مکاشفہ 6 تا 10ابواب آیت بہ آیت مطالعہ آخری زمانہ کے پیغام کی روشنی میں
مجموعی تقسیم 🟦
باب 6🔹
یہ باب سات مہروں کے کھلنے کا آغاز ہے، جہاں دنیا پر مختلف روحانی اور تاریخی قوتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہ مہریں کلیسیا کے زمانے سے لے کر آخری وقت تک کے حالات کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ دُلہن ان مہروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی محفوظ کی جاتی ہے۔
باب 7🔹
یہ باب ایک وقفہ ہے جس میں 144,000 یہودیوں پر خدا کی مہر لگائی جاتی ہے۔ یہ دُلہن نہیں بلکہ اسرائیل ہے، جسے مصیبت کے دور میں خدا خاص مقصد کے لیے محفوظ رکھتا ہے۔
باب 8–9🔹
یہ ابواب سات نرسنگوں کا آغاز دکھاتے ہیں، جو خدا کی طرف سے اسرائیل اور دنیا کے لیے تنبیہی فیصلے ہیں۔ یہ نرسنگےدُلہن کے لیے نہیں بلکہ زمین پر رہ جانے والوں کے لیے ہیں۔
باب 10🔹
یہ باب طاقتور فرشتے اور کھلی کتاب کو ظاہر کرتا ہے، جو برادر برینہم کے مطابق آخری زمانے میں کلام کے مکمل ظاہر ہونے اور دُلہن کے لیے رازوں کے کھلنے کی علامت ہے۔
تفسیرباب 6، برّہ اور سات مہروں والی کتاب
اب ہم مکاشفہ کی سب سے اہم اور گہری کتابی منزل میں داخل ہو رہے ہیں — باب 6 — جہاں سات مہریں ایک ایک کر کے کھلنا شروع ہوتی ہیں۔
برادر برینہم نے 1963 میں ان مہروں کو روح القدس کے مکاشفے کے تحت کھولا، اور بتایا کہ یہ نجات، عدالت، اور کلیسیا کی تاریخ کے راز ہیں۔آئیے اب پہلی مہر سے آغاز کرتے ہیں۔
مکاشفہ باب 6 — پہلی مہر (آیات 1–2)🔹
پھِر مَیں نے دیکھا کہ برّہ نے اُن سات مُہروں میں سے ایک کو کھولا اور اُن چاروں جانداروں میں سے ایک کی گرج کی سی یہ آواز سُنی کہ آ۔ اور مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے اور اُس کا سوار کمان لِئے ہُوئے ہے۔ اُسے ایک تاج دِیا گیا اور وہ فتح کرتا ہُؤا نِکلا تاکہ اَور بھی فتح کرے۔
باب 6آیت 1 — مہر کا کھلنا🔹
یہاں “برّہ” — یعنی یسوع مسیح — پہلی مہر کھولتا ہے۔اب تک باب 5 میں وہ کتاب لے چکا تھا، اور اب اُس کے راز کھلنے لگے۔“چار جانداروں میں سے ایک” (یعنی شیر، قوت اور شجاعت کی علامت) کہتا ہے: “آ!”یہ گرج کی سی یہ آواز دراصل اُس روحانی وقت کا اعلان ہے جب کلیسیا کا پہلا دور شروع ہوا۔
برادربرینہم نے فرمایا کہ جب برّہ نے مہر کھولی، تو ہر مہر کھلنے کے ساتھ گرج کی آواز آئی — جو ظاہر کرتی ہے کہ کچھ نہ کچھ خفیہ بات خدا ظاہر کر رہا ہے۔ یہ گرجیں دنیا کے لیے راز ہیں، لیکن منتخب دلہن کے لیے مکاشفہ ہیں۔یعنی یہ گرجیں بادلوں پر اٹھائے جانے کاایمانِ دلہن کے دل میں پیدا کرنے والی آواز ہیں۔
برادربرینہم کے مطابق یہ گرجیں وہی زندہ کلام ہیں جو اب یسوع مسیح خود اپنے نبی کے ذریعے بولتا ہے، تاکہ اپنی دلہن کو آخری مکاشفہ دے — جو کسی کتاب یا تعلیم سے نہیں، بلکہ براہِ راست مکاشفاتی آواز سے ظاہر ہوتا ہے۔
برادر برینہم فرماتے ہیں:●
“جب پہلی مہر کھلی، تو شیر کی روح ظاہر ہوئی — کیونکہ ابتدائی کلیسیا کو ایمان کی جنگ لڑنی تھی۔
باب 6آیت 2 — سفید گھوڑسوار🔹
یوحنا کہتا ہے: “میں نے ایک سفید گھوڑا دیکھا، اور اُس پر سوار کے پاس کمان تھی، اور اُسے تاج دیا گیا، اور وہ غالب آنے کے لیے نکلا۔”
یہ بظاہر بہت پاکیزہ اور خوبصورت منظر لگتا ہے — سفید رنگ پاکیزگی کا، کمان اختیار کی علامت، اور تاج فتح کی نشانی۔مگر درحقیقت یہ دھوکہ دینے والا کردار ہے۔
برادر برینہم کے مطابق یہ مخالف مسیح کا آغاز ہے جو کلیسیا میں "دینی صورت" میں داخل ہوا۔سفید گھوڑا "جھوٹے ایمان" کی علامت ہے۔اُس کے پاس "کمان" ہے مگر "تیر" نہیں — یعنی اُس کے پاس مذہبی اختیار تو ہے، مگر روح القدس نہیں۔
اُسے "تاج" دیا گیا — کلیسیا نے خود اُسے اختیار دیا۔اور وہ "غالب آنے کے لیے نکلا" — یعنی اُس نے کلیسیا پر قابو پانا شروع کیا۔یہی وہ لمحہ ہے جب نِقلائی روح نے کلیسیا میں قدم رکھا —
انسانی اختیار، تنظیم اور مذہبی طاقت نے آہستہ آہستہ سادہ ایمان کی جگہ لے لی۔
روحانی مطلب🔹
یہ مہر کلیسیا کے پہلے دور (افسس) کی نمائندگی کرتی ہے۔یہ وہ وقت تھا جب ایمان تازہ تھا، مگر دشمن نے نرمی سے داخل ہو کر سچائی میں ملاوٹ پیدا کی۔شیطان اب کھلے حملے سے نہیں بلکہ مذہبی صورت میں آیا۔شیطان نے اب تلوار نہیں بلکہ بائبل اُٹھائی — مگر اُس میں اپنے خیالات شامل کر دیے۔
برادر برینہم نے فرمایا:
“پہلی مہر میں شیطان ایک مذہبی روح کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، تاکہ کلیسیا کو اندر سے بدل دے۔”
"شیر" کا مسح — دفاعی قوت🔹
اسی لیے پہلا جاندار “شیر” ظاہر ہوا — کیونکہ خدا نے اپنی کلیسیا کو جرات اور سچائی کا مسح دیا تاکہ وہ اس دھوکے کو پہچانے۔پولس رسول نے اسی روح (سفید گھوڑسوار)کے خلاف متنبہ کیا تھا (اعمال 20باب:29–30) کہ 9 مَیں یہ جانتا ہُوں کہ میرے جانے کے بعد پھاڑے والے بھیڑئے تُم میں آئیں گے جِنہِیں گلّہ پر کُچھ ترس نہ آئے گ
سبق (پہلی مہر)🔹
ہر سچائی کے ساتھ ہمیشہ ایک جعلی صورت پیدا ہوتی ہے۔دشمن سب سے پہلے مذہبی صورت میں آتا ہے، دشمنی کے نہیں بلکہ محبت کے نقاب میں۔کلیسیا کو شیر کی مانند ایمان اور پہچان میں مضبوط رہنا ہوگا۔پہلی مہر ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر “سفید گھوڑا” سچائی نہیں ہوتا — روح کو پرکھنا ضروری ہے (1 یوحنا 4:1)۔
دشمن کا پہلا ہتھیار “دھوکہ” تھا — مگر خدا کا پہلا دفاع “مکاشفہ” ہے۔
مکاشفہ 6باب3–4 — دوسری مہر🔹
اور جب اُس نے دُوسری مُہر کھولی تو مَیں نے دُوسرے جاندار کو یہ کہتے سُنا کہ آ۔ پھِر ایک اور گھوڑا نِکلا جِس کا رنگ لال تھا۔ اُس کے سوار کو یہ اِختیّار دِیا گیا کہ زمِین پر سے صُلح اُٹھا لے تاکہ لوگ ایک دُوسرے کو قتل کریں اور اُسے ایک بڑی تلوار دی گئی۔
سرخ گھوڑا — خون، جنگ اور مذہبی ظلم🔹
جب پہلی مہر میں شیطان سفید گھوڑے پر فریب (جعلی ایمان) کی صورت میں ظاہر ہوا…
تو دوسری مہر میں وہ اپنی اگلی شکل میں ظاہر ہوا — سرخ گھوڑا، یعنی قتل اور ظلم کی قوت۔
سرخ خون کا رنگ ہے●
تلوار جنگ اور زور کی علامت ہے●
صلح کا اٹھا لیا جانا فساد، اختلاف اور قتل کو ظاہر کرتا ہے●
یہ مذہبی نظام اب صرف دھوکہ نہیں دیتا تھا —بلکہ مخالفین کو قتل کرنا شروع کر دیا۔
یہ کب اور کیسے پورا ہوا؟🔹
سمرنہ کا کلیسیا ئی زمانہ (100–312 عیسوی) میں:
رومی بادشاہ نیرو، ڈو میشیان، ٹریجن، ڈائیو کلیشن وغیرہ نے مسیحیوں پر شدید ظلم کیاایمانداروں کو اذیت خانوں میں ڈالا گیا،زندہ جلایا گیا،شیروں کے آگے پھینکا گیااورصلیبوں پر چڑھایا گیا
تاریخ اسے (شہداء کا دور) کہتی ہے۔The Age of Martyrs 🔹
برادر برینہم کہتے ہیں:●
“شیطان نے اپنی اصلی شکل دکھا دی — ظلم، خونریزی، اور جبر۔”
(The Second Seal, 1963)
یہ وہ وقت تھا جب زمین سے صلح اٹھا لی گئی —یعنی امن ختم، قتل عام شروع۔
اس مخالف مسیح قوت کا مقابلہ کس نے کیا؟🔹
دوسرے جاندار: بچھڑا کا مسح (Ox / Calf)●
مسح: قربانی، خدمت، صبر اور برداشت
بچھڑا جھکتا ہے، بوجھ اٹھاتا ہے، اور قربانی بنتا ہے۔
اسی طرح اس دور میں کلیسیا نے
اپنے دشمنوں سے نہیں لڑاحکومتیں نہیں گرائیں طاقت سے جواب نہیں دیابلکہ اپنے خون سے گواہی دی
اور کہا:
“خداوند یسوع مسیح ہمارا بادشاہ ہے — ہم اس کے وفادار رہیں گے، چاہے جان چلی جائے۔”
(مکاشفہ 12:11)🔹
اور وہ برّہ کے خُون اور اپنی گواہی کے کلام کے باعِث اُس پر غالِب آئے اور اُنہوں نے اپنی جان کو عزِیز نہ سَمَجھا۔ یہاں تک کہ مَوت بھی گوارا کی۔
“یہ بچھڑے کی روح تھی جو کلیسیا میں ظاہر ہوئی —قربانی کی طاقت، جو ہر ظلم سے اونچی تھی۔”
(The Revelation of the Four Beasts, Br. Branham)
سبق(دوسری مہر)🔹
اس دوسری مہر کا سبق یہ ہے کہ سچا ایمان تلوار اور طاقت سے نہیں بلکہ صبر، محبت اور قربانی سے غالب آتا ہے۔ کلیسیا نے ظلم کا جواب ظلم سے نہیں دیا بلکہ شہداء نے اپنی جانیں مسیح کے لیے دے کر دکھایا کہ مصیبت ایمان کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتی ہے۔ خدا اپنے لوگوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا؛ سرخ گھوڑے کے ظلم کے مقابل میں اُس نے بچھڑے کا مسح — قربانی اور برداشت کی قوت — عطا کی۔ اس لیے مسیح کے لیے جینا، اُس کے لیے قربانی دینے کی تیاری ہے، کیونکہ سچا ایمان باتوں سے نہیں بلکہ عمل اور زندگی سے ظاہر ہوتا ہے۔
جبر سے ایمان ٹوٹا نہیں — بلکہ ایمان اور مضبوط ہوا۔
تیسری مہر (کالا گھوڑا) — مکاشفہ 6باب5–6🔹
اور جب اُس نے تیسری مہر کھولی تو میں نے تیسرے جاندار کو یہ کہتے سنا کہ آ۔ اور میں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کالا گھوڑا ہے، اور اُس کے سوار کے ہاتھ میں ایک ترازو ہے۔اور میں نے گویا اُن چاروں جانداروں کے بیچ میں سے یہ آواز آتی سنی کہ گیہوں دینار کے سیر بھر اور جو دینار کے تین سیر، اور تیل اور مے کا نقصان نہ کر۔
آیت 5 — مہر کا کھلنا🔹
تیسری مہر بھی برّہ یعنی یسوع مسیح کھولتا ہے۔اب تیسرا جاندار ظاهر ہوتا ہے — انسان کی صورت والا جاندار۔
(انسان کا مسح۔۔مارٹن لوتھر نے“ایمان سےٹھہرنا” کی بحالی ●
جان وکلف نےعوام کو بائبل پڑھنے کا حق دیا●
جان ہس نے کلیسیا کی بدعنوانی کے خلاف گواہی●
میلچائی تھون اور زونگلی نےمذہبی آزادی اور اصلاحات ●
ولیم ٹنڈیل نے بائبل کا عام زبان میں ترجمہ کیا)●
برادر برینہم فرماتے ہیں
”تیسری مہر میں جو روح ظاہر ہوتی ہے وہ انسان کی روح ہے۔ کیونکہ کلیسیا کو اس دور میں سمجھ، حکمت اور تمیز کی ضرورت تھی۔
یہ دور پیرغام اور خاص طور پر تھیواتیرا کلیسیا کے عروج کے زمانے میں پیش آنے والی روحانی تاریکی کی نشاندہی کرتا ہے۔(Pergamos)
آیت 5 — کالا گھوڑا اور ترازو🔹
“ایک کالا گھوڑا… اور اُس کے سوار کے ہاتھ میں ایک ترازو تھا”
سفید گھوڑا → سرخ گھوڑا → اب کالا گھوڑا●
مہر گھوڑے کا رنگ معنی شیطان کی ترقی●
پہلی مہر سفید دھوکہ / جعلی پاکیزگی کلیسیا میں نرمی سے داخلہ●
دوسری مہر سرخ خونریزی / جبر شہیدیاں اور زور سے قبضہ●
تیسری مہر کالا روحانی تاریکی / قلت روحانی زندگی کا سودا●
کالا رنگ●
بائبل میں ظلمت، تاریکی، اور روحانی بھوک کی علامت ہے۔
ترازو — ●
ایمان، سچائی اور نجات اب تجارت بن چکے ہیں۔
کلیسیا بازار بن گئی۔نجات قیمت پر بیچی گئی۔معافی جائزوں اور عبادات کے بدلے دی گئی۔
یہی کیتھولک چرچ کی انڈیولجنس کا دور ہے —اس کا مطلب ہے کہ جہاں ”پیسے دے کر گناہ معاف کروا لو”۔(Indulgences)
برادر برینہم فرماتے ہیں
“یہ وہ وقت تھا جب مذہب تجارت بن گیا — زندگی بیچی جانے لگی۔”
آیت 6 — غلہ اور قلت🔹
“گیہوں دینار کے سیر بھر اور جو دینار کے تین سیر”
گیہوں — خالص کلام / مکاشفہ کی روٹی●
جو — کم معیار کی خوراک / کمزور تعلیم●
ایک دینار — ایک آدمی کی پورے دن کی مزدوری●
لیکن اس سے صرف ایک وقت کی خوراک ملتی ہے۔●
یعنی:
کلام موجود تھامگر لوگوں تک پہنچنے نہیں دیا جاتا تھاکلام کو قید کر دیا گیا۔
کتابیں جلائی گئیں۔ذاتی بائبل پڑھنا جرم بن گیا۔لوگ روحانی طور پر بھوکے تھے، مگر کلیسیا نے خوراک روک لی تھی۔
“تیل اور مے کا نقصان نہ کر”🔹
تیل → روحالقدس کی روایتی زندگی●
مے → جلال، خوشی، الہامی پرستش●
شیطان بہت کچھ چھین سکتا ہے —لیکن خدا اپنا روحانی حصہ محفوظ رکھتا ہے۔یہ پَنٹیکاسٹ کی گواہی کبھی ختم نہ ہوئی۔ایک چھوٹا سا سچا باقیہ ہمیشہ رہاجو روحالقدس کے ساتھ زندہ رہا۔
روحانی مطلب (تیسری مہر)
یہ مہر ظاہر کرتی ہے کہ:کلیسیا روحانی تاریکی میں چلی گئی۔مذہب تجارت بن گیا۔اورکلام لوگوں سے چھپا دیا گیا۔نجات خریدو فروخت کی چیز بن گئی۔مگر خدا نے روحالقدس کا چراغ نہیں بجھنے دیا۔
جاندار → انسان
اس کا مطلب:اس دور میں کلیسیا کو “سمجھ اور پہچان” کی ضرورت تھی۔کیونکہ دہائی نہیں بلکہ تمیز چاہیے تھی۔
سبق (تیسری مہر)🔹
اگر کلام بیچا جائے → کلیسیا مردہ ہو جاتی ہے●
اگر روحالقدس روکا جائے → زندگی ختم ہو جاتی ہے●
خدا کبھی بھی اپنے روح کے تیل اور مے کو ضائع نہیں ہونے دیتا●
آج ہمارا امتحان:🔹
کیا ہم سچائی خریدتے ہیں — یا بیچتے ہیں؟
سچائی کو مول لے اور اُسے بیچ نہ ڈال حکمت اور تربیت اور فہم کو بھی۔
(امثال 23:23)
مکاشفہ باب 6 — چوتھی مہر🔹
زرد گھوڑا — موت اور جہنم کا ملاپ🔹
مکاشفہ باب 6آیات 7–8🔹
اور جب اُس نے چَوتھی مُہر کھولی تو مَیں نے چوَتھے جاندار کو یہ کہتے سُنا کہ آ۔ اور مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک زرد سا گھوڑا ہے اور اُس کے سوار کا نام مَوت ہے اور عالمِ ارواح اُس کے پِیچھے پِیچھے ہے اور اِن کو چَوتھائی زمِین پر یہ اِختیّار دِیا گیا کہ تلوار اور کال اور وبا اور زمِین کے درِندوں سے لوگوں کو ہلاک کریں۔
مکاشفہ باب 6آیت 7 — 🔹
گھوڑے کا رنگ — کیوں زرد؟🔹
یہ گھوڑا نہ سفید ہے، نہ سرخ، نہ کالا —بلکہ یہ تینوں کا مرکب ہے
سفید گھوڑا (پہلی مہر)●
یہ مذہبی دھوکے کی علامت ہے — ایسا لگتا ہے جیسے راستباز ہے، مگر اندر فریب اور دھوکہ ہوتا ہے۔
سرخ گھوڑا (دوسری مہر)●
یہ خونریزی اور ایذارسانی کا دور دکھاتا ہے — جہاں مذہبی طاقت سیاسی قوت میں بدل کر قتل و غارت پھیلاتی ہے۔
کالا گھوڑا (تیسری مہر)●
یہ روحانی قحط اور کلامِ مقدس کی تجارت کو ظاہر کرتا ہے — جہاں نجات اور سچائی کو خرید و فروخت کی چیز بنا دیا جاتا ہے۔
زرد گھوڑا (چوتھی مہر)●
یہ تینوں (دھوکہ + خونریزی + قحط) کا ملاپ ہے — جس کا نتیجہ موت ہے، یعنی جسمانی، روحانی اور ابدی موت۔زرد رنگ زندگی اور موت کے بیچ کا رنگ ہے → یعنی زندگی بجھ چکی ہے۔
برادر برینہم فرماتے ہیں●
“یہ وہ مقام ہے جہاں شیطان کا مذہب، سیاست، اور روحانی دھوکہ ایک ہو جاتے ہیں — اور نتیجہ موت ہے۔”
گھوڑے پر بیٹھنے والے کا نام کیا ہے؟🔹
موت!
یہ پہلی بار گھوڑے کا سوار کھل کر پہچانا گیا۔پہلی مہر میں وہ نقلی مسیح تھا۔دوسری میں ظالم اور قاتل،تیسری میں مذہب بیچنے والا۔اورچوتھی میں وہ اپنی اصلی شکل میں:موت۔
اور اس کے پیچھے کیا آ رہا تھا؟●
جہنم — یعنی شیطان کا مکمل نظام۔جس جگہ خدا کا کلام نہیں ہوتا، وہاں:روحانی اندھیرا →اندھیرا → موت →موت → جہنم۔
اس مہر کا تاریخی دور🔹
چوتھی مہر اپنی مکمل شکل میں لاودکیہ کے زمانہ میں ظاہر ہوئی، جو 1906 عیسوی سے لے کر آج تک جاری ہے۔
پیغامبر: برادر برینہم
یہ دور وہ ہے:جب کلیسیا نے مذہبی طاقت کے ساتھ سیاسی طاقت بھی جوڑ لی،پاپائی نظام نے بادشاہوں کے تخت بھی کنٹرول کیےاور مذہب استعمال ہوا قومیں غلام بنانے کے لیےیہ روحانی حکومت نہیں رہی —یہ شیطانی بادشاہی بن گئی۔
خدا کا جاندار اس مہر میں — عقاب (Eagle)🔹
پہلی مہر → شیر (طاقت)
دوسری → بچھڑا (قربانی/برداشت)
تیسری → انسان (حکمت/پرکھ)
چوتھی → عقاب (مکاشفہ/اونچائی/دیکھنے کی قوت)
کیوں؟
کیونکہ:اب مسئلہ صرف ظلم نہیں،نہ صرف تعلیم بلکہ مکمل دھوکہ ہےاور دھوکہ صرف عقاب ہی پہچان سکتا ہے ،جو بلندی سے دیکھتا ہےاور روحانی دنیا کو پرکھتا ہے۔
برادر برینہم فرماتے ہیں
“عقاب دلہن کی علامت ہے — وہ دھوکے میں نہیں آتی۔”
مکاشفہ باب 6آیت 8 —🔹
اور مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک زرد سا گھوڑا ہے اور اُس کے سوار کا نام مَوت ہے اور عالمِ ارواح اُس کے پِیچھے پِیچھے ہے اور اِن کو چَوتھائی زمِین پر یہ اِختیّار دِیا گیا کہ تلوار اور کال اور وبا اور زمِین کے درِندوں سے لوگوں کو ہلاک کریں۔
سوار کو کیا طاقت دی گئی؟●
یہ دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ تھا۔یہ:جنگ (تلوار)،قحط (بھوک)،وبا (بیماریاں)،درندے (ظلم اور ریاستی طاقت)کے ذریعے مار سکتا تھا۔یعنی:جسمانی موت بھی،روحانی موت بھی
خلاصہ سادہ الفاظ میں🔹
پیلا گھوڑا = مذہب + سیاست + دھوکہ → موت
سوار = شیطان اپنی اصلی شکل میں
اس کے پیچھے = جہنم کا نظام
انسان بے بس → اگر مکاشفہ (عقاب) نہ ہو
آج کے لیے سبق🔹
صرف مذہب میں رہنا کافی نہیں؛ اصل بات یہ ہے کہ دل مسیح کے ساتھ زندہ رشتہ میں ہو۔
جب انسان اپنے ذہن، فرقوں اور نظاموں پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ گمراہ ہو جاتا ہے، مگر جو روح القدس کے مکاشفہ پر چلتا ہے وہ سچائی تک پہنچتا ہے۔
رسمی عبادت انسان کو تھکا دیتی ہے، مگر خدا کی حقیقی حضوری انسان کی زندگی بدل دیتی ہے۔
خدا کتاب کو مردہ حروف سے زندہ کلام تب بناتا ہے جب انسان کا دل مسیح کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔
خالی روایات روح کو نہیں جگاتیں، صرف زندہ مسیح کی حضوری زندگی کو نئی تازگی بخشتی ہے۔
صرف وہی بچے گا جو "دلہن عقاب" کی طرح روح میں دیکھتا ہے۔
مکاشفہ باب 6 —آیات 9–11 پانچویں مہر🔹
یہودی شہیدوں کی فریاد●
اور جب اُس نے پانچوِیں مُہر کھولی تو مَیں نے قُربان گاہ کے نِیچے اُن کی رُوحیں دیکھِیں جو خُدا کے کلام کے سبب سے اور گواہی پر قائِم رہنے کے باعِث مارے گئے تھے۔ اور وہ بڑی آواز سے چِلّا کر بولِیں کہ اَے مالِک! اَے قُدُّوس و برحق! تُو کب تک اِنصاف نہ کرے گا اور زمِین کے رہنے والوں سے ہمارے خُون کا بدلہ نہ لے گا؟ اور اُن میں سے ہر ایک کو سفید جامہ دِیا گیا اور اُن سے کہا گیا کہ اَور تھوڑی مُدّت آرام کرو جب تک کہ تُمہارے ہم خِدمت اور بھائِیوں کا بھی شُمار پُورا نہ ہولے جو تُمہارے طرح قتل ہونے والے ہیں۔
پہلی بات — یہاں گھوڑا نہیں ہے🔹
پہلی چار مہریں → گھوڑے + شیطانی عمل●
پانچویں مہر → کوئی گھوڑا نہیں●
کیوں؟
کیونکہ اب بات کلیسیا کے امتحان سے اسرائیل کے امتحان کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔
چوتھی مہر تک معاملہ دلہن کلیسیا تھا۔پانچویں مہر سے معاملہ یہودی قوم کے ساتھ ہے۔
کون لوگ قربان گاہ کے نیچے ہیں؟🔹
یہ کلیسیا نہیں ہے۔یہ دلہن نہیں ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں:جو یسوع کو مسیح نہیں سمجھتے تھےمگر خدا کے کلام پر وفادار رہےاور ایمان کی وجہ سے قتل کیے گئے۔
یہ کون ہیں؟●
یہ یہودی شہید ہیں
برادر برینہم فرماتے ہیں
“یہ وہ لوگ ہیں جو ہٹلر، نازی جرمنی، کیمپوں، اور نسل کشی میں مارے گئے — صرف اس لیے کہ وہ یہودی تھے۔
یہ وہی ہیں جو:خدا کو مانتے تھےتوریت کو پکڑے رہےمگر یسوع کو ابھی تک نہیں پہچانا تھامگر خدا پھر بھی ان کو مسترد نہیں کرتا —کیونکہ وہ ابرہام کی نسل ہیں۔
قربان گاہ کے نیچے کیوں؟🔹
پرانے عہد میں:قربان گاہ پر خون بہتا تھاخون نیچے بہتا تھایہ شہید اپنے خون کی گواہی کے ساتھ خدا کے حضور ہیں۔یہ ایک قانونی عدالت کا منظر ہے۔
وہ کس بات کی فریاد کرتے ہیں؟●
مکاشفہ باب 6 —آیت 10🔹
اَے مالِک! اَے قُدُّوس و برحق! تُو کب تک اِنصاف نہ کرے گا اور زمِین کے رہنے والوں سے ہمارے خُون کا بدلہ نہ لے گا؟
یہ انتقام نہیں —یہ عدالت کی درخواست ہے۔یہ لوگ کہتے ہیں:ہم نے سچ کے لیے جان دی مگر ظلم کا حساب کب ہوگا؟یہی وہ سوال ہے جو اسرائیل آج بھی پوچھ رہا ہے۔
خدا کا جواب کیا ہے؟🔹
مکاشفہ باب 6 —آیت 11🔹
“انہیں سفید لباس دیا گیا…”
یہ نجات کا وعدہ ہے —یہ قبولیت کا نشان ہے۔اور کہا گیا:“تھوڑی دیر اور آرام کرو…”
کیوں؟
کیونکہ ابھی مزید شہید ہونا باقی ہیں۔یہ کب ہوگا؟
عظیم مصیبت میں (Great Tribulation)🔹
جب:مخالف مسیح اپنے آپ کو خدا کہے گا،اسرائیل کے ساتھ عہد توڑے گااور یہودیوں پر آخری ظلم کرے گا۔تب:اور بھی یہودی شہید ہوں گےاور یہ عدد پورا ہوگااور پھر یسوع واپس آئے گا۔
پانچویں مہر کا بڑا نکتہ:🔹
دلہن کا ایمان مکاشفہ پر ہے، جبکہ اسرائیل کا ایمان دیکھ کر ظاہر ہوگا۔
دلہن (برائیڈ) ابھی روح القدس کے ذریعہ تیار ہو رہی ہے، مگر اسرائیل کی آنکھیں بعد میں کھلیں گی۔
دلہن رپچر کے وقت اٹھا لی جائے گی اور مصیبت سے پہلے نکل جائے گی۔
اسرائیل عظیم مصیبت کے دوران خدا کو پہچانے گا اور تب مسیح کے حقیقی مکاشفہ تک پہنچے گا۔
سادہ الفاظ میں خلاصہ🔹
پانچویں مہر میں یہودی شہیدوں کی روحیں دکھائی گئیں۔وہ فریاد کرتے ہیں: “خدا! انصاف کب ہوگا؟”خدا کہتا ہے: “صبر کرو — ابھی اور بھی شہید ہونے ہیں۔”
یہ مہر اسرائیل کی بحالی کا آغاز ہے۔
مکاشفہ باب 6 — آیات 12–17چھٹی مہر🔹
خوف اور عدالت، اور اسرائیل کی آنکھوں کا کھل جانا●
اور میں نے دیکھا کہ جب اُس نے چھٹی مہر کھولی تو بڑا بھونچال آیا اور سورج ٹاٹ کے سے سیاہ ہو گیا اور سارا چاند خون کی مانند ہو گیا۔
اور آسمان کے ستارے زمین پر گر پڑے جیسے کہ انجیر کا درخت کچی انجیر کے پھل جھاڑتا ہے جب بڑی ہوا چلتی ہے۔
اور آسمان طومار کی مانند لپیٹ لیا گیا اور ہر پہاڑ اور ہر جزیرہ اپنی جگہ سے ہٹا دیا گیا۔
اور زمین کے بادشاہ، سردار، امیر، سپاہی، ہر غلام اور ہر آزاد غاروں اور پہاڑوں کی چٹانوں میں چھپ گئے… اور کہنے لگے: ہمیں چھپا لو اُس کے چہرے سے جو تخت پر بیٹھا ہے، اور برّہ کے غضب سے! کیونکہ اُس کے غضب کا بڑا دن آ پہنچا، اور کون ٹھہر سکے گا؟
یہ مہر کب کھلتی ہے؟🔹
یہ مہر کلیسیا کے اُٹھائے جانے کے بعد کھلتی ہے۔دلہن فلادیلفیہ کے وعدے کے مطابق اٹھا لی جاتی ہے،پرگمنس → تھواتیرا → سردیس → لؤدیکیہ کا سفر مکمل ہوتا ہےاور پھر زمین پر عدالت کا دور شروع ہوتا ہے۔
یعنی: پانچویں مہر → یہودی شہیدوں کو تسلی، چھٹی مہر → خدا اسرائیل سے براہِ راست نمٹتا ہے۔
چھٹی مہر قدرتی زلزلہ نہیں — یہ زلزلۂ قومیں ہے🔹
یہاں جو کچھ ہوتا ہے، وہ بائبل میں بار بار بتایا گیا:●
یسعیاہ 13باب:9–13●
خداوند اپنے غضب اور قہر کے ساتھ آتا ہے؛ سورج تاریک اور دنیا لرز اٹھتی ہے۔
یوئیل 2باب30–31●
آسماں اور زمین پر نشان ظاہر ہوتے ہیں؛ سورج سیاہ اور چاند خون بن جاتا ہے۔
حجی 2:6●
خداوند فرماتا ہے کہ میں آسمان اور زمین، سمندر اور قوموں کو ہلا دوں گا۔
یسوع — متی 24:29●
اور فوراً اُن دِنوں کی مُصِیبت کے بعد سُورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور سِتارے آسمان سے گِریں گے اور آسمانوں کی قُوّتیں ہِلائی جائیں گی۔
یہ سب کچھ چھٹی مہر میں اکٹھا اور مکمل طور پر ظاہر ہوتا ہے۔یہ زمین کی سطح کا زلزلہ نہیں بلکہ قوموں اور دنیاوی سسٹم کا مکمل ہل جانا ہے — یعنی دنیا کا نظام ٹوٹنا۔یہ سب چھٹی مہر میں پورا ہوتا ہے۔
اس مہر کی جڑ کہاں ہے؟🔹
اس مہر کا تعلق یومِ خداوند سے ہے،یعنی:رحمت کا دور ختم،عدالت کا دور شروع اوریہ وہ وقت ہے جب:خدا دلہن کو زمین سے اٹھا لیتا ہے،شیطان مخالف مسیح کی شکل میں حکومت کرتا ہےاوراسرائیل اپنی اصل پہچان واپس پاتا ہے۔
چھٹی مہر کا مرکزی مقصداسرائیل کی آنکھیں کھولنا۔
برادر برینہم کہتے ہیں:●
“چھٹی مہر وہ مقام ہے جہاں یہودی اچانک پہچانتے ہیں کہ جسے وہ مسترد کرتے رہے — وہی ان کا مسیح ہے۔”
یہ پہچان مصیبت کے دوران ہوتی ہے۔
مکاشفہ باب 6آیت 12 —🔹
سورج سیاہ کیوں ہوا؟●
یہ:آسمان سے روشنی چھن جانے کی روحانی علامت ہے،قوموں پر رحمت کا دروازہ بند ہو جانا ہےاوردلہن جا چکی ہے — اب عدالت ہے۔
چاند خون کیوں ہوا؟●
چاند کلیسیا کی علامت ہے (وہ سورج یعنی مسیح سے روشنی لیتی ہے)اب:کلیسیا زمین پر نہیں،روشنی نہیں اورصرف گواہی خون کی شکل میں باقی
مکاشفہ باب 6آیت 13 —🔹
ستاروں کا گرنا؟●
یہ سیاسی اور مذہبی طاقتوں کا گرنا ہے۔حکومتیں ٹوٹتی ہیں ،نظام گر جاتے ہیں اورساری دنیا دہشت میں آ جاتی ہے۔
مکاشفہ باب 6 آیت 14 — 🔹
آسمان طومار کی مانند لپیٹ لیا گیا●
یہ دنیاوی بادشاہیوں کا اختتام ہے۔یہ اس بات کا اعلان ہے:“زمین پر اب بادشاہ صرف مسیح ہوگا — اور کوئی نہیں۔”
مکاشفہ باب 6 آیات 15–17 —🔹
لوگ چھپتے کیوں ہیں؟●
کیونکہ:اب رحم نہیں،اب شفاعت نہیں اوراب عدالت ہےیہاں پہلی بار دنیا یسوع کو برّہ نہیں بلکہ بادشاہ-جج کے طور پر دیکھتی ہے۔
وہ چیخ کر کہہ رہے ہیں:●
“برّہ کا غضب!”
یہ نجات نہیں —یہ دیر کی ہوئی پہچان ہے۔
سادہ اور آسان خلاصہ🔹
پانچویں مہر → یہودی شہید
چھٹی مہر → یہودیوں کی آنکھیں کھلتی ہیں
چھٹی مہر میں دلہن پہلے ہی رپچر کے ذریعے اُٹھا لی گئی ہوتی ہے، اور اس کے بعد زمین پر خدا کی عدالت کا آغاز ہوتا ہے۔ قومیں، بادشاہیاں اور عالمی نظام ہل جاتے ہیں؛ سیاسی، مذہبی اور معاشی طاقتیں گرنے لگتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب دنیا کے رہنما اور سلطنتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں، اور انسان اپنی طاقت کے سہاروں کو بکھرتا ہوا دیکھتا ہے۔ اسی موسم میں یسوع مسیح بادشاہ اور منصف جج کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، تاکہ قوموں پر خدا کا فیصلہ پورا ہو۔
تفسیر-باب 7— چھٹی اور ساتویں مہر کے درمیان ایک وقفہ
یہ باب دو بڑے حصوں پر مشتمل ہے:🔹
آیات 1–8🔹
اسرائیل کے 12 قبیلوں میں سے 1,44,000 منتخب مہر کیے گئے
آیات 9–17🔹
ایک بہت بڑی قوم جو سفید لباس میں ہے — دلہن اور شہداء کی جماعت
برادر برینہم فرماتے ہیں:
"1,44,000 دلہن نہیں ہیں۔
وہ یہودی خادم ہیں جن کو آخری وقت میں خدا مہر کرے گا۔
دلہن وہ بڑی سفید پوش جماعت ہے جسے پہلے اُٹھایا جائے گا۔"
باب 7 کیا دکھاتا ہے؟🔹
مکاشفہ باب 7 دراصل ایک الٰہی وقفہ ہے۔●
باب 6 میں جب پہلی چھ مہریں کھلیں تو:دھوکہ،خونریزی،قح،موت،روحوں کی فریاداورقوموں کا ہل جاناسب ظاہر ہو چکا تھا — یعنی عدالت زمین پر آ رہی تھی۔
لیکن باب 7 میں خدا فیصلہ کو روک دیتا ہے۔●
کیوں؟کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ اس کے اپنے لوگ پہلے محفوظ اور جدا ہو جائیں۔
یہ مہر حفاظت کی علامت ہے —●
یعنی خدا کہہ رہا ہے:“یہ میرے ہیں، ان پر فیصلہ نافذ نہ ہو!”
مکاشفہ باب 7 آیت 1 —🔹
چار فرشتوں کا زمین کو روکنا
اِس کے بعد مَیں نے زمِین کے چاروں کونوں پر چار فرِشتے کھڑے دیکھے۔ وہ زمِین کی چاروں ہواؤں کو تھامے ہُوئے تھے تاکہ زمِین یا سَمَندَر یا کِسی دَرخت پر ہوا نہ چلے۔
چار فرشتے زمین کے چار کونوں پر کھڑے ہیں، جو ہوا کو روک رہے ہیں۔
ہوا =●
قوموں کی حرکت، جنگ، سیاست، انقلاب، بربادی،یہ قدرتی ہوا نہیں — یہ عالمی نظام کو چلانے والی روحانی ہوائیں ہیں۔
برادر برینہم:●
یہ چار قوتیں دنیا پر جنگ، معاشی بحران، اور عالمی نظام کی تباہی چھوڑنے والی تھیں — لیکن خدا نے انہیں روک رکھا ہے۔
یعنی:عدالت تیار ہے — مگر رکی ہوئی ہے۔
مکاشفہ باب 7آیات 2–3 🔹
پھِر مَیں نے ایک اَور فرِشتہ کو زِندہ خُدا کی مُہر لِئے ہُوئے مشرِق سے اُوپر کی طرف آتے دیکھا۔ اُس نے اُن چاروں فرِشتوں سے جِنہِیں زمِین اور سَمَندَر کو ضرر پہُنچانے کا اِختیّار دِیا گیا تھا بُلند آواز سے پُکار کر کہا۔
مکاشفہ باب 7آیات 2 🔹
ایک فرشتہ مشرق سے آتا ہے جس کے پاس زندہ خدا کی مہر ہے، اور یہ بات بے مقصد نہیں۔ خدا کی روشنی ہمیشہ مشرق سے ظاہر ہوتی ہے۔ عدن کا باغ مشرق کی طرف لگایا گیا تھا، خیمۂ اجتماع کا داخلہ مشرق کی طرف تھا، اور مسیح کا ظہور بھی مشرق سے روشنی کی مانند ہوا۔ آخری دنوں میں بھی پیغام کی روشنی مشرق سے شروع ہوئی، پھر مغرب تک پہنچی، اور اب واپس دلہن میں آ رہی ہے۔ اس لیے مہر کا فرشتہ مشرق سے آنا اس بات کی نشانی ہے کہ اصل روشنی، اصل مکاشفہ، اور خدا کی حقیقی زندگی دلہن کے لئے ظاہر ہو رہی ہے۔
مکاشفہ باب 7آیات 3 🔹
کہ جب تک ہم اپنے خُدا کے بندوں کے ماتھے پر مُہر نہ کر لیں زمِین اور سَمَندَر اور دَرختوں کو ضرر نہ پہُنچانا۔
خدا کی مہر (Seal)●
اس کے پاس کیا ہے؟“زندہ خدا کی مہر”وہ کہتا ہے:“ضرر نہ پہُنچانا جب تک ہمارے بندوں کی پیشانی پر مہر نہ لگ جائے۔”
پیشانی کا مطلب●
سوچ،فیصلہ،ایمان کی پوزیشن
مہر کا مطلب●
روح القدس
(افسیوں 1:13، 4:30)
برادر برینہم:●
مہر کوئی کروس، زیور، مذہبی نشان، یا رسم نہیں — مہر خود خدا کی زندگی (روح القدس) ہے۔
مکاشفہ 7:4🔹
اور جِن پر مُہر کی گئی مَیں نے اُن کا شُمار سُنا کہ بنی اِسرائیل کے سب قبِیلوں میں سے ایک لاکھ چَوالِیس ہزار پر مُہر کی گئی۔
یہاں یوحنا دیکھ نہیں رہا — سن رہا ہے۔چونکہ یہ گنتی اور قبائلی ترتیب کا معاملہ ہے، اس لیے خدا نے اسے سُنایا۔
نکتہ:●
یہ کوئی نامعلوم، پراسرار یا روحانی یعنی نام نہاد "روحانی اسرائیل" نہیں —بلکہ گنے ہوئے، مخصوص اور حقیقی اسرائیلی ہیں۔
مکاشفہ 7باب:5–8 آیات—🔹
قبیلوں کی فہرست
یہاں بارہ قبیلوں میں سے ہر قبیلے میں 12,000 کا ذکر ہے۔کل → 144,000
قبیلہ مہر شدہ افراد●
یہودا 12,000●
روبن 12,000●
جد 12,000●
اِشر 12,000●
نفتالی 12,000●
منسّی 12,000●
شمعون12,000●
لاوی 12,000●
اِشکار 12,000●
زبولون12,000●
یوسف12,000●
بِنیمِین 12,000●
اہم مشاہدات (جیسے برادر برینہم نے بتایا):🔹
دان کا قبیلہ فہرست میں نہیں ہے●
(کیونکہ بت پرستی کی وجہ سے — پیدائش 49 اور 1 سلاطین 12)
فرائیم کا نام کیوں غائب ہے؟
افرائیم کے بارے میں خدا نے کہا:
افرائیم بتوں کے ساتھ ملا ہوا ہے — (ہوسیع 4:17)
افرائیم بُتوں کے ساتھ چِپک گیا
لوگوں کو بھی بُت پرستی کی طرف لے گیا
اس وجہ سے خدا نے اس کا نام فہرست سے نکال دیا
لیکن چونکہ افرائیم یوسف کا بیٹا ہے:
خدا نے “افرائیم” کا نام نہیں لکھا
لیکن یوسف کا نام لکھ کر افرائیم کو اس میں شامل کر دیا
لاوی●
(جو کہ لاوی طبقہ ہے، عام طور پر شمار میں نہیں) یہاں شامل ہے —
کیونکہ اب شریعت نہیں — مہر کی بات ہو رہی ہے۔
ان کی پہچان — مکاشفہ 14:4🔹
"یہ عورتوں سے ناپاک نہیں… یہ کنوارے ہیں…"
یعنی یہ:●
عورت = نظام / مذاہب / چرچ ملنے میں شامل نہیں ہوئےیہ مذہبی فاحشہ نظام کا حصہ نہیں
یہ خادم ہیں، دلہن نہیں
برادر برینہم:●
یہ مرد ہیں — خالص اور خدا کے کام کے لیے الگ۔
(The Sixth Seal, 1963)
ان کا مقصد — نجات نہیں، گواہی🔹
یہ 144,000:نجات پانے کے لیے مہر نہیں کیے جاتے(نجات کا دور دلہن میں پورا ہو چکا ہوتا ہے)یہ آخری گواہی دینے کے لیے بیدار کیے جاتے ہیں
کسے؟ → قومِ اسرائیل کو●
ان کا کردار:یسوع کو مسیح کے طور پر قبول کرنااسرائیل کے لیے شہادت اور گواہی اٹھانا
ان کی جاگرتی کیسے ہوگی؟ — مکاشفہ 11 + زکریاہ 4🔹
یہ جاگیں گے:دو گواہوں کی خدمت کے ذریعےدو گواہ = موسیٰ اور ایلیا(ایک شریعت کا نمائندہ، ایک نبوت کا)
برادر برینہم:●
ایلیا اور موسیٰ 144,000 کو مکاشفہ دیں گے کہ جس کو انہوں نے صلیب دیا، وہی ان کا خداوند مسیح تھا۔
کب مہر لگے گی؟🔹
رپچر کے بعددلہن زمین پر نہیں ہوگی چھٹی مہر کے دوران (یہ وہ وقت ہے جب اسرائیل کی آنکھیں کھلتی ہیں)
برادر برینہم:●
دلہن جلال میں ہوگی جب 144,000 پر مہر لگے گی۔
(The Sixth Seal, 1963)
خلاصہ (گہری ترتیب)🔹
دلہن اس وقت فضل کے دور میں ہے، اور اس کی مہر روح القدس ہے۔ وہ مکاشفہ اور برّہ کے خون سے نجات پاتی ہے، اور رپچر کے ذریعے آسمان میں اٹھا لی جاتی ہے تاکہ ہمیشہ کے لیے برّہ کی دلہن رہے۔ اس کے برعکس، 144,000 اسرائیلی رپچر کے بعد مصیبت کے زمانہ میں ظاہر ہوں گے۔ ان کی مہر پیشانی پر خدا کی مہر ہوگی، اور وہ یسوع کو دیکھ کر ایمان لائیں گے جیسا کہ زکریاہ 12:10 میں پیشگوئی ہے۔ وہ زمین پر خدا کے گواہوں کی حیثیت سے کھڑے ہوں گے، جبکہ دلہن اس وقت جلال میں برّہ کے ساتھ ہوگی۔
مکاشفہ7باب آیت 9 🔹
عظیم سفید پوش بھیڑ (دلہن)●
اِن باتوں کے بعد جو مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ہر ایک قَوم اور قبِیلہ اور اُمّت اور اہلِ زبان کی ایک اَیسی بڑی بھِیڑ جِسے کوئی شُمار نہِیں کر سکتا سفید جامے پہنے اور کھجُور کی ڈالِیاں اپنے ہاتھوں میں لِئے ہُوئے تخت اور برّہ کے آگے کھڑی ہے۔
یہ گروہ دلہن کی جماعت ہے — نہ کہ صرف ایک قوم، نہ ایک زبان، نہ ایک فرقہ۔
دلہن پوری دنیا سے بلائی گئی ہے۔
ان کی پہچان:●
ہر قوم، ہر زبان، ہر نسل سے — کیونکہ انجیل سب کے لیے ہے،وہ روح القدس سے مہر شدہ ہیں (افسیوں 1:13)
وہ دلہن ہیں — وہ لوگ جو مکاشفہ کے ذریعے سچائی کو پہچان کر دلہن کے کلام کے ساتھ چلے
ان کے سفید لباس ان کی اپنی راستبازی نہیںبلکہ وہ راستبازی ہے جو مسیح نے انہیں دی
(2 کرنتھیوں 5:21)
برّہ کے خون سے دھوئے گئے لباس:یہ اس بات کی گواہی ہے کہ:نجات اعمال سے نہیں
نجات چرچ کے نام، رسم، فرقے یا مشن سے نہیں نجات صرف برّہ کے خون سے ہے۔
برادر برینہم:●
"یہ دلہن ہے — جو کلام کے مکاشفہ کے ذریعے تیار ہوئی، نہ کہ مذہب کے ذریعے۔"
(The Marriage of the Lamb, 1962)
مکاشفہ7باب آیت 10–12 —🔹
آسمانی عبادت●
اور بڑی آواز سے چِلّا چِلّا کر کہتی ہے کہ نِجات ہمارے خُدا کی طرف سے ہے جو تخت پر بَیٹھا ہے اور برّہ کی طرف سے۔
اور سب فرِشتے اُس تخت اور بُزُرگوں اور چاروں جانداروں کے گِردا گِرد کھڑے ہیں۔ پھِر وہ تخت کے آگے مُنہ کے بل گِر پڑے اور خُدا کو سِجدہ کر کے۔
کہا آمِین۔ حمد اور تمجِید اور حِکمت اور شُکر اور عِزّت اور قُدرت اور طاقت ابدُالآباد ہمارے خُدا کی ہو۔ آمِین۔
یہ منظر عرش کے سامنے ہوتا ہے۔دلہن، فرشتے، بزرگ اور آسمانی مخلوقات ایک ہی آواز میں اعلان کرتی ہیں کہ:نجات انسان کا کام نہیں ،نجات چرچ کا تحفہ نہیں،نجات کسی نبی، فرقے یا مذہبی نظام کا نتیجہ نہیں،نجات صرف اور صرف خدا اور برّہ (یسوع مسیح) کی ہے۔
یہ اس بات کی نشانی ہے کہ:یہاں انسانی عظمت کی کوئی جگہ نہیں کوئی خدمت گزار، کارنامہ، لیڈر یا شخصیت اپنے لیے جلال نہیں لے سکتی ساری توجہ، ساری حمد، سارا احترام → برّہ کو ملتا ہے۔
یہاں سچائی اپنے کمال پر ہے:زمین پر جہاں انسان اپنی نیکی اور مقام کا دعویٰ کرتا ہے،
آسمان میں صرف برّہ کی تعریف ہوتی ہے۔
مکاشفہ7باب آیات 13–14 — 🔹
سفید لباس کیوں ملا؟●
اور بُزُرگوں میں سے ایک نے مُجھے سے کہا کہ یہ سفید جامے پہنے ہُوئے کَون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟
مَیں نے اُس سے کہا کہ اَے میرے خُداوند! تُو ہی جانتا ہے۔ اُس نے مُجھ سے کہا یہ وُہی ہیں جو اُس بڑی مُصِیبت میں سے نِکل کر آئے ہیں۔ اِنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خُون سے دھو کر سفید کِئے ہیں۔
بزرگ سوال کرتا ہے:●
یہ سفید جامے پہنے ہُوئے کَون ہیں ؟
جواب:●
اِنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خُون سے دھو کر سفید کِئے ہیں۔”
یعنی:پاکیزگی ہماری نہیں — مسیح کی ہےراستبازی ہماری کوشش سے نہیں — خون سے ملی ہم نے خود کو قابل نہیں بنایا —خدا نے ہمیں قبول کیا
نجات کیسے ملتی ہے؟🔹
نجات نہ کسی انسان کے اعمال سے ملتی ہے، نہ چرچ کی ممبرشپ یا رسموں سے، کیونکہ انسان اپنے زور اور کوشش سے خدا تک نہیں پہنچ سکتا۔ نجات صرف اور صرف برّہ کے خون سے ہے، اور یہ فضل کے ذریعے ہمیں عطا ہوتی ہے۔ بپتسمہ، عبادت یا ظاہری مذہبی عمل خود نجات نہیں دیتے—اصلی نجات اُس وقت ملتی ہے جب انسان خدا کے کلام کے مکاشفہ کو ایمان کے ساتھ قبول کرتا ہے، اور برّہ کے خون پر بھروسہ رکھ کر اپنے دل کو اُس کے حوالے کرتا ہے۔
برادر برینہم:●
“دلہن راستباز ہے کیونکہ برّہ نے اسے راستباز ٹھہرایا ہے۔”
مکاشفہ7باب آیات 15–17 —🔹
دلہن کا ابدی آرام●
یہاں ایک بلکل نیا جہان نظر آتا ہے —جہاں:نہ بھوک ہو گی،نہ پیاس،نہ غم،نہ موت،نہ تھکن اور نہ کوئی آنسو
کیونکہ:
برّہ خود اُن کا چرواہا ہو گا۔وہ اُن کی راہنمائی کرے گا:زندہ پانی کے چشموں کی طرف خدا کے تخت کے قریب جہاں زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی
اور:
“خدا اُن کی ہر آنکھ سے آنسو پونچھ دے گا۔”
یعنی:ہر درد ختم،ہر یاد کا گھاؤ مندمل،ہر سوال کا جواب مل چکا ہو گا،ہر خواہش پوری ہو چکی ہو گی یہ دلہن کا گھر ہے —جہاں وہ ہمیشہ برّہ کے ساتھ رہے گی۔
مختصر نچوڑ🔹
مختصر نچوڑ یہ ہے کہ آسمان میں سارا جلال صرف یسوع مسیح کو ملتا ہے، کیونکہ نجات انسان کے اعمال سے نہیں بلکہ برّہ کے خون اور خدا کے فضل سے عطا ہوتی ہے۔ دلہن ہمیشہ کے لیے سلامتی، آرام اور رفاقت میں برّہ کے ساتھ رہے گی، اور خود برّہ ہی اُس کا چرواہا ہوگا۔ اس کی آخری منزل خدا کے حضور ابدی زندگی ہے، جہاں کبھی جدائی، تکلیف یا اندھیرا نہیں رہے گا — صرف نور، حضوری اور خدا کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی۔
تفسیر-مکاشفہ باب 8 —خدا کا عظیم بھید دلہن کا اٹھایا جانا۔اور
سات نرسنگوں کا آغاز
یہ باب مہروں سے نرسنگوں کی طرف منتقلی ہے۔🔹
مہریں = دلہن کے لیے روحانی مکاشفہ●
نرسنگے = اسرائیل اور قوموں کے لیے عدالت اور تنبیہ●
یہ باب ہمیں دو دنیاؤں کا نقشہ دکھاتا ہے
آسمان میں خاموشی — دلہن کا بھید●
زمین پر عدالت — قوموں پر نرسنگوں کی ضربیں●
مکاشفہ 8 باب آیت 1 — 🔹
ساتویں مہر کی خاموشی🔹
ب اُس نے ساتوِیں مُہر کھولی تو آدھ گھنٹے کے قرِیب آسمان میں خاموشی رہی۔
یہ منظر بائبل میں سب سے زیادہ پر اسرار لمحہ ہے۔اب تک جب بھی کوئی مہر کھلی —آوازیں سنائی دیں،گھوڑے نکلے،روحانی قوتیں ظاہر ہوئیں زمین پر اثر پڑالیکن ساتویں مہر کھلتے ہی — آسمان بالکل خاموش ہو جاتا ہے۔
یہ خاموشی کیسی ہے؟●
نہ فرشتوں کے گیت،نہ بزرگوں کی تسبیح،نہ جانداروں کا “قدوس! قدوس! قدوس!”،نہ تخت کے پاس کوئی حرکت یہ مکمل اور گہری خاموشی ہے —ایسی خاموشی جو خود کلام بیان کرنے سے قاصر ہے۔
خاموشی کیوں؟●
کیونکہ اس وقت خدا کا سب سے گہرا راز ظاہر ہو رہا ہے —وہ راز جو:کسی فرشتے کو نہیں دیا گیا
کسی نبی کو نہیں دیا گیا،کسی کتاب میں کھل کر نہیں لکھا گیا،کسی زبان میں مکمل بیان نہیں ہو سکتا۔
برادر برینہم فرماتے ہیں:●
“ساتویں مہر خُدا اور دلہن کی خُفیہ ملاقات ہے۔”
(The Seventh Seal, 1963)
یہ راز صرف روح القدس دلوں پر کھولتا ہے —اور صرف سچی دلہن اس کو سمجھ سکتی ہے۔
یہ خاموشی کس واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے؟●
یہ رپچر (دلہن کا اُٹھایا جانا) ہے،یہ شور اور ہنگامے سے نہیں ہوتا،دنیا خبروں میں نہیں دیکھے گی
یہ خاموش اور چھپا ہوا کام ہےجسے صرف وہ لوگ سمجھیں گے جو پہلے سے تیار ہیں۔
برادر برینہم:●
“یہ یسوع کا دُلہن کے لیے آنا ہے — عوامی نہیں، خفیہ ملاقات۔”
کیوں خاموشی میں ہوتا ہے؟●
کیونکہ:دلہن دنیا کے سامنے اعلان نہیں کرتی یہ ایمان کے اندرونی مکاشفہ کا کام ہےرپچر آوازوں یا نظر آنے والے منظر کا واقعہ نہیں —بلکہ بدل جانے اور اٹھا لیے جانے کا عمل ہے
دنیا کے لیے:●
لوگوں کا اچانک غائب ہونا سمجھ سے باہر ہو گا،کوئی مذہبی دنیا اس واقعہ کو نہیں پہچانے گیط
وہ کہیں گے:●
“پتہ نہیں ہوا کیا؟”کیونکہ انہیں خاموشی کے راز کا مکاشفہ نہیں۔
ایک سطر کا نتیجہ🔹
ساتویں مہر = دلہن اور برّہ کی خفیہ ملاقات + رپچر کا پوشیدہ عمل یہ مہر صرف دلہن کے لیے کھولی جاتی ہے —اور یہی وجہ ہے کہ آسمان خاموش ہو جاتا ہے۔
مکاشفہ 8 باب آیت 2 —🔹
سات نرسنگوں کی تیاری●
اور مَیں نے اُن ساتوں فرِشتوں کو دیکھا جو خُدا کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور اُنہِیں سات نرسِنگے دِئے گئے۔
یہ سات فرشتے براہِ راست خدا کے حضور کھڑے ہیں — یعنی یہ عدالت کے آسمانی منصف ہیں۔
نرسنگے بائبل میں ہمیشہ تنبیہ، بلانے اور عدالت کی علامت ہوتے ہیں (گنتی 10، یوئیل 2)۔
یہاں ایک الٰہی ترتیب ہے:
مکاشفہ میں ایک الٰہی ترتیب دکھائی دیتی ہے: دلہن کو مہروں کے ذریعے مکاشفہ ملتا ہے، اس کی جدائی ہوتی ہے اور آخرکار وہ رپچر میں اُٹھا لی جاتی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کو نرسنگوں کے ذریعے بیداری ملتی ہے، اور وہ پہچانتے ہیں کہ جسے انہوں نے رد کیا تھا وہی اصل مسیح تھا، اور وہ آخری زمانہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ جبکہ قومیں نرسنگوں کے بعد آنے والے عذاب کا سامنا کرتی ہیں، جہاں ان پر خدا کے فیصلے، تباہیاں اور عدالتیں نازل ہوتی ہیں۔ یہ ترتیب خدا کے منصوبے کی مکمل ہم آہنگی ظاہر کرتی ہے — پہلے دلہن تیار ہوتی ہے، پھر اسرائیل بیدار ہوتا ہے، اور آخر میں قوموں پر عدالت آتی ہے۔
برادر برینہم —●
Feast of Trumpets (1964)
“جب دلہن زمین سے اٹھ چکی ہوگی، تب خدا نرسنگے اسرائیل پر کھولے گا، اور قوموں پر فیصلے برسیں گے۔
یعنی:دلہن پہلے جا چکی پھر نرسنگے بجتے ہیں پھر قومیں ہل جاتی ہیں یہ سب کچھ خدا کے منصوبے کے مطابق بالکل منظم ترتیب میں ہوتا ہے، بغیر کسی گڑبڑ یا ابہام کے۔
مکاشفہ 8 باب آیت 2 —🔹
سات نرسنگوں کی تیاری●
اور مَیں نے اُن ساتوں فرِشتوں کو دیکھا جو خُدا کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور اُنہِیں سات نرسِنگے دِئے گئے۔
یہ سات فرشتے براہِ راست خدا کے حضور کھڑے ہیں — یعنی یہ عدالت کے آسمانی منصف ہیں۔
نرسنگے بائبل میں ہمیشہ تنبیہ، بلانے اور عدالت کی علامت ہوتے ہیں (گنتی 10، یوئیل 2)۔
یہاں ایک الٰہی ترتیب ہے:●
مکاشفہ میں ایک الٰہی ترتیب دکھائی دیتی ہے: دلہن کو مہروں کے ذریعے مکاشفہ ملتا ہے، اس کی جدائی ہوتی ہے اور آخرکار وہ رپچر میں اُٹھا لی جاتی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کو نرسنگوں کے ذریعے بیداری ملتی ہے، اور وہ پہچانتے ہیں کہ جسے انہوں نے رد کیا تھا وہی اصل مسیح تھا، اور وہ آخری زمانہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ جبکہ قومیں نرسنگوں کے بعد آنے والے عذاب کا سامنا کرتی ہیں، جہاں ان پر خدا کے فیصلے، تباہیاں اور عدالتیں نازل ہوتی ہیں۔ یہ ترتیب خدا کے منصوبے کی مکمل ہم آہنگی ظاہر کرتی ہے — پہلے دلہن تیار ہوتی ہے، پھر اسرائیل بیدار ہوتا ہے، اور آخر میں قوموں پر عدالت آتی ہے۔
برادر برینہم —●
Feast of Trumpets (1964)
“جب دلہن زمین سے اٹھ چکی ہوگی، تب خدا نرسنگے اسرائیل پر کھولے گا، اور قوموں پر فیصلے برسیں گے۔
یعنی:دلہن پہلے جا چکی پھر نرسنگے بجتے ہیں پھر قومیں ہل جاتی ہیں یہ سب کچھ خدا کے منصوبے کے مطابق بالکل منظم ترتیب میں ہوتا ہے، بغیر کسی گڑبڑ یا ابہام کے۔
مکاشفہ 8 باب آیات 3–4 —🔹
قربان گاہ اور دعاؤں کا بخور
پھِر ایک اَور فرِشتہ سونے کا عُود سوز لِئے ہُوئے آیا اور قُربان گاہ کے اُوپر کھڑا ہُؤا اور اُس کو بہُت سا عُود دِیا گیا تاکہ سب مُقدّسوں کی دُعاؤں کے ساتھ اُس سُنہری قُربان گاہ پر چڑھائے جو تخت کے سامنے ہے۔
اور اُس عُود کا دھُواں فرِشتہ کے ہاتھ سے مُقدّسوں کی دُعاؤں کے ساتھ خُدا کے سامنے پہُنچ گیا۔
یہ منظر ہمیں دکھاتا ہے کہ:خدا خاموش نہیں خدا دیکھ رہا ہے خدا سن رہا ہےخدا محفوظ کر رہا ہےجو دعائیں زمین پر پانی میں پھینکے ہوئے لفظوں کی طرح لگتی ہیں،وہ آسمان میں خوشبو کی طرح خدا کے سامنے اٹھتی ہیں۔
اس کا معنی:●
انسان جب دعا کرتا ہے تو اسے اکثر دیر محسوس ہوتی ہے، لیکن خدا کے نزدیک وہی وقت بہترین اور مقررہ ہوتا ہے؛ انسان کو لگتا ہے کہ خدا خاموش ہے، مگر حقیقت میں خدا پسِ پردہ تیاری کر رہا ہوتا ہے؛ اور انسان کے لیے صبر مشکل ہو سکتا ہے، مگر خدا اسے ایمان کا حقیقی امتحان اور ثبوت مانتا ہے۔
یہ بخور سکھاتا ہے:●
ایمان کا اصل امتحان وہ نہیں جس لمحے ہم دعا کرتے ہیں — بلکہ وہ ہے جب ہم دعا کے بعد انتظار کرتے ہیں۔
مکاشفہ 8 باب آیت 5 —🔹
دعا → فیصلہ بن جاتی ہے●
اور فرِشتہ نے عُود سوز کو لے کر اُس میں قُربان گاہ کی آگ بھری اور زمِین پر ڈال دی اور گرجیں اور آوازیں اور بِجلِیاں پَیدا ہُوئِیں اور بھَونچال آیا۔
یہاں ایک الٰہی تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔
اب تک دعائیں قربان گاہ پر جمع ہو رہی تھیں —اب وہی دعائیں فیصلوں کی صورت میں زمین پر نازل ہو رہی ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جب:●
رحمت → عدالت میں بدلتی ہے●
خاموش صبر → کھلے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے●
دعا کی خوشبو → زمین پر بجلی، گرج اور زلزلے بن جاتی ہے●
یہ اس بات کی تصویر ہے کہ:خدا دیر کرتا ہے، مگر اندھی نہیں رہتا۔
یہ کب ہوتا ہے؟●
یہ سب اس وقت ہوتا ہے کہ جب دلہن زمین پر ہوتی ہے تو فضل کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور نجات کی منادی جاری رہتی ہے؛ لیکن جب دلہن اُٹھا لی جاتی ہے تو فضل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور اب کوئی اور بلایا نہیں جاتا؛ اور جب دلہن رخصت ہو چکی ہوتی ہے تو دنِ غضب کا آغاز ہوتا ہے اور خدا کی عدالتیں زمین پر نازل ہونے لگتی ہیں۔
برادر برینہم فرماتے ہیں:●
“جب آخری دلہن بلائی جا چکی ہو، تب خدا اپنے فیصلے چھوڑ دیتا ہے۔ فضل کا دور ختم ہوتے ہی عدالتیں حرکت میں آتی ہیں۔”
(The Sixth Seal, 1963)
اصل نکتہ:●
جب تک دلہن زمین پر ہے → خدا کا فضل بولتا ہےجب دلہن زمین سے اٹھا لی جاتی ہے → خدا کا انصاف بولتا ہےدلہن فضل کی گواہی ہےاورنرسنگے عدالت کی گواہی ہیں جب دلہن چلی جاتی ہے → دنیا صرف عدالت سننے کے لیے رہ جاتی ہے۔
مکاشفہ 8:6 — آیت 6 🔹
اور وہ ساتوں فرِشتے جِن کے پاس وہ سات نرسِنگے تھے پھُونکنے کو تیّار ہُوئے۔
یہاں ایک انتقال ہو رہا ہے۔مہروں کا دور ختم ہو کر اب نرسنگوں کا دور شروع ہونے والا ہے۔فرشتے نرسنگے پھونکنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔نرسنگا پھونکنا بائبل میں ہمیشہ فیصلہ، اعلان اور تنبیہ سے جڑا ہوتا ہے۔
یہاں اصل بات یہ ہے:اب عدالت شروع ہونے ہی والی ہے۔خدا فوراً سزا نہیں بھیجتا — پہلے خبردار کرتا ہے۔یہ فرشتے اُس الٰہی منصوبے کی لائن اپ ہیں جو زمین پر ہونے والا ہے۔
برادر برینہم فرماتے ہیں:●
“جب دلہن زمین پر ہے — مہریں کھلتی ہیں۔اور جب دلہن اٹھا لی جاتی ہے — نرسنگے قوموں پر نازل ہوتے ہیں۔
آیت 6 کو خلاصے میں یوں یاد رکھیں:
اب دلہن زمین پر ہو تو فضل جاری رہتا ہے، جب دلہن اُٹھا لی جائے تو فضل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے، اور جب دلہن رخصت ہو چکی ہوتی ہے تو دنِ غضب اور عدالتیں زمین پر اترتی ہیں۔
اب ترتیب یوں ہے:🔹
آیت 1–5: ساتویں مہر + خاموشی + دعاؤں کا وقت
آیت 6: عدالت کا آغاز — فرشتے تیار
آیت 7–12: نرسنگے ایک ایک کر کے پھونکے جاتے ہیں
مکاشفہ 8 — پہلا نرسنگا: زمین پر فیصلہ🔹
سب سے پہلے بنیادی اصول (جیسا برینہم نے فرمایا)🔹
“نرسنگے اسرائیل کے لیے ہیں، کلیسیا کے لیے نہیں۔”
(The Feast of the Trumpets — 1964)
یہ فرق یوں سمجھیں کہ خدا کا پروگرام دو الگ حصوں میں چل رہا ہے۔
کلیسیا کے لیے خدا نے سات مُہریں رکھیں، جن کے کھلنے سے اُسے کلام کی روشنی، مکاشفہ، سمجھ اور تیاری ملتی ہے تاکہ وہ رَپچر کے لیے تیار ہو جائے۔ یعنی عروس کو نور، سچائی، اور زندگی کے ذریعے اٹھایا جاتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کے لیے خدا نے سات نرسنگے مقرر کیے، جو عدالت، مصیبت اور تاریخی واقعات کے ذریعے یہودی قوم کے دل کو نرم کرتے ہیں تاکہ وہ واپس خدا کی طرف مڑیں اور اپنے مسیح کو پہچان سکیں۔
پس کلیسیا روشنی سے اٹھائی جاتی ہے اور اسرائیل عدالت سے بیدار کیا جاتا ہے۔
آیت: مکاشفہ 8باب7آیت🔹
“خُون ملے ہوئے اولے اور آگ زمین پر گرائی گئی…”●
وضاحت●
یہ واقعہ عالمگیر جنگ + قدرتی آفات + الٰہی عدالت کے ملاپ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
بائبل میں اولوں اور آگ کی عدالت
بائبل میں اولوں اور آگ کی عدالت بارہا خدا کے پاک انصاف کی نشانی کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ خروج 9باب22–26 میں مصر پر خون آلود اولے اور آگ نازل ہوئی تا کہ فرعون اور اُس کی قوم اپنی ضد، بغاوت اور بت پرستی سے توبہ کریں۔ یہ عدالت محض سزا نہیں تھی، بلکہ رحمت کا دروازہ کھلا رکھنے کے لیے تنبیہ تھی۔ اسی طرح حزقی ایل 38:22 میں جوج اور ماجوج کے خلاف آخری جنگ میں خدا “خونی اولے اور آگ” بھیجے گا، جو واضح کرتا ہے کہ جب قومیں خدا اور اُس کی شریعت کے خلاف صف باندھتی ہیں تو خدا تاریخ میں براہِ راست مداخلت کرتا ہے۔ یسعیا ہ28:2 میں بھی ایک زبردست اولوں کا طوفان غرور، روحانی اندھیرا اور خود ساختہ مذہبی نظام پر فیصلہ لاتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ اس تمام کردار میں ایک مرکزی سبق نمایاں ہے:🔹
جب انسان خدا کی سچائی کو ٹھکرا کر اپنی طاقت، سیاست، مذہب یا حکمت پر بھروسہ کرتا ہے تو خدا اپنی عدالت کے ذریعے انسان کو اس حقیقت کی طرف واپس لاتا ہے کہ اختیار، قدرت اور بادشاہت صرف اُس کی ہے۔
درخت = انسان اور اقوام (زبور 1:3، دانی ایل 4:20-22)●
ہری گھاس = انسان کی تری اور خوشحالی (1 پطرس 1:24)●
تیہائی تباہی بتاتی ہے کہ خدا مکمل نیست و نابود نہیں کرتا — بلکہ نتبہ دیتا ہے۔●
برادربرینہم کے مطابق معنی:🔹
یہ اسرائیل کے خلاف پہلی قوم پرست دشمنی کی شروعات تھی۔
بابل (نبوکدنضر)فارس اور مادی،یونان،روم
یہ چار سلطنتیں خدا نے یہودیوں کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے تنبیہ کے طور پر استعمال کیں۔
“پہلا نرسنگا اُن قوموں کی عدالت کے طور پر بجا جنہوں نے اسرائیل کو بکھیر دیا، یہ سزا ان کے اپنے گناہ کی تھی۔”
(Feast of the Trumpets, §149)
مکاشفہ 8 دوسرا نرسنگا: سمندر پر فیصلہ🔹
آیات: مکاشفہ 8:باب8–9🔹
اور جب دُوسرے فرِشتہ نے نرسِنگا پھُونکا تو گویا آگ سے جلتا ہُؤا ایک بڑا پہاڑ سَمَندَر میں ڈالا گیا اور تِہائی سَمَندَر خُون ہو گیا۔اور سَمَندَر کی تِہائی جاندار مخلُوقات مر گئی اور تِہائی جہاز تباہ ہوگئے۔
بائبل تشریحات🔹
پہاڑ = سلطنت/طاقتور نظام●
دانی ایل 2:35 — بادشاہی کو پہاڑ کہا گیا
زکریا 4:7 — پہاڑ = بڑی رکاوٹ/طاقت
یرمیاہ 51:25 — بابل کو “جلتا ہوا پہاڑ” کہا گیا
سمندر = قومیں اور اقوام●
مکاشفہ 17:15 — “پانی قومیں، لشکر اور زبانیں ہیں”
دانی ایل 7:2–3 — چار جانور سمندر سے نکلتے ہیں = قومیں
روحانی معنی🔹
کسی طاقتور عالمی نظام (سیاسی/معاشی/فوجی) کی تباہی اقوام، تجارت، اور عالمی نظام کو ہلا دیتی ہے۔
سمندر کا خون بننا = جنگ اور قتلِ عام●
برادربرینہم کے مطابق معنی:🔹
یہ رومن سلطنت کا عروج اور پھر اس کا خونریز پھیلاؤ ہے۔
یہود پر ظلم،ہیکل کی تباہی (70 A.D.)اورقوم کا دنیا بھر میں جلاوطنی۔
“یہ رومن طاقت تھی جس نے اسرائیل کو مٹایا اور بکھیر دیا۔”
(The First Seal, 1963)
مکاشفہ 8تیسرا نرسنگا: پانیوں کا زہر آلود ہونا (ناگ دونا)🔹
آیات: مکاشفہ 8باب10–11🔹
اور جب تِیسرے فرِشتہ نے نرسِنگا پھُونکا تو ایک بڑا سِتارہ مشعل کی طرح جلتا ہُؤا آسمان سے ٹُوٹا اور تِہائی دریاؤں اور پانی کے چشموں پر آ پڑا۔ اُس سِتارے کا نام ناگ دَونا کہلاتا ہے اور تِہائی پانی ناگ دَونے کی طرح کڑوا ہو گیا اور پانی کڑوا ہو جانے سے بہُت سے آدمِی مر گئے۔
بائبل میں پانی = زندگی اور تعلیم🔹
بائبل میں پانی کو مسلسل زندگی، تازگی اور روحانی تربیت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یسوع نے یوحنا 4:14 میں فرمایا کہ جو اُس کا دیا ہوا پانی پئے گا وہ ابدی زندگی پائے گا، یعنی زندگی کا پانی مسیح خود ہے جو روح میں ابدیت بخشتا ہے۔ یوحنا 7باب38–39 میں پانی کو روح القدس کے بہاؤ کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے جو ایماندار کے اندر سے ایک چشمہ بن کر جاری ہوتا ہے۔ امثال 13:14 بتاتی ہے کہ حکیم کی تعلیم بھی زندگی کا چشمہ ہے جو انسان کو موت کے پھندوں سے بچاتی ہے۔ اسی طرح افسیوں 5:26 میں کلام کو “دھونے والا پانی” کہا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ خدا کا کلام روح کو پاک کرتا ہے، سوچوں کو صاف کرتا ہے اور انسان کے اندرونی وجود کی اصلاح کرتا ہے۔
پس بائبل کے مطابق پانی صرف جسمانی ضرورت نہیں بلکہ روحانی زندگی، تعلیم، تطہیر اور ابدی نجات کی علامت بھی ہے۔
ناگ دونا (Wormwood)🔹
عبرانی: לענה (La'anah) = زہر، تلخی●
یرمیاہ 9:15 — خدا کہتا ہے: اِسلئےِ ربُّ الافواج اِسرائیل کا خُدا ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِنکو ہاں اِن لوگوں کو نالہ رَونا کھلاؤ نگا اور اِندراین کا پانی پلاؤ نگا۔
عاموس 5:7 — عدالت کو ناگ دونا بنایا گیا
یعنی سچائی کی ملاوٹ سے کلام تلخ اور قاتل بن جاتا ہے۔
برادربرینہم کے مطابق معنی:🔹
یہ ایک گرا ہوا فرشتہ ہے — یعنی شیطان کے ذریعے مذہبی نظام کا زہر۔
بائبل → روایت
ایمان → مذہبی رسم
مسیحیت → کلیسائی سیاست
یہ کیتھولک سسٹم کا عروج ہے۔
“شیطان نے مذہب کی صورت میں کلام میں تبدیلی داخل کی، جس سے سچائی کا ذائقہ بدل گیا اور ایمان کا پیغام کڑوا اور بگاڑ والا ہو گیا۔”
(Feast of the Trumpets, §196)
مکاشفہ 8 چوتھا نرسنگا: روشنی کی کمی — روحانی اندھیرا🔹
آیت: مکاشفہ 8باب12آیت🔹
اور جب چَوتھے فرِشتہ نے نرسِنگا پھُونکا تو تِہائی سُورج اور تِہائی چاند اور تِہائی سِتاروں پر صدمہ پہُنچا۔ یہاں تک کہ اُن کا تِہائی حصّہ تارِیک ہوگیا اور تِہائی دِن میں روشنی نہ رہی اور اِسی طرح تِہائی رات میں بھی۔
روشنی = روحانی بصیرت / نبوت / سچائی🔹
بائبل میں روشنی ہمیشہ روحانی بصیرت، سچائی اور خدا کی نبوی رہنمائی کی علامت کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ زبور 119:105 میں خدا کے کلام کو "چراغ" اور "روشنی" کہا گیا ہے، یعنی انسان کی سچی راہنمائی کلامِ خدا سے حاصل ہوتی ہے۔ متی 4:16 میں اندھیرا روحانی گمراہی، نادانی اور حق کے نہ پہچاننے کو ظاہر کرتا ہے۔ یسوع نے یوحنا 8:12 میں اعلان کیا کہ وہ دنیا کی نور(روشنی) ہے—یعنی اُس کے بغیر انسان نہ خدا کو جان سکتا ہے، نہ خود کو، نہ سچائی کو۔ مگر 2 کرنتھیوں 4:4 ہمیں بتاتی ہے کہ شیطان لوگوں کے ذہنوں کو اندھا کر دیتا ہے تاکہ وہ سچائی کی روشنی کو نہ دیکھ سکیں۔
جب چوتھا نرسنگا پھونکا جاتا ہے تو روشنی کا تیہائی حصہ ماند پڑ جاتا ہے، یعنی صرف فطری نہیں بلکہ روحانی روشنی کم ہو جاتی ہے، بصیرت ختم ہونے لگتی ہے، نبوت کی سمجھ دھندلا جاتی ہے، اور قومیں، نظام اور مذہبی ادارے گمراہی اور انتشار میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جب انسان کلام کو چھوڑ دیتا ہے تو دنیا کے پاس نہ سمت رہتی ہے، نہ یقین، نہ حقیقت کی پہچان — صرف الجھن اور اندھیرا۔
اس نرسنگے میں کیا ہوتا ہے؟🔹
نبوت کی روشنی کم ہو جاتی ہے۔●
لوگ سچائی دیکھ کر بھی نہ سمجھتے ہیں۔●
دین موجود ہے، مگر بصیرت نہیں (2 تیمتھیس 3:5).●
مکاشفہ 8آیت 13 — عقاب کی صدا: تین افسوس🔹
برادربرینہم کے مطابق معنی:🔹
اس نرسنگے میں سورج، چاند اور ستاروں کا اندھیرا ہونا ایک گہری روحانی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
سورج مسیح کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ وہ اصل روشنی اور زندگی کا منبع ہے۔ چاند کلیسیا کی علامت ہے، جو اپنے اندر کوئی روشنی نہیں رکھتی بلکہ مسیح کی روشنی کو منعکس کرتی ہے اور دنیا تک پہنچاتی ہے۔ جبکہ ستارے ان رسولوں، نبیوں اور خدا کے خادموں کی طرف اشارہ ہیں جن کے ذریعے خدا نے اپنی روشنی اور ہدایت انسانوں تک پہنچائی۔
جب یہ تینوں تہائی تک اندھیرے ہو گئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کلام کی روشنی کم ہو گئی، مسیح کی پہچان دھندلا گئی، کلیسیا کی گواہی کمزور پڑ گئی، اور خدام کا پیغام اپنی اصل تاثیر کھو بیٹھا۔
یہی وہ دور ہے جسے عہدِ تاریک (ڈارک ایج) کہا جاتا ہے — جب دین زندہ رشتے کی بجائے رسم و رواج اور مذہبی اختیار کی صورت اختیار کر گیا تھا۔
کلام بند
سچائی قید
انسان مذہبی غلامی میں
جب روحانی اندھیرا چھا گیا اور کلام کی روشنی کلیسیا میں دھندلا گئی، تب خدا نے اپنی رحمت میں تدریجی بحالی کا سلسلہ شروع کیا۔ سب سے پہلے مارٹن لوتھر کو اٹھایا گیا جس نے یہ بنیادی سچائی بحال کی کہ “راستبازی اعمال سے نہیں بلکہ ایمان سے ہے”؛ اس نے انسان کو براہ راست خدا کے کلام کے ساتھ جوڑا۔ اس کے بعد جان ویسلی کی تحریک آئی جس نے سکھایا کہ ایمان صرف عقیدہ نہیں بلکہ زندگی میں پاکیزگی، تقدیس اور عملی پاک چال چلن بھی ضروری ہے۔ پھر آخری اہم بحالی میں پنٹی کوسٹ تحریک ظاہر ہوئی جس نے کلیسیا کو دوبارہ روح القدس کی قوت، نشانات، معجزات اور روحانی تجربے کی حقیقت سے روشناس کرایا۔
یوں خدا نے اندھیرے دور کے بعد اپنی روشنی کو قدم بہ قدم بحال کیا — تاکہ عروس آخرکار سات مُہر کے مکاشفے تک پہنچ سکے۔
یہ کلیسیا کی تین منازل تھیں۔
بھائی برینہم نے کہا: “کامل بحالی سات مُہروں میں ہوئی۔”
اور جب مَیں نے پھِر نِگاہ کی تو آسمان کے بِیچ میں ایک عُقاب کو اُڑتے اور بڑی آواز سے یہ کہتے سُنا کہ اُن تِین فرِشتوں کے نرسِنگوں کی آوازوں کے سبب سے جِن کا پھُونکنا ابھی باقی ہے زمِین کے رہنے والوں پر افسوس۔ افسوس۔ افسوس!
یہاں عقاب ایک نبوی خبردار کرنے والی آواز ہے — کیونکہ بائبل میں عقاب ہمیشہ اعلیٰ بصیرت، نبوت اور الٰہی تنبیہ کی علامت ہے (استثنا 32:11، ایوب 39:27، مکاشفہ 4:7)۔
کیوں تین افسوس؟
پہلے چار نرسنگے زمین، سمندر، پانیوں اور روشنی کے نظام پر ظاہری اور فطری عدالتیں لاتے ہیں۔
لیکن یہ تین افسوس آنے والے تین نرسنگوں کی شدت اور نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ یہ صرف جسمانی یا ماحولیات کا مسئلہ نہیں، بلکہ:
خلاصہ یہ ہے🔹
کہ مکاشفہ کے پہلے چار نرسنگے زمین، سمندر، میٹھے پانی اور روشنی کے نظام پر نازل ہوتے ہیں، جن کے نتیجے میں ماحول، معیشت، خوراک اور دنیا کے عمومی انتظام پر شدید اثر پڑتا ہے۔ یہ فیصلے زیادہ تر ظاہری اور فطری نوعیت کے ہیں جو انسان کو جھنجھوڑنے اور تنبیہ دینے کے لیے ہیں۔ لیکن اس کے بعد آنے والے تین افسوس کہیں زیادہ سنگین ہیں، کیونکہ ان میں فیصلہ روحوں، قوموں اور مخالف مسیح کے مذہبی نظام پر براہ راست آتا ہے۔ یہاں انسان کو جسمانی ہی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی آزمائش، ذہنی اذیت، عالمی جنگ، اور جھوٹے مذہبی اتحاد کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں پہلے چار نرسنگے انسان کو چوکنا کرتے ہیں جبکہ آخری تین انسان کی روحانی حالت، وفاداری اور سچائی کی پہچان کا فیصلہ کرتے ہیں۔
برادربرینہم کے مطابق 🔹
پہلے چار نرسنگے اسرائیل پر آنے والی تاریخی عدالتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پہلے نرسنگے کے تحت اسرائیل کی نافرمانی کے سبب بابل، فارس، یونان اور روم کی سلطنتیں اس پر مسلط ہوئیں اور قوم بکھر گئی۔ دوسرے نرسنگے میں رومی طاقت نے ہیکل کو تباہ کیا اور یہودیوں کو دنیا بھر میں جلاوطن کر دیا۔ تیسرے نرسنگے میں افسنطین یعنی مذہبی زہر داخل ہوا، جس نے کلام کو روایت اور مذہبی رسومات میں بدل دیا۔ چوتھے نرسنگے میں روحانی اندھیرا چھا گیا، مسیح کی روشنی دھندلا گئی، کلیسیا کی گواہی کمزور ہو گئی، اور ایمان ایک زندہ رشتے کے بجائے مذہبی رسم میں بدل گیا۔ یہ سب عدالتیں اسرائیل کو واپس خدا کی طرف بلانے کے لیے تھیں۔
مکاشفہ 9باب آیت 1🔹
اور جب پانچویں فرِشتہ نے نرسِنگا پھُونکا تو مَیں نے آسمان سے زمِین پر ایک سِتارہ گِرا ہُؤا دیکھا اور اُس اتھاہ گڑھے کی کُنجی دی گئی۔
"ستارہ" کون ہے؟🔹
بائبل میں ستارہ اکثرفرشتہ،روحانی رہنمایا روحانی قوت کی علامت ہوتا ہے (مکاشفہ 1:20)۔
لیکن یہاں یہ گرایا ہوا ستارہ ہے — یعنی کوئی ایسا فرشتہ یا روحانی وجود جو اپنی اصل حیثیت سے گر چکا ہے۔
لوقا 10:18●
یسوع فرماتا ہے:“میں نے شیطان کو آسمان سے بجلی کی طرح گرتے دیکھا۔”
مکاشفہ 12:9●
“وہ بڑا اژدہا، یعنی وہی پرانا سانپ… نیچے گرا دیا گیا۔”
یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں شیطان کی حکومت کے تحت ایک شیطانی قوت کو اختیار دیا جا رہا ہے۔
"کنجی دی گئی" — اہم نکتہ●
ا س کے پاس خود سے کنجی نہیں تھی
کنجی دی گئی → اختیار وقت کے ساتھ خدا کے حکم کے مطابق اجازت سے دیا گیا۔
یعنی شیطانی قوتیں خدا کی اجازت کے بغیر حرکت نہیں کر سکتیں۔●
یہ فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ شیطان کے۔●
مکاشفہ 9باب آیت 2🔹
اور جب اُس نے اتھاہ گڑھے کو کھولا تو گڑھے میں سے ایک بڑی بھٹّی کا سا دھُواں اُٹھا اور گڑھے کے دھُوئیں کے باعِث سے سُورج اور ہوا تارِیک ہو گئی۔
اتھاہ گڑھے کیا ہے؟🔹
یہ جسمانی جگہ نہیں، بلکہ روحانی قید خانہ ہے۔ایک ایسا مقام جہاں اندھیرے میں قید شدہ بدروحیں بند ہیں۔
لوقا 8:31جب بدروحیں یسوع کے سامنے گریں تو انہوں نے فریاد کی:“اتھاہ گڑھے میں مت بھیج!”
یہ ثبوت ہے کہ:یہ قید خانہ حقیقی ہےاور اس میں داخل ہونا سزا ہےبدروحیں خود بھی اس سے ڈرتی ہیں
دھواں کا اٹھنا🔹
اتھاہ گڑھے سے دھواں اٹھا جیسے بڑی بھٹی کا دھواں ہوتا ہے…
دھواں = روحانی اندھیرا اور گمراہی●
2 کرنتھیوں 4:4 یعنی اُن بے اِیمانوں کے واسطے جِن کی عقلوں کو اِس جہان کے خُدا نے اَندھا کر دِیا ہے تاکہ مسِیح جو خُدا کی صُورت ہے اُس کے جلال کی خُوشخَبری کی روشنی اُن پر نہ پڑے۔
یعنی:جو کچھ یہاں آزاد ہوا ہے وہ قتل، جنگ یا جسمانی تباہی نہیں —بلکہ سمجھ، بصیرت اور عقل پر حملہ ہے۔
اتھاہ گڑھ سے کیا نکلتا ہے؟🔹
دھواں → سچائی کو چھپا دیتا ہے۔●
سچائی چھپ جائے → غلطی حقیقت لگتی ہے۔●
غلطی حقیقت لگنے لگے → انسان روحانی طور پر اندھا ہو جاتا ہے۔●
یہ روحانی دھند ہے●
جس میں لوگ کلام سن کر بھی نہیں سمجھتے●
آنکھیں دیکھتی ہیں مگر دل نہیں پہچانتا●
مکاشفہ 9باب آیت 3🔹
اور اُس دھُوئیں میں سے زمِین پر ٹِڈّیاں نِکل پڑِیں اور اُنہِیں زمِین کے بِچھُّوؤں کی سی طاقت دی گئی۔
یہ ٹڈیاں فطری کیڑے نہیں بلکہ روحانی قوتیں ہیں جو گمراہی، الجھن، بے چینی اور ذہنی حملہ کرتی ہیں۔
ٹڈیوں کی علامت بائبل میں🔹
یوئیل 2باب4–6 میں ٹڈیاں فوجی حملہ اور روحانی دہشت کی علامت ہیں۔
ناحوم 3:17 میں ٹڈیاں تباہی لانے والی قوموں کی مثال ہیں۔
یہاں یہ ٹڈیاں:ظاہری جسم کو نہیں
بلکہ اندرونی انسان (mind + heart + emotion)
کو نشانہ بناتی ہیں۔
“بچھو کی طرح قوت” کا مطلب🔹
بچھو قتل نہیں کرتامگر زہریلی تکلیف دیتا ہے۔یعنی:یہ قوت زندگی نہیں چھینتی، مگر جینے کو اذیت بنا دیتی ہے۔
مکاشفہ 9باب آیت 4🔹
اور اُن سے کہا گیا کہ اُن آدمِیوں کے سِوا جِن کے ماتھے پر خُدا کی مُہر نہِیں زمِین کی گھاس یا کِسی ہریاول یا کِسی دَرخت کو ضرر نہ پہُنچانا۔
گھاس اور درخت = فطری زندگی محفوظ رہتی ہے۔●
فیصلہ فطرت پر نہیں بلکہ روحانیت پر ہے۔
خدا کی مہر رکھنے والے کون؟🔹
مکاشفہ 7باب2–3 — خدا اپنے لوگوں کے ماتھے پر مہر لگاتا ہے۔
افسیوں 1:13 — یہ روح القدس ہے جو مہر بن کر دل میں رہتا ہے۔
یعنی تحفظ مذہب سے نہیں — روح القدس کی حضوری سے ہے۔
نشانہ کون؟●
وہ لوگ جو:مذہبی ہیں ،عبادت گاہ رکھتے ہیں بائبل کو جانتے ہیں
لیکن:دل خدا کی فرمانبرداری سے خالی روح القدس سے محروم اوریہ ظاہری ایماندار اندرونی اذیت میں گرفتار ہوتے ہیں۔
مکاشفہ 9باب آیت 5–6🔹
اور اُنہِیں جان سے مارنے کا نہِیں بلکہ پانچ مہِینے تک لوگوں کو اذِیّت دینے کا اِختیّار دِیا گیا اور اُن کی اذِیّت اَیسی تھی جَیسے بِچھُّو کے ڈنک مارنے سے آدمِی کو ہوتی ہے۔ اُن دِنوں میں آدمِی مَوت ڈھُونڈیں گے مگر ہرگِز نہ پائیں گے اور مرنے کی آرزُو کریں گے اور مَوت اُن سے بھاگے گی۔
یہ جسمانی موت نہیں — یہ روحانی اذیت ہے۔●
اذیت کی شکلیں آج ظاہر ہو چکی ہیں●
ذہنی بے سکونی، ڈپریشن، تنہائی، مقصدیت کا ختم ہو جانا، خوف، بے یقینی اور نیند کا چھن جانا۔اورانسان زندہ رہتے ہوئے اندر سے مردہ محسوس کرتا ہے۔یہی مکاشفہ کی پیشن گوئی ہے اور یہ آج پوری دنیا میں واضح ہے۔
مکاشفہ 9باب آیت 7–10 — ٹڈیوں کی تفصیلی علامتیں🔹
اور اُن ڈِڈّیوں کی صُورتیں اُن گھوڑوں کی سی تھِیں جو لڑائی کے لِئے تیّار کِئے گئے ہوں اور اُن کے سروں پر گویا سونے کے تاج تھے اور اُن کے چِہرے آدمِیوں کے سے تھے۔ اور بال عَورتوں کے سے تھے اور دانت ببر کے سے۔اُن کے پاس لوہے کے سے بکتر تھے اور اُن کے پروں کی آواز اَیسی تھی جَیسے رتھوں اور بہُت سے گھوڑوں کی جو لڑائی میں دَوڑتے ہوں۔
اور اُن کی دُمیں بِچھُّوؤں کی سی تھِیں اور اُن میں ڈنک بھی تھے اور اُن کی دُموں میں پانچ مہِینے تک آدمِیوں کو ضرر پہُنچانے کی طاقت تھی۔
مکاشفہ 9 کی آیات 7 سے 10 میں ٹڈیوں کی جو شکل بیان کی گئی ہے وہ ایک گہری روحانی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے سروں پر تاج تھے، یعنی انہیں ایک اختیار حاصل ہے جو وہ دنیا کے نظاموں، میڈیا، تعلیم اور نظریاتی دھاروں کے ذریعے استعمال کرتی ہیں۔ ان کے چہرے انسانوں کے مانند تھے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ قوتیں انسانی لیڈروں، دانشوروں، مذہبی شخصیات اور پبلک فگرز کے ذریعے کام کرتی ہیں— یعنی لوگ ان کا چہرہ انسانی دیکھتے ہیں مگر پیچھے قوتیں روحانی ہوتی ہیں۔ ان کے بال عورت کے بالوں جیسے تھے، جس سے ان کی کشش، نرمی اور فریب دینے کی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے؛ یہ زبردستی نہیں کرتی بلکہ دل لبھاتی، اطمینان دلاتی اور دھیرے سے قائل کرتی ہیں۔ لیکن اس نرمی کے پیچھے ان کے دانت شیر کی مانند ہیں، یعنی اندرونی طور پر یہ تباہ کن، سخت اور درندہ صفت ہیں۔ ان کے زرہ بکتر لوہے کے ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ان میں رحم یا احساس باقی نہیں—ان کے دل سخت ہو چکے ہیں۔ اور سب سے آخر میں ان کی دم میں ڈنک ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا اصل نقصان شروع میں محسوس نہیں ہوتا؛ ان کے نظریات، تعلیمات اور اثرات دیر سے ظاہر ہوتے ہیں، مگر جب ظاہر ہوتے ہیں تو انسان کی سوچ، احساس اور ایمان کو اندر سے زہر دے دیتے ہیں۔
پس یہ ٹڈیاں کسی فطری بلا نہیں بلکہ گمراہی، جھوٹے الہام، فریب دینے والے نظریات اور بے روح مذہبی نظاموں کی روحانی تصویر ہیں۔
جھوٹے مذہبی نظام●
فلسفہ اور نفسیات پر مبنی تعلیمات●
غلط الہامات اور فریب دینے والے روحانی تجربات●
جسم نہیں پکڑا جاتا — سوچ پکڑی جاتی ہے۔●
آ
مکاشفہ 9بابآیت 11 — ابدّون / اپُلیون 🔹
اتھاہ گڑھے کا فرِشتہ اُن پر بادشاہ تھا۔ اُس کا نام عِبرانی میں ابدّون اور یُونانی میں اپُلیون ہے۔
یہاں بتایا گیا ہے کہ اس روحانی لشکر کا سربراہ کوئی عام فرشتہ نہیں بلکہ گہری کھائی کا شہزادہ ہے۔
لفظ ابدّون عبرانی میں تباہی، بربادی اور مٹ جانے کے مفہوم رکھتا ہے۔
اسی کا یونانی نام اپُلیون ہے، جس کا صاف مطلب ہے: ہلاک کرنے والا، فنا کرنے والا، تباہ کرنے والا۔
یہ کون ہے؟🔹
یہ شیطان کی تباہی کی قوت کا ایک مرکزی سردار / ماسٹر اسپرٹ ہے۔اس کا کام قتل نہیں بلکہ اندر سے ہلاکت ہے — یعنی:سچائی کو دھندلا دینا،پہچان کو بگاڑ دینا،ایمان کو تباہ کرنااورروحانی زندگی کو سوکھا دینا
بائبل اس مقصد کو کیسے بیان کرتی ہے؟●
یوحنا 10:10چور نہِیں آتا مگر چُرانے اور مار ڈالنے اور ہلاک کرنے کو۔ مَیں اِس لِئے آیا کہ وہ زِندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔
یہاں دو ریاستیں سامنے آ جاتی ہیں●
یہاں دو بادشاہتوں کا مقابلہ واضح نظر آتا ہے۔ مسیح وہ بادشاہ ہے جو زندگی بخشتا ہے، دل میں امن اور سکون لاتا ہے، سچائی کو روشن کرتا ہے اور انسان کی روحانی تعمیر کرتا ہے۔ اس کے برخلاف ابدّون /اپُلیون تباہی کا بادشاہ ہے جو زندگی چھین لیتا ہے، بے چینی اور ذہنی جنگ پھیلاتا ہے، سچائی پر دھند ڈال کر فریب دیتا ہے اور انسان کی اندرونی دنیا کو بکھیر دیتا ہے۔ یعنی ”بادشاہ“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں قوتیں انسان کی روح اور ذہن پر راج کرنے کی دعوت دیتی ہیں—ایک زندگی کی طرف بلاتی ہے اور دوسری تباہی کی طرف۔
یہ ایک منظم روحانی نظام ہے۔●
ایک شیطانی لشکر جس کی قیادت ابدّون /اپُلیون کر رہا ہے۔یہ کام گھبراہٹ سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی کے ساتھ کرتے ہیں۔
برادربرینہم کے مطابق🔹
پانچواں نرسنگا جسمانی جنگی ٹینکوں یا فوجی ٹڈیوں کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ مذہبی بدروحوں کے ظہور کا بیان ہے جو لوگوں کے ذہن اور روحانی احساسات پر حملہ کرتی ہیں۔ برانہم کہتے ہیں کہ یہ وہ دور ہے جہاں لوگ روحانی تجربہ تو قبول کرتے ہیں، جذبات، نعرے اور عبادتی جوش میں آ جاتے ہیں، لیکن کلام کی فرمانبرداری اور سچائی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں شور، چیخ و پکار، چنگھاڑ، دعوے اور ظاہری مذہبی حرارت تو ہوتی ہے، مگر کلام کی بنیاد، تعلیم، ترتیب اور پاکیزگی غائب ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برانہم اسے “روحانی دھوکہ اور مذہبی دھماکہ” کہتے ہیں — جو خاص طور پر لوڈیسیہ کے آخری دور میں دیکھا جاتا ہے، جہاں کلیسیا گرم یا سرد نہیں بلکہ نیم گرم ہو جاتی ہے، جذبات تو ہوتے ہیں مگر کلام کی سچی اطاعت نہیں۔
اب ہم مکاشفہ 9 کا دوسرا حصہ شروع کرتے ہیں🔹
چھٹا نرسنگا — دوسرا افسوس (آیات 13–21)
یہ حصہ روحانی اذیت سے بڑھ کر عالمی تباہی اور قوموں کی جنگ کو ظاہر کرتا ہے۔
مکاشفہ 9آیت13 -14🔹
اور جب چھٹّے فرِشتہ نے نرسِنگا پھُونکا تو مَیں نے اُس سُنہری قُربان گاہ کے سِینگوں میں سے جو خُدا کے سامنے ہے اَیسی آواز سُنی۔ کہ اُس چھٹّے فرِشتہ سے جِس کے پاس نرسِنگا تھا کوئی کہہ رہا ہے کہ بڑے دریایِ فُرات کے پاس جو چار فرِشتے بندھے ہُوئے ہیں اُنہِیں کھول دے۔
آیت13🔹
سونے کی قربان گاہ خدا کی حضور، دعا اور شفاعت کی علامت ہے (مکاشفہ 8:3)۔
اس کا مطلب ہے کہ یہ فیصلہ دعا اور انصاف کے مطالبے کے جواب میں آتا ہے—
یعنی زمین پر ظلم حد سے بڑھ چکا ہے۔
یہ عدالت اتفاقی نہیں — یہ انصاف کا جواب ہے۔●
آیت14🔹
دریائے فرات کا بائبلی پس منظر●
بائبل میں دریائے فرات ایک نہایت اہم اور تاریخی روحانی سرحد کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پیدائش 2:14 میں یہ انسانیت کی ابتدا میں باغِ عدن کی سرحد کے طور پر ذکر ہوتا ہے، جبکہ پیدائش 15:18 میں خدا نے یہی دریا اسرائیل کی وعدہ شدہ زمینی حدود کی نشانی کے طور پر مقرر کیا۔ دانی ایل 10:4 میں آخری زمانے کی نبوت اسی مقام پر کھلتی ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی روحانی طاقتوں کی سرگرمی اور اُن کی کشمکش کا مرکز فرات کے گرد رہا ہے۔ یہاں تک کہ مکاشفہ 16:12 میں بیان کیا گیا ہے کہ آخر زمانے میں فرات کا خشک ہونا جنگ کے راستے کو کھول دیتا ہے، جس کے نتیجے میں مشرق کی سلطنتیں اور عالمی طاقتیں آخری بڑی جنگ کے لیے حرکت میں آتی ہیں۔ لہٰذا فرات محض ایک دریا نہیں، بلکہ سلطنتوں کی جنگ، روحانی قوتوں کی کشمکش اور عالمی سیاسی ٹکراؤ کی تاریخی اور نبوتی سرحد ہے۔
چار فرشتوں کا بندھا ہونا🔹
مکاشفہ 9:14 میں ذکر ہونے والے چار فرشتے وہ طاقتور روحانی قوتیں ہیں جو آغازِ زمانہ سے دریائے فرات کے مقام پر بند یا روکی ہوئی تھیں۔ یہ وہ فرشتے ہیں جنہیں خدا نے کسی سبب سے فوراً چھوڑنے نہیں دیا، بلکہ ایک مخصوص گھڑی، دن، مہینے اور سال کے لیے محفوظ رکھا (مکاشفہ 9:15)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مداخلت منصوبہ بندی کے تحت ہے — یہ اچانک، بے ترتیب یا حادثاتی فیصلہ نہیں۔ یہ چار فرشتے تباہی، جنگ اور عالمی سیاسی ہلچل کو حرکت دینے والی قوتیں ہیں، جو جیسے ہی آزاد ہوتی ہیں، قوموں کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ اور خونریزی بھڑک اٹھتی ہے۔
یہ قوتیں انتظار کر رہی تھیں کہ انسانیت کی بغاوت، گناہ اور خدا سے دوری ایک ایسے مقام تک پہنچ جائے جہاں عدالت ناگزیر ہو جائے۔ جب ان فورسز کو چھوڑ دیا جاتا ہے، تو دنیا طاقت کے توازن، عالمی اتحاد، فوجی نظام اور سیاسی نقشے میں شدید تبدیلی کا سامنا کرتی ہے۔ یوں ان چار فرشتوں کی آزادی دنیا کو براہ راست جنگ اور تباہی کے دور میں دھکیل دیتی ہے — خصوصاً وہ جنگ جو آخرکار عالمی تصادم جنگوکی شکل اختیار کرتی ہے۔
مکاشفہ 9آیت آیت 15🔹
پَس وہ چاروں فرِشتے کھول دِئے گئے جو خاص گھڑی اور دِن اور مہِینے اور برس کے لِئے تِہائی آدمِیوں کے مار ڈالنے کو تیّار کِئے گئے تھے۔
یہ طے شدہ الٰہی وقت ہے — حادثہ نہیں۔●
یہ قتل جانی ہے — روحانی نہیں۔●
انسانیت کا تیہائی حصہ●
یہ وسیع عالمی ہلاکت ہے۔●
جنگ علاقائی نہیں — عالمی پیمانے پر۔●
برادربرینہم کے مطابق معنی:🔹
چھٹے نرسنگے میں بیان کیے گئے چار فرشتوں کا فرات کے پاس بند ہونا اور پھر کھل جانا دنیا میں شیطانی عالمی بیداری کے عروج کی علامت ہے۔ جب یہ قوتیں آزاد ہوئیں تو انہوں نے انسانیت کے ذہن، سیاست اور معاشرتی ڈھانچے کو بدل دیا۔
کمیونزم ●
کمیونزم نے خدا کے وجود اور اُس کے اختیار کا انکار پھیلا کر انسان کو خدا سے بغاوت کی طرف مائل کیا۔
قوم پرستی●
قوم پرستی نے قوموں کے درمیان نفرت اور جنگوں کی آگ بھڑکا دی۔
لادینیت●
لادینیت نے نئی نسلوں کو ایمان، خدا خوفی اور پاکیزہ اقدار سے دور کر دیا۔
اور عالمی سیاست ●
عالمی سیاست نے دنیا کو آہستہ آہستہ آخری بڑے تصادم کی طرف دھکیل دیا۔
انہی عالمی ہلچلوں اور سیاسی بھونچال کے بیچ 1948 میں اسرائیل دوبارہ اپنے وطن میں بحال ہوا — جو براہ راست چھٹے نرسنگے کے اثرات کا ظہور ہے۔ اور جیسا برادر برینہم نے فرمایا:
“خدا اسرائیل کو واپس گھر لا رہا ہے — مگر رحم کے ذریعے نہیں، عدالت کے ذریعے۔”
مکاشفہ 9باب آیت 16 —🔹
اور فَوجوں کے سوار شُمار میں بِیس کروڑ تھے۔ مَیں نے اُن کا شُمار سُنا۔
یہ جسمانی فوج نہیں بلکہ روحانی مخلوق ہے — شیطانی لشکر۔
یہ وہ بد روحیں ہیں جو “فُرات” کے علاقے سے بند تھیں اور کھولی گئیں۔یہ وہی شیطانی قوتیں ہیں جنہوں نے پہلی اور دوسری عالمی جنگ کو بھڑکایا، اور آگے آخری عالمی جنگ کے پس منظر کو جنم دے رہی ہیں۔
برادر برینہم:
“یہ دو کروڑ گھوڑ سوار فوج کوئی انسانوں کی فوج نہیں ہے۔ پوری دنیا میں اتنے سپاہی کبھی نہیں ہوئے۔ یہ وہ دیو، بدروحیں ہیں جو بند تھیں اور آخری وقت میں جاری کی گئیں تاکہ دنیا کو جنگ، خونریزی اور تباہی کی طرف دھکیلیں۔”
(Sermon: The Sixth Seal, 1963)
“یہ وہی قوت تھی جس نے ہٹلر، سٹالن، اور مسولینی کو کنٹرول کیا۔ یہ روحانی گھوڑ سوار انسانوں پر سوار تھے۔”
(Satan’s Eden, 1965)
مکاشفہ 9باب آیت 17–18 —🔹
اور مُجھے اِس رویا میں گھوڑے اور اُن کے اَیسے سوار دِکھائی دِئے جِن کے بکتر آگ اور سُنبُل اور گندھک کے سے تھے اور اُن گھوڑوں کے سر ببر کے سے سر تھے اور اُن کے مُنہ سے آگ اور دھُواں اور گندھک نِکلتی تھی۔
اِن تِینوں آفتوں یعنی اُس آگ اور دھُوئیں اور گندھک سے جو اُن کے مُنہ سے نِکلتی تھی تِہائی آدمِی مارے گئے۔
یہ جنگی تباہی اور جدید جنگی ہتھیاروں کی علامت ہے۔
آگ → بم دھماکے●
دھواں → بارود اور تباہی کا دھواں●
گندھک → زہریلی، کیمیائی اور آخر میں ایٹمی تباہی●
“یوحنا نے ٹینک، توپیں، مشین گنز اور آگ برسانے والے ہتھیاروں کو اپنے وقت کی زبان میں دیکھا۔ یہ جدید جنگی ٹیکنالوجی ہے۔”
(Revelation of Jesus Christ series, Branham)
“آخری جنگ ایٹمی ہوگی۔ دنیا کو آگ صاف کرے گی، پھر بادشاہی آئے گی۔”
(The Future Home, 1964)
مکاشفہ 9باب آیت 19 — 🔹
کِیُونکہ اُن گھوڑوں کی طاقت اُن کے مُنہ اور اُن کی دُموں میں تھی اِس لِئے کہ اُن کی دُمیں سانپوں کی مانِند تھِیں اور دُموں میں سر بھی تھے اُن ہی سے وہ ضرر پہُنچاتے تھے۔
یہ تباہی کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہے —
جنگ صرف محاذ پر نہیں، ریڈیو، میڈیا، پروپیگنڈا، نظریات کے ذریعے بھی انسانوں کو زخمی اور تباہ کیا جاتا ہے۔
بھائی برینہم نے اسے شیطان کی ذہنی، سیاسی اور مذہبی جنگ قرار دیا۔
مکاشفہ 9باب آیت 20–21 —🔹
اور باقی آدمِیوں نے جو اِن آفتوں سے نہ مرے تھے اپنے ہاتھوں کے کاموں سے تَوبہ نہ کی کہ شیاطِین کی اور سونے اور چاندی اور پِیتل اور پتھّر اور لکڑی کی مُورتوں کی پرستِش کرنے سے باز آتے جو نہ دیکھ سکتی ہیں نہ سُن سکتی ہیں۔ نہ چل سکتی ہیں۔
اور جو خُون اور جادُوگری اور حرامکاری اور چوری اُنہوں نے کی تھی اُن سے تَوبہ نہ کی۔
مرکزی سبق:🔹
انسان عدالت دیکھ کر بھی نہیں بدلتا۔
“خدا انسان کو عدالت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کرے۔ مگر جن کے دل سخت ہیں، وہ ساری تباہی دیکھ کر بھی نہیں بدلتے۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ دنیا جنگ، وبا، زلزلے، تباہی دیکھ رہی ہے… مگر توبہ نہیں کرتی۔”
(Warning Then Judgment, 1963)
تفسیر-مکاشفہ باب 10 — زورآور فرشتہ اور کھلی ہوئی کتاب
یہ باب کتابِ مکاشفہ کا مرکزی اور سب سے روحانی باب ہے — کیونکہ یہاں خود مسیح اترتا ہے، کھلی کتاب ہاتھ میں ہے، اور ساتواں نرسنگا پھونکنے سے ذرا پہلے کا وقت دکھایا گیا ہے۔
بھائی برینہم نے فرمایا کہ یہی وہ وقت ہے جب سات مُہریں کھولیں گئیں (1963 میں) اور خدا کے مخفی بھید آشکار ہو گئے۔
مکاشفہ 10 باب آیت 1🔹
پھِر مَیں نے ایک اَور زورآور فرِشتہ کو بادل اوڑھے ہُوئے آسمان سے اُترتے دیکھا۔ اُس کے سر پر دھُنک تھی اور اُس کا چِہرہ آفتاب کی مانِند تھا اور اُس کے پاؤں آگ کے سُتُونوں کی مانِند۔
یہ عام فرشتہ نہیں بلکہ خود خداوند یسوع مسیح ہے — “زورآور فرشتہ” = مسیح بطور کلام۔
خروج 14:19–20 → “خدا کا فرشتہ” = آگ کا ستونِ●
بادل = خدا کی حضوری●
قوسِ قزح = عہد کی نشانی ●
حزقی ایل 1:28 → قوسِ قزح = خدا کی حضوری●
چہرہ سورج کی مانند = نُورِ کلام●
مکاشفہ 1:16 → چہرہ سورج کی مانند●
پاؤں آگ کے ستون = عدالت اور تقدیس●
خروج 13:21 → ستونِ بادل●
مکاشفہ 1:15 → پاؤں تانبے کی مانند (عدالت)●
برادر برینہم فرماتے ہیں۔🔹
“یہ مسیح ہے جو سات مُہروں کو کھولنے کے بعد نیچے آ رہا ہے۔ اُس کے سر پر قوسِ قزح ہے، کیونکہ اُس نے دُلہن سے عہد باندھا ہے۔”
(The Revelation of the Seven Seals, March 1963)
“وہی ستونِ آتش جو صحرا میں اسرائیل کے ساتھ تھا، وہی یسوع کے دُور میں ظاہر ہوا، اور وہی اب دُلہن کے لئے نیچے اُترا ہے۔”
(The Mighty Angel, 1963)
مکاشفہ 10 باب آیت 2🔹
اور اُس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کھُلی ہُوئی کِتاب تھی۔ اُس نے اپنے دہنا پاؤں تو سَمَندَر پر رکھّا اور بایاں خُشکی پر۔
یہاں دو عظیم سچائیاں ظاہر ہوتی ہیں:کھلی کتاب،مکمل اقتدار🔹
آئیے دونوں کو الگ الگ گہرائی میں دیکھیں:
حصہ 1 — “اُس کے ہاتھ میں کھلی ہوئی کتاب تھی🔹
یہ وہی کتاب ہے جو مکاشفہ 5 میں بند تھی اس کتاب کو کتابِ نجات کہتے ہیں:
یہ کتاب زمین کی ملکیت ہےیہ آدم نے کھوئی، مسیح نے واپس لی اوراس میں مخلوقات، دُلہن، نبیوں، قوموں، اور فیصلوں کے بھیدہیں اوریہ کتاب 7 مُہروں میں بند تھی۔
مکاشفہ 5باب1–7🔹
“اس کتاب کو کھولنے کے لائق کوئی نہ تھا— نہ کوئی فرشتہ، نہ کوئی بزرگ، نہ کوئی نبی۔ صرف ‘یہوداہ کا ببر، یعنی ‘ذبح کیا ہوا برّہ’ ہی اس کتاب کو کھول سکتا تھا۔”
دانی ایل 12باب4, 9🔹
خدا نے دانی ایل سے کہا: ‘اَے دانی ایل، تُو اپنی راہ لے، کیونکہ یہ باتیں آخری وقت تک بند اور سربمہر رہیں گی۔’ دو ہزار سال تک یہ کتاب مہر بند رہی، اور اس کا کھلنا آخری زمانے کے ساتھ مشروط تھا۔
حزقی ایل 2باب9–10🔹
نبی کو ایک ایسی کتاب دی گئی جو اندر اور باہر دونوں طرف لکھی ہوئی تھی۔ یہی منظر مکاشفہ 10 میں دوبارہ ظاہر ہوتا ہے، جہاں یہ کتاب نبی—اور دلہن—کو دی جاتی ہے۔”
برادر برینہم فرناتے ہیں۔🔹
کھلی کتاب کی گہرائی🔹
یہ سات مہروں کی کتاب ہے
یہ مخلصی کی کتاب ہے
وہی کتاب جو سات مُہروں میں بند تھی۔ اور اب وہ کھل چکی ہے۔”
(The Breach, 1963)
کتاب کھلنے کا مطلب ہے:🔹
بھید منکسف ہوئے اوردُلہن کو کلام مل جانا
کھلی کتاب صرف دُلہن کے لیے ہے🔹
دنیا اسے سمجھ ہی نہیں سکتی۔”
(Spoken Word is the Original Seed)
یہ کتاب مکاشفہ 10 میں “فرشتہ” کے ہاتھ میں کیوں ہے؟🔹
اس لیے کہ:یہ کتاب اب آسمان میں بند نہیں بلکہ زمین پر نازل ہو گئی اوریہ دُلہن کے دور (دلہن کے زمانہ) کا آغاز ہے
کھلی کتاب = “مسیح بحیثیتِ کلام”🔹
جب کتاب کھولی گئی تو مسیح دوبارہ مجسم شدہ کلام بن کر ظاہر ہوا۔”
(The Seventh Seal)
کھلی کتاب کے سات اہم مفاہیم پیغام کے مطابق نہایت گہری روحانی سچائیاں ظاہر کرتے ہیں۔ “کھلی” کتاب اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے راز اب پوشیدہ نہیں رہے بلکہ سات گرجوں کے ذریعے مکمل طور پر ظاہر کر دیے گئے۔ “کتاب” دراصل خدا کے کلی منصوبے، یعنی مخلصی کی کتابِ کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں نجات کا تمام پروگرام موجود ہے۔ کتاب کا “ہاتھ میں” ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسیح خود کلام پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہی اس کے ہر حصے کو کھولتا ہے۔ “اترنا” اس بات کی نشانی ہے کہ کلام خود دُلہن کے پاس نازل ہو کر ظاہر ہو رہا ہے—یعنی کلام کا ظہور۔ کتاب کا “کھلی” ہونا یہ اعلان ہے کہ 1963 میں مہریں کھلنے کے بعد اب کوئی راز چھپا نہیں رہا۔ “کتاب کا زمین پر ہونا” اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اب یہ ملکیت دُلہن کے ہاتھ میں آچکی ہے، کیونکہ یہ دُلہن کے زمانے میں کھولی گئی۔ یوں “کھلی کتاب” کا نتیجہ ایمانِ کامل ہے—وہ ایمان جو پوری طرح کھولے گئے کلام سے پیدا ہوتا ہے اور دُلہن کو رپچر کے لیے تیار کرتا ہے۔
یہ مکمل اقتدار کی علامت ہے۔🔹
یہ مکمل اقتدار کی علامت ہے کہ مسیح اب ہر چیز پر بادشاہی اختیار رکھتا ہے۔ وہ زمین پر بھی حاکم ہے اور سمندر پر بھی؛ قومیں ہوں یا عالمی طاقتیں، سیاسی نظام ہوں یا مذہبی سلطنتیں—سب پر وہ اپنے بادشاہانہ وقار اور مطلق اختیار کے ساتھ کھڑا ہے۔ کوئی طاقت، کوئی قوم، کوئی نظام اس کی سلطنت سے باہر نہیں۔ یہ منظر ظاہر کرتا ہے کہ آج مسیح اپنی کلی اتھارٹی کے ساتھ دُلہن کے زمانے میں کام کر رہا ہے۔
برادر برینہم فرماتے ہیں —
پاؤں سمندر اور زمین پر رکھنے کا مطلب
یہ عالمی اقتدار کا اعلان ہے🔹
یہ اعلان ہے کہ پوری دنیا پر مسیح کا اختیار ہے۔”
(The Mighty Angel)
یہ دو عالمی طاقتوں پر کنٹرول کی علامت ہے🔹
برادر برینہم فرماتے ہیں
سمندر = کیتھولک دنیا
زمین = پروٹسٹنٹ دنیا
“سمندر حیوانی نظام—روم—کی علامت ہے۔
زمین اس کی شبیہ—امریکہ—کی نمائندگی کرتی ہے۔
اور فرشتہ دونوں پر کھڑا ہے: یعنی مکمل تسلط اور اختیار۔”
(Questions and Answers / Church Ages)
OD, Church Ages)
یہ عدالت کا منصف ہے🔹
پاؤں تانبے کے ہیں → عدالت
پاؤں سمندر/زمین پر → عالمی فیصلہ
اس وقت وہ عدالت کرنے کی پوزیشن میں ہے—اور سمندر و خشکی پر اپنے اختیار کا اظہار کر رہا ہے۔
(The Seventh Seal)
یہ ملکیت کی بحالی ہے🔹
آدم نے زمین کھوئی
مسیح نے واپس لی
اب وہ کھلی کتاب کے ساتھ زمین پر کھڑا ہے
(The Breach)
مکاشفہ 10:3 —🔹
اور اَیسی بڑی آواز سے چِلّایا جَیسے ببر دھاڑتا ہے اور جب وہ چِلّایا تو گرج کی سات آوازیں سُنائی دِیں۔
یہ آیت دو عظیم رازوں پر مشتمل ہے:
مسیح کا شیر کی مانند دھاڑنا●
گرج کی سات آوازیں ●
یہ دونوں واقعات مکاشفہ 10 کا مرکزی نقطہ ہیں ،یہیں پر سات گرجوں کا مکاشفہ ظاہر ہوتا ہے۔
“شیر ببر کی مانند دھاڑنا” = مسیح کی بادشاہانہ آواز●
برادر برینہم ،●
"زورآور فرشتہ نے شیربا کی مانند گرج کی — یعنی یہ یہوداہ کے شیر کی آواز تھی۔"
(ساتویں مُہر)
یہودہ کا شیر بادشاہی اقتدار اور فتح کا نشان ہے۔
ببر کادھاڑنا ●
ہو سیع 11:10●
وہ خُداوند کی پیروی کریں گے جو شیر ببر کی طرح گرجے گا کیونکہ وہ گرجے گا اور اُس کے فرزند مغرب کی طرف سے کانپتے ہُوئے آئیں گے۔…
یہ خدا کی بادشاہانہ آواز ہے→
عاموس 3:8●
شیر ببر گرجا ہے۔ کُون نہ ڑرے گا؟خُداوند خُدا نے فرمایا ہے ۔ کون نبُوت نہ کرے گا؟۔
خداوند خدا بولے تو کون نبوّت نہ کرے؟”
شیر کی گرج = خدا کی نبوتی آواز→●
مکاشفہ 5:5●
تب اُن بُزُرگوں میں سے ایک نے مُجھ سے کہا کہ مَت رو۔ دیکھ۔ یہُوداہ کے قبِیلہ کا وہ ببر جو داؤد کی اصل ہے اُس کِتاب اور اُس کی ساتوں مُہروں کو کھولنے کے لِئے غالِب آیا۔
یوحنا 12باب28–29●
اے باپ! اپنے نام کو جلال دے۔ پَس آسمان سے آواز آئی کہ مَیں نے اُس کو جلال دِیا ہے اور پھِر بھی دُوں گا۔ جو لوگ کھڑے سُن رہے تھے اُنہوں نے کہا بادل گرجا۔ اَوروں نے کہا کہ فرِشتہ اُس سے ہمکلام ہُؤا۔
آسمان سے آواز آئی●
لوگوں نے سنا → “یہ تو گرج تھی!”
آسمانی آواز کو انسانوں نے گرج کہا۔→
برادر برینہم — شیر کی گرج کی تشریح●
یہ “مسیح کا کلام” ہے، جو 7 مُہروں کے بعد ظاہر ہوااس نے گرج کر اعلان کیا کہ اُس کے پاس کھُلی ہوئی کتاب ہے
(The Breach)
گرج کا مقصد:●
دُلہن کو بھید ظاہر کرنا،وقتِ خاتمہ کا اعلان،عدالت کا آغازاور سات گرجوں کو متحرک کرنا
خدا جب “آخری بار” بولے گا تو شیر کی طرح بولے گا●
آخری بار جب خدا بولے گا، اُس کی آواز شیر کی ہو گی—برّہ کی نہیں۔
(The Sixth Seal)
مکاشفہ 10 میں مسیح برّہ نہیں، بلکہ شیر کی حیثیت سے ظاہر ہوا ہے۔
“سات گرجیں اپنے کلاموں سے بولیں”●
یہ آیت پوری بائبل کا سب سے پوشیدہ بھید ہے۔ یہی وہ راز ہے جسے یوحنا کو لکھنے سے منع کر دیا گیا (آیت 4)، دانی ایل کو اسے بند کرنے کا حکم دیا گیا، نبیوں نے اس پر صرف اشاروں میں کلام کیا، کلیسیا کی تاریخ اس سے بے خبر رہی—اور بالآخر یہ بھید برادر برینہم کی خدمت کے ذریعے ظاہر ہوا۔
گرج کی آوازیں●
یوحنا 12:29●
لوگوں نے آسمانی آواز کو “گرج” سمجھا۔
مکاشفہ 4:5●
“تخت میں سے بجلیاں، آوازیں، گرجیں نکل رہی تھیں…”
خدا کے کلام میں گرج کے بھیدوں کی تجلّیاں شامل ہیں→
مکاشفہ 6:1●
“جب برّہ نے پہلی مہر کھولی، تو گرج کی مانند آواز آئی…”
مُہر کے کھلنے پر گرج ظاہر ہوتی ہے۔→
ملک 4باب5–6●
ایلیا کی واپسی — بھیدوں کے پردے ہٹانے کی ذمہ داری
(یہی خدمت سات گرجوں سے پیوستہ ہے)"
بردار برینہم●
سات گرجیں کیا ہیں؟●
یہ گرجیں دراصل وہ بھید ہیں جو سات مُہروں کے نیچے بند رکھے گئے تھے۔
(The Seventh Seal)
سات گرجیں وہ باتیں ہیں جو یوحنا نے سنی لیکن لکھنے کی اجازت نہیں ملی
یہ راز صرف آخری نبی کے ذریعے کھلنے تھے۔”
(Is This The Sign of the End, Sir?)
سات گرجیں دلہن کو رَپچر میں اُٹھا لیے جانے والا ایمان عطا کرتی ہیں۔
(The Rapture, 1965)
"وہ گرجیں دراصل خدا کی آوازیں تھیں جو دلہن پر کلام کو آشکار کر رہی تھیں۔"
(Seals Book)
سات گرجیں = وہ سچائیاں جو کلام کو زندہ کرتی ہیں
"خدا کی مکمل الوہیت کا انکشاف ہی دُلہن کی اصل شناخت کو بے نقاب کرتا ہے، کیونکہ اسی نور میں آدم کی گمشدہ میراث اور اس کی کھوئی ہوئی ملکیت کی بحالی کا راز ظاہر ہوتا ہے۔ یہی بھید ہمیں حوا کے اصل معاملے کو سمجھنے کی بصیرت دیتا ہے اور دکھاتا ہے کہ آخری دنوں میں دُلہن کس طرح نبوتی مستقبل کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
سات گرجیں وہ مرحلہ ہیں جہاں مسیح خود کلام کے اندر اپنی مکمل پہچان منکشف کرتا ہے۔
(The Mighty God)
سات گرجوں کے اثرات 🔹
دُلہن کو ایمانِ کامل ملتا ہے✔
دُلہن کی پہچان ظاہر ہوتی ہے✔
کلام کھلا ہوا بن جاتا ہے✔
دُلہن رُوح میں نبیانہ حیثیت میں داخل ہوتی ہے✔
دُلہن کی زندگی میں کلام مجسم ہوتا ہے✔
مکاشفہ 10:3 — خلاصہ 🔹
شیر کی گرج مسیح کی بادشاہی آواز کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ سات گرجیں وہ پوشیدہ بھید ہیں جو دُلہن پر مکاشفہ کھولتی ہیں۔ جیسے ہی یہ گرجیں بولتی ہیں، سات گرجیں فعال ہو جاتے ہیں، اور مسیح کلام کے ذریعے دُلہن کو رَپچر کا ایمان عطا کرتا ہے۔
مکاشفہ 10:4 —🔹
“سات گرجوں کا کلام مہر بند کر دے، اور اسے مت لکھ”
اور جب گرج کی سات آوازیں سُنائی دے چُکِیں تو مَیں نے لِکھنے کا اِرادہ کِیا اور آسمان پر سے یہ آواز آتی سُنی کہ جو باتیں گرج کی اِن سات آوازوں سے سُنی ہیں اُن کو پوشِیدہ رکھ اور تحرِیر نہ کر۔
‘جو کچھ سات گرجوں نے کہا اُسے مہر بند کر دے، اور اسے مت لکھ!’”
یہ آیت پوری بائبل کی سب سے گہری، سب سے پوشیدہ، اور سب سے مقدس آیتوں میں سے ہے—کیونکہ یہاں وہ راز بند کیا گیا جسے صرف آخر زمانہ میں کھلنا تھا۔
یوحنا نے سنا → لیکن لکھنے نہیں دیا گیا🔹
یوحنا نے صاف الفاظ میں سات گرجوں کا پیغام سنا:
نہ کوئی ہلچل
نہ اشارہ
نہ مبہم آواز
بلکہ “کلام” (Greek: logoi = Words)🔹
لیکن پھر بھی اسے لکھنے سے منع کر دیا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے؟
یہ راز بائبل میں کہیں نہیں لکھا گیا
یہ مقدس ترین بھید ہے
اسے مہر بند کیا گیا
یہ راز بعد میں کھلنے تھے
یہ پوری نجات کے منصوبے کا مرکزی نقطہ ہے
کیوں بند کیا گیا؟🔹
دانی ایل 12:4●
“اے دانی ایل! ان باتوں کو مہر بند کر دے…
آخر وقت تک۔”
→ وہی حکم یوحنا کو دیا گیا:●
“مہر بند کر دے، نہ لکھ۔”
دانی ایل 12:9●
“یہ باتیں آخر وقت تک بند اور مہر بند رہیں گی۔”
سات گرجوں = آخری زمانے کا راز۔→●
2 کرنتھیوں 12:4●
پولوس نے “ناقابل بیان” باتیں سنیں → کسی انسان کو کہنے کی اجازت نہیں۔
→ یہاں بھی راز سنے گئے، مگر مہر بند۔
مکاشفہ 5:1●
کتاب بند → کوئی نہ کھول سکایہاں بھی راز مہر بند۔
بردار برینہم۔۔۔ یوحنا کو لکھنے سے کیوں روکا گیا؟🔹
سات گرجیں وہ پوشیدہ راز تھے جو خدا نے آخری زمانے کے لیے مخصوص کر رکھے تھے۔ یہ انسان کی تحریر کا حصہ نہیں تھے، بلکہ خدا کے اپنے اظہار کا حصہ تھے، اسی لیے یوحنا کو حکم ملا کہ جو کچھ سات گرجوں نے کہا ہے اُسے “مت لکھ” اور “مہر بند کر دے”۔ یہ مقدس راز صرف آخری نبی کے وسیلہ سے ہی کھلنے تھے، کیونکہ یہ دُلہن کو رَپچر کے لیے ایمان دینے والے راز تھے—ایمانِ کامل، رُوحانی بصیرت، اور وہ قوت جو دُلہن کو زمین سے اٹھا لے جائے گی۔ اگر یہ راز اسی وقت لکھ دیے جاتے تو دشمن بھی انہیں پڑھ لیتا، اور خدا کی منصوبہ بندی کو بگاڑنے کی کوشش کرتا۔ خدا نے یہ راز صرف اپنی منتخب دُلہن کے لیے محفوظ کیے، تاکہ اسے “مخصوص روحانی خوراک” ملے—جو دنیا یا نامزدگیوں میں تقسیم نہیں ہو سکتی۔ یہ بھید تحریری سمجھ سے بالاتر تھے؛ یہ صرف “زندہ الہام کے ذریعے ہی کھل سکتے تھے۔ انہی وجوہات کے سبب سات گرجوں کو بند رکھا گیا، یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب خدا نے آخری نبی کے ذریعے 1963 میں سات مہریں کھولیں اور یہ راز دُلہن پر ظاہر کیے—یہی “مسیح کا خود ظہور” تھا۔
یوحنا نے سات گرجوں کا واضح کلام سنا—وہ مکاشفہ، روشنی اور خدا کا تفصیلی راز تھا، مگر اسے لکھنے کی اجازت نہ ملی کیونکہ یہ بھید دنیا کے لیے نہیں، صرف آخری زمانہ کی دُلہن کے لیے محفوظ تھے۔ سات گرجوں کا مہر بند ہونا سات مُہروں کے بند ہونے سے جڑا ہوا تھا، اور دونوں کا کھلنا مسیح کے مکاشفہ 10:1 والے نزول پر مقرر تھا۔ جب 1963 میں سات مہریں کھلیں تو یہی سات گرجوں کے راز ظاہر ہوئے، جیسا کہ برادر برانہم نے فرمایا: “یوحنا اسے لکھ نہ سکا، لیکن جس روح نے یوحنا سے بات کی تھی، وہی روح اسے آج ظاہر کر رہی ہے۔” مکاشفہ 10:4 دراصل یہ کہہ رہا ہے کہ سات گرجوں کا کلام بائبل میں نہیں لکھا گیا—بلکہ اسے آخری زمانہ میں مسیح نے خود دُلہن پر ظاہر کرنا تھا، تاکہ اسے رَپچر کا ایمان دیا جائے۔
اور جِس فرِشتہ کو مَیں نے سَمَندَر اور خُشکی پر کھڑے دیکھا تھا اُس نے اپنا دہنا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھایا۔ اور جو ابدُالآباد زِندہ رہے گا اور جِس نے آسمان اور اُس کے اَندر کی چِیزیں اور زمِین اور اُس کے اُوپر کی چِیزیں اور سَمَندَر اور اُس کے اَندر کی چِیزیں پَیدا کی ہیں اُس کی قَسم کھا کر کہا کہ اَب اَور دیر نہ ہوگی۔
یہ آیات پوری کتابِ مکاشفہ کے فیصلہ کن لمحے کی علامت ہیں۔یہ وہ گھڑی ہے جب خود خدا، مسیح کے رُوپ میں،کھلی کتاب کے ساتھ زمین اور سمندر پر کھڑے ہوکرآسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر یہ اعلان کرتا ہے:
" اَب اَور دیر نہ ہوگی!"●
یہ وہ اعلان ہے جو پورے الٰہی منصوبے کوایک نئے دور،ایک نئے مرحلےاورایک نئے حکم میں لے آتا ہے۔
“آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھایا” — الٰہی قسم کا اعلان1 — 🔹
قدیم عہد میں قسم کا اعلیٰ ترین درجہ یہ تھا کہ انسان یا نبی خدا کے حضور “آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر” گواہی دے۔لیکن یہاں خداوند خود زورآور فرشتے (مسیح) کی صورت میں آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔
اس کا مطلب:●
دُنیوی نہیں
فرشتگانی نہیں●
بلکہ خالصتاً خدائی قسم●
بائبل کی شہادت:●
استثناء 32:40 — خدا خود کہتا ہے:●
“کیونکہ میں اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر کہتا ہوں کہ چونکہ میں ابدلآباد زندہ ہوں ۔”
دانی ایل 12:7 —●
فرشتے نے ہاتھ اٹھا کر قسم کھائی کہ وقت ختم ہو جائے گا
۔۔۔ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر حُیّ القُیوم کی قسم کھائی اور کہا کہ ایک دور اور دور نیم دور۔ اور جب وہ مقدس لوگوں کے اقتدار کو نیست کر چُکیں گے تو یہ سب کچھ پُورا ہو جائے گا۔
(یہی منظر مکاشفہ 10 میں دوبارہ پورا ہوتا ہے)●
عبرانیوں 6:13 — خدا نے ابراہیم سے قسم کھائی●
کیونکہ وہ اپنے سے بڑی ذات کی قسم نہیں کھا سکتا
مطلب:●
مکاشفہ 10 میں قسم کھانے والا خدا خود ہے۔
“جو ابدالآباد زندہ ہے” —زورآور فرشتہ کی الوہیت کا اعلان 2 —🔹
یہاں زورآور فرشتہ اپنے لفظوں میں اعلان کرتا ہے کہ وہ:
ابتدا سے ہے،انتہا تک رہے گا،حیاتِ ازلی ہے،موت سے بالاتر ہے،جسم، وقت، تاریخ، ادوار —اور سب پر غالب ہے۔یہ الفاظ صرف خدا کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
بائبل کے حوالہ جات:
خروج 3:14 — “مَیں ہوں جو مَیں ہوں”●
مکاشفہ 1:18 — “میں زندہ ہوں ابد تک”●
مکاشفہ 4:9 — “جو ہمیشہ سے زندہ ہے”●
یہ ثابت کرتا ہے کہ = خود خداوند یسوع مسیح۔
“جو ابدالآباد زندہ ہے” — عظیم الٰہی فیصلہ 3 —🔹
یہ اعلان ایک ایسا مقام ہے جہاں:
کلیسیاؤں کا دور بند●
رحمت کا دور سکڑ گیا●
عدالت کا دور شروع●
دُلہن کا زمانہ کھل گیا●
نبوتیں پوری ہونے لگیں●
خدا کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھنے لگا●
دنیا ناپ تول کے آخری لمحوں میں داخل ہو گئی●
اب خدا مزید انتظار نہیں کرے گا۔
بائبل کی روشنی میں “وقت ختم” کا مفہوم 🔹
دانی ایل 12:7(1)
آخر زمانہ میں “وقت کا خاتمہ” ہونے کا اعلان ہے۔
لوقا 21:24(2)
قوموں کا زمانہ ختم ہوگا — یعنی دنیا کی تاریخ آخری مرحلے میں داخل ہوگی۔
عاموس 8باب11–12(3)
لوگ خدا کا کلام ڈھونڈیں گے مگر نہ پائیں گے —رحمت کم ہوتی جائے گی۔
رومیوں 9:28(4)
خدا اپنے کام کو جلدی اور مکمل کرے گا —دیر نہیں رہے گی۔
برادر برینہم — وقت ختم ہونے کا حقیقی، روحانی مطلب🟦
سات کلیسیائی ادوار کا خاتمہ(1) 🔹
اب “کلیسیائی ادوار” ختم ہو چکے۔
مکاشفہ 10 کے بعد “دلہن کا زمانہ” شروع(2)🔹
اورخدا اب براہ راست دُلہن کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
دنیا عدالت میں داخل ہو چکی ہے (3) 🔹
زلزلے، وبائیں، جنگیں —یہ سب عدالت کی نشانیاں ہیں۔
رحمت کا دور تقریباً ختم(4)🔹
خُدا کی حضوری میں جو مقام پہلے رحم کا تخت تھا، وہ اب عدالت کا تخت بن چکا ہے، کیونکہ شفاعت کا دور پورا ہو گیا ہے۔ برّہ جو قوموں کے لیے قربانی اور رحمت کا نشان تھا، اب شیر کے طور پر ظاہر ہو چکا ہے تاکہ عدالت اور انصاف کو قائم کرے۔ یہی مکاشفہ کے زمانے کا اعلان ہے—رحمت کا دروازہ بند، اور عدالت کا وقت شروع۔
ساری نبوتیں پوری ہو رہی ہیں( 5)🔹
جو کچھ لکھا تھا — اب تیزی سے ظاہر ہو رہا ہے۔
نبوّتی مفہوم— “وقت ختم” کب ہوا؟🔹
برادر برینہم :🔹
جب سات مہریں کھلیں (1963)●
جب زورآور فرشتہ بادل میں نازل ہوا●
جب کھلی کتاب زمین پر آئی●
جب دُلہن کے زمانہ کا آغاز ہوا●
جب خدا نے “دُلہن کا بیداری کا زمانہ” شروع کیا●
تب روحانی وقت ختم ہوا۔اوردنیا کی گھڑی نہیں —بلکہ الٰہی منصوبے کی گھڑی بند ہو گئی۔
مکاشفہ 10باب5–6 — خلاصہ🟦
مکاشفہ 10باب5–6 میں زورآور فرشتہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر خدائی قسم کھاتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود خدا ہی ہے جو ابدالآباد زندہ ہے۔ اُس کا اعلان کہ “اب تاخیر نہ رہے گی” اس بات کا نشان ہے کہ پُرانا دَور ختم ہو گیا اور خدا کا پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ کھلی ہوئی کتاب بتاتی ہے کہ مہریں کھل چکی ہیں اور قدموں کا زمین اور سمندر پر رکھنا پوری دنیا پر اُس کے اختیار کی علامت ہے۔ یہ اعلان کہ “وقت ختم ہو گیا” دُلہن کے دَور کے آغاز، رپچر کے قریب ہونے، آنے والی عدالت اور آخری انجام کے جلد پورا ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
اصل پیغام (جو آیت کہنا چاہتی ہے):🟦
یہ آیت دراصل یہ اعلان کرتی ہے کہ خدا کا منصوبہ اب مزید رکا نہیں رہے گا اور دنیا آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ دُلہن کے لیے بیداری کا پیغام ہے کہ وقت ختم ہو چکا ہے، اس لیے اب تیاری پوری کرنی ہے، کیونکہ انجام اور رپچر قریب آ چکے ہیں۔
مکاشفہ 10:8🟦
“کھلی کتاب لینے کا حکم”🔹
اور جِس آواز دینے والے کو مَیں نے آسمان پر بولتے سُنا تھا اُس نے پھِر مُجھ سے مُخاطِب ہوکر کہا کہ جا۔ اُس فرِشتہ کے ہاتھ میں سے جو سَمَندَر اور خُشکی پر کھڑا ہے وہ کھُلی ہُوئی کِتاب لے لے۔
یہ آیت دُلہن کے عہد کے سب سے مضبوط مقامات میں سے ہے—کیونکہ یہاں پہلی بار انسان کو (یوحنا کے ذریعے) حکم دیا جاتا ہے:
“جاؤ”●
“کتاب لے لو”●
“وہ کتاب کھلی ہے”●
“اور وہ زورآوار فرشتہ کے ہاتھ میں ہے”●
یہ صرف ایک فرمان نہیں،بلکہ دُلہن کے لیے دعوت ہے کہ وہ:
کلام کو قبول کرے،اسے اندر لے،اسے کھائے،اور اس کے مطابق چلنے والی قوم بنے۔
“آسمان پر بولتے سُنا تھا اُس نے پھِر مُجھ سے مُخاطِب ہوکر کہا ” 🟦
یہ آواز وہی تھی جوآسمان سے آئی
مکاشفہ 10:4 میں یوحنا کو روک رہی تھی●
مکاشفہ 10:7 میں راز پورا ہونے کا اعلان کر رہی تھی●
اور اب یوحنا کو براہِ راست حکم دے رہی ہے●
یہ آواز = خدا کی آواز (Voice of God)🔹
بائبل حوالہ جات:🔹
مکاشفہ 1:10 → ●
اور اپنے پِیچھے نرسِنگے کی سی یہ ایک بڑی آواز سُنی۔”
مکاشفہ 4:1 → ●
“ اور جِس کو مَیں نے پیشتر نرسِنگے کی سی آواز سے اپنے ساتھ باتیں کرتے سُنا ”
مکاشفہ 14:2 →●
اور مُجھے آسمان پر سے ایک اَیسی آواز سُنائی دی جو زور کے پانی اور بڑی گرج کی سی آواز تھی اور جو آواز مَیں نے سُنی وہ اَیسی تھی جَیسے بربط نواز بربط بجاتے ہوں۔
برادر برینہم:🔹
“یہ وہی آواز ہے جو دُلہن کو بلاتی ہے۔جب خدا کا کلام کھلتا ہے تو وہ اپنی آواز سے بلا کر کہتا ہے: ‘آؤ… کتاب لو’.”
(The Feast of the Trumpets)
“جا اور کتاب لے لے” — یہ حکم کسے دیا جا رہا ہے؟ 🟦
یہاں بہت بڑا بھید ہے:
یہ حکم صرف یوحنا کے لیے نہیں،بلکہ یوحنا کے ذریعے دُلہن کے لیے ہے۔
یوحنا = دلہن کی نمائندگی●
یوحنا = نبیانہ دل●
یوحنا = کلیسیا سے محبت کرنے والا●
یوحنا = وہی کردار جو دُلہن کا ہے●
برادر برینہم:🔹
“یوحنا دلہن کی نمائندگی کرتا ہے،اس لیے جب آواز نے کہا ‘جا کتاب لے لے’ تو یہ حکم دراصل دُلہن کے لیے تھا۔”
(The Mighty Angel)
“وہ کتاب لے لے” — کتاب بند نہیں ہے، کھلی ہے🟦
یہ پہلی بار تاریخِ انسانیت میں“کھلی کتاب” انسان کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔
کھلی کتاب =
سات مُہر کھلی●
راز منکسف●
کلام زندہ●
مکمل مکاشفہ●
دُلہن کے ہاتھ میں سونپا گیا●
بائبل حوالہ جات:
دانی ایل 12:4 → “کتاب آخر زمانے میں کھلے گی”●
حزقی ایل 3:1 → “کتاب لے اور کھا!”●
مکاشفہ 5 → کتاب بند تھی●
مکاشفہ 10 → کتاب کھلی ہے●
برادر برینہم:🔹
مکاشفہ 10 باب میں کتاب بند نہیں — کھلی ہے۔اور کھلی کتاب صرف دُلہن کے لیے ہے،
باقی سب لوگوں کے لیے نہیں۔”
(The Breach)
“اُس فرشتے کے ہاتھ سے” — کتاب کا مالک کون؟🟦
یہ کتاب نہ کسی آدمی، نہ کسی بزرگ، نہ کسی فرشتے کے ہاتھ میں ہے — بلکہ خود مسیح کے ہاتھ میں ہے۔
Mighty Angel = Christ the Word
اسی لیے کتاب محفوظ، مقدس، کامل، شفاف اور زندہ حالت میں دُلہن تک پہنچ رہی ہے۔
برادر برینہم:🔹
کتاب صرف اسی کے ہاتھ میں ہو سکتی ہے جو اسے چھڑا سکتا ہے— یعنی مسیح، وہی زورآور فرشتہ۔
(The Revelation of the Seven Seals)
نبوی مفہوم — کتاب لینا = دُلہن کا مقام 🟦
“کتاب لینا” صرف جسمانی عمل نہیں، بلکہ روحانی قبولیت ہے۔
اس کا مطلب ہے:
دُلہن نے ظاہر شدہ کلام قبول کر لیا●
دُلہن نے خدا کی مرضی تسلیم کر لی●
دُلہن کلام پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے●
دُلہن مکاشفہ کے دور میں داخل ہو گئی●
دُلہن پر سات گرجوں کے راز کھل گئے●
برادر برینہم:🔹
”دُلہن کو لازماً کتاب لینی ہے؛ اگر وہ کتاب نہیں لیتی تو رَپچر ممکن نہیں۔“
(The Rapture Message)
مکاشفہ 10:8 — مختصر لُبِ لباب🟦
مکاشفہ 10:8 کا خلاصہ یہ ہے کہ آسمان کی آواز دُلہن کو مسیح کے ہاتھ میں موجود سات مہروں کی کھلی ہوئی کتاب لینے کے لیے بلا رہی ہے، کیونکہ یوحنا دُلہن کی تصویر ہے، اور اس کتاب کو لینا دُلہن کی عظیم روحانی ذمہ داری ہے جو اسے “ظاہر شدہ کلام” کی قوم بناتی ہے۔
اصل پیغام (جو آیت کہنا چاہتی ہے)🟦
اے دُلہن! کلام کو قبول کر، کتاب کو لے، اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنا، کیونکہ یہی تیرا رَپچر کا راستہ ہے۔
مکاشفہ 10باب9–10 🟦
“کتاب لینا اور کھانا”🔹
تب مَیں نے اُس فرِشتہ کے پاس جا کر کہا کہ یہ چھوٹی کِتاب مُجھے دے دے۔ اُس نے مُجھ سے کہا لے اِسے کھا لے۔ یہ تیرا پیٹ تو کڑوا کر دے گی مگر تیرے مُنہ میں شہد کی طرح مِیٹھی لگے گی۔
پَس مَیں وہ چھوٹی کِتاب اُس فرِشتہ کے ہاتھ سے لے کر کھا گیا۔ وہ میرے مُنہ میں تو شہد کی طرح مِیٹھی لگی مگر جب مَیں اُسے کھا گیا تو میرا پیٹ کڑوا ہوگیا۔
یہ دونوں آیات دُلہن کے روحانی سفر، ذمہ داری، مکاشفاتی خوراک، اور عملی زندگی کا مرکز ہیں۔یہی دُلہن کا رُوحانی امتحان، تیاری، اور رَپچر کے لیے کامل حالت ہے۔
“میں فرشتے کے پاس گیا” — دُلہن کا قدم🟦
یوحنا، جو دُلہن کی تصویر ہے،خود چل کر زورآوار فرشتہ کے پاس جاتا ہے۔
مطلب:●
دُلہن کو خود حرکت کرنا ہوگی●
اسے کلام کے پاس جانا ہوگا●
اسے ظاہر شدہ کلام لینے کی خواہش کرنی ہوگی●
یہ زبردستی نہیں—نہ جبر، نہ دباؤ●
دُلہن “خود چل کر” کلام کے پاس آتی ہے●
برادر برینہم🔹
“دلہن خود کتاب لینے جاتی ہے؛اسی لیے وہ دُلہن کہلاتی ہے—وہ کلام کے پیچھے چلتی ہے۔
(The Mighty Angel)
“مجھے وہ کھلی کتاب دے” — دُلہن کی درخواست🟦
یہ دنیا والوں کی نہیں، نہ فرقوں یا عالموں کی آواز ہے، بلکہ یہ صرف دُلہن کی پکار ہے جو سادگی اور سچائی سے کہتی ہے: “مجھے کلام دے!” یہی دُلہن کی اصل روح ہے کہ وہ کسی انسانی نظریے یا روایت کو نہیں مانگتی بلکہ صرف کتاب، یعنی زندہ کلام کی بھوک رکھتی ہے۔
بائبل حوالہ جات:🔹
حزقی ایل 3:1 → ●
پھر اس نے مجھے کہا کہ اے آدمزاد جو کچھ تو نے پایا سو کھا۔ اس طومار کو نگل جا
متی 4:4 → ●
آدمِی صِرف روٹی ہی سے جِیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خُدا کے مُنہ سے نِکلتی ہے۔
زبور 119:103 → ●
تیری باتیں میرے لئے کیسی شرین ہیں! وہ میرے مُنہ کو شہد سے بھی میٹھی معلوم ہوتی ہیں۔
“لے اِسے کھا لے” — سب سے طاقتور حکم🟦
زورآوار فرشتہ نے کہا:
“لے”●
“کھا جا”●
یہ دو لفظ دُلہن کے مکمل روحانی سفر کا خلاصہ ہیں۔
“لے” = کلام کو قبول کرنا
“کھا جا” = کلام کو اندر لینا، اختیار کرنا، جیون بنانایہاں صرف پڑھنا نہیں—بلکہ کلام کو جینا ہے۔
کتاب کھانا = کلام کو اندر جذب کرنا🟦
کتاب کھانا صرف علامت نہیں؛یہ ایک روحانی حقیقت ہے:●
کلام خون بن جائے●
کلام مزاج بن جائے●
کلام سوچ بن جائے●
کلام طبیعت بن جائے●
کلام عمل بن جائے●
برادر برینہم🔹
“کتاب کو کھانا یہ ہے کہ تم خود کلام بن جاؤ۔”
(The Feast of the Trumpets)
“مُنہ میں شہد کی طرح مِیٹھی ” — مکاشفے کی خوشی🟦
جب دُلہن کلام کو صحیح معنی میں سمجھتی ہے تو یہی کلام اُس کے لیے میٹھا اور خوشی بخش بن جاتا ہے۔ وہ اُس میں روشنی، راحت، زندہ پانی اور نئی قوت پاتی ہے۔ کلام اُس کے دل کو تازگی دیتا ہے اور اُس کی روح کو مضبوط کرتا ہے، کیونکہ وہ جان لیتی ہے کہ یہی اُس کی زندگی اور اس کی حقیقی خوراک ہے۔
بائبل حوالہ جات:🔹
زبور 119:103 → “تیرا کلام شہد سے میٹھا ہے”●
امثال 24باب13–14 → “حکمت شہد کی مانند ہے”●
یرمیاہ 15:16 → ●
تیرا کلام ملا اور میں نے اسے نوش کیا اور تیری باتیں میرے دل کی خوشی اور خرمی تھیں ۔
جب مَیں اُسے کھا گیا تو میرا پیٹ کڑوا ہوگیا۔ — دُلہن کا امتحان🟦
یہی وہ عظیم راز ہے کہ مکاشفہ اپنے آپ میں میٹھا ہوتا ہے، مگر اُس مکاشفے کے مطابق چلنا انسان کے لیے کڑوا ثابت ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ سچائی پر قائم رہنا قربانی مانگتا ہے، اور کلام کی اطاعت نفس کو مرنے پر مجبور کرتی ہے۔ دنیا مخالفت کرتی ہے، فرقے دشمن بن جاتے ہیں، اور کئی رشتہ دار بھی دور ہو جاتے ہیں۔ عملی مسیحی زندگی آسان نہیں ہوتی، مگر یہی راستہ دُلہن کو خالص، مضبوط اور کلام کے مطابق بناتا ہے۔
برادر برینہم🔹
دُلہن کو دونوں کا تجربہ ہونا ضروری ہے—میٹھا مکاشفہ اور کڑوی آزمائش۔”
(The Feast of the Trumpets)
پیٹ میں کڑوا ہونے کا نبوتی مطلب🟦
دُلہن کو اپنے ایمان کی قیمت ادا کرنی ہوتی ہے، کیونکہ اس سفر میں قربانی، جدوجہد اور ثابت قدمی ضروری ہے۔ عملی مسیحی زندگی کے امتحانات اُس کے عزم کو پرکھتے ہیں، اور ہر روز اُسے کلام کو اپنے عمل سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ حالات، لوگوں اور دنیا کی مخالفت کے باوجود دُلہن سچائی کے ساتھ کھڑی رہتی ہے، کیونکہ اُس کی وفاداری صرف کلام کے ساتھ ہوتی ہے۔
مکاشفہ 10باب9–10— خلاصہ🟦
دُلہن فرشتے کے پاس جانے کی طرح کلام کی طرف بڑھتی ہے، کتاب مانگنا اُس کی روحانی بھوک کی علامت ہے، اور کتاب لینا اس بات کی نشانی کہ وہ کلام کو دل سے قبول کرتی ہے۔ جب وہ کتاب کو کھاتی ہے تو کلام اُس کے منہ میں مکاشفہ کی خوشی کی طرح میٹھا محسوس ہوتا ہے، مگر پیٹ میں اُس کی کڑواہٹ اطاعت، قربانی اور آزمائش کے مراحل کو ظاہر کرتی ہے۔
اصل روحانی پیغام🟦
مکاشفہ پہلے میٹھا، پھر اس پر چلنا کڑوا، اور یہی دُلہن کا راستہ ہے۔ وہ کلام کو اندر جذب کرتی ہے، اُس پر چلتی ہے، اور یوں رَپچر کے قابل بنتی ہے۔
مکاشفہ 10:11 : 🟦
اور مُجھ سے کہا گیا کہ تُجھے بہُت سی اُمّتوں اور قَوموں اور اہلِ زبان اور بادشاہوں پر پھِر نُبُوّت کرنا ضرُور ہے۔
یہ آیت مکاشفہ 10 کا اختتامی حکم ہے —جو زورآوار فرشتہ (مسیح) کی طرف سے یوحنا کے ذریعے دُلہن کو دیا جاتا ہے۔یہ پوری دُلہن کی خدمت، مشن، اور عالمی گواہی کا مرکزی حکم ہے۔
“تجھے پھر… نبوت کرنا ضرُور ہےے”:🟦
“پھر” = دوبارہ●
یہاں “پھر” بہت گہرا لفظ ہے۔
کیوں؟
یوحنا اس سے پہلے بھی نبوت کرتا رہا تھا—یسوع کے ساتھ چلتے ہوئے، انجیل لکھتے وقت، رسائل میں، اور مکاشفہ کی رویاؤں میں۔ مگر یہاں خدا ایک خاص اعلان کرتا ہے: “اے یوحنا، اے دُلہن! اس آخری دور کی نبوت مختلف ہے، یہ نئی ہے، یہ آخری گواہی ہے۔” یہ نبوت اُس مہریں کھلنے کے بعد والے دور سے تعلق رکھتی ہے، جہاں دُلہن کو ایک منفرد پیغام اور آخری گواہی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
لیکن خدا کہہ رہا ہے:“اے یوحنا (اے دُلہن)!یہ آخری دور کی نبوت الگ ہے۔یہ نئی ہے۔
یہ آخری گواہی ہے۔
یہ “پھر نبوت کرنا” = آخری زمانے کا پیغام ہے۔
یوحنا = دُلہن کی تصویر: 🟦
برادربرینہم کے پیغام میں یوحنا مکمل طور پر دُلہن کی نمائندہ اور علامتی تصویر ہے۔ کیونکہ:
یوحنا وہ شخص تھا جو یسوع سے گہری محبت رکھتا تھا اور جس کا دل کلام کے لیے نہایت حساس تھا۔ وہ رسولوں میں سب سے زیادہ مکاشفات کا حامل تھا اور اس میں ایک مضبوط نبیانہ روح پائی جاتی تھی۔ اسی لیے خدا نے اسے لمبی عمر دی تاکہ وہ آخری وقت تک زندہ رہے اور وہ سب کچھ دیکھ سکے جو دُلہن کے دَور سے متعلق تھا۔
برادربرینہم :🔹
“یوحنا دُلہن کی نمائندگی کرتا ہے۔جو حکم یوحنا کو ملا وہ اصل میں دُلہن کے لیے ہے۔”
(The Mighty Angel)
“نُبُوّت کرنا ضرُور ہے” = دُلہن نبیانہ قوم ہے:🟦
یہاں “نبوت” سے مراد نئی کتابیں لکھنا، بائبل میں اضافہ کرنا یا نبیوں کی حیثیت اختیار کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کلام کی سچی گواہی دینا، روحانی بصیرت رکھنا، خدا کے منصوبے کی تشریح کرنا اور آخر زمانے کی پہچان حاصل کرنا۔ یہ وہ ذمہ داری ہے جو دُلہن کو پیغام کی منادی کے ذریعے سونپی گئی ہے، کیونکہ دُلہن ہی آج کی نبوّتی آواز ہے، جو دنیا کو آخری گواہی پہنچا رہی ہے۔
بائبل حوالہ جات:🔹
یوایل 2باب:28–29
“تمہارے بیٹے بیٹیاں نبوت کریں گے…”
مکاشفہ 19:10
“کِیُونکہ یِسُوع کی گواہی نُبُوّت کی رُوح ہے۔۔”
1 کرنتھیوں 14:3
“ لیکِن جونُبُوّت کرتا ہے وہ آدمِیوں سے ترقّی اور نصِیحت اور تسلّی کی باتیں کہتا ہے۔”
برادربرینہم :🔹
دُلہن ایک نبوّتی قوم ہے۔وہ خدا کی آواز ہے—وہ آخری گواہی ہے۔”
(The Spoken Word is the Original Seed)
“قوموں، اُمتوں، زبانوں اور بادشاہوں” — عالمی گواہی:🟦
یہ پیغام نہ مقامی ہے، نہ علاقائی، نہ کسی ایک قوم—یہودیوں یا یونانیوں—کے لیے مخصوص ہے، اور نہ ہی یہ صرف امریکا یا مشرق کا پیغام ہے۔ بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے بھیجا گیا آخری الٰہی اعلان ہے۔ اسی لیے ایند ٹائم میسج آج پوری دنیا میں پھیل رہا ہے، کیونکہ اس کی آواز ہر قوم، ہر نسل اور ہر زبان تک پہنچنی ہے۔
بائبل حوالہ جات:🔹
متی 24:14 →
اور بادشاہی کی اِس خُوشخَبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قَوموں کے لِئے گواہی ہو۔ تب خاتِمہ ہوگا۔
مکاشفہ 14:6 →
پھِر مَیں نے ایک اور فرِشتہ کو آسمان کے بِیچ میں اُڑتے ہُوئے دیکھا جِس کے پاس زمِین کے رہنے والوں کی ہر قَوم اور قبِیلہ اور اہلِ زبان اور اُمّت کے سُنانے کے لِئے ابدی خُوشخَبری تھی۔
زبور 67 → “سب قومیں تیرا جلال دیکھیں!”
برادربرینہم :🔹
“یہ پیغام پوری دنیا میں جائے گا—ہر قوم، ہر زبان، ہر قبیلے اور ہر ملک میں!”
(End-Time Evangelism)
ایند ٹائم میسج میں “نبوت کرنا” کا عملی مطلب:🟦
سات مہروں کا پیغام دنیا تک پہنچانا:●
سات گرجوں کی گواہی دینا:●
مسیح، یعنی کلام کو ظاہر کرنا:●
دُلہن کو تیار کرنا:●
پیغام کا عالمی اعلان کرنا:●
آخری بُلاہٹ دینا:●
دنیا کوعدالت کی خبر دینا:●
رَپچر کے لیے قوم تیار کرنا:●
برادر برینہم نے فرمایا:🔹
“دُلہن ہی یہ پیغام دوبارہ سنائے گی—کسی آدمی کے ذریعے نہیں،بلکہ خود دُلہن کے ذریعے۔”
(The Third Pull)
نبوی مفہوم— “دوبارہ نبوت کرنا” کیا ہے؟🟦
یہ وہ مقام ہے جہاں
دُلہن پیغام کو اٹھا کر پوری دنیا میں لے جاتی ہے:●
وہی تحریک جو یسوع کے بعد رسولوں کے ذریعے تھی:●
پھر آخری دور میں دُلہن کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے:●
یہ دُلہن کا آخری مشن ہے:●
یہی وجہ ہے کہ آج:●
ویب سائٹس:●
وڈیوز:●
کتب:●
آڈیو:●
سوشل میڈیا●
گلوبل مشن:●
ترجمے:●
سب میں میسج پھیل رہا ہے :●
یہ مکاشفہ 10:11 کا پورا ہونا ہے۔:●
مکاشفہ 10:11 —خلاصہ:🟦
مکاشفہ 10:11 کا خلاصہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یوحنا کو دیا گیا حکم دراصل آخری زمانے میں دُلہن کے لیے حکم ہے—“پھر نبوت کر” یعنی آخری پیغام کی نئی اور عالمی منادی۔ یہ گواہی قوموں، زبانوں اور بادشاہوں تک پہنچنی ہے، کیونکہ دُلہن ایک نبوّتی قوم ہے جو مسیح کی آخری آواز بن کر مہروں اور گرجوں کی سچی گواہی دنیا تک پہنچاتی ہے۔ یہی آخری بُلاہٹ ہے، جس کے ذریعے دنیا کو فیصلے سے پہلے خبردار کیا جاتا ہے۔
اصل پیغام (جو آیت کہنا چاہتی ہے):🟦
“اے دُلہن! اب تیرا فرض ہے کہ دنیا بھر تک کلام کی گواہی پہنچا دے۔ تجھے دوبارہ نبوت کرنی ہے—قوموں، زبانوں اور بادشاہوں تک آخری پیغام سنانا ہے، کیونکہ دنیا کا وقت اپنے اختتام پر ہے اور رَپچر کا وقت قریب آ چکا ہے۔ یہ وہ گھڑی ہے جب دُلہن کو خدا کی آخری آواز بن کر کھڑا ہونا ہے۔
مکاشفہ 10 — مختصر خلاصہ (آیات 1 تا 11) : 🟦
زورآور فرشتہ (آیت 1):🔹
آسمان سے بادل اوڑھے نازل ہونے والا زورآور فرشتہ خود مسیح ہے
قوسِ قزح عہد کی نشانی، چہرہ سورج کی مانند، اور پاؤں آگ کے ستون۔
کھلی کتاب (آیت 2):🔹
یہ وہی کتاب ہے جو مکاشفہ 5 میں بند تھی؛اب سات مُہر کھل چکے اور کتاب دُلہن کے لیے کھلی ہے۔
شیر کی گرج اور سات گرجیں (آیت 3–4):🔹
مسیح شیر کی مانند گرجتا ہے اور سات گرجیں بھیدوں کا کلام بولتی ہیں،مگر اُن کا پیغام مہر بند رکھا گیا—کیونکہ یہ آخر زمانہ کی دُلہن کے لیے مخصوص تھا۔
وقت کا خاتمہ (آیت 5–7):🔹
زورآور فرشتہ قسم کھا کر اعلان کرتا ہے:“اب اور دیرنہ ہوگی!”کلیسیائی ادوار ختم، دلہن کا زمانہ شروع،اور خدا اپنے تمام راز پورے کر رہا ہے۔
کتاب لینا اور کھانا (آیت 8–10):🔹
دُلہن (یوحنا کی تصویر) کو حکم ملتا ہے:“کتاب لے اور کھا جا!”کلام سمجھ میں آئے تو میٹھا ہے،
لیکن اس پر چلنا کڑوی آزمائش کا سبب بنتا ہے۔
آخری عالمی گواہی (آیت 11):🔹
دُلہن کو حکم:“پھر نبوت کر—قوموں، زبانوں اور بادشاہوں کے سامنے!”یعنی آخر زمانے کا پیغام پوری دنیا تک پہنچانا دُلہن کی ذمہ داری ہے۔
آخری خلاصہ:🟦
مکاشفہ 10 دُلہن کے لیے خدا کا آخری پیغام ہے—
مسیح نازل ہوا، کتاب کھلی، راز ظاہر ہوئے،وقت ختم ہوا، اور دُلہن کو کلام لے کر
دنیا بھر میں آخری گواہی دینے کا حکم ملا۔
وضاحتی نوٹ
یہ مطالعہ مکاشفہ کی کتاب کا ایک جامع مگر خلاصہ پیشکش ہے۔ چونکہ یہ کتاب نہایت گہری، نبوتی اور روحانی پہلو رکھتی ہے، اس لیے ہر آیت اور ہر علامت میں مزید تفصیل اور گہرائی موجود ہے۔ جہاں ضرورت محسوس ہو، وہاں مزید تشریح، حوالہ جات اور روحانی پہلو شامل کیے جا سکتے ہیں۔
اس تحریر کا مقصد مکمل حتمی تشریح پیش کرنا نہیں بلکہ کلام کی مرکزی سچائیوں کو واضح کرنا ہے۔ قاری کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ ذاتی مطالعہ، دعا اور روح القدس کی راہنمائی کے ذریعے مزید گہرائی حاصل کرے۔
اگر کسی مقام پر مزید وضاحت یا تفصیل کی ضرورت ہو تو آئندہ حصوں میں اسے وسعت دی جا سکتی ہے، کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور مسلسل ظاہر ہونے والا ہے۔
براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں
واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔
✝️ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)
مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج از ہلسنکی فن لینڈ