتا ہے، لیکن دلہن کا آخری تعلق خادم کے ساتھ نہیں بلکہ دولہا، یسوع مسیح کے ساتھ ہے۔ اس لیے تیسرے کھچاؤ کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے مرکز ہمیشہ یہی رہنا چاہیے: مسیح اور اُس کا کلام۔

تیسرا کھچاؤ اور نقل نہ ہوسکنا

پہلے دو کھچاؤ میں ایسے ظاہری نشان موجود تھے جنہیں لوگ دیکھ سکتے تھے۔ پہلا کھچاؤ شفا اور ہاتھ کے نشان سے، جبکہ دوسرا روحانی پہچان اور دلوں کے بھید ظاہر ہونے سے متعلق تھا۔ جو چیز ظاہری طور پر دیکھی جائے، انسان اس کے انداز یا طریقۂ کار کی نقل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، لیکن ظاہری مشابہت حقیقی الٰہی کام کا ثبوت نہیں ہوتی۔

تیسرے کھچاؤ کی گہرائی یہاں مختلف نظر آتی ہے، کیونکہ حقیقی کلام کا مکاشفہ محض انسانی نقل یا اداکاری سے پیدا نہیں ہوتا۔ یسوع نے فرمایا: “لیکِن جب وہ یعنی رُوح حق آئے گا تو تُم کو تمام سَچّائی کی راہ دِکھائے گا۔(یوحنا 16:13)۔ روح القدس ہی ایماندار کو کلام کی سچائی میں لے جاتا اور اس کے حقیقی معنی کو دل پر روشن کرتا ہے۔

اسی لیے تیسرے کھچاؤ کو صرف پہلے دو سے زیادہ طاقتور معجزہ سمجھنا کافی نہیں۔ اس کا ایک گہرا پہلو روح اور کلام کا باہمی تعلق ہے، جہاں روح القدس انسان کو پہلے سے لکھے ہوئے کلام کی سچائی میں لے جاتا ہے۔ طریقے اور ظاہری مظاہر نقل ہوسکتے ہیں، لیکن خدا کے کلام کا حقیقی روحانی مکاشفہ انسانی نقل سے پیدا نہیں کیا جاسکتا۔

کیا تیسرا کھچاؤ مکمل ہوچکا تھا؟

یہ ایک اہم سوال ہے، اور بھائی برینہم کے مختلف بیانات کو ساتھ رکھ کر اسے احتیاط اور توازن کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ ایک طرف انہوں نے تیسرے کھچاؤ کو کلام کے کھلنے اور بھیدوں کے ظاہر ہونے سے جوڑا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے اہم پہلو ان کی خدمت کے دوران بالفعل ظاہر ہو رہے تھے۔ خاص طور پر ان کی بعد کی منادی میں تیسرے کھچاؤ کا تعلق کلام کے مکاشفہ کے ساتھ نمایاں نظر آتا ہے۔

دوسری طرف بھائی برینہم نے تیسرے کھچاؤ کے بعض پہلوؤں کے بارے میں مستقبل کی زبان بھی استعمال کی اور بعض چیزوں کو کھول کر بیان کرنے سے گریز کیا۔ اس لیے یہ کہنا کہ انہوں نے تیسرے کھچاؤ کے ہر پہلو اور ہر راز کو مکمل طور پر عوام کے سامنے بیان کردیا تھا، ان کے تمام بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے محتاط نتیجہ نہیں ہوگا۔ زیادہ متوازن سمجھ یہ ہے کہ تیسرے کھچاؤ کے پہلو ان کی خدمت میں ظاہر ہوئے، لیکن اس سے متعلق ہر بات کو عوامی طور پر مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا گیا۔

اسی وجہ سے آج مختلف میسیج حلقوں میں تیسرے کھچاؤ کی مکمل تکمیل کے بارے میں مختلف تشریحات پائی جاتی ہیں۔ اس مقام پر بہتر ہے کہ قیاس آرائی کے بجائے انہی باتوں تک محدود رہا جائے جنہیں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ استثنا 29:29 کا اصول یاد دلاتا ہے: غیب کا مالک تو خداوند ہمارا خدا ہی ہے پر جو باتیں ظاہر کی گئی ہیں و ہ ہمیشہ تک ہمارے اور ہماری اولاد کے لیے ہیں

ایک ضروری احتیاط

بھائی برینہم نے خود تیسرے کھچاؤ کے بعض پہلوؤں کو راز اور احتیاط کے ساتھ بیان کیا۔ اس لیے ہر نئی روحانی تحریک، ہر غیر معمولی واقعہ یا کسی شخص کے بڑے دعوے کے بارے میں فوراً یہ کہنا کہ “یہ تیسرا کھچاؤ ہے” درست احتیاط نہیں ہوگی۔ خاص طور پر جب بھائی برینہم نے خود بعض باتوں کو کھول کر بیان کرنے سے گریز کیا، تو ہمیں بھی اپنی تشریحات کو ان کے واضح بیانات سے آگے نہیں لے جانا چاہیے۔

بائبل ہمیں روحانی دعووں کو بغیر جانچے قبول کرنے کی تعلیم نہیں دیتی۔ پولس لکھتا ہے: سب باتوں کو آزماؤ۔ جو اچھّی ہو اُسے پکڑے رہو۔ (1 تھسلنیکیوں 5:21)۔ اسی طرح یوحنا لکھتا ہے: اَے عِزیزو! ہر ایک رُوح کا یقِین نہ کرو بلکہ رُوحوں کو آماؤ کہ وہ خُدا کی طرف سے ہیں یا نہِیں کِیُونکہ بہُت سے جھُوٹے نبی دُنیا میں نِکل کھڑے ہُوئے ہیں۔ (1 یوحنا 4:1)۔ یعنی روحانی تجربہ کتنا ہی غیر معمولی کیوں نہ دکھائی دے، اسے پرکھنا ضروری ہے۔

آخری زمانہ میں یہ احتیاط اور بھی اہم ہوجاتی ہے، کیونکہ یسوع نے جھوٹے مسیحوں اور جھوٹے نبیوں کے بڑے نشان اور عجائب دکھانے کے بارے میں خبردار کیا (متی 24:24)۔ اس لیے کسی چیز کے سچا ہونے کی بنیاد صرف یہ نہیں کہ وہاں کوئی نشان، پیشین گوئی یا غیر معمولی واقعہ ہوا ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا یہ خدا کے کلام کے مطابق ہے؟

لہٰذا تیسرے کھچاؤ کو سمجھنے میں ہمارا رویہ جوش یا قیاس آرائی کے بجائے کلام پر قائم ہونا چاہیے۔ نشان متاثر کرسکتے ہیں اور روحانی دعوے توجہ حاصل کرسکتے ہیں، لیکن آخری کسوٹی خدا کا کلام ہے۔ جو بات کلام کے مطابق ہو اسے قبول کیا جائے، اور جو کلام کے خلاف ہو اسے کسی بڑے دعوے یا غیر معمولی نشان کی وجہ سے قبول نہ کیا جائے۔

تین کھچاؤ کا گہرا روحانی نقشہ

ان تینوں کھچاؤ کو ایک سادہ روحانی ترتیب میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلا کھچاؤ جسم سے متعلق تھا، جہاں بیماری اور شفا نمایاں تھی۔ انسان نے اپنی آنکھوں سے خدا کی قدرت کا کام دیکھا اور نشان کے ذریعے اس کی توجہ خدا کی طرف کھینچی گئی۔ لیکن یہ سفر کی ابتدا تھی، آخری منزل نہیں۔

دوسرا کھچاؤ دل کی طرف لے گیا۔ یہاں معاملہ جسمانی بیماری سے آگے بڑھ کر انسان کی اندرونی اور پوشیدہ حالت تک پہنچا۔ دل کے بھید، زندگی کے واقعات اور چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہونے کے ذریعے یہ دکھایا گیا کہ خدا صرف انسان کے جسم کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کے دل اور زندگی کی حالت کو بھی جانتا ہے۔

تیسرا کھچاؤ کلام کی طرف توجہ لے جاتا ہے۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ انسان نے کوئی معجزہ دیکھا یا اس کے دل کا کوئی بھید ظاہر ہوا، بلکہ یہ کہ خدا اپنے کلام میں کیا ظاہر کر رہا ہے؟ بھائی برینہم کی بعد کی وضاحت میں یہی مرحلہ کلام کے کھلنے اور بھیدوں کے ظاہر ہونے کے ساتھ نمایاں طور پر جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

یوں یہ حرکت ایک لحاظ سے باہر سے اندر اور پھر کلام کے سامنے فیصلے کی طرف جاتی ہے: پہلے انسان نے خدا کا کام دیکھا، پھر اسے دکھایا گیا کہ خدا دل کو جانتا ہے، اور آخرکار سب سے اہم سوال سامنے آیا: “کیا تم خدا کے کلام کو قبول کرو گے؟” یہی سب سے گہری آزمائش ہے، کیونکہ نشان کو دیکھنا ایک بات ہے، لیکن جب ظاہر شدہ کلام انسان کی سوچ، روایت اور اپنی مرضی کو چیلنج کرے تو اس کلام کے ساتھ قائم رہنا دوسری بات ہے۔

نشان سے کلام تک

یہ پورے موضوع کا مرکزی سبق ہے۔ اگر کوئی شخص پہلے کھچاؤ پر رک جائے تو اس کی توجہ مسلسل نشانوں اور معجزات پر رہ سکتی ہے، اور اگر وہ دوسرے کھچاؤ پر رک جائے تو نبوت، رویا اور دلوں کے بھید جاننے جیسی باتیں اس کی توجہ کا مرکز بن سکتی ہیں۔ لیکن تیسرا کھچاؤ انسان کو کلام کے سامنے لے آتا ہے، جہاں اصل امتحان یہ نہیں رہتا کہ ہم نے کتنے معجزے دیکھے یا کتنی غیر معمولی باتوں کا تجربہ کیا، بلکہ یہ کہ ظاہر شدہ کلام کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہے۔ اسی لیے بھائی برینہم نے اپنی آخری خدمت میں بار بار لوگوں کی توجہ کلام کی طرف دلائی۔ آخرکار اصل سوال یہ نہیں: “ہم نے کتنے معجزے دیکھے؟” بلکہ یہ ہے: “اس زمانے کے لیے خدا کے کلام نے ہمارے اندر کیا تبدیلی پیدا کی؟” کیونکہ حقیقی مقصد صرف نشان دیکھنا نہیں بلکہ کلام کو سننا، قبول کرنا اور اُس کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔

آخری زمانہ کے لیے اس کا مطلب

یسوع مسیح نے متی 24 میں آخری زمانہ کے بارے میں صرف جنگوں، زلزلوں اور مصیبتوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ روحانی فریب کے بارے میں بھی خاص طور پر خبردار کیا۔ انہوں نے فرمایا: کِیُونکہ جھُوٹے مسِیح اور جھُوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور اَیسے بڑے نِشان اور عجِیب کام دِکھائیں گے کہ اگر مُمِکن ہو تو برگُزِیدوں کو بھی گُمراہ کرلیں۔(متی 24:24)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں کسی نشان یا غیر معمولی واقعہ کا ہونا اپنے آپ میں اس بات کا آخری ثبوت نہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔

اسی لیے نشان کے ساتھ کلام کی مطابقت ضروری ہے۔ کوئی تجربہ کتنا ہی حیران کن کیوں نہ ہو، اگر وہ خدا کے کلام کے خلاف جاتا ہے تو صرف اس کی غیر معمولی نوعیت اسے سچا نہیں بنا سکتی۔ یسوع نے اپنی بھیڑوں کی پہچان یہ بتائی: “میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں” (یوحنا 10:27)۔ لہٰذا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ہم نے کیا دیکھا، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم کس آواز کو سن اور پہچان رہے ہیں۔

یہاں تین کھچاؤ کی تعلیم آخری زمانہ کے لیے ایک سنجیدہ سبق دیتی ہے۔ دلہن کو صرف قدرت، نشان اور معجزے کی تلاش نہیں کرنی بلکہ ان سب کے درمیان خدا کی آواز کو پہچاننا ہے۔ نشان توجہ کو کھینچ سکتا ہے، لیکن کلام راستہ دکھاتا ہے؛ اور آخرکار دلہن کی پہچان یہی ہے کہ وہ مسیح کی آواز سنتی، اُس کے کلام کو قبول کرتی اور اُس کے پیچھے چلتی ہے۔

نتیجہ

بھائی برینہم کی تعلیم کے مطابق تین کھچاؤ ایک روحانی سفر کی تصویر پیش کرتے ہیں: شفا سے پہچان تک، پہچان سے مکاشفہ تک، اور مکاشفہ سے کلام کے سامنے فیصلے تک۔ پہلے کھچاؤ میں شفا اور نشان کے ذریعے لوگوں کی توجہ کھینچی گئی، جبکہ دوسرے کھچاؤ میں روحانی پہچان کے ذریعے دلوں اور زندگیوں کی پوشیدہ باتیں ظاہر ہونے کا پہلو نمایاں ہوا۔

تیسرے کھچاؤ میں توجہ مزید گہری ہوتی ہے۔بھائی برینہم نے اسے کلام کے کھلنے، بھیدوں کے ظاہر ہونے اور ایسی الٰہی کارروائی کے ساتھ جوڑا جسے محض عوامی نمائش نہیں بنایا جانا تھا۔ اس لیے تیسرے کھچاؤ کو صرف ایک بڑے معجزے یا غیر معمولی روحانی مظاہرے تک محدود کرنا اس کے اس پہلو کو نظرانداز کردیتا ہے جس میں کلام مرکزی مقام حاصل کرتا ہے۔

لیکن اس پوری تعلیم کا سب سے اہم اور محفوظ نتیجہ یہی ہے کہ دلہن کا مرکز “کھچاؤ” نہیں بلکہ مسیح ہے، اور دلہن کا مرکز معجزہ نہیں بلکہ کلام ہے۔ نشان، روحانی نعمتیں اور خدمت اپنی جگہ اہم ہوسکتے ہیں، لیکن ان سب کا مقصد انسان کو اپنی طرف نہیں بلکہ یسوع مسیح کی طرف لے جانا ہونا چاہیے۔ اسی لیے یسوع نے فرمایا:میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں اور مَیں اُنہِیں جانتا ہُوں اور وہ میرے پِیچھے پِیچھے چلتی ہیں۔(یوحنا 10:27)۔

آخرکار آخری زمانہ میں سوال صرف یہ نہیں کہ “خدا کیا کر رہا ہے؟” بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے: “کیا ہم اُس کی آواز کو اُس کے کلام میں پہچان رہے ہیں؟” کیونکہ حقیقی دلہن صرف نشانوں سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ اپنے چرواہے کی آواز کو پہچانتی، اُس کے کلام کو قبول کرتی اور اُس کے پیچھے چلتی ہے۔ یہی تین کھچاؤ کے مطالعہ کو دوبارہ مسیح اور اُس کے کلام پر لا کر مکمل کرتا ہے۔

ماخذ اور حوالہ جات

اس مضمون کی تیاری میں بائبل مقدس اور برادر ولیم میرین برینہم کے اصل ریکارڈ شدہ پیغامات کو بنیادی ماخذ بنایا گیا ہے۔ اہم پیغامات میں
Speak To This Mountain (59-1123)، The Seventh Seal (63-0324E)، Standing In The Gap (63-0623M)، Souls That Are In Prison Now (63-1110M)، Look Away To Jesus (63-1229E)، The Voice Of The Sign (64-0313) اور The Anointed Ones At The End Time (65-0725M)
شامل ہیں۔ بھائی برینہم کے پیغامات کے حوالہ جات کی تصدیق کے لیے
Voice of God Recordings (Branham.org)
کے اصل آڈیو اور دستیاب
transcripts
کو ترجیح دی گئی ہے۔

براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔

✝️
جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)

مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج
از ہلسنکی فن لینڈ

Leave a Comment