خُدا نے کلیسیا کے لیے پانچ رُتبہ خِدمت کیوں قائم کی؟
افسیوں 4باب11-12
اور اُسی نے بعض کو رَسُول اور بعض کو نبی اور بعض کو مُبشّر اور بعض کو چرواہا اور اُستاد بنا کر دے دِیا۔
تاکہ مُقدّس لوگ کامِل بنیں اور خِدمت گُذاری کا کام کِیا جائے اور مسِیح کا بَدَن ترقّی پائے۔
تعارف
خُدا بے ترتیبی کا نہیں بلکہ ترتیب کا خُدا ہے۔ اُس کے ہر منصوبے میں حکمت، نظم، اور مقصد پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب اُس نے یسوع مسیح کے وسیلے نجات کا منصوبہ مکمل کیا، تو اُس کے بعد زمین پر کلیسیا کو قائم کیا تاکہ یہ نجات کی روشنی کو دنیا تک پہنچاتی رہے۔ لیکن کلیسیا ایک جسم کی مانند ہے، جسے صحیح سمت، تغذیہ، حفاظت، اور ترتیب کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہی ضرورت پوری کرنے کے لیے خُدا نے پانچ رُتبہ خِدمت کو مقرر کیا۔
یہ خِدمتیں — رسول، نبی، مبشر، چرواہا، اور اُستاد
کسی انسانی تنظیم یا فرقے کا نظام نہیں بلکہ خُدا کی طرف سے دی گئی ایک الہامی ترتیب ہے۔ ان کا مقصد صرف خطبہ دینا یا اجتماعات کا انعقاد نہیں بلکہ مسیح کے بدن، یعنی کلیسیا، کو کامل بنانا، تعلیم دینا، روحانی طور پر مضبوط کرنا، اور خُدا کے کلام میں جڑ پکڑانا ہے۔
جیسا کہ رسول پولُس افسیوں 4باب11-12 میں بیان کرتا ہے
اور اُسی نے بعض کو رَسُول اور بعض کو نبی اور بعض کو مُبشّر اور بعض کو چرواہا اور اُستاد بنا کر دے دِیا۔ تاکہ مُقدّس لوگ کامِل بنیں اور خِدمت گُذاری کا کام کِیا جائے اور مسِیح کا بَدَن ترقّی پائے۔
آج کی دنیا میں، جہاں مختلف تعلیمات، فرقہ واریت، اور روحانی کمزوریوں کا سامنا ہے، وہاں خُدا کی مقرر کردہ ان خِدمتوں کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ برادر برینہم، جو اس آخری زمانے کے نبی ہیں، اُنہوں نے ان خِدمتوں کی اہمیت اور مقصد پر گہری روشنی ڈالی، اور ہمیں سکھایا کہ یہ خِدمتیں کیسے کلیسیا کو دلہن کی حالت تک لے جاتی ہیں۔
یہ مضمون آپ کو ان پانچ خِدمتوں کے کردار، ترتیب، اور اہمیت کو واضح طور پر سکھائے گا، تاکہ ہم سب خُدا کے منصوبے کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں — اور اپنی روحانی زندگی میں اُس کی کامل مرضی کو پہچان کر عمل کر سکیں۔
پانچ رُتبہ خِدمت کیا ہے؟
"پانچ رُتبہ خِدمت" ایک الہامی اور ترتیب شدہ نظام ہے جسے خُداوند یسوع مسیح نے اپنی کلیسیا کی خدمت، تربیت، اور تکمیل کے لیے مقرر کیا۔
:یہ پانچ مخصوص خِدمتیں یہ ہیں
رسول (Apostle) ●
نبی (Prophet) ●
مبشر (Evangelist) ●
چرواہا (Pastor) ●
اُستاد (Teacher) ●
یہ پانچ رُتبے صرف منصب یا عہدے نہیں، بلکہ روحالقدس کی طرف سے دی گئی خاص خدمتیں اور نعمتیں /تحفےہیں، جو کلیسیا کے مختلف پہلوؤں کو مکمل کرتی ہیں۔
:ان کے ذریعے خُدا کلیسیا کو
تربیت دیتا ہے،راہنمائی کرتا ہے،ایمان میں مضبوط کرتا ہے،غلط تعلیم سے بچاتا ہےاور روحانی بلوغت کی طرف لے جاتا ہے۔
بائبل میں اصطلاح کی وضاحت●
افسیوں 4باب:11-12 — مرکزی حوالہ:
اور اُسی نے بعض کو رَسُول اور بعض کو نبی اور بعض کو مُبشّر اور بعض کو چرواہا اور اُستاد بنا کر دے دِیا۔
تاکہ مُقدّس لوگ کامِل بنیں اور خِدمت گُذاری کا کام کِیا جائے اور مسِیح کا بَدَن ترقّی پائے۔
یہ واحد جگہ ہے جہاں پانچوں خِدمتیں ایک ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ یہاں پولُس رسول ہمیں بتاتا ہے کہ خُدا نے ان پانچ خدمتوں کو ایک مقصد کے تحت ترتیب دیا
"مقدسین کی تربیت کے لیے" — تاکہ ہر ایماندار اپنی روحانی خدمت میں تیار ہو جائے
"خدمت کے کام کے لیے" — تاکہ کلیسیا متحرک اور سرگرم ہو
"مسیح کے بدن کی ترقی کے لیے" — تاکہ کلیسیا روحانی لحاظ سے بڑھتی جائے
دیگر بائبل حوالہ جات●
1 کرنتھیوں 12:28
اور خُدا نے کلِیسیا میں الگ الگ شَخص مُقرّر کِئے۔ پہلے رَسُول دُوسرے نبی تِیسرے اُستاد۔ پھِر مُعجِزے دِکھانے والے۔ پھِر شِفا دینے والے۔ مددگار۔ مُنتظِم۔ طرح طرح کی زبانیں بولنے والے۔
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ یہ خدمتیں خُدا کی طرف سے کلیسیا میں ترتیب سے رکھی گئیں۔
رومیوں 12باب6-8
اور چُونکہ اُس تَوفِیق کے مُوافِق جو ہم کو دی گئی ہمیں طرح طرح کی نِعمتیں مِلیں اِس لِئے جِس کو نبُّوت مِلی ہو وہ اِیمان کے اندازہ کے مُوافِق نبُّوت کرے۔ اگر خِدمت مِلی ہوتو خِدمت میں لگا رہے۔ اگر کوئی مُعلِّم ہوتو تعلِیم میں مشغُول رہے۔
اور اگر ناصِح ہوتو نصِیحت میں۔ خَیرات بانٹنے والا سخاوت سے بانٹنے۔ پیشوا سرگرمی سے پیشوائی کرے۔ رحم کرنے والا خُوشی کے ساتھ رحم کرے۔
یہاں بتایا گیا ہے کہ ہر خادم کو جو نعمت دی گئی ہے وہ اُس کے ایمان اور خُدا کی بخشش کے مطابق ہے — یعنی یہ قدرتی صلاحیت یا تعلیم کا نتیجہ نہیں، بلکہ خُدا کا تحفہ ہے۔
مسیح کی طرف سے مقرر کردہ خدمتیں●
افسیوں 4 میں الفاظ "اُس نے بعض کو مقرر کیا"استعمال ہوئے ہیں — یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ خدمتیں براہِ راست یسوع مسیح کی طرف سے دی گئی ہیں، نہ کہ کلیسیا کی تنظیمی ضرورت یا انسانی مرضی سے۔
افسیوں 4:8
اِسی واسطے وہ فرماتا ہے کہ جب وہ عالمِ بالا پر چڑھا تو قَیدیوں کو ساتھ لے گیا اور آدمِیوں کو اِنعام دِئے۔
یہاں "انعام/نعمتیں" کا مطلب ہے — خادمین، یعنی خُدا کی طرف سے دی گئی خدمتیں۔
برادر برینہم فرماتے ہیں:●
"یہ پانچ خِدمتیں خُداوند یسوع مسیح کی طرف سے دلہن کو مکمل کرنے کے لیے دی گئی ہیں — یہ نہ کسی تنظیم کی عطا ہیں، نہ کسی ادارے کا تقرر۔"
(Church Order, 1963)
"خُدا نے کلیسیا کو بےراہ نہیں چھوڑا۔ اُس نے پانچ ایسے رُتبے دیے جو نبی کے کلام کو ترتیب سے پہنچائیں اور کلیسیا کو دُلہن کی حالت تک لائیں۔"
(The Seed Is Not Heir With The Shuck, 1965)
نتیجہ:●
"پانچ رُتبہ خِدمت" وہ خدائی ترتیب ہے جو کلیسیا کی روحانی ترقی، اتحاد، اور بلوغت کے لیے دی گئی ہے۔
یہ خِدمتیں نہ صرف آج بھی قائم ہیں بلکہ قیامت تک کلیسیا کے لیے ضروری ہیں، کیونکہ:
یہ خُداوند یسوع کی مقرر کردہ ہیں یہ نبی کے پیغام کی سچائی کو ترتیب سے سکھاتی ہیں اوریہ دُلہن کو "کامل انسان" بنانے کا ذریعہ ہیں
ہر رُتبے کی انفرادی پہچان اور خدمت
افسیوں 4:11 میں بیان کردہ پانچ رُتبہ خِدمت، کلیسیا کے اندر الگ الگ ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ان خِدمتوں کی گہرائی کو سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ کلیسیا میں ترتیب اور مقصد واضح ہو۔
رسول — بنیاد رکھنے والا
بائبل حوالہ: ● >
اور رَسُولوں اور نبِیوں کی نیو پر جِس کے کونے کے سِرے کا پتھّر خُود مسِیح یِسُوع ہے تعمِیر کِئے گئے ہو۔
(افسیوں 2:20)
رسول کی لغوی اور روحانی تعریف:●
"رسول" کا یونانی لفظ
ἀπόστολος (Apostolos)
جس کا مطلب ہے: "بھیجا گیا شخص" یا "خُدا کی طرف سے مشن پر مقرر کیا گیا نمائندہ"۔
یہ کوئی عام تبلیغ کرنے والا شخص نہیں بلکہ وہ ہوتا ہے جسے خُدا براہِ راست کسی خاص مشن یا خدمت کے لیے بھیجتا ہے — خصوصاً کلیسیا کی بنیاد رکھنے اور کلام کی سچائی کی ترتیب کے لیے۔
:رسول کا بنیادی کردار
:کلیسیا کی بنیاد رکھنا
رسولوں کو مسیح کے کلام کی بنیاد پر نئی کلیسیائیں قائم کرنے کا اختیار دیا گیا۔
:کلام کی تعلیم میں ترتیب لانا
وہ صرف منادی نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو سچائی کے نظام میں لاتے ہیں۔
:الہامی اختیار کے ساتھ خدمت کرنا
رسولوں کو خُدا کی طرف سے معجزات، نشانات، اور روحانی بصیرت عطا ہوتی ہے ۔
رَسُول ہونے کی علامتیں کمال صبر کے ساتھ نِشانوں اور عجییب کاموں اور مُعجزوں کے وسِیلہ سے تُمہارے درمِیان ظاہِر ہُوئِیں۔(2 کرنتھیوں 12:12)
:دوسرے خادمین کی تربیت اور ترتیب
جیسے پولُس نے طِطُس، تیمتھیس، اور دوسرے خادمین کو کلیسیا کے رہنماؤں کے طور پر تربیت دی۔
برادر برینہم نے کہا:●
"رسول صرف وہ نہیں جو کسی تنظیم کی طرف سے بھیجا جائے، بلکہ وہ ہے جسے خُدا بھیجے۔ وہ نئی جگہوں پر جاتا ہے، کلیسیا کی بنیاد رکھتا ہے اور کلام کی ترتیب بحال کرتا ہے۔"
(Questions and Answers on the Holy Ghost, 1961)
"پولُس رسول نے کہا، ‘میں انسانوں کی طرف سے نہیں، بلکہ یسوع مسیح کی طرف سے رسول ہوں۔’ (گلتیوں 1:1)... خُدا کا رسول وہ ہے جو براہِ راست بُلایا گیا ہو۔"
(Church Order, 1963)
برادر برینہم نے اس بات پر زور دیا کہ خُدا کے اصل رسول وہ ہیں جنہیں "براہِ راست خُدا کی مرضی" سے بھیجا جاتا ہے — نہ کہ کسی فرقے یا تنظیم کے فیصلے سے۔
بائبلی مثالیں:🔹
پولُس رسول●
’’پولُس، یسوع مسیح کا بندہ اور بلایا ہوا رسول۔‘‘ (رومیوں 1:1)
پولس نے متعدد کلیسیائیں قائم کیں (کرنتھس، افسس، فلپی، تسالونیکی وغیرہ)، کلام کی گہری تعلیم دی، اور کئی خادمین کو مقرر کیا۔
برناباس، سیلاس، طِطُس●
’’جب اُنہوں نے روزے رکھے اور دعا کی، تو رُوحالقدس نے فرمایا: برنباس اور ساؤل کو میرے کام کے لیے مخصوص کرو۔‘‘ (اعمال 13:2-4)
یہ رسول خُدا کی روح کی قیادت میں مقرر کیے گئے اور بھیجے گئے۔
آج کے زمانے میں "رسول" کا مفہوم:●
برادر برنہام نے واضح کیا کہ اگرچہ بارہ "اصل" رسولوں کی خِدمت بنیاد رکھنے کے لیے مخصوص تھی، مگر کلیسیا میں آج بھی خُدا کی طرف سے "رسولی خدمت" جاری ہے — تاکہ نئے علاقوں میں کلام کی بنیاد رکھی جا سکے۔
"ہم اب بھی رسولوں کی خِدمت رکھتے ہیں، جو کلیسیا قائم کرتے ہیں، جیسے مشنری، جنہیں خُدا بھیجتا ہے۔ مگر وہ نئے صحیفے نہیں لکھتے بلکہ پہلے سے دیے گئے کلام کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔"
(Fivefold Ministry — COD, 1961)
خلاصہ:●
رسول ایک ایسا خادم ہوتا ہے جو خُدا کی طرف سے خاص مقصد اور اختیار کے ساتھ بھیجا جاتا ہے تاکہ کلیسیا کو قائم کرے، تعلیم دے، اور روحانی ترتیب لائے۔ اُس کی خدمت صرف منادی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ نئی کلیسیاؤں کی بنیاد رکھتا، ایمانداروں کی رہنمائی کرتا، اور کلام کے مطابق نظام قائم کرتا ہے۔ بائبل میں پولُس، برناباس، اور طِطُس اس خدمت کی نمایاں مثالیں ہیں۔ رسولی خدمت کے ساتھ اکثر روحانی اختیار، معجزات، اور الٰہی رہنمائی کی نشانیاں بھی پائی جاتی ہیں۔بھائی برینہم نے وضاحت کی کہ حقیقی رسول وہ ہے جو کسی انسانی تنظیم کی طرف سے نہیں بلکہ خُدا کی الہامی بلاہٹ سے بھیجا جاتا ہے، اور اُس کی خدمت ایک مشنری کی مانند ہوتی ہے جو مختلف جگہوں پر جا کر خُدا کے کلام کی بنیاد رکھتا ہے۔
نبی خُدا کی آواز
یقینا خُداوند خُدا کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمت گُزار نبیوں پر پہلے آشکارانہ کرے۔(عاموس 3:7)
یہ آیت نبی کے خُدا کے ساتھ گہرے ربط کو ظاہر کرتی ہے۔ نبی صرف ایک پیغام رساں نہیں بلکہ خُدا کے رازوں کا امین ہوتا ہے۔
نبی کی لغوی و روحانی تعریف:●
"نبی" کا عبرانی لفظ נָבִיא (Nabiy)
اور یونانی میں προφήτης (Prophetes)
جس کا مطلب ہے:
"وہ جو خُدا کی طرف سے بولتا ہے" یا "خُدا کی آواز"۔
نبی کے ذریعے:خُدا اپنی مرضی کو ظاہر کرتا ہے،کلام کی گہری تشریح و تفہیم ہوتی ہے،گناہ کی مذمت اور کلیسیا کی اصلاح ہوتی ہے اورآنے والے وقت کی پیش گوئیاں ظاہر ہوتی ہیں
بھائِی برینہم نے کہا ●
نبی کا رُتبہ کلیسیا میں سب سے نازک اور بلند خدمت ہے، کیونکہ وہ خُدا کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہوتا ہے۔
"ایک نبی وہ ہوتا ہے جو خُدا کے حضور کھڑا ہو کر سُنتا ہے کہ خُدا کیا فرما رہا ہے، پھر کلیسیا کے سامنے آ کر وہی کچھ بولتا ہے۔ نبی کا کلام خُدا کا کلام ہوتا ہے!"
(God's Only Provided Place of Worship, 1965)
"اگر کوئی شخص کہے کہ وہ نبی ہے اور اُس کی بات خُدا کے کلام سے نہ ملے تو وہ جھوٹا نبی ہے۔ ایک سچا نبی کبھی غلط الہام نہیں دے سکتا۔"
(Trying to Do God a Service Without Being the Will of God, 1965)
نبی کی چار بنیادی نشانیاں: ●
الہام و مکاشفہ میں سچائی: ●
نبی خُدا سے سن کر بات کرتا ہے، اور اس کا الہام ہمیشہ کلام سے مطابقت رکھتا ہے۔
استثناء 18:22
تو پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور اُسکے کہے کے مطابق کچھ واقع یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں بلکہ اُس نبی نے وہ بات خود گستاخ بنکر کہی ہے تُو اُسے خوف نہ کرنا ۔
کلام کی تشریح اور وضاحت: ●
نبی غلطی سے پاک ہوتا ہے جب وہ الہامی تعلیم دے — وہ صرف پیشن گو نہیں ہوتا بلکہ کلام کو کھولنے والا ہوتا ہے۔
2 پطرس 1باب:20-21
اور پہلے یہ جان لو کہ کِتابِ مُقدّس کی کِسی نُبُوّت کی بات کی تاوِیل کِسی کے ذاتی اِختیّار پر موقُوف نہِیں۔
کِیُونکہ نُبُوّت کی کوئی بات آدمِی کی خواہِش سے نہِیں ہُوئی بلکہ آدمِی رُوحُ القدُس کی تحریک کے سبب سے خُدا کی طرف سے بولتے تھے۔
تنبیہ و تربیت: ●
نبی صرف پیغام نہیں دیتا بلکہ گناہ پر ملامت کرتا ہے، اور لوگوں کو توبہ کی طرف بلاتا ہے (یوناہ، یرمیاہ، ایلیاہ وغیرہ)
کلیسیا کو ترتیب میں لانا ●
ہر حقیقی نبی خُدا کی ترتیب بحال کرتا ہے — وہ خُدا کے منصوبے کو دُلہن کے سامنے واضح کرتا ہے۔
بھائی برینہم بطور نبی ●
بھائی برینہم نے دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خود نبی ہیں — بلکہ خُدا نے اُن کی خِدمت کو ایسے ظاہر کیا۔ اُن کی خِدمت میں:
ہزاروں الہام، نبوتیں اور معجزات ہوئے
کلام کی تشریح جیسے "سات کلیسیائیں"، "سات مُہریں"، "سانپ کا بیج"، "تھیوفنی" وغیرہ
منکشف ہونے والے بھیدجیسے کہ مکاشفہ 10:7 میں ذکر شدہ بھید
بھائی برینہم کے پیغام سے اقتباس۔
"میں نبی کے طور پر نہیں آیا، خُدا نے مجھے ایسا بنایا۔ میں تو بس اُس کا ایک خادم ہوں جس نے سچائی سنائی۔"
(God's Power to Transform, 1965)
بائبلی نبیوں کی مثالیں ●
نبی کی نمایاں خصوصیت ●
بائبل میں مختلف نبیوں کی خدمتیں خُدا کے منصوبہ اور وقت کے مطابق ظاہر ہوئیں۔ ایلیاہ ایک ایسا نبی تھا جس نے اسرائیل کو گناہ پر سخت ملامت کی، بعل کی پرستش کے خلاف کھڑا ہوا، اور اُس کی خدمت میں معجزات اور آسمان سے آگ کا نازل ہونا نمایاں نشانیاں تھیں۔
یرمیاہ کو “روتا ہوا نبی” کہا جاتا ہے کیونکہ اُس نے قوم کے گناہوں پر غم کیا اور مسلسل توبہ اور خُدا کی طرف واپسی کی دعوت دی۔
دانی ایل کو خُدا نے خوابوں اور رویاؤں کی تعبیر کا خاص فضل دیا، اور اُس کی نبوتوں میں آخری زمانے کے بہت سے بھید ظاہر ہوئے۔
یوحنا بپتسمہ دینے والا رُوحِ ایلیاہ میں آیا تاکہ خُداوند یسوعؑ کے لیے راستہ تیار کرے اور لوگوں کو توبہ کی طرف بلائے۔
جبکہ یوحنا رسول کو مکاشفہ کی کتاب کے ذریعے آخری زمانے کے روحانی بھید، کلیسیائی ادوار، اور آنے والے واقعات دکھائے گئے، تاکہ دُلہن وقت کی پہچان رکھ سکے۔
خلاصہ ●
نبی خُدا کا ترجمان اور الہام یافتہ مرد ہوتا ہے جسے خُدا اپنے کلام اور مقصد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اُس کی خدمت صرف آنے والے واقعات کی پیش گوئی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ خُدا کے بھید ظاہر کرتا، کلیسیا کو تعلیم دیتا، گناہ پر تنبیہ کرتا، اور لوگوں کو سچائی کی طرف واپس بلاتا ہے۔ بائبلی نبی مکاشفاتی خدمت رکھتے تھے، یعنی وہ اپنی سوچ یا انسانی حکمت سے نہیں بلکہ خُدا کے الہام سے بولتے تھے۔ برادر برینہم نے وضاحت کی کہ حقیقی نبی کلیسیا کو الٰہی ترتیب میں لاتا ہے، اور وہ صرف مستقبل کی باتیں بتانے والا شخص نہیں بلکہ کلامِ خُدا کا معلم بھی ہوتا ہے، جو دُلہن کو وقت کے پیغام اور روحانی حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔
اہم بائبل حوالہ ●
عاموس 3:7، استثناء 18:22، 2 پطرس 1باب20-21
مبشر — خوشخبری کا مناد
مگر تُو سب باتوں میں ہوشیار رہ۔ دُکھ اُٹھا۔ بشارت( مبشر )کا کام انجام دے۔ اپنی خِدمت کو پُورا کر۔
(2تیمِتھُیس 4:5)
مبشروہ خادم ہوتا ہے جسے خُدا خاص طور پر انجیل یعنی خوشخبری کی منادی کے لیے بھیجتا ہے۔ اُس کی خدمت کا مرکز نجات کا پیغام، توبہ کی دعوت، اور لوگوں کو مسیح کے پاس لانا ہوتا ہے۔
لغوی و روحانی تعریف ●
"مبشر" کا یونانی لفظ
Εὐαγγελιστής (euangelistēs)
جس کا مطلب ہے:"خوشخبری سنانے والا" یا "وہ جو انجیل کا اعلان کرتا ہے"۔
مبشر ●
غیر نجات یافتہ لوگوں کو انجیل سناتا ہے،خُدا کے فضل، صلیب، اور توبہ کا پیغام پہنچاتا ہے
،روحانی بیداری اور ریوائیول لاتا ہےاورکلیسیا کے لیے نئے ایماندار پیدا کرتا ہے
بھائی برینہم نے کہا:
بھائی برینہم نے مبشر کی خدمت کو ایک طاقتور اور متحرک خدمت قرار دیا — جو روحانی تلوار (کلام) کو نکال کر دلوں کو چیر دیتا ہے۔
"مبشر کی خدمت ہے کہ وہ باہر نکلے، تلوار نکالے — خُدا کا کلام — اور وہ روحوں کو مسیح کے قدموں میں لا کر نجات دے۔"
(The Position In Christ, 1959)
"مبشر ایک مسیحی جنگجو ہوتا ہے۔ وہ دوزخ کے دروازے پر حملہ کرتا ہے اور روحوں کو اُس سے چھین لاتا ہے۔"
(Earnestly Contending for the Faith, 1953)
بھائی برینہم نے "بلی گراہم" کی خدمت کو ایک سچے مبشر کی مثال کے طور پر بیان کیا جو نجات کے پیغام کو لاکھوں تک لے گیا۔
مبشر کی خدمت کی نشانیاں ●
خوشخبری کی منادی ●
مبشر کا بنیادی پیغام — یسوع مسیح کی صلیب، خون، توبہ، اور نئی زندگی کا اعلان۔
مرقس 16:15:
اور اُس نے اُن سے کہا کہ تُم تمام دُنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے اِنجیل کی منادی کرو۔
گناہگاروں کو بلانا ●
وہ خدا کے قہر کے خلاف خبردار کرتا ہے، اور لوگوں کو توبہ کی دعوت دیتا ہے۔
اعمال 2:38:
پطرس نے اُن سے کہا کے تُوبہ کرو اور تُم میں سے ہر ایک گُناہوں کی مُعافی کے لئِے یِسُوع مسِیح کے نام پر بپتِسمہ لے تو تُم رُوحُ القدُس اِنعام میں پاو گے ۔
معجزات اور نشانیاں ●
اکثر مبشر کی خدمت کے ساتھ نشانیاں اور شفا کی قدرت بھی ظاہر ہوتی ہے — جیسے فِلپُّس کی خدمت میں ہوا۔
اعمال 8باب6-8
اور جو مُعجِزے فِلپُّس دِکھاتا تھا لوگوں نے اُنہِیں سُن کر اور دیکھ کر بالاتِفاق اُس کی باتوں پر جی لگایا۔کِیُونکہ بہُتیرے لوگوں میں سے ناپاک رُوحیں بڑی آواز سے چِلّا چِلّا کر نِکل گئِیں اور بہُت سے مفلُوج اور لنگڑے اچھّے کِئے گئے۔ اور اُس شہر میں بڑی خُوشی ہُوئی۔
بائبلی مثال ●
فِلپُّس مبشر ●
(اعمال 8باب5-12) — فِلپُّس سامریہ گیا، خوشخبری سنائی، شفا دی، اور بپتسمے کرائے۔
پولُس رسول کا حکم تیمِتھُیس کو ●
مگر تُو سب باتوں میں ہوشیار رہ۔ دُکھ اُٹھا۔ بشارت( مبشر )کا کام انجام دے۔ اپنی خِدمت کو پُورا کر۔
(2تیمِتھُیس 4:5)
یعنی کلیسیا کے اندر بھی مبشر خادمین ضروری ہیں جو نجات کا پیغام مسلسل سناتے رہیں۔
مبشر کی خدمت بمقابلہ باقی خِدمتیں●
کلیسیا میں ہر خدمت کا ایک خاص مقصد اور ذمہ داری ہوتی ہے، اور یہ سب مل کر مسیح کے بدن کی تعمیر کرتے ہیں۔
مبشر کی خدمت بنیادی طور پر خوشخبری سنانے اور گمشدہ روحوں کو نجات کی طرف بلانے کے لیے ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کے دلوں میں ایمان کی چنگاری جگاتا ہے اور اُنہیں مسیح کے پاس لاتا ہے۔
پاسٹر کی خدمت ایمانداروں کی روحانی نگہبانی اور پرورش کرنا ہے، تاکہ ریوڑ محفوظ اور مضبوط رہے۔
اُستاد کلامِ خُدا کی گہرائی اور سچائی کو واضح کرتا ہے تاکہ کلیسیا صحیح تعلیم میں قائم رہے۔
نبی کی خدمت خُدا کے بھید ظاہر کرنا، تنبیہ دینا، اور روحانی بصیرت فراہم کرنا ہے تاکہ لوگ وقت اور خُدا کی مرضی کو پہچان سکیں۔
جبکہ رسول کی خدمت بنیاد رکھنے، نئی کلیسیائیں قائم کرنے، اور مشنری انداز میں خُدا کے کام کو مختلف جگہوں تک پہنچانے کی ہوتی ہے۔
یہ پانچوں خدمتیں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ایک ہی الٰہی مقصد کے لیے مل کر کام کرتی ہیں، تاکہ دُلہن کلام میں کامل ہو جائے۔
: بھائی برینہم کی مزید وضاحت
"کلیسیا کو مبشروں کی ضرورت ہے۔ ہر روز، ہر جگہ خوشخبری سنانے والے مردوں کی ضرورت ہے جو سچے کلام کی منادی کریں۔ لیکن وہ صرف ہجوم اکٹھا کرنے نہ آئیں، بلکہ توبہ اور نئی پیدائش کی منادی کریں!"
(The Indictment, 1963)
خلاصہ ●
مبشر وہ خادم ہوتا ہے جو خُدا کی طرف سے خوشخبری سنانے کے لیے بھیجا جاتا ہے تاکہ گناہگاروں کو نجات، توبہ، اور مسیح کی طرف بلائے۔ اُس کی خدمت کا مرکز لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کرنا اور اُنہیں یسوع مسیح کے ساتھ زندہ تعلق میں لانا ہوتا ہے۔ بائبل میں فلپس مبشر ایک نمایاں مبشر کی مثال ہے، جبکہ پولُس نے تیموتاؤس کو بھی “مبشر کا کام انجام دے” کی نصیحت کی۔ بھائی برینہم نے مبشر کی خدمت کو ایک جنگجو خدمت قرار دیا، جو روحانی تلوار نکال کر دشمن کے قلعوں پر حملہ کرتی ہے اور لوگوں کو گناہ کی نیند سے جگاتی ہے۔ جب حقیقی مبشر خدمت کرتا ہے تو اُس کے نتیجے میں نئی روحانی پیدائشیں، توبہ، اور کلیسیا میں بیداری پیدا ہوتی ہے، کیونکہ خوشخبری کی طاقت دلوں کو تبدیل کرتی ہے۔
چرواہا — نگہبان اور روحانی راہنما
اور میں تم کو اپنے خاطر خواہ (دِل کی مرضی کے مطابق )چرواہے دُونگا اور وہ تم کو دانائی اور عقلمندی سے چرائینگے۔
(یرمیاہ 3:15)
Jeremiah 3:15 from the King James Version (KJV):
"And I will give you pastors according to mine heart, which shall
feed you with knowledge and understanding."
(Jeremiah 3:15, KJV)
"چرواہا" کلیسیا کے اندر سب سے مسلسل اور قربانی والی خدمت ہے۔ ایک چرواہا نہ صرف تعلیم دیتا ہے بلکہ روزمرہ کے مسائل میں ایمانداروں کی روحانی و عملی رہنمائی بھی کرتا ہے۔
چرواہے کی لغوی اور روحانی تعریف ●
"چرواہا" کا عبرانی لفظ
רָעָה (ra‘ah)
اور یونانی میں ποιμήν (poimēn) ،
: جس کا مطلب ہے
"بھیڑوں کی دیکھ بھال کرنے والا" یا "نگہبان"۔
چرواہا ●
ایمانداروں کی رہنمائی اور حفاظت کرتا ہے،غلط تعلیم سے کلیسیا کو بچاتا ہے،دُکھ میں مبتلا لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہےاورروحانی کھانا مہیا کرتا ہے (خُدا کا کلام)
بھائی برینہم نے چرواہے کی خدمت کو "کلیسیا کا دل" قرار دیا — یعنی وہ خِدمت جو ہر وقت ایمانداروں کے ساتھ موجود رہتی ہے۔
"چرواہا وہ ہوتا ہے جو بھیڑوں کے ساتھ رہتا ہے، اُن کی خدمت کرتا ہے، اُنہیں کھانا دیتا ہے، اور اُن کی روحانی حفاظت کرتا ہے۔ اُس کی خدمت مسلسل، صبر آزما اور وفاداری پر مبنی ہوتی ہے۔"
(The Church And Its Condition, 1956)
"ایک نبی آتا ہے اور چلا جاتا ہے، ایک مبشر آتا ہے اور منادی کرتا ہے، مگر چرواہا وہ ہے جو کلیسیا کے ساتھ رہتا ہے، روتا ہے، دُعا کرتا ہے، اور قربانیاں دیتا ہے۔"
(Hebrews Series, 1957)
چرواہے کی بنیادی ذمہ داریاں ●
روحانی خوراک مہیا کرنا ●
چرواہا کلامِ خُدا کی سچی تعلیم کے ذریعے ایمانداروں کو "چرائے" رکھتا ہے۔
یوحنا 21باب15-17
"میرے برّوں کو چراؤ... میری بھیڑوں کو چراؤ..."
(یسوع کا حکم پطرس کو)
بھیڑوں کی نگہبانی ●
چرواہا بھیڑوں کو روحانی خطرات سے بچاتا ہے — جھوٹی تعلیم، گناہ، فتنہ، دنیا سے۔
اعمال 20:28
پَس اپنی اور اُس سارے گلّہ کی خَبرداری کرو جِس کا رُوحُ القُدس نے تُہیں نِگہبان ٹھہرایا تاکہ خُدا کی کلِیسِیا کی گلّہ بانی کرو جِسے اُس نے خاص اپنے خُون سے مول لِیا۔
مشورہ، تسلی اور دعا کی خدمت ●
چرواہا ایمانداروں کے شخصی مسائل، بیماریاں، خاندانی مشکلات، اور روحانی جنگوں میں اُن کے ساتھ ہوتا ہے۔
یعقوب 5:14
اگر تُم میں کوئی بِیمار ہو تو کلِیسیا کے بُزُرگوں کو بُلائے اور وہ خُداوند کے نام سے اُس کو تیل مل کر اُس کے لِئے دُعا کریں۔
بائبلی چرواہوں کی مثالیں ●
داؤد بادشاہ۔۔۔حقیقی بھیڑوں کا چرواہا، بعد میں بنی اسرائیل کا روحانی بادشاہ (زبور 78باب70-72)
یسوع مسیح۔۔۔ "اچھا چرواہا" جو اپنی جان بھیڑوں کے لیے دیتا ہے (یوحنا 10:11)
پطرس رسول۔۔۔ برّوں کی چرواہی کا حکم لیا (یوحنا 21)
پولُس۔۔۔ بزرگوں کو چرواہی کی تلقین (اعمال 20:28)
چرواہے کی خدمت کے تقاضے ●
مضبوط کردار (1تیمِتھُیس 3باب1-7)
عاجزی، صبر، وفاداری
سچی تعلیم دینے کی قابلیت
قربانی دینے کا جذبہ
1 پطرس 5باب:2-3
کہ خُدا کے اُس گلّہ کی گلّہ بانی کرو جو تُم میں ہے۔ لاچاری سے گلّہ بانی نہ کرو بلکہ خُدا کی مرضی کے مُوافِق خُوشی سے اور ناجائِز نفع کے لِئے نہِیں بلکہ دِلی شَوق سے۔ اور جو لوگ تُمہارے سُپُرد ہیں اُن پر حُکُومت نہ جتاؤ بلکہ گلّہ کے لِئے نمُونہ بنو۔
:بھائی برینہم کی مزید وضاحت
"اگر چرواہا صابر نہ ہو تو کلیسیا کبھی نہ بچے گی۔ وہ لوگوں کے ساتھ جیے، اُن کے ساتھ روئے، اُن کے ساتھ دعا کرے، اور کلام کی سچائی پر ثابت قدم رہے۔"
(The Message of Grace, 1961)
خلاصہ●
پاسٹر یا چرواہا وہ خادم ہوتا ہے جسے خُدا اپنی کلیسیا کی نگہبانی کے لیے مقرر کرتا ہے۔ اُس کی ذمہ داری صرف منادی کرنا نہیں بلکہ روحانی خوراک دینا، ایمانداروں کی حفاظت کرنا، زخمی دلوں کو تسلی دینا، اور کلیسیا کی راہنمائی کرنا بھی ہوتی ہے۔ بائبل میں خُدا فرماتا ہے کہ “میں تمہیں اپنے دل کے موافق چرواہے دوں گا” (یرمیاہ 3:15)، جبکہ اعمال 20:28 اور 1 پطرس 5:2 میں چرواہوں کو تاکید کی گئی کہ وہ خُدا کے گلّہ کی نگرانی وفاداری اور محبت سے کریں۔ برادر برینہم نے فرمایا کہ حقیقی چرواہا کلیسیا کا دل ہوتا ہے، کیونکہ وہ خدمت، قربانی، اور محبت کی زندہ مثال بنتا ہے۔ اُس کی خدمت وقتی یا رسمی نہیں بلکہ مسلسل، ذاتی، اور شفقت سے بھری ہوئی ہوتی ہے، تاکہ دُلہن روحانی طور پر محفوظ اور مضبوط رہے۔
اُستاد — کلام کا معلم اور تشریح کنندہ
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ "اُستاد" ہونا صرف تعلیم، مطالعہ یا ذہنی علم سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر بائبل میں اُستاد وہ ہے جسے رُوحالقدس نے خُدا کے کلام کو سکھانے کا روحانی تحفہ دیا ہو۔
اگر خِدمت مِلی ہوتو خِدمت میں لگا رہے۔ اگر کوئی مُعلِّم ہوتو تعلِیم میں مشغُول رہے۔
(رومیوں 12:7)
’’اور بعض کو اُستاد مقرر کیا تاکہ مقدس لوگ کامل بنیں...‘‘
(افسیوں 11باب4:-12)
لغوی اور روحانی تعریف ●
"اُستاد" کا یونانی لفظ
διδάσκαλος (didaskalos)
:جس کا مطلب ہے
وہ جو کلام کی گہرائی سے تعلیم دے، وضاحت کرے اور سچائی کو ظاہر کرے۔
<brاُستاد کی خدمت ایک خاص روحانی نعمت ہے ۔یہ صرف ذہنی علم کا نام نہیں بلکہ رُوحالقدس سے الہام یافتہ فہم ہے جو کلام کو کلیسیا کے لیے کھولتا ہے۔
اُستاد کی اہمیت ●
ایک اُستاد کا کام کلیسیا کو کلام کی سچائی میں مستحکم کرنا ہے، تاکہ
غلط تعلیمات کی پہچان ہو سکے
کلام میں جڑ پکڑ سکیں (کلسیوں 2:7)
ایمان اور فہم میں ترقی ہو (2 پطرس 3:18)
ناپختہ ایماندار رُوحانی بالغ بنیں
بھائی برینہم نے کہا
بھائی برینہم نے اُستاد کی خدمت کو ایک انتہائی نازک اور ذمہ دار خدمت قرار دیا ۔کیونکہ یہ خدمت کلیسیا کی بنیاد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
"ایک سچا اُستاد غلط تعلیمات کو بےنقاب کرتا ہے اور کلیسیا کو خُدا کے کلام کی لائن پر لے آتا ہے۔ وہ تعلیم میں گہرائی پیدا کرتا ہے، تاکہ برّہ جھوٹے نبیوں اور جھوٹی روحوں سے بچ سکیں۔"
(Hebrews Series, 1957)
"صرف علم کافی نہیں؛ ایک حقیقی اُستاد رُوحالقدس سے الہام پاتا ہے تاکہ وہ کلام کی روحانی گہرائی کو کھول سکے۔"
(Questions and Answers, 1964)
بھائی برینہم نے کئی بار کہا کہ ایک اُستاد کو نبی کے کلام کی تشریح میں فکرمند اور ترتیب میں رہنا چاہیے، نہ کہ اُس کی مرضی سے تاویل کرنا۔
اُستاد کی خدمت کی خصوصیات ●
کلام کی وضاحت ●
اُستاد کلام کو "پھاڑ کر" سامنے لاتا ہے تاکہ ایماندار سمجھ سکیں۔ وہ اصول، اصطلاحات، اور سیاق و سباق کے ساتھ تعلیم دیتا ہے۔
نحمیاہ 8:8:
اور اُنہوں نے اُس کتاب یعنی خداکی شریعت میں سے صاف آواز سے پڑھا ۔ پھر اُسکے معنی بتائے اور اُن کو عبارت سمجھا دی ۔‘
غلط تعلیم سے کلیسیا کو بچانا ●
اُستاد ان عقائد اور نظریات کی نشان دہی کرتا ہے جو جھوٹ پر مبنی ہوں ۔ اور سچائی کے ساتھ اُن کا ردّ کرتا ہے۔
اعمال 20باب:29-30
مَیں یہ جانتا ہُوں کہ میرے جانے کے بعد پھاڑے والے بھیڑئے تُم میں آئیں گے جِنہِیں گلّہ پر کُچھ ترس نہ آئے گا۔
اور خُود تُم میں سے اَیسے آدمِی اُٹھیں گے جو اُلٹی اُلٹی باتیں کہیں گے تاکہ شاگِردوں کو اپنی طرف کھینچ لیں۔
نبی کے پیغام کو ترتیب دینا ●
آج کے دور میں اُستاد کی خدمت اہم ہے تاکہ بھائی برینہم کے پیغام کی درست تعلیم، ترتیب، اور تفہیم کلیسیا تک پہنچے ۔ نہ کہ ذاتی تشریحات کے ذریعے۔
کلام کے بنیادی اصول سکھانے میں ماہر ●
:ایک سچا اُستاد
نجات، بپتسمہ، ایمانداری، دُعا، پاکیزگی، ایمان وغیرہ جیسے بنیادی نکات کی مضبوط بنیاد قائم کرتا ہے۔
اورنئے ایمان داروں کو ابتدائی ایمان سے نکال کر بالغ روحانی فہم کی طرف لے جاتا ہے۔
عبرانیوں 6:باب1-2
پَس آؤ مسِیح کی تعلِیم کی اِبتدائی باتیں چھوڑ کر کمال کی طرف قدم بڑھائیں اور مُردہ کاموں سے تَوبہ کرنے اور خُدا پر اِیمان لانے کی۔
اور بپتِسموں اور ہاتھ رکھنے اور مُردوں کے جی اُٹھنے اور ابدی عدالت کی تعلِیم کی بُنیاد دوبارہ نہ ڈالیں۔‘
دُلہن کو کلامی ترتیب میں لانے کا خادم ●
اُستاد دُلہن کلیسیا کو "پیغام" (میسج) میں ترتیب سے لے کر آتا ہے۔بھائی برینہم نے فرمایا کہ آخری دَور میں غلط تشریحات، نجی تاویلیں، اور نبی کے کلام کو غلط سمجھنے کا زور ہوگا ۔ اور اُستاد اس کے خلاف دیوار بن کر کھڑا ہوگا۔
"اگر اُستاد حقیقی ہو تو وہ پیغام کو کلام کی ترتیب میں سکھائے گا، نہ کہ اُسے توڑ مروڑ کر ذاتی خیال میں لائے۔"
(The Rapture, 1965)
بائبلی اُستادوں کی مثالیں ●
پولُس رسول۔۔۔گہرے عقائد کی تعلیم، کلیسیا کے اصول، ترتیب (1 کرنتھیوں، افسیوں، گلتیوں)
اپلّوس۔۔۔فصاحت والا معلم، مگر اکیلا نہیں ۔ اکویلا اور پرِسکیلہ نے اُسے مکمل تعلیم دی (اعمال 18باب24-26)
تیمِتھُیس۔۔۔پولس کا شاگرد، خادمین کا تربیت کار (2 تیمِتھُیس 2:2)
بھائی برینہم کی مزید وضاحت ●
"ایک سچا اُستاد پیغام کو ترتیب دیتا ہے، نہ کہ اُسے بگاڑتا ہے۔ اگر کوئی اُستاد پیغام کو کسی اور رخ پر لے جائے، تو وہ خُدا کا نہیں۔"
(The Anointed Ones at the End Time, 1965)
"جب تک کلیسیا کے اندر اُستاد نہ ہوں، کلیسیا کلام میں گہری جڑ نہیں پکڑ سکتی۔ تعلیم ایک بنیادی ستون ہے۔"
(Church Order, 1963)
فرق: اُستاد اور واعظ میں ●
اُستاد کاانداز۔۔وضاحت و تشریح
واعظ کا انداز۔۔جوش و جذبے سے اعلان
اُستاد کامقصد۔۔تعلیم دینا، تفہیم دینا
واعظ کامقصد۔۔تحریک دینا، بلاوا دینا
اُستاد کی مہارت۔۔کلام کی ترتیب، تاریخی و لغوی گہرائی
واعظ کی مہارت قوت۔۔ایمان، توبہ کی دعوت
اُستاد کےکام کا دائرہ۔۔کلیسیا کی تربیت
واعظ کےکام کا دائرہ۔۔ اندرونی و بیرونی خدمت
خلاصہ ●
اُستاد وہ خادم ہوتا ہے جو کلامِ خُدا کو ترتیب اور وضاحت کے ساتھ کھول کر سکھاتا ہے تاکہ ایماندار سچائی کو صحیح طور پر سمجھ سکیں۔ اُس کی خدمت کلیسیا کو غلط تعلیم، روحانی الجھن، اور انسانی نظریات سے محفوظ رکھتی ہے، جبکہ ایمانداروں کو کلام میں جڑ پکڑنے اور روحانی پختگی حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ بائبل میں رومیوں 12:7، افسیوں 4:11، اور اعمال 18:24 میں تعلیم دینے کی خدمت کی اہمیت ظاہر کی گئی ہے، جہاں اپلّوس کو بھی کلام میں زور آور اُستاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ برادر برینہم نے وضاحت کی کہ حقیقی اُستاد نبی کے دیے گئے پیغام کو ترتیب سے سمجھاتا اور کلیسیا کے سامنے واضح کرتا ہے، تاکہ لوگ مکاشفہ کو متوازن انداز میں سمجھ سکیں۔ آج کی کلیسیا میں یہ خدمت نہایت ضروری ہے، کیونکہ دُلہن کو صرف جوش نہیں بلکہ روحانی ترتیب، گہری سمجھ، اور کلام میں مضبوط بنیاد کی ضرورت ہے
چار جاندار اور پانچ رُتبہ خِدمت
چار جاندار مکاشفہ 4:6-8 میں بیان کیے گئے ہیں۔●
یہ مخلوقات خدا کے تخت کے اردگرد رہتی ہیں، اور ان کے چہروں کی ترتیب یوں بیان کی گئی ہے
مکاشفہ 4باب7-8
"پہلا جاندار شیر ببر کی مانند تھا، دوسرا بچھڑے کی مانند، تیسرا انسان کے چہرے کی مانند، اور چوتھا اڑتے ہوئے عقاب کی مانند تھا۔"
ان چاروں کا مطلب صرف فرشتے نہیں بلکہ یہ کلیسیا کے چار مختلف روحانی دَور اور خُدا کے دفاعی اور رہنمائی نظام کی نمائندگی بھی کرتے ہیں — جیسا کہ بھائی برینہم نے تفصیل سے بیان کیا۔
چار جاندار —بھائی برینہم●
بھائی برینہم نے ان چار جانداروں کو کلیسیا کے لیے روحانی دفاع کی قوتیں قرار دیا، جو چار مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں
چارجاندارانکی علامت اورمطلب●
حزقی ایل اور مکاشفہ کی کتاب میں ذکر کیے گئے چار جاندار مختلف روحانی صفات اور خدمتوں کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
شیر جرات، قوت، اور بادشاہی اختیار کی علامت ہے، جو کلام کی دلیری سے منادی کرنے والی مبشرانہ خدمت کو ظاہر کرتا ہے۔ بچھڑا قربانی، خدمت، اور برداشت کی علامت ہے، جو چرواہے کی محبت بھری اور خدمت گزار روح کو ظاہر کرتا ہے، جو اپنے گلّہ کے لیے خود کو قربان کرنے کو تیار رہتا ہے۔ انسان کا چہرہ حکمت، فہم، اور سمجھ بوجھ کی علامت ہے، جو اُستاد کی خدمت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کلام کو ترتیب اور گہرائی سے سکھاتا ہے۔ جبکہ عقاب بلندی، نبوت، اور روحانی بصیرت کی علامت ہے، جو نبی کی الہامی خدمت کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ عقاب دوسری مخلوقات سے بلند اُڑ کر دور تک دیکھتا ہے۔ برادر برینہم نے بھی اِن علامتوں کو کلیسیا کی مختلف روحانی خدمتوں اور خُدا کی ظاہر ہوتی ہوئی قدرت کے ساتھ جوڑا، تاکہ دُلہن وقت کی پہچان اور کلام کے توازن میں چل سکے۔
پانچ رُتبہ خِدمت اور چار جاندار - رُوحانی ربط ●
اگر ہم پانچ رُتبہ خِدمت کو ان جانداروں کی روشنی میں دیکھیں تو ہمیں ایک ترتیب اور ہم آہنگی نظر آتی ہے:
شیر ۔۔(شجاعت، منادی) اوریہ مبشرسے متعلقہ ہےاور اسکا کام خوشخبری کی بےخوف منادی، دلیری سے کلام کی تلوار چلانا
بچھڑا ۔۔(قربانی، خدمت) یہ چرواہاسے متعلقہ ہے اور اسکا کام کلیسیا کی خدمت، دُعا، محبت اور جان نثار قربانی
انسان۔۔ (فہم، حکمت)یہ اُستاد سے متعلقہ ہے اسکا کام کلام کی تعلیم، ترتیب، اور سچائی کی وضاحت
عقاب۔۔ (روحانی بلندی، نبوت)یہ نبی سے متعلقہ ہے اسکا کام خُدا کے بھید ظاہر کرنے والا، آسمانی مکاشفہ لانے والا
رسول ❓۔۔اگرچہ کسی جاندار کے ساتھ براہ راست نہیں جوڑا گیا، مگر رسول کو ان سب پہلوؤں کا جامع کہا جا سکتا ہے — وہ بانی ہوتا ہے، ترتیب دیتا ہے، اور باقی سب خدمتوں کی نگرانی کرتا ہے۔
:بھائی برینہم کی وضاحت
"چار جاندار کلیسیا کی حفاظت کے چار رُوحانی ہتھیار ہیں۔ یہ چار قوتیں، چار مختلف روحیں، چار مختلف دُعاؤں کی حالتیں، چار مختلف خدمات کے ذریعے کام کرتی ہیں... اور یہ وہی روحیں ہیں جو کلام کی خدمت کے ذریعے دُلہن کو دفاع دیتی ہیں۔"
(The Revelation of the Seven Seals, 1963)
"عقاب کا مطلب نبی ہے؛ وہ آسمان سے دیکھتا ہے۔ انسان کا مطلب فہم ہے — یعنی اُستاد۔ شیر، یعنی دلیری سے حملہ کرنے والا — مبشر۔ اور بچھڑا — وہ ہے جو جان دیتا ہے، قربانی دیتا ہے — چرواہا۔"
(The Breach, 1963)
: نتیجہ ●
پانچ رُتبہ خِدمت اور چار جاندار — دُلہن کی تربیت اور حفاظت ●
چار جاندار دُلہن کی روحانی حفاظت، سمت، اور دفاع کی علامت ہیں، جبکہ پانچ رُتبہ خِدمت اُس کی تربیت، ترتیب، اور ترقی کا ذریعہ ہے۔ یہ دونوں نظام — آسمانی اور زمینی — مل کر کام کرتے ہیں تاکہ دُلہن کامل ہو، بھید سمجھے، کلام میں پختہ ہو، اور مسیح کے ساتھ ملاپ کے لیے تیار ہو۔
اختتامیہ
خُداوند یسوع مسیح نے اپنی کلیسیا کو بغیر رہنمائی، ترتیب، اور تربیت کے نہیں چھوڑا۔ اُس نے پانچ خاص خِدمتیں - رسول، نبی، مبشر، چرواہا، اور اُستاد - مقرر کیں تاکہ دُلہن کلیسیا نہ صرف بیدار ہو بلکہ ایمان، فہم، اور محبت میں کامل ہو جائے۔
:یہ خِدمتیں خُدا کے فضل کا ایک ذریعہ ہیں، نہ کہ انسانی تقرری یا تنظیمی ڈھانچے کا حصہ۔ ان کے ذریعے کلیسیا
جھوٹی تعلیمات سے محفوظ رہتی ہے
کلام کی گہرائی کو سمجھتی ہے
روحانی بلوغت کی طرف بڑھتی ہے
اور آخرکار مسیح کے قد و قامت تک پہنچنے کے لیے تیار ہوتی ہے
بھائی برینہم نے نہ صرف نبی کی خدمت کو واضح کیا، بلکہ باقی چار خدمتوں کی بھی قدر کی اور کلیسیا کو خبردار کیا کہ اگر یہ خِدمتیں ترتیب میں نہ ہوں تو کلیسیا توازن کھو بیٹھتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ان خادمین کو صرف عہدے کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اُنہیں خُدا کی عطا کردہ نعمتیں سمجھ کر عزت دیں، دعا سے سہارا دیں، اور سیکھنے کے لیے دِل کھلا رکھیں۔
:کیونکہ
جہاں رویا نہیں وہاں لوگ بے قید ہو جٓاتے ہیں لیکن شریعت پر عمل کرنے والا مبارک ہے۔ (امثال 29:18)
اور یہ رؤیا، یہ ترتیب، یہ فہم -خُدا نے ہمیں اپنے ان پانچ خادموں کے وسیلہ سے عطا کی ہے۔
لہٰذا آئیں، ان خدمتوں کو پہچانیں، اپنائیں، اور اپنے آپ کو اُس دُلہن کی صف میں شامل کریں جو "کلام میں جمی ہوئی" ہے اور "بغیر داغ و جُھری" کے اپنے دُلہا کے استقبال کے لیے تیار ہو رہی ہے۔
براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں
واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔
✝️ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)
مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج از ہلسنکی فن لینڈ
2 thoughts on “Why Did God Establish the Fivefold Ministry for the Church?”
Very nice article Brother Javed.
May God bless you ….keep writing.
Blessings
Emmanuel Gill
God bless you