خدا کی گھڑی کا آخری وقت: اسرائیل، دلہن اور عدالت
تعارف: آخری زمانہ، نبوتیں، اور دلہن کی تیاری
ہم ایک ایسے غیرمعمولی دَور میں زندہ ہیں جو بائبل کی نبوتوں کے مطابق تاریخ کا سب سے فیصلہ کن وقت ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب دنیا کی ہر چیز اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے — قومیں جنگ کے دہانے پر، زمین قدرتی آفات سے لرز رہی ہے، انسانیت روحانی اندھیرے میں ڈوب چکی ہے، اور مذہب محض ایک ظاہری رسم بن چکا ہے۔
لیکن... ان تاریکیوں کے درمیان، ایک روشن صدا گونج رہی ہے — ایک نبی کی صدا، ایک بیداری کی صدا، ایک دلہن کے بلانے کی صدا۔
بھائِ برینہم، جنہیں خدا نے ملاکی 4باب5-6، مکاشفہ 10:7، اور مرقس 9:12 کی نبوتوں کے مطابق بھیجا، اُس آخری زمانہ کے نبی کے طور پر ظاہر ہوئے جس نے سات مہروں کے راز کھولے، دلہن کو اصل ایمان کی طرف بلایا، اور دنیا کو عدالت سے پہلے خبردار کیا۔
یہ پیغام
صرف کسی فرقہ کا نظریہ نہیں؛یہ ایک نیا مذہب نہیں؛بلکہ یہ خالص کلام کی بحالی ہے — وہی ایمان جو پینٹی کوسٹ پر رسولوں کو ملا، جو کیڑوں نے کھا لیا، اور جو اب بحال ہو چکا ہے۔
یہ تحریر/سیریز اُن سب کے لیے ہے:
جو آخری زمانہ کی نشانیاں سمجھنا چاہتے ہیں؛جو دلہن کلیسیا کا حصہ بننا چاہتے ہیں؛اور جو اُس آواز کو سننا چاہتے ہیں جو "آو، تیار ہو جاؤ!" کہہ رہی ہے۔
مکاشفہ 22:17 اور رُوح اور دُلہن کہتی ہیں آ اور سُننے والا بھی کہے آ۔ اور جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبِ حیات مُفت لے۔
متی 25:6 آدھی رات کو دھُوم مچی کہ دیکھو دُلہا آگیا! اُس کے اِستقبال کو نِکلو۔
مکاشفہ 19:7 آؤ۔ ہم خُوشی کریں اور نِہایت شادمان ہوں اور اُس کی تمجِید کریں اِس لِئے کہ برّہ کی شادِی آ پہُنچی اور اُس کی بِیوی نے اپنے آپ کو تیّار کر لِیا۔
(مکاشفہ 2:7)"جس کے کان ہوں وہ سن لے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا کہتا ہے!
جنے کے درد
یسوع مسیح نے متی 24 میں اپنی مشہوروعظ (خطبۂ جبلِ زیتون) میں اپنے شاگردوں کو آنے والے دَور کی علامات بتائیں۔ انہوں نے کہا:
کِیُونکہ قَوم پر قَوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھُونچال آَئیں گے۔ لیکِن یہ سب باتیں مُصیبتوں کا شُرُوع ہی ہوں گی۔
(متی 24باب:7-8)
بھائی برینہم نے فرمایا کہ یسوع نے ان تمام علامات کو "مصیبتوں کا آغاز" یا جنے کے درد قرار دیا، جیسے ایک عورت کو زچگی سے پہلے درد شروع ہوتے ہیں۔ یہی مثال آج کی دنیا پر لاگو ہوتی ہے۔ ان دردوں میں وقت کے ساتھ شدت آتی ہے — پہلے ہلکے، پھر شدید — بالکل ویسے ہی جیسے زچگی کے درد۔ ان کا مقصد ایک نئی زندگی کو جنم دینا ہوتا ہے۔
"یہ دُنیا ایک تھکی ہوئی، بوڑھی عورت کی مانند ہے جو اپنی عمر پوری کر چکی ہے، اور اب ایک نئی دُنیا کو جنم دینے کے قریب ہے — وہ بادشاہی جو صرف راستبازوں کے لیے مقدر ہے۔
پیدائش کی تکالیف کی موجودہ صورتیں۔
قدرتی آفات میں اضافہ۔زلزلے پہلے سے زیادہ شدید اور معمول سے زیادہ کثرت سے آ رہے ہیں۔موسمی شدتیں ، طوفان، سیلاب اور جنگلات کی آگ روز بروز بڑھ رہی ہیں۔
بیماریاں اور وبائیں ۔
بھائی برینہم نے کہا۔دنیا پر ایک ایسی بیماری آئے گی جو ڈاکٹروں کے بس سے باہر ہو گی۔"
آج کورونا وائرس اور اس جیسے کئی وائرسز نے دنیا کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
نئی نئی بیماریاں، جیسے برڈ فلو، ایبولا، زیکا وائرس، وغیرہ ان "وباؤں" کی واضح مثالیں ہیں۔
قحط اور مہنگائی
خوراک کی قلت اور معاشی بحران مختلف ممالک کو تباہ کر رہے ہیں۔
مکاشفہ 6:5-6 میں کالے گھوڑے کے ساتھ "غلّے کی مہنگائی" کی پیشگوئی ہے جو اب سچ ہو رہی ہے۔
قوموں میں بے چینی
جنگیں اور ان کی افواہیں (مثلاً روس-یوکرین، اسرائیل-ایران، چین-تائیوان تنازعات) دنیا کو ایک نئے عالمی جنگ کے دہانے پر لے جا رہی ہیں۔
روحانی مفہوم
بھائی برینہم نے اس کی روحانی تشریح بھی کی:یہ سب علامتیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ زمین پر وقت ختم ہو رہا ہے، اور آسمانی بادشاہی کا وقت قریب ہے۔"ایک پرانی دنیا مر رہی ہے، اور ایک نئی دُنیا — نئی زمین اور نیا آسمان — جنم لینے جا رہے ہیں، جیسا کہ مکاشفہ 21 میں لکھا ہے۔
نتیجہ:
یہ جنے کے درد نہ صرف جسمانی اور عالمی سطح پر اثر انداز ہو رہی ہیں، بلکہ روحانی طور پر بھی کلیسیا کو جگا رہے ہیں تاکہ وہ دلہن بننے کے لیے تیار ہو۔
بھائی برینہم نے زور دے کر فرمایا:
"یہ وہ وقت ہے جب کلیسیا کو نیند سے جاگنے کی ضرورت ہے، کیونکہ دلہن کے اُٹھائے جانے کا وقت آ چکا ہے۔
عالمی سطح پر دینی انحراف اور اخلاقی تباہی
بھائی برینہم نے بار ہا کہا آخری زمانہ میں دنیا روحانی، اخلاقی اور معاشرتی گراوٹ کی انتہا کو پہنچ جائے گی۔ یہ وہ نشانیاں ہیں جو سیدھے آخری عدالت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
جب عورت اپنی اصل شناخت کھو دے، جب نوجوان نسل خدا کے بغیر بڑی ہو، جب کلیسیا گناہ کو قبول کرنا شروع کر دے، تو سمجھ لو کہ خُدا کے قہر کا وقت آ گیا ہے۔
2 تیمتھیس 3باب1-5
لیکِن یہ جان رکھ کہ اخِیر زمانہ میں بُرے دِن آئیں گے۔
کِیُونکہ آدمِی خُودغرض۔ زردوست۔ شیخی باز۔ مغرُور۔ بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشُکر۔ ناپاک۔
طبعی محبّت سے خالی۔ سنگدِل۔ تہُمت لگانے والے۔ بے ضبط۔ تُندمِزاج۔ نیکی کے دُشمن۔
دغاباز۔ ڈِھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خُدا کی نِسبت عِش و عِشرت کو زِیادہ دوست رکھنے والے ہوں گے۔
وہ دِینداری کی وضع تو رکھّیں گے مگر اُس کے اثر کو قُبُول نہ کریں گے۔ اَیسوں سے بھی کِنارہ کرنا۔
رومیوں 1باب26-32 میں بھی بے راہ روی، ہم جنس پرستی، بدکاری، اور خدا سے بغاوت کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
اِسی سبب سے خُدا نے اُن کو گندی شہوتوں میں چھوڑدِیا۔ یہاں تک کہ اُن کی عَورتوں نے اپنے طبعی کام کو خِلاف طِبع کام سے بدل ڈالا۔
اِسی طرح مرد بھی عَورتوں سے طبعی کام چھور کر آپس کی شہوت سے مست ہوگئے یعنی مردوں نے مردوں کے ساتھ رُوسیاہی کے کام کر کے اپنے آپ میں اپنی گُمراہی کے لائِق بدلہ پایا۔
اور جِس طرح اُنہوں نے خُدا کو پہچاننا نا پسند کِیا اُسی طرح خُدا نے بھی اُن کو نا پسندِیدہ عقل کے حوالہ کردِیا کہ نالائِق حرکتیں کریں۔
پَس وہ ہر طرح کی ناراستی بدی لالچ اور بد خواہی سے بھر گئے اور حسد خُونریزی جھگڑے مکّاری اور بغُض سے معمُور ہوگئے اور غِیبت کرنے والے۔
بدگو۔ خُدا کی نظر میں نفرتی اَوروں کو بے عِّزت کرنے والے مغرُور شیخی باز بدیوں کے بانی ماں باپ کے نافرمان۔
بیُوقُوف عہد شکن طبعی محبّت سے خالی اور بیرحم ہوگئے۔
حالانکہ وہ خُدا کا یہ حُکم جانتے ہیں کہ اَیسے کام کرنے والے مَوت کی سزا کے لائِق ہیں۔ پھِر بھی نہ فقط آپ ہی اَیسے کام کرتے ہیں بلکہ اَور کرنے والوں سے بھی خُوش ہوتے ہیں۔
آج کی حقیقت
عورت کی بے پردگی اور فیشن پرستی: بھائی برینہم نے عورت کو "قوم کی اخلاقی بنیاد" کہا۔ جب عورت راہ سے ہٹ جائے، پوری قوم گرتی ہے۔
نوجوان نسل کی بغاوت: آج نوجوان نسل الحاد، نشہ، سوشل میڈیا کی گندگی، اور عارضی لذتوں میں الجھ چکی ہے۔
کلیسیاؤں کی دنیا سے مصالحت: آج زیادہ تر کلیسیائیں گناہ کو "محبت" اور "قبولیت" کے نام پر نظر انداز کر رہی ہیں۔
"کلیسیا کو دُنیا کی مانند نہیں بننا چاہیے۔ جب چرچ دنیا سے سمجھوتہ کرے، تو وہ خُدا کی نظر میں زنا کار بن جاتی ہے۔"
نبوتوں کی تکمیل
بائبل کی نبوتیں ایک کے بعد ایک پوری ہو رہی ہیں، اور یہ آخری زمانہ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ہم اُس دَور میں زندہ ہیں جہاں "ہر چیز اپنی آخری حالت کو پہنچ رہی ہے۔
اہم نبوتیں جو پوری ہو چکیں یا ہو رہی ہیں
اسرائیل کی واپسی (1948)
حزقی ایل 37 — "خشک ہڈیوں کی وادی" کی پیشگوئی۔
یسعیاہ 66:8 — "کیا ایک دن میں کوئی قوم پیدا ہو سکتی ہے؟
متی 24باب32-34 — "جب انجیر کا درخت (اسرائیل) پھولے، جان لو وقت قریب ہے۔
"اسرائیل کی واپسی آخری گھنٹی کی مانند ہے، جو دلہن کے لیے بج چکی ہے۔
سائنس( دانش افزوں) میں اضافہ
(دانی ایل 12:4)۔
لیکن تو اے دانی ایل ان باتوں کو بند کر رکھ اور کتا پر آخری زمانہ تک مُہر لگا دے ۔ بُہیترے اس کی تفتیش و تحقیق کریں گے اور دانش افزوں ہو گی۔
انٹرنیٹ، AI، خلائی سفر، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی روزانہ ترقی کر رہی ہے۔
کلیسیا کی نیند (متی 25:5)
"جب دُلہا نے دیر کی تو وہ سب اُونگھنے اور سونے لگیں۔
کلیسیا آج سو رہی ہے، اور دُلہن کو جگانے کے لیے نبی کا پیغام دیا گیا ہے۔
دنیا بھر میں انجیل کی منادی (متی 24:14)۔
"اور یہ بادشاہی کی خوشخبری تمام دنیا میں منادی جائے گی، تب خاتمہ ہوگا۔
انٹرنیٹ اور ترجمہ شدہ بائبلز اور پیغامات کی مدد سے اب یہ پیشگوئی تقریباً پوری ہو چکی ہے۔
نتیجہ
"ہم وہ نسل ہیں جو نبوتوں کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھ رہی ہے۔ جو کچھ صدیوں پہلے لکھا گیا، آج حقیقت بن چکا ہے۔ یہ خدا کی گھڑی کی آخری گھڑیاں ہیں!
سات مہریں
GOD Bless you My brother 🙏🙏
God bless you