Resources Word

How Long Will Israel Remain Under Attacks from the Gentile Nations?

اسرائیل کب تک غیروں قوموں کے حملوں کا نشانہ رہے گا؟

بائبل، نبوت اور موجودہ دنیا کی روشنی میں

اسرائیل کی موجودہ حالت اور نبوتی حقیقت

تعارف: 🟦
اسرائیل کی موجودہ حالت اور نبوتی حقیقت

آج کی دنیا میں اسرائیل ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ مسلسل دباؤ، جنگ اور عالمی سیاست کے درمیان گھرا ہوا نظر آتا ہے۔ حماس کے حملے، ایران کی کھلی مخالفت، اور روس جیسے طاقتور ممالک کی حکمت عملی، یہ سب ہمیں ایک پیچیدہ تصویر دکھاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم صرف خبروں تک محدود نہ رہیں بلکہ کلامِ مقدس کی روشنی میں دیکھیں، تو یہ سب واقعات ایک الٰہی ترتیب کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔

یسوع مسیح نے خود پہلے سے بتا دیا تھا کہ یہ سب ایک مقررہ وقت تک جاری رہے گا۔
لوقا 21:24 ●

"اور جب تک غَیر قَوموں کی مِیعاد پُوری نہ ہو یروشلِیم غَیر قَوموں سے پامال ہوتی رہے گی۔"

یہ آیت ہمیں ایک خاموش سچائی دیتی ہے کہ اسرائیل کی موجودہ حالت مستقل نہیں، بلکہ ایک مقررہ مدت کے اندر محدود ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ اختتام نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے۔

غیر قوموں کا زمانہ

جب بائبل "غیر قوموں کے زمانے" کی بات کرتی ہے تو وہ ایک خاص روحانی دور کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب خدا اپنی توجہ غیر قوموں کی طرف کرتا ہے، اور اسرائیل ایک حد تک روحانی پردہ میں رہتا ہے۔ یہ بات صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ رسول پولس نے اسے واضح طور پر بیان کیا۔

رومیوں 11:25 ●
"اَے بھائِیو کہِیں اَیسا نہ ہو کہ تُم اپنے آپ کو عقلمند سَمَجھ لو۔ اِس لِئے مَیں نہِیں چاہتا کہ تُم اِس بھید سے ناواقِف رہو کہ اِسرائیل کا ایک حِصّہ سخت ہوگیا ہے اور جب تک غَیر قَومیں پُوری پُوری داخِل نہ ہوں وہ اَیسا ہی رہے گا۔"

یہاں ایک گہری ترتیب ظاہر ہوتی ہے۔ پہلے خدا غیر قوموں میں سے اپنی دلہن کو مکمل کرتا ہے۔ یہ ایک چناؤ کا عمل ہے، جو دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہے لیکن خدا کی نظر میں مکمل ہو رہا ہے۔ جب یہ کام پورا ہوگا، تب خدا دوبارہ اسرائیل کی طرف رجوع کرے گا۔

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ موجودہ دور صرف سیاسی یا تاریخی نہیں بلکہ روحانی طور پر نہایت اہم ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب آسمانی بلائے جانے کا کام جاری ہے۔

اسرائیل کے خلاف آنے والی قومیں

حزقی ایل 38–39 🟦

حزقی ایل کی کتاب ہمیں ایک آنے والی بڑی جنگ کی تصویر دیتی ہے، جس میں کئی قومیں اسرائیل کے خلاف جمع ہوں گی۔ یہ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک منظم عالمی اتحاد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

حزقی ایل 38باب2–6 میں جن قوموں کا ذکر ہے، ان کے قدیم اور موجودہ نام اس طرح سمجھے جاتے ہیں:

کہ اَے آدمؔ زاد جُوج کی طرف جو ماجُوج کی سرزمِین کا ہے اور روش اور مسک اور تُوبل کا فرمانروا ہے مُتوجِّہ ہو اور اُس کے خِلاف نبُوّت کر۔ اور کہہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ اَے جُوج روش اور مسک اور تُوبل کے فرمانروا مَیں تیرا مُخالِف ہُوں۔ اور مَیں تُجھے پِھرا دُوں گا اور تیرے جبڑوں میں آنکڑے ڈال کر تُجھے اور تیرے تمام لشکر اور گھوڑوں اور سواروں کو جو سب کے سب مُسلّح لشکر ہیں جو پھریاں اور سِپریں لِئے ہیں اور سب کے سب تَیغ زن ہیں کھینچ نِکالُوں گا۔ اور اُن کے ساتھ فارؔس اور کُوش اور فُوط جو سب کے سب سِپر بردار اور خود پوش ہیں۔ جُمر اور اُس کا تمام لشکر اور شِمال کی دُور اطراف کے اہلِ تُجرمہ اور اُن کا تمام لشکر یعنی بُہت سے لوگ جو تیرے ساتھ ہیں۔

ماجوج کو عام طور پر شمالی علاقوں، خاص طور پر روس سے جوڑا جاتا ہے۔ روش بھی اسی خطے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ میشک کو موجودہ ماسکو سے اور توبل کو توبولسک سے منسلک کیا جاتا ہے۔ فارس آج کا ایران ہے۔ کوش کو ایتھوپیا اور سوڈان کے علاقوں سے، اور فوط کو لیبیاسے پہچانا جاتا ہے۔ جومر اور توجرمہ کو زیادہ تر ترکی اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے جوڑا جاتا ہے۔

یہ تمام قومیں ایک خاص سمت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، یعنی شمالی اتحاد۔ برادر برینہم نے بھی اپنی تعلیم میں اس بات پر زور دیا کہ آخری زمانے میں ایک شمالی طاقت اسرائیل کے خلاف کھڑی ہوگی۔

ایک اہم بات یہاں یہ ہے کہ حزقی ایل 38 میں خدا خود کہتا ہے کہ "میں تجھے لے آؤں گا"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جنگ صرف انسانی خواہش یا سیاسی منصوبہ نہیں بلکہ خدا کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ وہ ان قوموں کو اکٹھا ہونے دیتا ہے تاکہ آخرکار اپنی قدرت ظاہر کرے۔

یہ نبوت ہمیں ایک خاموش سمجھ دیتی ہے کہ جو کچھ آج دنیا میں ترتیب پا رہا ہے، وہ صرف حالات کا بہاؤ نہیں بلکہ ایک پہلے سے لکھا ہوا نقشہ ہے۔ پرانے زمانے کے یہ نام آج کے جغرافیہ میں اپنی جگہ رکھتے ہیں، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کا کلام وقت کے ساتھ پرانا نہیں ہوتا بلکہ زیادہ واضح ہوتا جاتا ہے۔

جوج و ماجوج: ایک گہرا راز

"جوج اور ماجوج" کا ذکر بائبل میں دو مختلف جگہوں پر آتا ہے، اور اگر ان دونوں کو الگ الگ نہ سمجھا جائے تو انسان آسانی سے الجھن میں پڑ سکتا ہے۔ پہلی جگہ ہمیں یہ نام حزقی ایل 38–39 میں ملتا ہے، جہاں ایک بڑی جنگ کا ذکر ہے جو اسرائیل کے خلاف ہوتی ہے۔ دوسری جگہ یہی نام مکاشفہ 20:8 میں آتا ہے، لیکن وہاں یہ واقعہ ہزار سالہ بادشاہی کے بعد کی ایک آخری بغاوت کو بیان کرتا ہے۔

حزقی ایل والا واقعہ اُس وقت کا ہے جب زمین پر ابھی آخری فیصلے مکمل نہیں ہوئے، جبکہ مکاشفہ 20 والا واقعہ ہزار سالہ دور کے بعد ہوتا ہے۔ دونوں کا نام ایک جیسا ہے، لیکن وقت اور مقصد مختلف ہے۔

حزقی ایل 38–39 میں "جوج" ایک لیڈر یا سردار کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، اور "ماجوج" اُس کے ماتحت علاقوں یا قوموں کا نام ہے۔ یعنی "جوج" کو ایک قیادت سمجھیں، اور "ماجوج" کو اُس کی فوج یا اتحاد۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ آخری زمانے میں ایک خاص نظام یا طاقت اُٹھے گی جو مختلف قوموں کو ایک مقصد کے لیے اکٹھا کرے گی، اور وہ مقصد اسرائیل کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔

روحانی طور پر اگر ہم اسے دیکھیں تو یہ صرف ممالک کی جنگ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک گہری مخالفت ہے جو خدا کے منصوبے کے خلاف ہے۔ جیسے شروع سے شیطان خدا کے کام کو روکنے کی کوشش کرتا آیا ہے، ویسے ہی آخری زمانے میں بھی ایک منظم کوشش ہوگی کہ خدا کے وعدوں کو چیلنج کیا جائے۔

پھر مکاشفہ 20:8 میں جب ہزار سالہ بادشاہی ختم ہو جاتی ہے، تو "جوج اور ماجوج" دوبارہ ذکر ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ کسی خاص ملک یا لیڈر کا نام نہیں بلکہ پوری دنیا کی اُن قوموں کی نمائندگی ہے جو آخر میں پھر بغاوت کریں گی۔ اس سے ہمیں یہ سمجھ آتی ہے کہ انسان کا دل اگر خدا کے بغیر رہے تو حتیٰ کہ امن کے دور کے بعد بھی بغاوت کی طرف جا سکتا ہے۔

یہ ساری بات ہمیں ایک سادہ سبق دیتی ہے: ہر جنگ صرف زمین پر نظر آنے والی نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے ایک روحانی حقیقت بھی ہوتی ہے۔ جو کچھ ہم خبروں میں دیکھتے ہیں، وہ دراصل ایک بڑے روحانی نقشے کا حصہ ہوتا ہے۔

آخر میں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بائبل ہمیں خوف دینے کے لیے نہیں بلکہ سمجھ دینے کے لیے یہ سب دکھاتی ہے۔ جب ہم "جوج اور ماجوج" کو صحیح ترتیب میں سمجھتے ہیں، تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ خدا ہر چیز پر قابض ہے، اور ہر واقعہ اُس کے مقررہ وقت کے اندر ہی ہوتا ہے۔

تمام قوموں کا اجتماع: ہرمجدون

آخرکار بائبل ہمیں ایک ایسے وقت کی طرف لے جاتی ہے جب صرف چند نہیں بلکہ تمام قومیں اسرائیل کے خلاف جمع ہوں گی۔
زکریاہ 14:2●
"کیونکہ مَیں سب قَوموں کو فراہم کرُوں گا کہ یروشلیِم سے جنگ کریں اور شہر لے لِیا جائے گا اور گھر لُوٹے جائیں گے اور عَورتیں بے حُرمت کی جائیں گی اور آدھا شہر اسِیری میں جائے گا لیکن باقی لوگ شہر ہی میں رہیں گے۔"

مکاشفہ 16:16 ●

اور اُنہوں نے اُن کو اُس جگہ جمع کِیا جِس کا نام عِبرانی میں ہرمِجّدون ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں دنیا کی طاقتیں اپنے عروج پر ہوں گی، لیکن ساتھ ہی ان کی حد بھی ظاہر ہو جائے گی۔ یہ جنگ انسان کی طاقت کا نہیں بلکہ خدا کی مداخلت کا دروازہ بنے گی۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کا اختتام انسان کے ہاتھ میں نہیں۔

یسوع مسیح کی آمد اور الہی مداخلت

جب دنیا کے حالات اپنی انتہا کو پہنچ جائیں گے، اور ہر طرف سے راستے بند ہوتے نظر آئیں گے، تب بائبل ہمیں ایک خاموش یقین دیتی ہے کہ خدا خود مداخلت کرے گا۔ یہ مداخلت انسان کے ذریعے نہیں بلکہ آسمان سے ہوگی۔ جب جنگیں بڑھ جائیں گی، قومیں اکٹھی ہو جائیں گی، اور خاص طور پر اسرائیل مکمل طور پر گھیر لیا جائے گا، تب وہ لمحہ آئے گا جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔
متی 24:30 ●
'اور اُس وقت اِبنِ آدمؔ کا نِشان آسمان پر دِکھائی دے گا۔ اور اُس وقت زمِین کی سب قَومیں چھاتی پِیٹیں گی اور اِبنِ آدمؔ کو بڑی قُدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ یسوع مسیح کی آمد کوئی پوشیدہ بات نہیں ہوگی بلکہ ایک ظاہر ہونے والا واقعہ ہوگا۔ لوگ اسے دیکھیں گے، اور یہ ایک ایسا وقت ہوگا جب آسمان زمین کے معاملات میں براہِ راست داخل ہوگا۔

مکاشفہ 19باب11–16 ●

یہاں یسوع مسیح کو ایک فاتح بادشاہ کے طور پر دکھایا گیا ہے، جو گھوڑے پر سوار ہو کر آتا ہے، اور اُس کے ساتھ آسمانی لشکر بھی ہوتے ہیں۔ اس تصویر میں وہ ایک نجات دہندہ کے ساتھ ساتھ ایک منصف کے طور پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔

اب اس ترتیب کو سادہ انداز میں سمجھیں، جیسا کہ برادر برینہم نے تعلیم دی:

سب سے پہلے ایک پوشیدہ کام ہوتا ہے، جسے دلہن کا اٹھایا جانا کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے لیے ایک بڑا واقعہ نہیں لگتا، لیکن روحانی طور پر یہ بہت اہم ہے۔ اس کے بعد زمین پر مصیبت کا دور آتا ہے، جہاں حالات بہت سخت ہو جاتے ہیں، اور دنیا ایک بڑی آزمائش سے گزرتی ہے۔ پھر آخر میں یسوع مسیح ظاہر ہوتا ہے، خاص طور پر اسرائیل کی نجات کے لیے۔

اسے ایک سادہ ترتیب میں یوں سمجھ سکتے ہیں:
پہلے بلایا جانا، پھر آزمائش، پھر ظاہر ہونا۔

یہ سب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خدا جلدی یا بے ترتیبی میں کام نہیں کرتا۔ ہر چیز ایک خاص وقت اور ترتیب کے مطابق ہوتی ہے۔ جو آج ہمیں بکھرا ہوا لگتا ہے، وہ دراصل خدا کے منصوبے میں ایک مکمل نقشہ رکھتا ہے۔

جب یسوع مسیح ظاہر ہوگا، تو یہ صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں ہوگا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہوگا۔ اُس وقت انسان کی طاقت ختم ہو جائے گی اور خدا کی قدرت ظاہر ہوگی۔

آخر میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ تعلیم ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ تیار کرنے کے لیے دی گئی ہے۔ جو شخص اس ترتیب کو سمجھ لیتا ہے، وہ حالات سے گھبراتا نہیں بلکہ خاموشی سے اپنے آپ کو خدا کے ساتھ درست رکھتا ہے۔

اسرائیل کی نجات: پہچان کا لمحہ

جب حالات اپنی آخری حد کو پہنچ جائیں گے، اور اسرائیل ہر طرف سے دشمنوں کے گھیراؤ میں آ جائے گا، تب ایک ایسا وقت آئے گا جب کوئی انسانی مدد باقی نہیں رہے گی۔ نہ سیاسی اتحاد کام آئے گا، نہ فوجی طاقت۔ اسی بے بسی کے لمحے میں ایک گہری روحانی تبدیلی شروع ہوگی۔ یہ وہ وقت ہوگا جب ظاہری جنگ کے بیچ ایک اندرونی جاگنا پیدا ہوگا۔

زکریاہ 12:10 ●

اور مَیں داؤُد کے گھرانے اور یروشلیِم کے باشِندوں پر فضل اور مُناجات کی رُوح نازِل کرُوں گا اور وہ اُس پر جِس کو اُنہوں نے چھیدا ہے نظر کریں گے اور اُس کے لِئے ماتم کریں گے جَیسا کوئی اپنے اِکلوتے کے لِئے کرتا ہے اور اُس کے لِئے تلخ کام ہوں گے جَیسے کوئی اپنے پہلوٹھے کے لِئے ہوتا ہے۔

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسرائیل ایک خاص لمحے میں یسوع مسیح کو پہچان لے گا۔ وہ یہ سمجھیں گے کہ جسے انہوں نے کبھی رد کیا تھا، وہی حقیقت میں اُن کا مسیحا تھا۔ یہ پہچان صرف ذہنی نہیں ہوگی بلکہ دل کی گہرائی سے ہوگی۔

یہ عمل اچانک نہیں ہوگا جیسے کوئی خبر سن لی جائے، بلکہ یہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ آئے گا۔ بائبل بتاتی ہے کہ وہ ماتم کریں گے، جیسے کوئی اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے روتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی پچھلی غلطی کو سمجھیں گے اور دل سے توبہ کریں گے۔
زکریاہ 14:3●

تب خُداوند خرُوج کرے گا اور اُن قَوموں سے لڑے گا جَیسے جنگ کے دِن لڑا کرتا تھا۔ '

جب یہ پہچان آ جائے گی، تب خدا خود مداخلت کرے گا۔ یہ بہت اہم بات ہے کہ نجات انسان کی کوشش کے بعد نہیں بلکہ خدا کی مداخلت سے آتی ہے۔ جب اسرائیل مکمل طور پر کمزور ہوگا، تب خدا اپنی قدرت ظاہر کرے گا۔

پہلے گھیراؤ، پھر بے بسی، پھر پہچان، اور آخر میں نجات۔

یہ ترتیب ہمیں ایک روحانی سبق دیتی ہے کہ خدا اکثر اُس وقت کام کرتا ہے جب انسان اپنی طاقت پر بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ صرف جنگ کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ایک نیا روحانی آغاز ہوگا۔

یہ لمحہ ہمیں بھی سکھاتا ہے کہ اصل پہچان ہمیشہ دل کے نرم ہونے سے آتی ہے۔ جب انسان اپنی حالت کو مان لیتا ہے، تب خدا خود اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔

آخر میں یہ سمجھنے کی بات ہے کہ یہ نجات صرف ایک قوم کی کہانی نہیں بلکہ خدا کے وعدے کی تکمیل ہے۔ جو وعدہ کیا گیا تھا، وہ اپنے وقت پر پورا ہوگا، اور کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔

جنگ کا خاتمہ: خدا کا فیصلہ

جب ساری قومیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ جنگ میں داخل ہو جائیں گی، اور حالات اس حد تک بڑھ جائیں گے کہ انسان کے پاس کوئی حل باقی نہیں رہے گا، تب بائبل ہمیں ایک سادہ سچائی دکھاتی ہے کہ آخری فیصلہ انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ اس مقام پر خدا خود معاملہ اپنے ہاتھ میں لے گا، اور وہی اس جنگ کو ختم کرے گا۔

حزقی ایل 38:22 ●

اور مَیں وبا بھیج کر اور خُون ریزی کر کے اُسے سزا دُوں گا اور اُس پر اور اُس کے لشکروں پر اور اُن بُہت سے لوگوں پر جو اُس کے ساتھ ہیں شِدّت کا مہینہ اور بڑے بڑے اولے اور آگ اور گندھک برساؤُں گا۔

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ خدا خود دشمنوں کے خلاف فیصلہ کرے گا۔ یہ کوئی عام جنگ نہیں ہوگی جہاں ایک فوج دوسری کو شکست دیتی ہے، بلکہ یہ ایک ایسا لمحہ ہوگا جہاں آسمان سے فیصلہ آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اپنی قدرت کے ذریعے اُن طاقتوں کو ختم کرے گا جو اُس کے منصوبے کے خلاف کھڑی ہوئی تھیں۔

مکاشفہ 19:20 ●

اور وہ حَیوان اور اُس کے ساتھ وہ جُھوٹا نبی پکڑا گیا جِس نے اُس کے سامنے اَیسے نِشان دِکھائے تھے جِن سے اُس نے حَیوان کی چھاپ لینے والوں اور اُس کے بُت کی پرستِش کرنے والوں کو گُمراہ کِیا تھا۔ وہ دونوں آگ کی اُس جِھیل میں زِندہ ڈالے گئے جو گندھک سے جَلتی ہے۔

یہاں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ وہ روحانی اور سیاسی نظام، جو لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے، اچانک ختم کر دیے جائیں گے۔ یہ صرف انسانوں کی جنگ نہیں بلکہ ایک نظام کا خاتمہ ہوگا، جو جھوٹ اور فریب پر قائم تھا۔

مکاشفہ 20:9 ●

اور وہ تمام زمِین پر پَھیل جائیں گی اور مُقدّسوں کی لشکر گاہ اور عزِیز شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیں گی اور آسمان پر سے آگ نازِل ہو کر اُنہیں کھا جائے گی۔

یہ آیت ایک سادہ تصویر دیتی ہے کہ آخرکار بغاوت کا انجام کیا ہوگا۔ چاہے کتنی ہی بڑی طاقت کیوں نہ جمع ہو جائے، وہ خدا کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔ ایک لمحے میں سب ختم ہو جائے گا۔

اگر اسے آسان طریقے سے سمجھیں تو ترتیب کچھ یوں ہے:
انسان اپنی پوری کوشش کرتا ہے → حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں → پھر خدا مداخلت کرتا ہے → اور ایک لمحے میں فیصلہ ہو جاتا ہے۔

یہ ہمیں ایک اہم روحانی سبق دیتا ہے کہ خدا کبھی جلدی نہیں کرتا، لیکن وہ دیر بھی نہیں کرتا۔ جب اُس کا وقت آتا ہے، تو فیصلہ واضح اور مکمل ہوتا ہے۔

یہ جنگ ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ انسان کتنا طاقتور ہے، بلکہ یہ دکھاتی ہے کہ خدا کی قدرت کے سامنے سب کچھ کتنا محدود ہے۔ آخر میں انسان صرف دیکھنے والے ہوں گے، اور خدا خود اپنے کلام کو پورا کرے گا۔

یہ بات دل میں سکون پیدا کرتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے مسائل کا آخری حل انسان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا کے اختیار میں ہے۔

برادر برینہم کی تعلیم کی روشنی میں خلاصہ

برادر برینہم کی نے اپنی تعلیم میں بار بار ایک بنیادی بات پر زور دیا کہ اسرائیل خدا کی گھڑی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آخری زمانے کو سمجھنا چاہتا ہے، تو اُسے اسرائیل کی حالت کو دیکھنا ہوگا، کیونکہ خدا اپنے وقت کو اسی قوم کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خدا کا کام ایک ترتیب کے ساتھ چلتا ہے۔ پہلے خدا غیر قوموں میں سے اپنی دلہن کو چنتا ہے۔ یہ ایک خاموش کام ہے جو دنیا کو زیادہ نظر نہیں آتا، لیکن روحانی طور پر بہت اہم ہے۔ جب یہ چناؤ مکمل ہو جاتا ہے، تب خدا دوبارہ اسرائیل کی طرف اپنا کام شروع کرتا ہے۔

اسے سادہ انداز میں یوں سمجھیں:

پہلے دلہن کی تکمیل، پھر اسرائیل کی بیداری۔

رادر برینہم کی تعلیم کے مطابق، جب دلہن کا وقت ختم ہوتا ہے، تو زمین پر حالات بدلنے لگتے ہیں۔ خاص طور پر شمالی طاقتیں اسرائیل کے خلاف اُٹھتی ہیں۔ یہ وہی منظر ہے جس کا ذکر حزقی ایل میں کیا گیا ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ خدا کے علم اور اجازت کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ اُس سے باہر۔

پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان کی طاقت ناکام ہو جاتی ہے، اور اسرائیل خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ اسی مقام پر خدا خود مداخلت کرتا ہے۔ وہ اپنے وعدے کے مطابق اسرائیل کو بچاتا ہے، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ اُس کا کلام سچا ہے۔

یہ تعلیم ہمیں ایک سادہ لیکن گہرا اصول دیتی ہے: خدا کبھی جلدی نہیں کرتا، لیکن وہ کبھی دیر بھی نہیں کرتا۔ ہر چیز اپنے مقررہ وقت پر پوری ہوتی ہے۔

آخری روحانی سبق

یہ سب واقعات جنہیں ہم روزانہ خبروں میں دیکھتے ہیں، صرف سیاسی یا عالمی حالات نہیں ہیں بلکہ ایک بڑے روحانی منصوبے کا حصہ ہیں۔ خدا ایک ہی وقت میں دو کام کر رہا ہے: ایک طرف وہ غیر قوموں میں سے اپنی دلہن کو تیار کر رہا ہے، اور دوسری طرف اسرائیل کو آہستہ آہستہ اُس مقام تک لے جا رہا ہے جہاں وہ جاگے اور پہچانے۔

یہ دونوں کام ایک ساتھ چل رہے ہیں، چاہے دنیا اسے نہ سمجھے۔ باہر سے یہ سب عام حالات لگتے ہیں، لیکن اندرونی طور پر ایک روحانی تبدیلی ہو رہی ہے۔

متی 24:44 ●

اِس لِئے تُم بھی تیّار رہو کیونکہ جِس گھڑی تُم کو گُمان بھی نہ ہو گا اِبنِ آدمؔ آ جائے گا۔

یہ آیت ہمیں ایک سادہ ہدایت دیتی ہے کہ اصل توجہ حالات پر نہیں بلکہ اپنی تیاری پر ہونی چاہیے۔ کیونکہ وقت کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان تیار ہو، نہ کہ صرف معلومات حاصل کرے۔

دنیا بدل رہی ہے → نشانیاں ظاہر ہو رہی ہیں → اور خدا لوگوں کو تیار کر رہا ہے۔

یہ سبق ہمیں سکھاتا ہے کہ صرف جاننا کافی نہیں، بلکہ تیار ہونا ضروری ہے۔ جو شخص صرف واقعات کو دیکھتا ہے وہ الجھ سکتا ہے، لیکن جو اُن کے پیچھے خدا کے مقصد کو سمجھتا ہے، وہ سکون میں رہتا ہے۔

آخری بات 🟦

وقت آہستہ آہستہ اپنی تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔اورواقعات تیزی سے بدل رہے ہیں، لیکن خدا کا کلام ویسا ہی قائم ہے جیسا پہلے تھا۔جو شخص روحانی نظر رکھتا ہے، وہ صرف حالات کو نہیں دیکھتا بلکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔

براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔

✝️
جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)

مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج
از ہلسنکی فن لینڈ

2 thoughts on “How Long Will Israel Remain Under Attacks from the Gentile Nations?”

Leave a Comment