Resources Word

What Is the Evidence of the Holy Ghost Bible and Prophet’s Answer

روح‌القدس کا ثبوت کیا ہے؟ بائبل اور نبی کی تعلیم میں جواب

تعارف

روح‌القدس مسیحی ایمان کی بنیاد اور کلیسیا کی جان ہے۔ جب کوئی شخص نجات پاتا ہے تو اُس کا سفر صرف صلیب پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک نئی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے۔ یہی نئی زندگی روح‌القدس کی حضوری سے ممکن ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ روح‌القدس کی سچی نشانی کیا ہے؟ کیا یہ صرف زبانیں بولنا ہے؟ کیا یہ جذباتی کیفیت ہے؟ یا پھر یہ مسیح کی زندگی کا روزانہ ہمارے اندر ظاہر ہونا ہے؟
بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ روح‌القدس ایماندار پر خدا کی مہر ہے، جو اُسے نئی پیدائش اور تبدیل شدہ زندگی عطا کرتا ہے۔ رسول پولس اور رسول یوحنا نے بار بار زور دیا کہ اصل ثبوت محبت، فرمانبرداری، اور روح کا پھل ہے۔
اسی طرح خدا کے نبی برادر ولیم برینہم نے بھی وضاحت کی کہ روح‌القدس کی اصل نشانی نہ تو صرف زبانیں بولنا ہے اور نہ ہی محض معجزات یا جذباتی تجربات، بلکہ یہ ہے کہ مسیح کی زندگی ایماندار کے اندر ظاہر ہو اور وہ اپنے زمانے کے کلام کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہو۔ یہی ٹوکن ہے، یعنی وہ نشان جس کے بغیر کوئی شخص خدا کے سامنے قبولیت نہیں پا سکتا۔
اس مضمون میں ہم بائبل اور برادربرینہم کی تعلیمات کی روشنی میں دیکھیں گے کہ روح‌القدس کی سچی اور ابدی نشانی کیا ہے۔

روح‌القدس مہر ہے

(افسیوں 1:13)
اور اُسی میں تُم پر بھی جب تُم نے کلامِ حق کو سُنا جو تُمہاری نِجات کی خُوشخَبری ہے اور اُس پر اِیمان لائے پاک مَوعُودہ رُوح کی مہر لگی۔
(افسیوں 4:30)
اور خُدا کے پاک رُوح کو رنجِیدہ نہ کرو جِس سے تُم پر مخلصی کے دِن کے لِئے مُہر ہُوئی۔
(2 کرنتھیوں 1باب21-22)
اور جو ہم کو تُمہارے ساتھ مسِیح میں قائِم کرتا ہے اور جِس نے ہم کو مسح کِیا وہ خُدا ہے۔ جِس نے ہم پر مُہر بھی کی اور بے فائِدہ میں رُوح کو ہمارے دِلوں میں دِیا۔


مہر کا مطلب🔹
قدیم زمانے میں مہر کے تین بڑے مقاصد ہوتے تھے
ملکیت کی نشانی●
جس چیز پر بادشاہ یا مالک کی مہر ہوتی تھی وہ اُسی کی ملکیت سمجھی جاتی تھی۔
جب روح‌القدس کسی ایماندار پر مہر کرتا ہے تو یہ اعلان ہوتا ہے کہ وہ اب خدا کی ملکیت ہے۔
تحفظ اور حفاظت●
مہر کا مطلب یہ تھا کہ اُس شے کو کوئی غیر چھو نہیں سکتا جب تک مالک خود نہ توڑے۔ اسی طرح روح‌القدس ایماندار کو چھٹکارے کے دن تک محفوظ رکھتا ہے (افسیوں 4:30)۔
اصلیت اور تصدیق●
مہر جھوٹے اور اصلی کے درمیان فرق ظاہر کرتی تھی۔
روح‌القدس ایماندار کی اصل مسیحی شناخت ہے۔ یہ ثبوت ہے کہ اس کی نجات سچی ہے، نہ کہ محض زبانی دعویٰ۔
یسعیاہ کی نبوت🔹
تب مغرب کے باشندے خداوند کے نام سے ڈریں گے اور مشرق کے باشندے اُس کے جلال سے کیونکہ وہ دریا کے سیلاب کی طرح آئے گا جو خداوند کے نام سے رواں ہو۔
(یسعیاہ 59:19)
یہ بتاتا ہے کہ روح‌القدس ایماندار پر بطور مہر اور محافظ کام کرتا ہے تاکہ شیطان اُس کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

برادر برینہم کی تعلیم🔹
برادر برینہم نے بار بار زور دیا کہ
روح‌القدس خدا کی مہر ہے۔ جب خدا کسی کو قبول کرتا ہے تو وہ اُسے اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لیے مہر کرتا ہے۔
([What Is The Holy Ghost, 1959])
جب آپ پر روح‌القدس کی مہر لگ جاتی ہے تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ آپ کا سفر مکمل ہو گیا ہے۔ آپ خدا کے ہیں اور چھٹکارے کے دن تک محفوظ ہیں۔
([The Token, 1963])

خلاصہ🔹
روح‌القدس کی مہر اس بات کا الٰہی اعلان ہے کہ آپ خدا کی ملکیت ہیں۔ یہ مہر ظاہر کرتی ہے کہ آپ قیامت کے دن تک اُس کی حفاظت میں محفوظ ہیں اور آپ کی نجات حقیقی اور تصدیق شدہ ہے۔ یہ کوئی انسانی نشان یا صرف زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ خدا کی طرف سے دیا گیا روحانی ثبوت ہے۔ یہ مہر اُس وقت ملتی ہے جب انسان ایمان لاتا اور فرمانبرداری میں چلتا ہے، اور پھر خدا خود اپنے روح کے وسیلہ سے اُسے مہر کر دیتا ہے۔

روح‌القدس نئی پیدایش ہے

(یوحنا 3:3) یِسُوع نے جواب میں اُس سے کہا مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تک کوئی نئے سِرے سے پَیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہِیں سکتا۔
(یوحنا 3:5)
یِسُوع نے جواب دِیا کہ مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں جب تک کوئی آدمِی پانی اور رُوح سے پیَدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی میں داخِل نہِیں ہو سکتا۔
(ططس 3:5)
تو اُس نے ہم کو نِجات دی مگر راستبازی کے کاموں کے سبب سے نہِیں جو ہم نے خُود کئے بلکہ اپنی رحمت کے مُطابِق نئی پَیدایش کے غُسل اور رُوحُ القدُس کے ہمیں نیا بنانے کے وسِیلہ سے
(2 کرنتھیوں 5:17)
اِس لِئے اگر کوئی مسِیح میں ہے تو وہ نیا مخلُوق ہے۔ پُرانی چِیزیں جاتی رہیں۔ دیکھو وہ نئی ہوگئِیں۔

نئی پَیدایش کا مطلب🔹
نئی پَیدایش جسمانی پیدائش نہیں بلکہ روحانی پیدائش ہے۔
پرانی فطرت (گناہ، خودی، دنیاوی خواہشات) مر جاتی ہے اور نئی فطرت (مسیح جیسی زندگی) ایماندارمیں پیدا ہوتی ہے۔
یہ تبدیلی انسان کی کوشش یا مذہبی رسومات سے نہیں بلکہ صرف روح‌القدس کی حضوری سے ہوتی ہے۔

یسوع کی تعلیم نیکدیمس کو🔹
یسوع نے نیکدیمس (ایک فریسی اور یہودی سردار) سے کہا کہ صرف شریعت جاننا یا مذہبی رُتبہ رکھنا کافی نہیں۔ خدا کی بادشاہی دیکھنے کے لیے انسان کو روح سے نئی پَیدایش لینا ضروری ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ ایمان کے بعد حقیقی روحانی تجربہ ضروری ہے۔

برادر برینہم کی تعلیم🔹
نئی پَیدایش کوئی عقیدہ یا کلیسیا میں شامل ہونا نہیں ہے۔ نئی پَیدایش روح‌القدس ہے جو آپ کے اندر آکر مسیح کی زندگی کو دوبارہ پیدا کرتا ہے۔
([Ye Must Be Born Again, 1961])
جب ایک شخص روح سے پیدا ہوتا ہے تو وہ نیا مخلوق ہو جاتا ہے۔ پرانی چیزیں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ مسیح جیسی زندگی جیتا ہے۔
([What Is The Holy Ghost, 1959])
روح‌القدس کے بغیر آپ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ روح ہی نئی پَیدایش ہے۔
([The Token, 1963])

خلاصہ🔹
نئی پیدایش دراصل روح‌القدس کی آمد ہے، جو انسان کو اندر سے بدل دیتی ہے۔ یہ اُسے پرانی گناہ آلود فطرت سے آزاد کر کے نئی مخلوق بنا دیتی ہے، جہاں پرانی چیزیں گزر جاتی ہیں اور نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ یہی نجات کا لازمی ثبوت ہے کہ مسیح کی زندگی ایماندار کے اندر ظاہر ہو، اُس کے کردار، سوچ اور عمل میں تبدیلی نمایاں ہو، اور اُس کی زندگی مسیح کی تصویر پیش کرے۔

روح‌القدس کا پھل

(گلتیوں 5باب22-23)
مگر رُوح کا پھَل محبّت۔ خُوشی۔ اِطمینان۔ تحمُّل۔ مہربانی۔ نیکی۔ اِیمانداری۔ حلِم۔ پرہیزگاری ہے۔ اَیسے کاموں کی کوئی شَرِیعَت مُخالِف نہِیں۔
(گلتیوں 5:16)
مگر مَیں یہ کہتا ہُوں کہ رُوح کے مُوافِق چلو تو جِسم کی خواہِش کو ہرگِز پُورا نہ کرو گے۔
(متی 12:33)
کِیُونکہ دَرخت پھَل ہی سے پہچانا جاتا ہے۔
(یوحنا 15:5)
مَیں انگُور کا دَرخت ہُوں تُم ڈالِیاں ہو۔ جو مُجھ قائِم رہتا ہے اور مَیں اُس میں وُہی بہُت پھَل لاتا ہے کِیُونکہ مُجھ سے جُدا ہوکر تُم کُچھ نہِیں کرسکتے۔

روح کے پھل کی وضاحت🔹
روح‌القدس کا اصل ثبوت بیرونی جذبات یا معجزات نہیں بلکہ اندرونی تبدیلی ہے جو مومن کی روزمرہ زندگی میں ظاہر ہوتی ہے۔
محبت (Love): خدا اور دوسروں کے لیے بے غرض قربانی۔●
خوشی (Joy): دنیاوی حالات کے باوجود اندرونی سکون۔●
اطمینان (Peace): دل کا سکون کیونکہ خدا آپ کے ساتھ ہے۔●
تحمل (Longsuffering): صبر اور دوسروں کو برداشت کرنے کی قوت۔●
مہربانی (Gentleness): دوسروں کے ساتھ نرم رویہ۔●
نیکی (Goodness): ہر حال میں بھلائی کرنا۔●
ایمان (Faith): خدا پر کامل بھروسہ اور وفاداری۔●
حِلم (Meekness): فروتنی اور عاجزی۔●
پرہیزگاری (Temperance): اپنی خواہشات پر قابو پانا۔●
یہ تمام صفات مل کر مسیح کی شخصیت کو ظاہر کرتی ہیں۔●

مسیح کی تعلیم🔹
یسوع نے کہا
(متی 7باب15-16)
جھُوٹے نبِیوں سے خَبردار رہو جو تُمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑئے ہیں۔
اُن کے پھَلوں سے تُم اُن کو پہچان لوگے۔ کیا جھاڑیوں سے انگُور یا اُونٹ کٹاروں سے اِنجیر توڑتے ہیں؟
اس کا مطلب ہے کہ ایک سچے مسیحی یا خادم کو اُس کے پھل (زندگی کی صفات) سے پہچانا جاتا ہے، نہ کہ صرف کلام یا دعوے سے۔

🔹 برادر برینہم کی تعلیم
روح‌القدس کا اصل ثبوت زبانیں بولنا نہیں بلکہ روح کے پھل ہیں۔ اگر آپ کے پاس محبت، خوشی، امن اور پرہیزگاری نہیں تو آپ کے پاس روح‌القدس نہیں۔
([The Evidence of the Holy Ghost, 1960])
کسی کے دعوے کو مت دیکھو، اُس کی زندگی دیکھو۔ کیا وہ مسیح کی محبت اور صفات ظاہر کر رہا ہے؟ یہی روح‌القدس کی پہچان ہے۔
([What Is The Holy Ghost, 1959])
روح‌القدس درخت کی طرح ہے۔ اگر وہ واقعی انگور کا درخت ہے تو اُس پر انگور ہی لگیں گے۔ اسی طرح اگر کوئی روح‌القدس سے بھرا ہوا ہے تو اُس کی زندگی میں مسیح کا پھل ظاہر ہوگا۔
([The Token, 1963])

خلاصہ🔹
برادر برینہم کے مطابق صرف زبانیں یا معجزات ثبوت نہیں بلکہ زندگی کی گواہی ہے۔ روح‌القدس کا پھل بدلی ہوئی زندگی کا سب سے بڑا اور معتبر ثبوت ہے۔ جب کسی ایماندار کے اندر محبت، صبر، فروتنی، راستبازی اور خدا کی دیگر صفات نمایاں ہونے لگتی ہیں تو یہ اس بات کی واضح علامت ہوتی ہے کہ روح‌القدس اُس میں سکونت کرتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق صرف زبانیں بولنا یا معجزات دکھانا کافی ثبوت نہیں، کیونکہ یہ ظاہری نشانیاں ہو سکتی ہیں، مگر اصل ثبوت ایک بدلا ہوا کردار اور مقدس زندگی ہے۔ حقیقی گواہی وہ زندگی ہے جو روزمرہ کے اعمال میں مسیح کی فطرت کو ظاہر کرے۔

روح‌القدس کی سب سے بڑی نشانی محبت ہے

(1 کرنتھیوں 13:13)
غرض اِیمان اُمِید محبّت یہ تِینوں دائِمی ہیں مگر افضل اِن میں محبّت ہے۔
(1 کرنتھیوں 13:1)
گر مَیں فرِشتوں کی زبانیں بولُوں اور محبّت نہ رکھُّوں تو مَیں ٹھنٹھناتا پِیتل یا جھنجھناتی جھانجھ ہُوں۔
(1 یوحنا 4:16)
جو محبّت خُدا کو ہم سے ہے اُس کو ہم جان گئے اور ہمیں اُس کا یقِین ہے۔ خُدا محبّت ہے اور جو محبّت میں قائِم رہتا ہے وہ خُدا میں قائِم رہتا ہے اور خُدا اُس میں قائِم رہتا ہے۔
(رومیوں 13:10)
محبّت اپنے پڑوسِی سے بدی نہِیں کرتی۔ اِس واسطے محبّت شَرِیعَت کی تعمِیل ہے۔

محبت کی وضاحت🔹
محبت روح‌القدس کا مرکزی پھل اور سچی پہچان ہے۔ محبت کے بغیر باقی سب نشانیاں، معجزات یا دعوے بےکار ہیں۔
محبت خدا کے لیے ●
خدا کی اطاعت، اُس کے کلام پر ایمان اور اُس کی مرضی پر چلنا۔ ●
محبت اپنے بھائی کے لیے ●
دوسروں کے لیے قربانی دینا، معاف کرنا، اور خدمت کرنا۔ ●
محبت دشمنوں کے لیے ●
(متی 5:44)
لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے محبّت رکھّو اور اپنے ستانے والوں کے لِئے دُعا کرو۔
محبت ہی وہ قوت ہے جو ایک سچے مسیحی کو دنیا سے ممتاز کرتی ہے۔

مسیح کی تعلیم🔹
یسوع نے کہا
(یوحنا 13:35)
اگر آپس میں محبّت رکھّو گے تو اِس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگِرد ہو۔ شاگرد ہونے کی سب سے بڑی پہچان علم یا معجزات نہیں بلکہ محبت ہے۔

برادر برینہم کی تعلیم🔹
اگر آپ کے پاس محبت نہیں تو آپ کے پاس روح‌القدس نہیں۔ چاہے آپ زبانیں بولیں، نبوت کریں یا پہاڑ ہلا دیں، اگر محبت نہیں تو سب کچھ بےکار ہے۔
([The Token, 1963])
روح‌القدس کی اصل نشانی محبت ہے۔ محبت سب کچھ برداشت کرتی ہے، سب پر ایمان رکھتی ہے، سب کی اُمید رکھتی ہے اور کبھی ناکام نہیں ہوتی۔
([What Love Is, 1957])
محبت خدا کی قدرت سے بھی بڑھ کر ہے۔ قدرت معجزے دکھا سکتی ہے، مگر محبت زندگی کو بدل دیتی ہے اور خدا کو ظاہر کرتی ہے۔
([The Ever-Present Water From The Rock, 1961])

خلاصہ🔹
محبت سب سے بڑی نشانی ہے کیونکہ خدا خود محبت ہے، اور جو خدا سے جڑا ہے اُس کی زندگی میں محبت ضرور ظاہر ہوگی۔ اگر محبت موجود نہیں تو روحانی عطیات، تجربات یا ظاہری مظاہر اپنی اصل قدر کھو دیتے ہیں۔ برادر برینہم نے واضح طور پر تعلیم دی کہ حقیقی ثبوت روح‌القدس کا یہ ہے کہ انسان کے اندر الٰہی محبت ہو؛ اگر محبت آپ کے اندر نہیں تو روح‌القدس کی موجودگی کا دعویٰ بھی ادھورا ہے۔ محبت ہی وہ بنیاد ہے جو ایمان، خدمت اور ہر روحانی کام کو زندہ اور حقیقی بناتی ہے۔

روح‌القدس کی نشانی: کلام پر فرمانبرداری

(یوحنا 16:13)
لیکِن جب وہ یعنی رُوح حق آئے گا تو تُم کو تمام سَچّائی کی راہ دِکھائے گا۔ اِس لِئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکِن جو کُچھ سُنیگا وُہی کہے گا اور تُمہیں آئیندا کی خَبریں دے گا۔
(اعمال 5:32)
اور ہم اِن باتوں کے گواہ ہیں اور رُوح القدُس بھی جِسے خُدا نے اُنہِیں بخشا ہے جو اُس کا حُکم مانتے ہیں ۔
(یوحنا 14:15)
اگر تُم مُجھ سے محبّت رکھتے ہوتو میرے حُکموں پر عمل کروگے۔
(1 یوحنا 2:4)
جو کوئی یہ کہتا ہے کہ مَیں اُسے جان گیا ہُوں اور اُس کے حُکموں پر عمل نہِیں کرتا وہ جھُوٹا ہے اور اُس میں سَچّائی نہِیں۔

فرمانبرداری کا مطلب🔹
روح‌القدس صرف معلومات دینے نہیں آتا بلکہ ہمیں خدا کے کلام پر عمل کرنے کی قوت دیتا ہے۔
فرمانبرداری کا مطلب یہ ہے کہ ایماندار اپنی مرضی اور خواہش کو چھوڑ کر خدا کے کلام کے مطابق زندگی گزارے۔
یہ فرمانبرداری صرف ظاہری نہیں بلکہ دل سے ہے، کیونکہ روح‌القدس اندر سے رہنمائی کرتا ہے۔

مسیح کی تعلیم🔹
یسوع نے فرمایا
(یوحنا 10:27)
میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں اور مَیں اُنہِیں جانتا ہُوں اور وہ میرے پِیچھے پِیچھے چلتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ سچی بھیڑیں (ایماندار ) اُس کی آواز سنتی ہیں اور اطاعت کرتی ہیں۔
برادر برینہم کی تعلیم🔹
روح‌القدس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ خدا کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں اور اُس کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اگر آپ کلام کے خلاف چلتے ہیں تو آپ کے پاس روح‌القدس نہیں ہے۔
([The Indictment, 1963])
روح‌القدس وہ قوت ہے جو آپ کو خدا کے کلام پر چلنے کے قابل بناتی ہے۔ بغیر اس کے انسان اپنی کوششوں سے کبھی بھی فرمانبرداری نہیں کر سکتا۔
([What Is The Holy Ghost, 1959])
نشانی یہ ہے کہ مسیح کی زندگی آپ کے اندر رہتی ہے اور آپ اُس کلام پر عمل کرتے ہیں جو آج کے دن کے لیے دیا گیا ہے۔
([The Token, 1963])

خلاصہ🔹
روح‌القدس صرف کوئی جذباتی یا وقتی تجربہ نہیں، بلکہ خدا کے کلام پر چلنے کی قدرت ہے۔ یہ انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے تاکہ وہ سچائی پر قائم رہے اور اپنی زندگی کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھال سکے۔ سچا ایماندار محض دعویٰ نہیں کرتا بلکہ اپنے اعمال، فیصلوں اور کردار میں کلام کی فرمانبرداری ظاہر کرتا ہے۔ برادر برینہم نے واضح کیا کہ روح‌القدس کا اصل ثبوت یہی ہے کہ انسان خدا کے کلام کے تابع ہو کر زندگی گزارے، کیونکہ حقیقی روح ہمیشہ کلام کی تصدیق اور اطاعت کرتی ہے۔

پہلی کلیسیا کی گواہی اور روح‌القدس کی نشانیاں

(اعمال 2:4)
اور وہ سب رُوحُ اُلقدس سے بھر گئے اور غَیر زبانیں بولنے لگے جِس طرح رُوح نے اُنہِیں بولنے کی طاقت بخشی ۔
(اعمال 2:41)
پَس جِن لوگوں نے اُس کا کلام قُبُول کِیا اُنہوں نے بپتِسمہ لِیا اور اُسی روز تین ہزار آدمِیوں کے قرِیب اُن میں مِل گئے ۔
(مرقس 16باب17-18)
اور اِیمان لانے والوں کے درمیان یہ مُعجِزے ہوں گے۔ وہ میرے نام سے بَدرُوحوں کو نِکالیں گے۔ نئی نئی زبانیں بولیں گے۔ سانپوں کو اُٹھالیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چِیز پئیں گے تو اُنہِیں کُچھ ضَرر نہ پہُنچے گا۔ وہ بِیماروں پر ہاتھ رکھّیں گے تو اچھّے ہو جائیں گے۔
(اعمال 4:31)
جب وہ دُعا کرچُکے تو جِس مکان میں جمع تھے وہ ہِل گیا اور وہ سب رُوحُ القُدس سے بھر گئے اور خُدا کا کلام دِلیری سے سُناتے رہے۔

پہلی کلیسیا میں نشانیاں🔹
زبانیں بولنا●
ابتدائی طور پر روح‌القدس کے نزول پر غیر زبانوں میں بولنا ظاہر ہوا تاکہ مختلف قوموں کو انجیل کی گواہی دی جا سکے (اعمال 2:8-11)۔
معجزات اور نشانیاں ●
بیمار شفا پاتے، اندھے دیکھتے اور قیدی آزاد ہوتے (اعمال 5:12-16)۔
کلام کی دلیری ●
شاگرد بغیر خوف کے کلام سناتے تھے، چاہے ظلم و ستایا ہی کیوں نہ جا رہا ہو (اعمال 4:31)۔
محبت اور رفاقت●
وہ سب چیزیں مل جل کر رکھتے تھے اور بھائی چارہ ظاہر کرتے تھے (اعمال 2:44-47)۔

پولس رسول کی وضاحت🔹
پولس رسول نے کہا کہ سب نشانیاں ہر ایک پر نہیں ملتیں، بلکہ خدا اپنی مرضی کے مطابق عطا کرتا ہے
(1 کرنتھیوں 12باب29-30)
کیا سب رَسُول ہیں؟ کیا سب نبی ہیں؟ کیا سب اُستاد ہیں؟ کیا سب مُعجِزے دِکھانے والے ہیں؟ کیا سب کو شِفا دینے کی قُوّت عِنایت ہُوئی؟ کیا سب طرح طرح کی زبانیں بولتے ہیں؟ کیا سب ترجُمہ کرتے ہیں؟
مطلب یہ ہے کہ روح‌القدس کے مختلف تحفے ہیں، لیکن سب پر لازمی نہیں۔ اصل ثبوت ہمیشہ محبت اور کلام کی فرمانبرداری ہے (1 کرنتھیوں 13)۔

برادر برینہم کی تعلیم
پہلی کلیسیا میں روح‌القدس کے نزول کے ساتھ نشانیاں اور عجائب ظاہر ہوئے۔ لیکن یاد رکھو، سب سے بڑی نشانی یہ تھی کہ اُن کی زندگیوں میں تبدیلی آئی اور وہ کلام کے مطابق چلنے لگے۔
([Restoration of the Bride Tree, 1962])
زبانیں بولنا اور معجزات روح‌القدس کی موجودگی کی نشانی ہو سکتے ہیں، مگر اصل ثبوت وہ نہیں۔ اصل ثبوت کلام پر ایمان اور محبت ہے۔
([The Evidence of the Holy Ghost, 1960])
شیطان بھی معجزات کی نقل کر سکتا ہے لیکن محبت کی نقل نہیں کر سکتا۔ محبت ہی وہ نشانی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ روح‌القدس آپ میں ہے۔
([The Token, 1963])

خلاصہ🔹
پہلی کلیسیا میں روح‌القدس کے نزول کے ساتھ معجزات، زبانیں، شفا اور دلیری نمایاں طور پر ظاہر ہوئی۔ تاہم پولس رسول نے وضاحت کی کہ سب ایمانداروں پر ایک ہی طرح کی نشانیاں ظاہر نہیں ہوتیں، کیونکہ روح مختلف عطیات اپنی مرضی سے تقسیم کرتا ہے۔ برادر برینہم نے سکھایا کہ اصل ثبوت یہ نہیں کہ کسی کے پاس روحانی عطیات ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اُس کی زندگی میں مسیح کی فطرت ظاہر ہو—یعنی محبت، پاکیزگی اور کلام کی فرمانبرداری۔ حقیقی روح ہمیشہ کلام کے مطابق زندگی گزارنے کی قدرت دیتا ہے، اور یہی روح‌القدس کی موجودگی کا اصل اور پائیدار ثبوت ہے۔

روح‌القدس = نشانی (ٹوکن) اور چھٹکارے کے دن تک مہر

(افسیوں 1باب13-14)
اور اُسی میں تُم پر بھی جب تُم نے کلامِ حق کو سُنا جو تُمہاری نِجات کی خُوشخَبری ہے اور اُس پر اِیمان لائے پاک مَوعُودہ رُوح کی مہر لگی۔ وُہی خُدا کی مِلکِیّت کی مخلصی کے لِئے ہماری مِیراث کا بَیعانہ ہے تاکہ اُس کے جلال کی سِتایش ہو۔
(افسیوں 4:30)
جِس نے ہم پر مُہر بھی کی اور بے فائِدہ میں رُوح کو ہمارے دِلوں میں دِیا۔
(2 کرنتھیوں 1:22)
جِس نے ہم پر مُہر بھی کی اور بے فائِدہ میں رُوح کو ہمارے دِلوں میں دِیا۔

ٹوکن (نشانی) کا مطلب 🔹
عہد عتیق میں جب اسرائیل مصر سے نکلے تو خدا نے کہا کہ برّہ کا خون دروازوں پر لگایا جائے۔ یہی نشانی تھی کہ موت کا فرشتہ اُن گھروں کو چھوڑ کر گزر جائے (خروج 12:13)۔
آج کے دور میں وہی ٹوکن یسوع مسیح کی زندگی (روح‌القدس) ہے جو ایماندار کے دل پر مہر کرتا ہے تاکہ خدا کا غضب اُس پر نہ آئے۔

برادر برینہم کی تعلیم
نشانی یسوع مسیح کی زندگی ہے جو ایماندار کے اندر رہتی ہے۔ بغیر اس نشانی کے آپ خدا کے سامنے قبول نہیں۔
([The Token, 1963])
برّہ کے خون کی نشانی دروازے پر باہر لگائی جاتی تھی، لیکن آج خون روح کی صورت میں ایماندار کے دل کے اندر لگایا جاتا ہے۔
([The Token, 1963])
جب روح‌القدس آپ پر مہر کر دیتا ہے تو یہ خدا کی ملکیت کا اعلان ہے۔ شیطان آپ کو چھو نہیں سکتا کیونکہ آپ پر چھٹکارے کے دن تک مہر لگی ہے۔
([What Is The Holy Ghost, 1959])
نشانی کے بغیر کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔ یہی نشان ہے جو خدا مانگتا ہے، اور یہ نشان روح‌القدس ہے۔
([The Token, 1963])
Token کی خصوصیات 🔹
ملکیت●
خدا اعلان کرتا ہے کہ یہ شخص میرا ہے۔●
تحفظ
قیامت کے دن تک شیطان آپ پر قابو نہیں پا سکتا۔●
اصلیت
یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی نجات سچی ہے۔●
زندگی کا ثبوت
یسوع مسیح کی زندگی آپ میں ظاہر ہوتی ہے۔●

نتیجہ🔹
روح‌القدس کی سچی نشانی صرف زبانیں بولنا، معجزات دکھانا یا مذہبی جوش نہیں ہے، بلکہ ایک گہری اور مستقل روحانی حقیقت ہے۔ یہ خدا کی مہر ہے جو ملکیت اور تحفظ کی ضمانت دیتی ہے؛ یہ نئی پیدایش ہے جو زندگی کو اندر سے بدل دیتی ہے؛ یہ روح کا پھل ہے جو محبت، امن، صبر اور دیگر الٰہی صفات کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر محبت اُس کی سب سے بڑی نشانی ہے، کیونکہ خدا خود محبت ہے۔ اس کے ساتھ کلام کی فرمانبرداری یعنی عملی اطاعت بھی لازمی ہے، اور یہی “ٹوکن” ہے—یعنی یسوع مسیح کی زندگی کا ایماندار کے اندر ظاہر ہونا۔ یہی اصل اور مکمل ثبوت ہے کہ روح‌القدس حقیقی طور پر سکونت کرتا ہے۔

برادر برینہم نے فرمایا🔹
روح‌القدس کا ثبوت یہ ہے کہ مسیح کی زندگی آپ میں ہے اور آپ اُس کلام پر عمل کر رہے ہیں جو آج کے دن کے لیے دیا گیا ہے۔
([The Indictment, 1963])

براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔

✝️
جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)

مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج
از ہلسنکی فن لینڈ

2 thoughts on “What Is the Evidence of the Holy Ghost Bible and Prophet’s Answer”

  1. باعث برکت پیغام بردر جی خداوند اپکو برکت دے مسیح میں جیتے رھیں خوش رھیں اباد رھیں

    Reply

Leave a Comment