مکاشفہ16 تا 22ابواب آیت بہ آیت مطالعہ آخری زمانہ کے پیغام کی روشنی میں
مکاشفہ 16 تا 22 — آخری زمانہ کا مکمل منظرنامہ
مجموعی تقسیم 🟦
مکاشفہ 16🔹
سات پیالے — خدا کا حتمی غضب●
٘٘مخالف مسیح نظام، اس کے پیروکاروں اور دنیا پر آخری فیصلے●
مکاشفہ 17🔹
مذہبی بابل — فاحشہ عورت●
رومی مذہبی نظام اور اس کی بیٹیوں کا انکشاف●
مکاشفہ 18🔹
بابل کی مکمل تباہی●
مذہبی + معاشی نظام کا خاتمہ●
مکاشفہ 19🔹
برّہ کی شادی + ہرمجدون●
دُلہن کی شان اور ٘٘مخالف مسیح فوجوں کی شکست●
مکاشفہ 20🔹
ہزار سالہ بادشاہی + آخری عدالت●
شیطان کی قید،ہزار سالہ بادشاہی،عظیم سفید تخت کی عدالت●
مکاشفہ 21🔹
نیا آسمان اور نئی زمین●
ابدیت کا آغاز، خدا کا انسانوں کے ساتھ سکونت کرنا●
مکاشفہ 22🔹
ابدیت کا اختتام اور آخری دعوت●
زندگی کا درخت، پانیِ حیات، “میں جلد آتا ہوں”●
تفسیرمکاشفہ باب 16 سات پیالے (خدا کا آخری غضب)
مکاشفہ باب 16آیت 1🟦
پھِر مَیں نے مَقدِس میں سے کِسی کو بڑی آواز سے اُن ساتوں فرِشتوں سے یہ کہتا سُنا کہ جاؤ۔ خُدا کے قہر کے ساتوں پیالوں کو زمِین پر اُلٹ دو۔
سات پیالوں کا آغاز🔹
یہ آواز براہِ راست ہیکل سے آتی ہے، جو اس بات کی قطعی نشاندہی کرتی ہے کہ اب فضل کا زمانہ مکمل ہو چکا ہے اور دنیا فیصلہ کن طور پر عدالت کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ مکاشفہ 15:8 کے مطابق ہیکل دھوئیں سے بھر گئی تھی اور کوئی اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شفاعت کا کام ختم ہو چکا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ سات پیالے کلیسیا یا دلھن کے لیے نہیں بلکہ اُن لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نے جان بوجھ کر فضل کے پیغام کو رد کیا۔ دلھن اس وقت تک اُٹھائی جا چکی ہوتی ہے، اس لیے یہ عدالت اُن پر آتی ہے جو حیوان کے مذہبی و سیاسی نظام میں شامل ہو گئے تھے، جیسا کہ 1-تھسلنیکیوں 4باب16–17 اور مکاشفہ 3:10 میں وعدہ کیا گیا ہے کہ دلھن کو آنے والے غضب سے بچایا جائے گا۔
مکاشفہ باب 16 —آیت 2 🟦
پہلا پیالہ: بدترین زخم🔹
پَس پہلے نے جا کر اپنا پیالہ زمِین پر اُلٹ دِیا اور جِن آدمِیوں پر اُس حَیوان کی چھاپ تھی اور جو اُس کے بُت کی پرستِش کرتے تھے اُن کے ایک بُرا اور تکلِیف دینے والا ناسُور پَیدا ہو گیا۔
یہ عدالت خاص طور پر اُن لوگوں کو نشانہ بناتی ہے جنہوں نے حیوان کا نشان قبول کیا تھا۔ برادر برینہم واضح کرتے ہیں کہ یہ نشان محض جسمانی مہر نہیں بلکہ روحانی وفاداری کی علامت ہے، یعنی اُس نظام کے ساتھ ذہنی، عقیدتی اور مذہبی سمجھوتہ جو کلامِ خدا کے خلاف کھڑا ہے (مکاشفہ 13باب16–17)۔ یہ پھوڑے مصر کی چھٹی آفت کی یاد دلاتے ہیں (خروج 9باب:8–11)، جس سے یہ اصول دوبارہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح خدا نے مصر میں اپنے لوگوں اور فرعون کے نظام میں فرق رکھا، اُسی طرح آخری دنوں میں بھی وہ اپنے لوگوں اور حیوان کے پیروکاروں میں واضح امتیاز قائم کرتا ہے (خروج 8:23)۔
مکاشفہ باب 16 — آیت 3 🟦
اور دُوسرے نے اپنا پیالہ سَمَندَر میں اُلٹا اور وہ مُردے کا سا خُون بن گیا اور سَمَندَر کے سب جاندار مر گئے۔
دوسرا پیالہ🔹
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ عدالت اب محدود نہیں بلکہ عالمی ہو چکی ہے۔برادر برینہم کے مطابق سمندر نہ صرف قدرتی پانی بلکہ اقوام، ہجوموں اور عوامی نظاموں کی علامت بھی ہے (مکاشفہ 17:15)۔ جس دنیاوی نظام کو لوگ زندگی، ترقی اور تحفظ کا ذریعہ سمجھتے تھے، وہ اب مکمل طور پر موت میں بدل جاتا ہے۔ یہ اُن لوگوں پر آنے والی عدالت ہے جنہوں نے سچائی کو رد کیا اور جھوٹ کو قبول کیا، جیسا کہ 2-تھسلنیکیوں 2باب10–12 میں بیان ہے کہ خدا اُن پر گمراہی کی تاثیر آنے دیتا ہے کیونکہ انہوں نے سچائی سے محبت نہ کی۔
مکاشفہ باب 16 — آیات 4۔7 🟦
تیسرا پیالہ: ندیوں اور چشموں کا خون بن جانا🔹
اور تِیسرے نے اپنا پیالہ دریاؤں اور پانی کے چشموں پر اُلٹا اور وہ خُون بن گئے۔
اور مَیں نے پانی کے فرِشتہ کو یہ کہتے سُنا کہ اَے قُدُّوس! جو ہے اور جو تھا تُو عادِل ہے کہ تُو نے یہ اِنصاف کِیا۔
کِیُونکہ اُنہوں نے مُقدّسوں اور نبِیوں کا خُون بہایا تھا اور تُو نے اُنہِیں خُون پِلایا۔ وہ اِسی لائِق ہیں۔
پھِر مَیں نے قُربان گاہ میں سے یہ آواز سُنی کہ اَے خُداوند خُدا قادِرِ مُطلَق! بیشک تیرے فیصلے درُست اور راست ہیں۔
یہاں پانی، جو ہمیشہ زندگی، تازگی اور پاکیزگی کی علامت رہا ہے، اب لہو میں بدل جاتا ہے۔ یہ محض قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی اعلان ہے۔ پانی وہ وسیلہ تھا جس سے انسان جسمانی اور روحانی زندگی پاتا تھا، مگر چونکہ اسی دنیا نے خدا کے نبیوں، مقدسوں اور سچائی کے گواہوں کا لہو بہایا، اس لیے اب زندگی کا ذریعہ ہی عدالت میں بدل جاتا ہے۔ فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ یہ عدالت راست اور منصفانہ ہے، کیونکہ خدا کسی جذباتی ردِعمل سے نہیں بلکہ کامل انصاف کے اصول پر کام کرتا ہے۔ جنہوں نے دوسروں کا لہو بہایا، اُنہیں لہو ہی پینے کو دیا گیا، اور یہی وہ اصول ہے جسے برادر برینہم“خدا کی اخلاقی مساوات” کہتے ہیں—یعنی جیسے بویا ویسے کاٹا (گلتیوں 6:7)۔
یہی وہ فریاد ہے جو پہلے مکاشفہ 6–باب9۔11 میں مذبح کے نیچے شہیدوں نے کی تھی، جب انہوں نے پوچھا تھا کہ “اے مالک، کب تک؟” اب اُس فریاد کا مکمل اور حتمی جواب دیا جا رہا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق اس مقام پر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ خدا اپنے لوگوں کے آنسو اور اُن کا بہایا ہوا لہو کبھی نہیں بھولتا، بلکہ مقررہ وقت پر مکمل انصاف ضرور ظاہر کرتا ہے۔
مکاشفہ باب 16 — آیات8 تا 9🟦
اور چوتھے نے اپنا پیالہ سُورج پر اُلٹا اور اُسے آدمِیوں کو آگ سے جھُلس دینے کا اِختیّار دِیا گیا۔
اور آدمِی سخت گرمی سے جھُلس گئے اور اُنہوں نے خُدا کے نام کی نِسبت کُفر بکا جو اِن آفتوں پر اِختیّار رکھتا ہے اور تَوبہ نہ کی کہ اُس کی تمجِید کرتے۔
یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ خدا کا غضب اب قدرتی نظاموں کے ذریعے براہِ راست انسان کو چھو رہا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق سورج، جو زندگی اور روشنی کا ذریعہ تھا، اب عدالت کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جب انسان خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو رد کرتا ہے تو وہی نعمتیں خدا کے ہاتھ میں سزا کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ اس شدید تپش کے باوجود لوگ توبہ نہیں کرتے بلکہ خدا کے نام کی کفر بکتے ہیں۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ انسان کے دل کی آخری حالت کو ظاہر کرتا ہے—اب دل اس قدر سخت ہو چکا ہے کہ درد، عذاب اور نشانیاں بھی اسے خدا کی طرف نہیں موڑ سکتیں۔ یہ ضد اور ہٹ دھرمی ثابت کرتی ہے کہ یہ فیصلے بے جا نہیں، کیونکہ جنہوں نے جان بوجھ کر نور کو رد کیا تھا، وہ اب بھی اندھیرے کو چُنے رکھتے ہیں۔
رومیوں 2:5●
بلکہ تُو اپنی سختی اور غَیر تائیب دِل کے مُطابِق اُس قہر کے دِن کے لِئے اپنے واسطے غضب کما رہا ہے جِس میں خُدا کی سَچّی عدالت ظاہِر ہو۔
یہ پیالہ واضح کرتا ہے کہ اب مقصد توبہ کرانا نہیں بلکہ انسان کے انتخاب کو ظاہر کرنا ہے۔ دُلہن اس وقت زمین پر موجود نہیں؛ یہ غضب صرف اُن پر ہے جنہوں نے مخالفِ مسیح کے نظام سے وفاداری اختیار کی۔ چوتھا پیالہ اعلان کرتا ہے کہ جب فضل کا وقت گزر جاتا ہے تو عذاب بھی انسان کو نہیں بدلتا—وہ صرف اس کی اصل حالت کو ظاہر کرتا ہے۔
سورج کی یہ شدت خداوند کے دن کی پیشگی جھلک ہے۔●
ملاکی 4:1●
کیونکہ وہ دن آتا ہے جو بھٹی کی مانند سوزان ہو گا۔ تب سب مغرور اور بد کردار بھوسے کی مانند ہوں گے اور وہ دن ان کو ایسا جلاے گا کہ شاخ و بن کچھ نہ چھوڑے گا رب الافواج فرماتا ہے ۔
مکاشفہ باب 16 — آیات 10 تا 11🟦
اور پانچویں نے اپنا پیالہ اُس حَیوان کے تخت پر اُلٹا اور اُس کی بادشاہی میں اَندھیرا چھا گیا اور درد کے مارے لوگ اپنی زبانیں کاٹنے لگے۔
اور اپنے دُکھوں اور ناسُوروں کے باعِث آسمان کے خُدا کی نِسبت کُفر بکنے لگے اور اپنے کاموں سے تَوبہ نہ کی۔
یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ خدا کا غضب اب براہِ راست مخالفِ مسیح کی سلطنت کے مرکز پر آ پڑا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “تخت” سے مراد وہ سیاسی اور مذہبی اقتدار ہے جس کے ذریعے مخالفِ مسیح دنیا پر حکومت کر رہا تھا۔ اب وہی سلطنت، جو خود کو روشنی، امن اور نجات دہندہ ظاہر کرتی تھی، مکمل تاریکی میں ڈوب جاتی ہے۔ یہ تاریکی صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی، ذہنی اور حکومتی اندھیرے کی علامت ہے۔
لوگوں کا درد کے مارے زبانیں چبانا اس شدید اذیت کو ظاہر کرتا ہے جو اس تاریکی کے ساتھ آتی ہے۔ مگر اس کے باوجود، برادر برینہم زور دیتے ہیں کہ سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ لوگ توبہ نہیں کرتے بلکہ خدا کے خلاف کفر بکتے رہتے ہیں۔ یہ دل کی وہ حالت ہے جہاں انسان کی ضد اور بغاوت آخری حد تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ اب نہ سزا، نہ تکلیف، نہ اندھیرا—کچھ بھی انسان کو خدا کی طرف نہیں موڑ سکتا۔
جیسے مصر میں، ویسے ہی اب — جھوٹی سلطنت تاریکی میں ڈوب جاتی ہے۔
خروج 10باب21–23●
پھر خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا تاکہ مُلِک مصر میں تاریکی چھا جائے ۔ اُیسی تاریکی جسے ٹٹول سکیں۔
اور مُوسیٰ نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھایا اور تین دِن تک سارے مُلک مصر میں گہری تاریکی رہی ۔
تین دِن تک نہ تو کسِی نے کسِی کودیکھااور نہ کوئی اپنی جگہ سے ہلا پر سب بنی اسرائیل کے مکانوں میں اُجالا رہا ۔
یہ پیالہ واضح کرتا ہے کہ مخالفِ مسیح کی سلطنت نہ صرف طاقت میں ٹوٹتی ہے بلکہ اخلاقی اور روحانی طور پر بھی بکھر جاتی ہے۔ دُلہن اس وقت زمین پر موجود نہیں؛ یہ غضب اُن پر ہے جنہوں نے جان بوجھ کر جھوٹ کو سچ پر ترجیح دی۔ پانچواں پیالہ اعلان کرتا ہے کہ جب انسان جھوٹی روشنی کے پیچھے چلتا ہے تو اس کا انجام مکمل تاریکی ہوتا ہے۔
یسعیاہ 60:2●
کیونکہ دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائے گی اور تیرگی اُمتوں پر لیکن خداوند تجھ پر طالع ہو گیا اور اُس کا جلال تجھ پر نمایاں ہو گا۔
مخالفِ مسیح کی سلطنت = اندھیرا●
دُلہن = پہلے ہی روشنی میں منتقل●
درد، ناسور اور پھر بھی کفر●
امثال 29:1●
و بار بار تنبیہ پا کر بھی گردن کشی کرتا ہے ناگہان بر باد کیا جٓائیگا اور اُسکا کوئی چارہ نہ ہوگا ۔
درد بھی اب اندرونی بغاوت کو نہیں توڑ سکتا۔●
مکاشفہ باب 16 — آیت 12🟦
اور چھٹّے نے اپنا پیالہ بڑے دریا یعنی فرات پر اُلٹا اور اُس کا پانی سُوکھ گیا تاکہ مشرِق سے آنے والے بادشاہوں کے لِئے راہ تیّار ہو جائے۔
یہ آیت خدا کے غضب کے ایک نہایت نبوتی اور اسٹریٹجک مرحلے کو ظاہر کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق دریائے فرات قدیم زمانے سے حد، رکاوٹ اور حفاظت کی علامت رہا ہے—خاص طور پر اسرائیل اور مشرقی اقوام کے درمیان۔ اس کا سوکھ جانا اس بات کی نشانی ہے کہ اب خدا خود قوموں کے لیے راستہ کھول رہا ہے تاکہ وہ آخری تصادم کے لیے جمع ہوں۔
“مشرق کے بادشاہ” سے مراد وہ اقوام ہیں جو اسرائیل کے مشرق میں واقع ہیں۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہرماجدون کی تیاری ہے—جہاں مخالفِ مسیح کا نظام اپنی آخری فوجی قوت جمع کرتا ہے۔ یہ راہ ہموار ہونا اتفاق نہیں بلکہ خدا کی اجازت سے ہے، تاکہ دنیا کے تمام باغی نظام ایک جگہ جمع ہوں اور حتمی فیصلہ نازل ہو۔
یہ پیالہ ظاہر کرتا ہے کہ اب معاملات محض آفتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی جنگ اور آخری تصادم کی طرف بڑھ چکے ہیں۔ دُلہن اس مرحلے سے پہلے ہی محفوظ مقام پر ہے، مگر زمین پر رہ جانے والی دنیا اپنے فیصلوں کے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چھٹا پیالہ اعلان کرتا ہے کہ تاریخ اب اپنے اختتامی موڑ پر آ پہنچی ہے، اور خدا کا منصوبہ بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ رہا ہے۔
فرات کا سوکھنا خدا کی منصوبہ بند راہ ہمواری ہے۔●
یسعیاہ 11:15●
تب خداوند بحر مصر کی خلیج کو بالکل نیست کر دیگا اور اپنی باد سموم سے دریایِ فرات پر ہاتھ چلائے گا اور اسکو سات نالے کردیگا اور ایسا کرے گا کہ لوگ جوتے پہنے ہوئے پار چلے جائیں گے اور اسکے باقی لوگوں کے لیے جو اسور میں سے بچ رہینگے اور ایک ایسی شاہراہ ہو گی جیسی بنی اسرائیل کے لیے تھی جب وہ ملک مصر سے نکلے ۔
یرمیاہ 50:38●
اُسکی نہروں پر خشک سالی ہے ۔ وہ سُوکھ جائینگی کیونکہ وہ تراشی ہُوئی مُورتوں کی مملکت ہے اور وہ بتوں پر شفیتہ ہیں ۔
ہرمجدون کی تیاری●
مکاشفہ 16:16●
اور اُنہوں نے اُن کو اُس جگہ جمع کِیا جِس کا نام عِبرانی میں مجِدّون ہے۔
یوایل 3باب9–11●
قوموں کے درمیان اس بات کی مُنادی کرو۔لڑائی کی تیاری کرو۔بُہادُروں کو برا نگخیتہ کرو۔جنگی جوان حاضر ہوں۔ وہ چڑائی کریں۔
اپنے ہل کی پھالوں کو پیٹ کر تلواریں بناؤاور ہنسووں کو پیٹ کر بھالے۔ کمزور کہے کہ میں زور آور ہُوں۔
اے اردگرد کی سب قومو جلد آ کر جمع ہو جاؤاے خُداوند اپنے بہادُروں کو وہاں بھیج دے۔
چھٹا پیالہ = آخری تصادم کی تیاری●
مکاشفہ باب 16 — آیات 13 تا 16🟦
پھِر مَیں نے اُس اژدہا کے مُنہ سے اور اُس حَیوان کے مُنہ سے اور اُس جھُوٹے نبی کے مُنہ سے تِین ناپاک رُوحیں مینڈکوں کی صُورت میں نِکلتے دیکھِیں۔
یہ شیاطِیں کی نِشان دِکھانے والی رُوحیں ہیں جو قادِرِ مُطلَق خُدا کے زورِ عظِیم کی لڑائی کے واسطے جمع کرنے کے لِئے ساری دُنیا کے بادشاہوں کے پاس نِکل کر جاتی ہے۔
(دیکھو مَیں چور کی طرح آتا ہُوں۔ مُبارک وہ ہے جو جاگتا ہے اور اپنی پوشاک کی حِفاظت کرتا ہے تاکہ ننگا نہ پھِرے اور لوگ اُس کی برہنگی نہ دیکھیں)۔
اور اُنہوں نے اُن کو اُس جگہ جمع کِیا جِس کا نام عِبرانی میں مجِدّون ہے۔
یہ آیات مخالفِ مسیح کے نظام کی آخری اور انتہائی خطرناک فریب کاری کو ظاہر کرتی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق اژدہا (شیطان)، مخالفِ مسیح (سیاسی قوت) اور جھوٹا نبی (مذہبی قوت) مل کر ایک شیطانی تثلیث بناتے ہیں، جو باقاعدہ طور پر خدا کی الٰہی وحدت کا سہ رُخی اظہار کی نقل ہے۔ جیسے خدا باپ، بیٹا اور روحُ القدس کے ذریعے نجات کا کام کرتا ہے، ویسے ہی یہ شیطانی تثلیث سیاست، مذہب اور روحانی فریب کو ملا کر دنیا کو گمراہ کرتی ہے۔
ان کے منہ سے نکلنے والی “مینڈکوں کی مانند ناپاک روحیں” برادر برینہم کے مطابق کوئی جسمانی مخلوق نہیں بلکہ غلط تعلیمات، جھوٹے الہام اور فریب دینے والی روحیں ہیں۔ مینڈک کا تعلق ہمیشہ گندگی اور دلدل سے ہوتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ پیغامات پاکیزگی نہیں بلکہ روحانی آلودگی پھیلاتے ہیں۔ یہ ناپاک روحیں معجزات، نشانوں، امن کے نعروں اور مذہبی اتحاد کے دعوؤں کے ذریعے دنیا کے بادشاہوں اور قوموں کو دھوکہ دیتی ہیں، تاکہ وہ خدا کے خلاف آخری محاذ آرائی کے لیے اکٹھے ہو جائیں۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ فریب اتنا مضبوط ہوگا کہ اگر ممکن ہو تو چنیدہ بھی دھوکہ کھا جائیں، مگر دُلہن اس وقت زمین پر نہیں ہوتی۔ یہ فریب اُن لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے پہلے سچائی کو رد کیا تھا۔ یوں یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ آخری دنوں میں مسئلہ طاقت یا جنگ نہیں بلکہ روحانی دھوکہ ہوگا، اور مخالفِ مسیح کا سب سے بڑا ہتھیار تلوار نہیں بلکہ فریب دینے والی روح ہوگی۔
آیت 15 میں اچانک یسوع کی آواز سنائی دیتی ہے:
“(دیکھو مَیں چور کی طرح آتا ہُوں۔ مُبارک وہ ہے جو جاگتا ہے اور اپنی پوشاک کی حِفاظت کرتا ہے تاکہ ننگا نہ پھِرے اور لوگ اُس کی برہنگی نہ دیکھیں)۔”
یہ ایک تنبیہ ہے—خاص طور پر اُن کے لیے جو زمین پر ہیں—کہ یہ وقت غفلت کا نہیں۔ اگرچہ دُلہن اس مرحلے سے پہلے ہی اٹھا لی گئی ہے، پھر بھی یہ کلام ظاہر کرتا ہے کہ خدا ہمیشہ اپنے لوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ روحانی طور پر چوکس رہیں۔
آیت 16 میں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب قومیں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں جسے عبرانی میں ہرمجدون کہا جاتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ محض ایک میدان نہیں بلکہ فیصلے کی گھڑی ہے، جہاں انسانی طاقت، سیاست اور مذہب سب اکٹھے ہو کر خدا کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں—اور وہیں ان سب کا انجام بھی طے ہو جاتا ہے۔
یہ حصہ اعلان کرتا ہے کہ تاریخ اپنے آخری تصادم کی طرف پہنچ چکی ہے، اور اب کوئی چیز خدا کے منصوبے کو روک نہیں سکتی۔
شیطانی تثلیث اور فریب دینے والی روحیں●
مکاشفہ 12:9●
اور وہ بڑا اژدہا یعنی وُہی پُرانا سانپ جو اِبلِیس اور شَیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گُمراہ کر دیتا ہے زمِین پر گِرا دِیا گیا اور اُس کے فرِشتے بھی اُس کے ساتھ گِرا دِئے گئے۔
2 کرنتھیوں 11:14●
اور کُچھ عجِیب نہِیں کِیُونکہ شَیطان بھی اپنے آپ کو نُورانی فرِشتہ کا ہمشکل بنا لیتا ہے۔
یہ آیات ثابت کرتی ہیں کہ آخری جنگ تلوار سے زیادہ فریب پر مبنی ہے۔●
مینڈکوں جیسی ناپاک روحیں — جھوٹی تعلیمات●
خروج 8باب1–7●
جیسے مصر میں مینڈک ناپاکی اور اذیت تھے، ویسے ہی آخر زمانہ میں یہ روحانی آلودگی کی علامت ہیں۔
1 تیمتھیس 4:1●
یکِن رُوح صاف فرماتا ہے کہ آیندہ زمانوں میں بعض لوگ گُمراہ کرنے والی رُوحوں اور شیاطِین کی تعلِیموں کی طرف مُتوّجہ ہوکر اِیمان سے برگشتہ ہو جائیں گے۔
بادشاہوں کو جنگ کے لیے جمع کرنا●
زبور 2:2●
خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔
یوایل 3باب:9–11●
قوموں کو تیار کرو… اُنہیں جمع کرو… کیونکہ خُداوند وہاں فیصلہ کرے گا۔
“دیکھو میں چور کی طرح آتا ہوں” — ہوشیاری کی تنبیہ●
متی 24باب42–44●
پَس جاگتے رہو کِیُونکہ تُم نہِیں جانتے کہ تُمہارا خُداوند کِس دِن آئے گا۔
لیکِن یہ جان رکھّو کہ اگر گھر کے مالِک کو معلُوم ہوتا کہ چور رات کو کون سے پہر آئے گا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگانے دیتا۔
اِس لِئے تُم بھی تیّاررہو کِیُونکہ جِس گھڑی تُم کو گُمان بھی نہ ہوگا اِبنِ آدم آجائے گا۔
1 تھسلنیکیوں 5باب2–4●
اِس واسطے کہ تُم آپ خُوب جانتے ہو کہ خُداوند کا دِن اِس طرح آنے والا ہے جِس طرح رات کو چَور آتا ہے۔
جِس وقت لوگ کہتے ہوں گے کہ سَلامتی اور امن ہے اُس وقت اُن پر اِس طرح ناگہان ہلاکت آئے گی جِس طرح حامِلہ کو درد لگتے ہیں اور وہ ہرگِز نہ بچیں گے۔
لیکِن تُم اَے بھائِیو! تارِیکی میں نہِیں ہو کہ وہ دِن چَور کی طرح تُم پر آ پڑے۔
کِیُونکہ تُم سب نُور کے فرزند اور دِن کے فرزند ہو۔ ہم نہ رات کے ہیں نہ تارِیکی کے۔
مکاشفہ باب 16 — آیات 17 تا 21🟦
اور ساتویں نے اپنا پیالہ ہوا پر اُلٹا اور مَقدِس کے تخت کی طرف سے بڑے زور سے یہ آواز آئی کہ ہو چُکا۔
پھِر بِجلِیاں اور آوازیں اور گرجیں پَیدا ہُوئیں اور ایک اَیسا بڑا بھَونچال آیا کہ جب سے اِنسان زمِین پر پَیدا ہُوئے اَیسا بڑا اور سخت بھَونچال کبھی نہ آیا تھا۔
اور اُس بڑے شہر کے تِین ٹُکڑے ہو گئے اور قَوموں کے شہر گِر گئے اور بڑے شہرِ بابل کی خُدا کے ہاں یاد ہُوئی تاکہ اُسے اپنے سخت غضب کی مَے کا جام پِلائے۔
اور ہر ایک ٹاپُو اپنی جگہ سے ٹل گیا اور پہاڑوں کا پتہ نہ لگا۔
اور آسمان پر آدمِیوں پر من من بھر کے بڑے بڑے اولے گِرے اور چُونکہ یہ آفت نِہایت سخت تھی اِس لِئے لوگوں نے اولوں کی آفت کے باعِث خُدا کی نِسبت کُفر بکا۔
عظیم زلزلہ، بابل کا خاتمہ، اور خدا کا حتمی فیصلہ🔹
ساتواں پیالہ خدا کے غضب کا آخری اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ جب ساتواں فرشتہ اپنا پیالہ ہوا میں انڈیلتا ہے تو آسمانی ہیکل کے تخت سے ایک زبردست آواز آتی ہے: “ہو چکا!” برادر برینہم کے مطابق یہ اعلان اس بات کی مہر ہے کہ اب خدا کا صبر ختم ہو چکا ہے اور دنیا کا نظام اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ “ہوا” پر پیالہ انڈیلنے کا مطلب ہے کہ یہ فیصلہ پوری دنیا، پورے نظام اور ہر سطح پر نافذ ہو رہا ہے—سیاسی، مذہبی اور روحانی۔
اس کے فوراً بعد بجلیاں، آوازیں، گرج اور ایسا عظیم زلزلہ آتا ہے جو تاریخِ انسانی میں کبھی نہیں آیا۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ صرف قدرتی زلزلہ نہیں بلکہ دنیا کی تمام سلطنتوں کے ہل جانے کی علامت ہے۔ انسان کے بنائے ہوئے تمام نظام—حکومتیں، اتحاد، مذہبی ڈھانچے—سب اس زلزلے میں ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب خدا ثابت کرتا ہے کہ انسان کی کوئی طاقت اس کے سامنے قائم نہیں رہ سکتی۔
اس زلزلے کے نتیجے میں “بڑا شہر” تین حصوں میں بٹ جاتا ہے، اور “قوموں کے شہر گر پڑتے ہیں”۔ برادر برینہم کے مطابق “بڑا شہر” سے مراد بابل کا عالمی نظام ہے، جو سیاسی، مذہبی اور معاشی طاقتوں کا مرکب ہے۔ تین حصوں میں بٹنا اس بات کی نشانی ہے کہ یہ نظام اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے—سیاسی طور پر، مذہبی طور پر، اور معاشی طور پر۔ اب یہ دوبارہ جڑ نہیں سکتا۔
پھر خاص طور پر کہا جاتا ہے کہ “بابلِ عظیم خدا کے حضور یاد کی گئی”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اس کے تمام گناہ، ظلم، خونریزی اور فریب کو نظرانداز نہیں کیا تھا، بلکہ اب مقررہ وقت پر اس کا حساب لیا جا رہا ہے۔ بابل کو خدا کے غضب کے پیالے میں سے پلایا جاتا ہے، یعنی اسے مکمل اور سخت سزا دی جاتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ رومی مخالفِ مسیح کا نظام اور اس کی تمام بیٹیاں ہیں، جو اب ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جاتی ہیں۔
اس کے بعد جزیرے غائب ہو جاتے ہیں اور پہاڑ ہٹ جاتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کی وہ سب چیزیں جن پر انسان نے بھروسا کیا تھا—طاقت، استحکام، بلندی—سب ختم ہو جاتی ہیں۔ پھر آسمان سے بڑی ژالہ باری نازل ہوتی ہے، جس کے اولے بہت بھاری ہوتے ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق ژالہ ہمیشہ براہِ راست الٰہی عدالت کی علامت ہے، اور یہ دکھاتا ہے کہ اب رحم نہیں بلکہ صرف انصاف باقی ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان تمام سخت فیصلوں کے باوجود لوگ پھر بھی خدا کی کفر بکنے لگتے ہیں۔ یہ انسان کے دل کی آخری حالت کو ظاہر کرتا ہے—اب توبہ ممکن نہیں، کیونکہ فضل کا دروازہ پہلے ہی بند ہو چکا ہے۔ ساتواں پیالہ اس سچ کو واضح کرتا ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر سچ کو رد کرتے ہیں، وہ آخر تک بھی نہیں بدلتے۔
یوحنا 19:30●
پِس وہ سِرکہ یِسُوع نے پِیا تو کہا کہ تمام ہُؤا اور سر جُھکا کر جان دے دی۔
جیسے فدیہ مکمل ہوا، ویسے ہی یہاں دنیا کا نظام مکمل طور پر ختم ہوتا ہے۔
مکاشفہ 21:6●
پھِر اُس نے مُجھ سے کہا یہ باتیں پُوری ہو گئِیں۔ مَیں الفا اور اومیگا یعنی اِبتدا اور اِنتہا ہُوں۔ مَیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مُفت پِلاؤں گا۔
عظیم زلزلہ — تمام سلطنتوں کا ہل جانا●
حجی 2باب6–7●
کیونکہ ربُ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ میں تھوڑی دیر میں پھر ایک بار آسمان و زمین اور بحرو بر کو ہلادوں گا۔
میں سب قوموں کو ہلا دوں گا اور اُن کی مرغوب چیزیں آئیں گی اور میں اس گھر کو جلال سے معمور کروں گا ربُ الافواج فرماتا ہے۔
عبرانیوں 12باب26–27●
اُس کی آواز نے اُس وقت تو زمِین کو ہِلا دِیا مگر اَب اُس نے یہ وعدہ کِیا ہے کہ ایک بار پھِر مَیں فقط زمِین ہی کو نہِیں بلکہ آسمان کو بھی ہِلا دُوں گا۔
اور یہ عِبارت کہ ایک بار پھِر اِس بات کو ظاہِر کرتی ہے کہ جو چِیزیں ہِلا دی جاتی ہیں مخلُوق ہونے کے باعِث ٹل جائیں گی تاکہ بے ہِلی چِیزیں قائِم رہیں۔
بابلِ عظیم کی یاد دہانی اور سزا●
مکاشفہ 18:2●
اُس نے بڑی آواز سے چِلّا کر کہا کہ گِر پڑا بڑا شہر بابل گِر پڑا اور شیاطِین کا مسکن اور ناپاک رُوح کا اڈا اور ہر ناپاک اور مکرُوہ پرِندہ کا اڈا ہو گیا۔!
یرمیاہ 51:7●
بابلؔ خداوند کے ہاتھ میں سونے کا پیالہ تھا جس نے ساری دُنیا کو متوالا کیا ۔قوموں نے اُسکی مے پی اِسلئے وہ دیوانہ ہیں ۔
ژالہ باری — براہِ راست الٰہی عدالت●
خروج 9باب23–24●
خُداوند نے اولے برسائے… ایسا سخت اولے کبھی نہ پڑے تھے۔
پھر بھی توبہ نہیں●
امثال 1باب24–26●
چونکہ میں نے بُلایا اور تم نے اِنکار کیا میں نے ہاتھ پھیلایا اور کسی نےخیال نے کیا ۔
بلکہ تم نے میری تمام مشورت کو نا چیز جٓانا اور میری ملامت کی بیقدری کی۔ اسلئے میں بھی تمہاری مصیبت کے دن ہنسونگی اور جب تم پر دہشت چھا جٓاینگی تو ٹھٹھامارونگی ۔
مختصر خلاصہ باب16🟦
ساتواں پیالہ خدا کے غضب کی تکمیل ہے🔹
“ہو چکا” = دنیا کے نظام کا اختتام🔹
عظیم زلزلہ = تمام انسانی سلطنتوں کا خاتمہ🔹
بابل = مخالفِ مسیح کا مکمل نظام، جو ہمیشہ کے لیے گرایا جاتا ہے🔹
ژالہ باری = آخری اور براہِ راست الٰہی عدالت🔹
دُلہن اس سب سے پہلے ہی محفوظ مقام پر ہے🔹
یہ وہ لمحہ ہے جہاں خدا حتمی طور پر اعلان کرتا ہے:
اب حکومت انسان کی نہیں، بلکہ خدا کی ہے۔
تفسیرمکاشفہ باب 17،بابلِ عظیم: کِسبی عورت اور حیوان
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 1🟦
اور اُن ساتوں فرِشتوں میں سے جِن کے پاس سات پیالے تھے ایک نے آ کر مُجھ سے کہا کہ اِدھر آ۔ مَیں تُجھے اُس بڑی کسبی کی سزا دِکھاؤں جو بہُت سے پانِیوں پر بَیٹھی ہُوئی ہے۔ اس آیت میں یوحنا کے پاس آنے والا فرشتہ کوئی نیا فرشتہ نہیں بلکہ انہی سات فرشتوں میں سے ایک ہے جن کے پاس خدا کے غضب کے سات پیالے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس نظام کا یہاں ذکر ہے، اس کا انصاف براہِ راست خدا کے آخری فیصلوں سے جڑا ہوا ہے۔
برادر برینہم کے مطابق، خدا پہلے عدالت نازل نہیں کرتا بلکہ پہلے مکاشفہ دیتا ہے، پھر سزا—تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ فیصلہ اندھا یا بے سبب تھا۔
یہی وجہ ہے کہ مکاشفہ 17 میں خدا پہلے “بڑی کِسبی” کو بے نقاب کرتا ہے، پھر اس پر عدالت آتی ہے۔
برادر برینہم صاف طور پر سکھاتے ہیں کہ:
یہ “بڑی کِسبی” کوئی فرد نہیں بلکہ ایک منظم مذہبی نظام ہے، اور وہ نظام رومن کیتھولک چرچ ہے۔
یہ چرچ خدا کے کلام کے بجائے روایت، کلیسیائی اختیار اور ریاستی طاقت پر قائم ہوا، اور اسی لیے وہ روحانی طور پر “کِسبی” کہلایا۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 2 🟦
اور جِس کے ساتھ زمِین کے بادشاہوں نے حرامکاری کی تھی اور زمِین کے رہنے والے اُس کی حرامکاری کی مَے سے متوالے ہو گئے تھے۔
یہاں “زنا” جسمانی نہیں بلکہ روحانی بے وفائی ہے۔
برادر برینہم کے مطابق، رومن کیتھولک چرچ وہ پہلا مذہبی نظام تھا جس نے کھلے طور پر حکومتوں، بادشاہوں اور ریاستی طاقت کے ساتھ اتحاد کیا—خاص طور پر قسطنطین کے زمانے سے۔
:“زمین کے بادشاہ” سیاسی طاقتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اور یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ
مذہب نے سیاست سے شادی کی●
کلیسیا نے کلام چھوڑ کر حکومت سے تحفظ لیا●
اور یوں روحانی زنا ہوا●
“بدکاری کی مے” سے مراد وہ تعلیمات، عقائد اور روایات ہیں جو کلام کے خلاف ہیں مگر مذہب کے نام پر پیش کی جاتی ہیں۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہی “مذہبی نشہ” لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں تمیز سے محروم کر دیتا ہے۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 3 🟦
پَس وہ مُجھے رُوح میں جنگل کو لے گیا۔ وہاں مَیں نے قِرمزی رنگ کے حَیوان پر جو کُفر کے ناموں سے لِپا ہُؤا تھا اور جِس کے سات سر اور دس سِینگ تھے ایک عَورت کو بَیٹھے ہُوئے دیکھا۔
یہ آیت مذہبی بابل کی ظاہری شان و شوکت اور اس کے اندرونی روحانی فساد کو نہایت واضح انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ عورت کا ارغوانی اور قرمزی لباس پہننا محض رنگوں کا ذکر نہیں بلکہ یہ رومن کیتھولک مذہبی اختیار اور شاہی جلال کی علامت ہے۔ یہ وہی رنگ ہیں جو کیتھولک اعلیٰ پادریوں اور مذہبی قیادت کے لباس میں نمایاں طور پر پائے جاتے ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ مکاشفہ کی براہِ راست تصدیق ہے، کیونکہ خدا نے پہلے ہی اس نظام کی شناخت ان نشانیوں کے ذریعے ظاہر کر دی تھی۔
عورت کے ہاتھ میں موجود سنہرا پیالہ اس فریب کی اصل جڑ کو ظاہر کرتا ہے۔ باہر سے یہ پیالہ سونے کا ہے، یعنی تقدس، عبادت، مذہبی زبان اور ظاہری دینداری کی نمائندگی کرتا ہے، مگر اندر سے وہ مکروہات اور بدکاریوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام خدا کے نام، عبادت اور رسموں کا استعمال تو کرتا ہے، مگر اس کے اندر جھوٹی تعلیم، انسانی روایت اور کلامِ خدا سے انحراف موجود ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں لوگ دھوکہ کھاتے ہیں، کیونکہ ظاہری تقدس انہیں باطنی زہر دکھائی نہیں دیتا۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 5 🟦
اور اُس کے ماتھے پر یہ نام لِکھا تھا۔ راز۔ بڑا شہر بابل۔ کسبِیوں اور زمِین کی مکرُوہات کی ماں۔
اس آیت میں خدا خود اس عورت کی حتمی شناخت ظاہر کرتا ہے۔ عورت کے ماتھے پر لکھا ہوا نام—“راز، بڑا شہر بابل، کسبیوں اور زمین کی مکروہات کی ماں”—اس بات کی علامت ہے کہ اب اس نظام کو چھپنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ “راز” کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ہمیشہ پوشیدہ رہے گا، بلکہ یہ کہ یہ نظام عام مذہبی سوچ کے لیے فہم سے باہر رہا، کیونکہ یہ خدا کے نام پر کام کرتا تھا اور اسی وجہ سے لوگ اسے خدا کا کام سمجھتے رہے۔
برادر برینہم کے مطابق “ماں” سے مراد رومن کیتھولک چرچ ہے، اور “بیٹیاں” وہ تمام تنظیمی کلیسیائیں ہیں جو اسی روح، اسی نظام اور اسی طرزِ فکر کو اپناتی ہیں—چاہے ان کے نام کچھ بھی ہوں۔ یہ وہ کلیسیائیں ہیں جنہوں نے کلام کے بجائے روایت، تنظیم اور انسانی اختیار کو ترجیح دی۔ خدا اس نام کو عورت کے ماتھے پر اس لیے لکھوا کر دکھاتا ہے تاکہ آخری زمانے میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اسے سچ معلوم نہیں تھا۔ یہ ایک کھلا الٰہی اعلان ہے کہ سب سے بڑا فریب وہی ہوتا ہے جو خدا کے نام پر، مگر خدا کے خلاف کیا جائے۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 آیت 6🟦
اور مَیں نے اُس عَورت کو مُقدّسوں کا خُون اور یِسُوع کے شہِیدوں کا خُون پِینے سے متوالا دیکھا اور اُسے دیکھ کر سخت حَیران ہُؤا۔
یہ آیت مذہبی بابل کے اصل کردار کو پوری طرح بے نقاب کر دیتی ہے۔ عورت کو “مقدسوں کے خون سے متوالی” دکھایا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام صرف گمراہ ہی نہیں کرتا بلکہ سچے ایمانداروں پر ظلم کرنے اور ان کی جان لینے میں بھی ملوث رہا ہے۔ یہاں خون محض علامتی نہیں بلکہ ایک حقیقی تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق رومن کیتھولک چرچ کی تاریخ شہداء کے خون سے بھری ہوئی ہے، خاص طور پر اُن لوگوں کے خون سے جو بائبل کے خالص کلام پر قائم رہے اور تنظیمی مذہب کے آگے نہ جھکے۔ یوحنا کا حیران ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ظلم کسی کھلے بُت پرستانہ نظام سے نہیں بلکہ ایک ایسے مذہبی نظام سے آیا جو خود کو مسیحی کہتا تھا۔
متعلقہ بائبلی آیات●
(مکاشفہ باب 17 — آیات 1 تا 6)
بڑی کسبی اور خدا کی عدالت●
مکاشفہ 16:19●
اور اُس بڑے شہر کے تِین ٹُکڑے ہو گئے اور قَوموں کے شہر گِر گئے اور بڑے شہرِ بابل کی خُدا کے ہاں یاد ہُوئی تاکہ اُسے اپنے سخت غضب کی مَے کا جام پِلائے۔
مکاشفہ 17 میں جو نظام بے نقاب ہو رہا ہے، اس کی عدالت پہلے ہی طے ہو چکی ہے۔●
“بہت سے پانیوں پر بیٹھی ہوئی”●
مکاشفہ 17:15●
پھِر اُس نے مُجھ سے کہا کہ جو پانی تُو نے دیکھے جِن پر کسبی بَیٹھی ہے وہ اُمّتیں اور گرُوہ اور قَومیں اور اہلِ زبان ہیں۔
یہ مذہبی نظام کئی قوموں اور زبانوں پر اثر انداز رہا۔●
زمین کے بادشاہوں کے ساتھ زنا●
زبور 106باب35–36●
بلکہ اُن قوموں کے ساتھ مل گئے اور اُن کے سے کام سیکھ گئے۔ اور اُنکے بتوں کی پرستیش کرنے لگے جو اُنکے لئے پھندہ بن گیا۔
یعقوب 4:4●
اَے زِنا کرنے والیو! کیا تُمہیں نہِیں معلُوم کہ دُنیا سے دوستی رکھنا خُدا سے دُشمنی کرنا ہے؟ پَس جو کوئی دُنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خُدا کا دُشمن بناتا ہے۔
مذہب + سیاست = روحانی بے وفائی۔●
بدکاری کی مے — جھوٹی تعلیم●
یسعیاہ 29باب9–10●
ٹھہر جاؤ اور تعجب کرو ۔ عیش و عشرت کرو اور اندھے ہو جاؤ ۔ وہ مست ہیں پر مے سے نہیں ۔ وہ لڑکھڑاتے ہیں پر نشے میں نہیں ۔ کیونکہ خداوند نے تم پر گہری ننید کی روح بھیجی ہے اور تمہاری آنکھوں یعنی نبیوں کو نابینا کر دیا اورتمہارے سروں یعنی غیب بینوں پر حجاب ڈال دیا۔
مذہبی نشہ انسان کو سچ دیکھنے سے اندھا کر دیتا ہے۔●
قرمزی حیوان — شیطانی پشت پناہی●
مکاشفہ 13:2●
اور جو حَیوان مَیں نے دیکھا اُس کی شکل تیندوے کی سی تھی اور پاؤں رِیچھ کے سے اور مُنہ ببر کا سا اور اُس اژدہا نے اپنی قُدرت اور اپنا تخت اور بڑا اِختیّار اُسے دے دِیا۔
مذہبی بابل کی طاقت براہِ راست شیطان سے آتی ہے۔●
ارغوانی اور قرمزی لباس — ظاہری جلال●
متی 23:5●
وہ اپنے سب کام لوگوں کو دِکھانے کو کرتے ہیں کِیُونکہ وہ اپنے تعوِیز بڑے بناتے اور اپنی پوشاک کے کِنارے چوڑے رکھتے ہیں۔
ظاہری تقدس ≠ باطنی پاکیزگی●
سونے کا پیالہ — باہر خوبصورت، اندر مکروہ●
یرمیاہ 51:7●
بابلؔ خداوند کے ہاتھ میں سونے کا پیالہ تھا جس نے ساری دُنیا کو متوالا کیا ۔قوموں نے اُسکی مے پی اِسلئے وہ دیوانہ ہیں ۔
متی 23:27●
اَے رِیاکار فقِیہو اور فرِیسیو تُم پر افسوس! کہ تُم سفیدی پھِری ہُوئی قَبروں کی مانِند ہو جو اُوپر سے تو خُوبصُورت دِکھائی دیتی ہیں۔ مگر اَندر مُردوں کی ہڈیّوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔
“راز، بڑا شہر بابل”●
2 تھسلنیکیوں 2:7●
کِیُونکہ بے دِینی کا بھید تو اَب بھی تاثِر کرتا جاتا ہے مگر اَب ایک روکنے والا ہے اور جب تک وہ دُور نہ کِیا جائے روکے رہے گا۔
یہ راز وقتِ آخر میں کھولا جانا تھا۔●
“ماں” اور اُس کی بیٹیاں●
حزقی ایل 16باب44–45●
دیکھ سب مثل کہنے والے تیری بابت یہ مثل کہیں گے کہ جیسی ماں ویسی بیٹی۔
ایک ہی روح — مختلف نام●
مقدسوں اور شہداء کا خون●
مکاشفہ 18:24●
اور نبِیوں اور مُقدّسوں اور زمِین کے اَور سب مقتُولوں کا خُون اُس میں پایا گیا۔
متی 23:35●
تاکہ سب راستبازوں کا خُون جو زمِین پر بہایا گیا تُم پر آئے۔ راستباز ہابِل کے خُون سے لے کر برکیاہ کے بَیٹے زکریاہ کے خُون تک جِسے تُم نے مَقدِس اور قربانگاہ کے درمِیان میں قتل کِیا۔
یوحنا کا حیران ہونا●
حبقوق 1:13●
تیری آنکھیں ایسی پاک ہیں کہ تو بدی کو دیکھ نہیں سکتا اور کجر فتاری پر نگاہ نہیں کر سکتا۔ پھر تو دغابازوں پر کیوں نظر کرتا ہے اور جب شریر اپنے سے زیادہ صادق کو نگل جاتا ہے تب تو کیوں خاموش رہتا ہے۔
حیرت اس لیے تھی کہ یہ سب مذہب کے نام پر ہو رہا تھا۔●
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 7 🟦
اُس فرِشتہ نے مُجھ سے کہا تُو حَیران کِیُوں ہو گیا؟ مَیں اِس عَورت اور اُس حَیوان کا جِس پر وہ سوار ہے اور جِس کے سات سر اور دس سِینگ ہیں تُجھے بھید بتاتا ہُوں۔
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ جو کچھ یوحنا نے دیکھا وہ عام فہم سے بالاتر تھا، اسی لیے وہ حیران ہوا۔ برادر برینہم کے مطابق خدا اپنے خادموں کو صرف مناظر نہیں دکھاتا بلکہ ان کی درست تشریح بھی خود مہیا کرتا ہے، تاکہ کوئی قیاس یا ذاتی خیال شامل نہ ہو۔ اسی لیے فرشتہ خود آگے بڑھ کر عورت اور حیوان دونوں کا بھید کھولنے کا وعدہ کرتا ہے۔
یہاں “بھید” کا مطلب کوئی خفیہ راز نہیں بلکہ وہ سچائی ہے جو صرف مکاشفہ کے ذریعے سمجھی جا سکتی ہے۔ مذہبی بابل اور سیاسی مخالفِ مسیح کا اتحاد انسانی عقل سے پوری طرح سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ یہ سب کچھ مذہب، سیاست اور تقدس کے پردے میں ہوتا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ اگر خدا خود اس بھید کو نہ کھولے تو لوگ ہمیشہ اسی نظام کو خدا کا کام سمجھتے رہیں گے۔
فرشتہ خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ عورت حیوان پر سوار ہے، یعنی مذہبی نظام سیاسی طاقت کے ذریعے حرکت کرتا ہے۔ سات سر اور دس سینگ اس بات کی علامت ہیں کہ یہ کوئی وقتی یا مقامی طاقت نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی تسلسل اور آخری زمانے کا عالمی اتحاد ہے۔ اس آیت کا مقصد یہ یقین دلانا ہے کہ جو کچھ آگے بتایا جائے گا وہ اندازے پر نہیں بلکہ خدا کی دی ہوئی تشریح پر مبنی ہوگا۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ خدا اپنے لوگوں کو اندھیرے میں نہیں رکھتا۔ آخری زمانے میں وہ اپنے چنیدہ لوگوں کو پورا مکاشفہ دیتا ہے، تاکہ وہ جھوٹے مذہب اور سچے کلام میں فرق پہچان سکیں اور فریب میں نہ پڑیں۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 8 🟦
یہ جو تُو نے حَیوان دیکھا یہ پہلے تو تھا مگر اَب نہِیں ہے اور آیندہ اتھاہ گڑھے سے نِکل کر ہلاکت میں پڑے گا اور زمِین پر رہنے والے جِن کے نام بنایِ عالم وقت سے کِتابِ حیات میں لِکھے نہِیں گئے اِس حَیوان کا یہ حال دیکھ کر کہ پہلے تھا اور اَب نہِیں اور پھِر مَوجُود ہو جائے گا تعّجُب کریں گے۔
یہ آیت سیاسی مخالفِ مسیح کے نظام کی مکمل تاریخ کو چند الفاظ میں بیان کر دیتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “ یہ پہلے تو تھا” سے مراد قدیم رومی سیاسی طاقت ہے جو ایک زمانے میں پوری دنیا پر غالب تھی۔ “اَب نہِیں ہے ” اس کے زوال کی طرف اشارہ ہے، جب رومی سلطنت ٹوٹ گئی اور بظاہر ختم ہو گئی۔ مگر آیت یہیں ختم نہیں ہوتی—“پھِر مَوجُود ہو جائے گا ” اس بات کا اعلان ہے کہ یہی نظام آخری زمانے میں نئی صورت، نئے اتحاد اور نئی طاقت کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوگا۔
“اتھاہ گڑھے میں سے نکلنا” اس بات کی علامت ہے کہ یہ بحالی محض سیاسی یا تاریخی نہیں بلکہ براہِ راست شیطانی الہام کے تحت ہوگی۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ مخالفِ مسیح کا یہ آخری ظہور انسانی اصلاح یا ترقی کا نتیجہ نہیں بلکہ جہنمی حکمت سے تقویت پانے والا نظام ہوگا۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ آخرکار “ہلاکت میں پڑے گا”—یعنی اس کا انجام پہلے ہی مقرر ہے، چاہے اس کا عروج کتنا ہی عظیم کیوں نہ دکھائی دے۔
زمین کے رہنے والوں کا “حیران ہونا” اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا اس نظام کی طاقت، تنظیم اور اثر سے متاثر ہو کر اس کے پیچھے چل پڑتی ہے۔ مگر خاص طور پر بتایا جاتا ہے کہ جن کے نام برّہ کی کتابِ حیات میں نہیں لکھے وہی حیران ہوتے ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق خدا کے چُنے ہوئے اس فریب میں نہیں پڑتے، کیونکہ انہیں کلام کے ذریعے پہلے ہی خبردار کر دیا گیا ہوتا ہے۔
متعلقہ بائبلی آیات●
(مکاشفہ:17باب 7–8)●
“میں تجھے بھید بتاتا ہوں” — خدا خود تشریح دیتا ہے
عاموس 3:7●
7 یقینا خُداوند خُدا کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمت گُزار نبیوں پر پہلے آشکارانہ کرے
خدا کبھی عدالت سے پہلے مکاشفہ دیتا ہے۔
دانی ایل 2:22●
وہی گہری اور پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کرتا اور جو کُچھ اندھیرے میں ہے اُسے جانتا ہےاور نُور اُسی کے ساتھ ہے۔۔
یوحنا کی حیرت اور الٰہی وضاحت●
دانی ایل 8:27●
اور مجھ دانی ایل کو غش آیا اور میں چند روز تک بیمار پُڑا رہا۔ پھر میں اُٹھا اور بادشاہ کا کاروبار کرنے لگا اور میں رویا سے پریشان تھا لیکن اس کو کوئی نہ سمجھا۔
روحانی مناظر تشریح کے بغیر نہیں سمجھے جا سکتے۔●
حیوان — سیاسی مخالفِ مسیح●
دانی ایل 7:7●
پھر میں نے رات کو رویا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہُوں کی چوتھا حیوان ہولناک اور ہیبت ناک اور نہایت زبردست ہے اور اُس کے دانت لوہے کے بڑے بڑے تھے۔ وہ نگل جاتا اور ٹکرے ٹکرے کرتا تھا اور جو کُچھ باقی بچتا اُس کو پاوں سے لتاڑتا تھا اور یہ اُن سب پہلے حیوانوں سے مُختلف تھا اور اُس کے دس سینگ تھے۔
مکاشفہ کا حیوان، دانی ایل کے حیوان کی تکمیل ہے۔●
“پہلے تھا” — قدیم رومی سلطنت●
لوقا 2:1●
اُن دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ قَیصراَوگوُستُس کی طرف سے یہ حُکم جاری ہُؤا کہ ساری دُنیا کے لوگوں کے نام لِکھے جائیں۔
ایک وقت تھا جب روم دنیا پر حاکم تھا۔●
“اب نہیں ہے” — وقتی زوال●
مکاشفہ 13:3●
اور مَیں نے اُس کے سروں میں سے ایک پر گویا زخمِ کاری لگا ہُؤا دیکھا مگر اُس کا زخمِ کاری اچھّا ہو گیا اور ساری دُنیا تعّجُب کرتی ہُوئی اُس حَیوان کے پِیچھے پِیچھے ہولی۔
بظاہر ختم، مگر مکمل طور پر نہیں۔●
“پھر موجود ہو جائے گا” — شیطانی بحالی●
2 تھسلنیکیوں 2:9●
اور جِس کی آمد شَیطان کی تاثِر کے مُوافِق ہر طرح کی جھُوٹی قُدرت اور نِشانوں اور عجِیب کاموں کے ساتھ۔
اتھاہ گڑھے سے نکلنا — جہنمی منبع●
مکاشفہ 11:7●
جب وہ اپنی گواہی دے چُکیں گے تو وہ حَیوان جو اتھاہ گڑھے سے نِکلے گا اُن سے لڑ کر اُن پر غالِب آئے گا اور اُن کو مار ڈالے گا۔
یہ نظام الٰہی نہیں بلکہ جہنمی الہام رکھتا ہے۔●
“ہلاکت میں پڑے گا” — انجام پہلے سے مقرر●
مکاشفہ 19:20●
اور وہ حَیوان اور اُس کے ساتھ وہ جھُوٹا نبی پکڑا گیا جِس نے اُس کے سامنے اَیسے نِشان دِکھائے تھے جِن سے اُس نے حَیوان کی چھاپ لینے والوں اور اُس کے بُت کی پرستِش کرنے والوں کو گُمراہ کِیا تھا۔ وہ دونوں آگ کی اُس جھِیل میں زِندہ ڈالے گئے جو گندھک سے جلتی ہے۔
دنیا کا حیران ہونا●
مکاشفہ 13:4●
اور چُونکہ اُس اژدہا نے اپنا اِختیّار اُس حَیوان کو دے دِیا تھا اِس لِئے اُنہوں نے اژدہا کی پرستِش کی اور اُس حَیوان کی بھی یہ کہہ کر پرستِش کی کہ اِس حَیوان کی مانِند کَون ہے؟ کَون اُس سے لڑ سکتا ہے؟
طاقت + اتحاد = دنیا کی عقیدت●
کتابِ حیات — چنیدہ محفوظ●
مکاشفہ 13:8●
اور زمِین کے وہ سب رہنے والے جِن کے نام اُس برّہ کی کِتابِ حیات میں لِکھے نہِیں گئے جو بنایِ عالم کے وقت سے ذِبح ہُؤا ہے اُس حَیوان کی پرستِش کریں گے۔
لوقا 10:20●
تَو بھی اِس سے خُوش نہ ہو کہ رُوحیں تُمہارے تابِع ہیں بلکہ اِس سے خُوش ہو کہ تُمہارے نام آسمان پر لِکھے ہُوئے ہیں۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 9 🟦
یہ مَوقع ہے اُس ذہن کا جِس میں حِکمت ہے۔ وہ ساتوں سر سات پہاڑ ہیں۔ جِس پر وہ عَورت بَیٹھی ہُوئی ہے۔
یہ آیت خدا کی طرف سے ایک خاص تنبیہ ہے کہ یہاں سادہ پڑھنے کے بجائے روحانی سمجھ بوجھ درکار ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “یہاں وہ عقل ہے” کا مطلب یہ ہے کہ خدا خود اشارہ کر رہا ہے کہ اس آیت کی تشریح اندازوں یا جذبات سے نہیں بلکہ مکاشفہ کے ذریعے کی جائے۔ “سات سر سات پہاڑ ہیں” ایک نہایت واضح شناخت ہے، کیونکہ تاریخ میں صرف ایک ہی شہر ایسا مشہور ہے جو سات پہاڑیوں پر قائم ہے—اور وہ ہے روم۔
یہاں عورت (کِسبی عورت) کا ان پہاڑوں پر بیٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ مذہبی بابل کا مرکز روم سے جڑا ہوا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ صرف جغرافیہ نہیں بلکہ اقتدار کی علامت بھی ہے—یعنی یہ مذہبی نظام ایسی جگہ پر قائم ہے جو صدیوں سے دنیا کی سیاست اور حکومت پر اثر انداز رہی ہے۔ اس طرح خدا خود بتا رہا ہے کہ کِسبی عورت کوئی فرضی یا غیر واضح نظام نہیں بلکہ ایک تاریخی، قابلِ شناخت مذہبی طاقت ہے۔
یہ آیت اس غلط فہمی کو بھی ختم کر دیتی ہے کہ بابل کوئی مستقبل کا نامعلوم شہر ہوگا۔ برادر برینہم کے مطابق مکاشفہ کی زبان علامتی ضرور ہے، مگر بے بنیاد نہیں۔ خدا نشانیاں دیتا ہے تاکہ اس کے چنیدہ لوگ دھوکے میں نہ پڑیں۔ اسی لیے یہاں سات پہاڑوں کا ذکر کر کے خدا نے مذہبی بابل کی شناخت کو مضبوط اور ناقابلِ انکار بنا دیا ہے۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 10 🟦
اور وہ سات بادشاہ بھی ہیں پانچ تو ہو چُکے ہیں اور ایک مَوجُود ہے اور ایک ابھی آیا نہِیں اور جب آئے گا تو کُچھ عرصہ تک اُس کا رہنا ضرُور ہے۔
یہ آیت سیاسی رومی طاقت کے تاریخی تسلسل کو نہایت مختصر مگر گہرے انداز میں بیان کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہاں “بادشاہ” سے مراد افراد نہیں بلکہ حکومتی ادوار اور نظام ہیں۔ “پانچ تو ہو چُکے” اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رومی طاقت مختلف شکلوں میں پہلے ہی آ چکی تھی اور ختم ہو چکی تھی۔ “ایک موجود ہے” اُس رومی اختیار کی طرف اشارہ کرتا ہے جو یوحنا کے زمانے میں قائم تھا، اور “ایک ابھی آیا نہِیں” اس آخری شکل کی نشاندہی کرتا ہے جو مستقبل میں ظاہر ہونی تھی۔
“جب آئے گا تو کُچھ عرصہ تک اُس کا رہنا ضرُور ہے” یہ بتاتا ہے کہ مخالفِ مسیح کا آخری سیاسی عروج مختصر مگر شدید ہوگا۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ خدا کسی بھی جھوٹے نظام کو طویل عرصے تک غالب نہیں رہنے دیتا۔ یہ طاقت وقتی طور پر دنیا کو متاثر کرے گی، مگر خدا کے مقررہ وقت پر اس کا خاتمہ یقینی ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اگرچہ مخالفِ مسیح کا نظام خوفناک دکھائی دے گا، مگر وہ ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہ سکتا۔
یہ آیت خدا کے اختیار کو بھی ظاہر کرتی ہے—نہ کوئی نظام اپنی مرضی سے آتا ہے، نہ اپنی مرضی سے جاتا ہے۔ سب کچھ خدا کے وقت اور منصوبے کے مطابق ہوتا ہے۔ اسی لیے برادر برینہم زور دیتے ہیں کہ خدا کے لوگ وقتی حالات سے گھبرا کر نہیں بلکہ کلام کے مکاشفہ پر قائم رہ کر چلتے ہیں، کیونکہ انجام پہلے ہی خدا کے ہاتھ میں ہے۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 11 🟦
اور جو حَیوان پہلے تھا اور اَب نہِیں وہ آٹھواں ہے اور اُن ساتوں میں سے پَیدا ہُؤا اور ہلاکت میں پڑے گا۔
یہ آیت سیاسی مخالفِ مسیح کے نظام کی آخری اور حتمی شناخت کو واضح کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “آٹھواں” کوئی نیا یا الگ نظام نہیں بلکہ انہی سات ادوار میں سے نکلنے والی آخری شکل ہے۔ یعنی یہ پرانا رومی نظام ہی ہے جو مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے آخرکار اپنی مکمل، متحد اور انتہائی خطرناک صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ “ اُن ساتوں میں سے پَیدا ہُؤا ” — اس کی جڑ، روح اور طاقت وہی پرانی ہے، بس ظاہر ہونے کا انداز نیا ہے۔
“حَیوان پہلے تھا اور اَب نہِیں” اس بات کو پھر دہراتا ہے کہ یہ نظام تاریخ میں موجود رہا، پھر بظاہر ختم ہو گیا، مگر آخری زمانے میں دوبارہ زندہ ہو کر سامنے آتا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہی وہ لمحہ ہے جب دنیا اسے ایک نئے حل، نئے امن اور نئی عالمی قیادت کے طور پر قبول کرتی ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ پرانا، خدا مخالف نظام ہوتا ہے۔ اس کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ لوگ اس کے ماضی کو پہچان نہیں پاتے۔
لیکن آیت کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ “وہ ہلاکت میں پڑنے والا ہے”۔ اس سے خدا واضح کر دیتا ہے کہ چاہے یہ نظام کتنا ہی طاقتور، منظم اور عالمی کیوں نہ بن جائے، اس کا انجام پہلے ہی مقرر ہے۔ برادر برینہم کے مطابق مخالفِ مسیح کی طاقت عارضی ہے، مگر اس کی تباہی قطعی ہے۔ خدا نے اس کے عروج کو اجازت دی ہے، مگر اس کی فتح نہیں بلکہ اس کی شکست لکھی جا چکی ہے۔
یہ آیت خدا کے لوگوں کے لیے تسلی کا پیغام ہے کہ آخری زمانے کا سب سے بڑا سیاسی نظام بھی خدا کے منصوبے سے باہر نہیں، اور انجام کار برّہ ہی غالب آئے گا۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 12 🟦
اور وہ دس سِینگ جو تُو نے دیکھے دس بادشاہ ہیں۔ ابھی تک اُنہوں نے بادشاہی نہِیں پائی مگر اُس حَیوان کے ساتھ گھڑی بھر کے واسطے بادشاہوں کا سا اِختیّار پائیں گے۔
یہ آیت آخری زمانے کے عالمی سیاسی اتحاد کو ظاہر کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “دس سینگ” دس افراد سے زیادہ دس قوموں یا طاقتور سیاسی اکائیوں کی علامت ہیں، جو ایک مختصر وقت کے لیے اپنی خودمختاری چھوڑ کر مخالفِ مسیح کے سیاسی نظام کے تحت متحد ہو جاتی ہیں۔ “ایک گھڑی” اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ اختیار بہت تھوڑے وقت کے لیے ہوگا—یہ کوئی طویل بادشاہی نہیں بلکہ آخری اور تیز رفتار مرحلہ ہے۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ اتحاد بظاہر امن، استحکام اور عالمی نظم کے نام پر قائم ہوگا، مگر حقیقت میں یہ خدا کے خلاف آخری سیاسی صف بندی ہے۔ یہ بادشاہ خود اصل حکمران نہیں ہوتے بلکہ اپنی طاقت حیوان کو دے دیتے ہیں، جس سے مخالفِ مسیح کو ایک مرکزی عالمی اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں قومی سرحدیں، خودمختاری اور انفرادی فیصلے سب ایک نظام کے تابع ہو جاتے ہیں۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دنیا جن چیزوں کو ترقی اور اتحاد سمجھتی ہے، وہ خدا کی نظر میں آخری بغاوت کی تیاری ہوتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق خدا کے چُنے ہوئے اس ظاہری اتحاد سے مرعوب نہیں ہوتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ اختیار وقتی ہے اور جلد ہی خدا کے فیصلے کے تحت ختم ہو جائے گا۔
متعلقہ بائبلی آیات●
(مکاشفہ باب 17 — آیات 9 تا 12)●
“یہاں وہ عقل ہے” — روحانی سمجھ بوجھ کی ضرورت
امثال 2:6●
کیونکہ خداوند حکمت بخشتا ہے۔علم وفہم اُسی کے منہ سے نکلتے ہیں۔
1 کرنتھیوں 2:14●
مگر نفسانی آدمِی خُدا کے رُوح کی باتیں قُبُول نہِیں کرتا کِیُونکہ وہ اُس کے نزدِیک بے وُقُوفی کی باتیں ہیں اور نہ وہ اُنہِیں سَمَجھ سکتا ہے کِیُونکہ وہ رُوحانی طَور پر پرکھی جاتی ہیں۔
سات سر = سات پہاڑ●
مکاشفہ 17:18●
وہ عورت… اُس بڑے شہر کی طرف اشارہ کرتی ہے جو زمین کے بادشاہوں پر سلطنت رکھتا ہے۔
یوحنا کے زمانے میں صرف روم ایسا شہر تھا جو:●
سات پہاڑیوں پر قائم تھا
اور زمین کے بادشاہوں پر حکومت رکھتا تھا
یرمیاہ 51:25●
اَے تباہ کرنے والے پہاڑ… میں تجھ سے نِپٹوں گا۔
پہاڑ = طاقت اور اقتدار کی علامت●
سات بادشاہ — حکومتی ادوار●
دانی ایل 7:17●
یہ چار بڑے حیوان چار بادشاہ ہیں جو زمین پر برپا ہوں گے۔
بائبل میں “بادشاہ” اکثر حکومتی نظام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔●
دانی ایل 2:21●
تب بادشاہ نے حُکم دیا کہ فالگیروں اور نبُومیوں اور جادُوں گروں اور کسدیوں کو بُلائیں کہ بادشاہ کےخواب اُسے بتائیں چُنانچہ وہ آے اور بادشاہ کے حُضور کھڑے ہُوئے۔●
“کچھ عرصہ” — محدود اقتدار●
مکاشفہ 12:12●
کیونکہ ابلیس جانتا ہے کہ اُس کا وقت تھوڑا ہے۔
مخالفِ مسیح کا عروج مختصر مگر شدید ہوگا۔●
آٹھواں حیوان — سات میں سے●
دانی ایل 7:24●
وہ دس بادشاہ… اور اُن کے بعد ایک اور اُٹھے گا۔
آخری حکمران:●
نیا نہیں
بلکہ پچھلے نظاموں سے نکلنے والی آخری شکل ہے
“ہلاکت میں پڑے گا” — انجام مقرر●
مکاشفہ 19:20●
وہ حیوان… آگ کی جھیل میں ڈال دیا گیا۔
زبور 37:10●
تھوڑی ہی دیر میں شریر نہ رہے گا۔
طاقت عارضی، تباہی یقینی●
دس سینگ — دس بادشاہ●
دانی ایل 7:24●
وہ دس سینگ دس بادشاہ ہیں۔
مکاشفہ 17، دانی ایل 7 کی براہِ راست تکمیل ہے۔●
ایک گھڑی کے لیے اختیار●
لوقا 4:6●
یہ سارا اختیار… مجھے دیا گیا ہے اور میں جسے چاہوں دیتا ہوں۔
یہ اتحاد:●
انسانی نہیں
بلکہ عارضی شیطانی اجازت کے تحت ہے
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 13 🟦
اِن سب کی ایک ہے رای ہو گی اور وہ اپنی قُدرت اور اِختیّار اُس حَیوان کو دے دیں گے۔
یہ آیت آخری زمانے کے اس خطرناک اتحاد کو ظاہر کرتی ہے جہاں مختلف قومیں، حکومتیں اور طاقتیں اپنی الگ شناخت اور خودمختاری چھوڑ کر ایک ہی مقصد پر متفق ہو جاتی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق “ایک ہی رائے رکھنا” اس بات کی علامت ہے کہ یہ اتحاد جمہوری یا اخلاقی بنیاد پر نہیں بلکہ خدا کے خلاف مشترکہ بغاوت پر قائم ہوتا ہے۔ یہ سب اپنی طاقت اور اختیار حیوان کے حوالے کر دیتے ہیں، یعنی ایک مرکزی سیاسی نظام کو مکمل کنٹرول سونپ دیتے ہیں۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا اپنی آزادی کو خود خوشی سے قربان کر دیتی ہے، کیونکہ اسے امن، سلامتی اور استحکام کا جھوٹا وعدہ دیا جاتا ہے۔ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ جس اختیار کو وہ ایک نظام کے حوالے کر رہے ہیں، وہ دراصل مخالفِ مسیح کی مکمل حکمرانی ہے۔ یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ حیوان کی طاقت تلوار سے نہیں بلکہ رضاکارانہ اطاعت اور اجتماعی فریب کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ سب کچھ خدا کے علم اور اجازت کے بغیر نہیں ہو رہا۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ خود فیصلے کر رہا ہے، مگر درحقیقت وہ خدا کے منصوبے کو پورا کرنے کے ایک مرحلے میں داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہی وجہ ہے کہ خدا کے چُنے ہوئے اس اتحاد کا حصہ نہیں بنتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اصل اختیار صرف خدا کا ہے، نہ کہ کسی انسانی نظام کا۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 14 🟦
وہ برّہ سے لڑیں گے اور برّہ اُن پر غالِب آئے گا کِیُونکہ وہ خُداوندوں کا خُداوند اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور جو بُلائے ہُوئے اور برگُزیدہ اور وفادار اُس کے ساتھ ہیں وہ بھی غالِب آئیں گے۔
یہ آیت مکاشفہ باب 17 کا مرکزی اور فیصلہ کن بیان ہے۔ یہاں واضح طور پر بتایا جاتا ہے کہ یہ تمام سیاسی، مذہبی اور عالمی اتحاد آخرکار برّہ یعنی یسوع مسیح کے خلاف کھڑا ہوگا۔ برادر برینہم کے مطابق یہ لڑائی کسی ایک میدان تک محدود نہیں بلکہ خدا کے اختیار، کلام اور بادشاہی کے خلاف آخری بغاوت ہے۔ دنیا کے نظام سمجھتے ہیں کہ وہ طاقت، تعداد اور اتحاد کے ذریعے غالب آ جائیں گے، مگر یہ صرف ایک فریب ہے۔
“برّہ اُن پر غالب آئے گا” اس بات کا اعلان ہے کہ فتح پہلے ہی طے شدہ ہے۔ برّہ کو یہاں نہایت معنی خیز طور پر پیش کیا گیا ہے—وہی جو قربانی کے طور پر ذبح ہوا تھا، اب فاتح بادشاہ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ “خداوندوں کا خداوند اور بادشاہوں کا بادشاہ” یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کی کوئی حکومت، کوئی اختیار اور کوئی طاقت اس کے سامنے قائم نہیں رہ سکتی۔
اس آیت کا نہایت اہم حصہ یہ ہے کہ برّہ اکیلا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ “بلائے ہوئے، چُنے ہوئے اور وفادار” ہوتے ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہ تینوں صفات دُلہن کی مکمل شناخت ہیں۔
بلائے ہوئے: جنہیں خدا نے کلام کے ذریعے بلایا●
چُنے ہوئے: جن کا انتخاب ازل سے ہوا●
وفادار: جو آخر تک کلام پر قائم رہے●
یہی وہ گروہ ہے جو اس وقت پہلے ہی جلال میں ہوتا ہے اور برّہ کے ساتھ فتح میں شریک ہوتا ہے۔ یہ آیت دُلہن کے لیے عظیم تسلی کا پیغام ہے کہ اگرچہ دنیا کے نظام عارضی طور پر غالب دکھائی دیتے ہیں، مگر آخری اور ابدی فتح ہمیشہ برّہ اور اس کے لوگوں کی ہی ہوتی ہے۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 15 🟦
پھِر اُس نے مُجھ سے کہا کہ جو پانی تُو نے دیکھے جِن پر کسبی بَیٹھی ہے وہ اُمّتیں اور گرُوہ اور قَومیں اور اہلِ زبان ہیں۔
یہ آیت خود فرشتہ کی طرف سے براہِ راست تشریح پیش کرتی ہے، تاکہ کسی قسم کی ابہام باقی نہ رہے۔ برادر برینہم کے مطابق “پانی” ہمیشہ عوام، قوموں اور مختلف زبانوں کی علامت ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کِسبی عورت—یعنی مذہبی بابل—کسی ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ نظام مختلف ثقافتوں، زبانوں اور قوموں پر مذہبی اختیار اور اثر رکھتا ہے۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہی مذہبی بابل کی اصل طاقت ہے: وہ تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ روحانی اثر، تنظیمی ڈھانچے اور مذہبی اختیار کے ذریعے لوگوں کو اپنے زیرِ اثر رکھتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کی خدمت کر رہے ہیں، مگر حقیقت میں وہ ایک ایسے نظام کے تابع ہو جاتے ہیں جو انہیں خالص کلام سے دور لے جا رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عورت “بہت سے پانیوں پر بیٹھی ہوئی” دکھائی گئی ہے—وہ عوام پر سوار ہے، نہ کہ خدا کے کلام پر۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 16 🟦
اور جو دس سِینگ تُو نے دیکھے وہ اور حَیوان اُس کسبی سے عَداوَت رکھّیں گے اور اُسے بیکس اور ننگا کر دیں گے اور اُس کا گوشت کھا جائیں گے اور اُس کو آگ میں جلا ڈالیں گے۔ یہ آیت ایک نہایت چونکا دینے والا مگر اہم انکشاف پیش کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق آخرکار سیاسی مخالفِ مسیح کا نظام خود مذہبی بابل کے خلاف ہو جاتا ہے۔ جن طاقتوں نے پہلے کِسبی عورت کو سہارا دیا تھا، وہی آخر میں اس سے نفرت کرنے لگتی ہیں۔ اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ سیاست کبھی مذہب کی وفادار نہیں ہوتی—وہ صرف اسے استعمال کرتی ہے۔
“بیکس اور ننگا کر نا اور اُس کا گوشت کھانا اور اُس کو آگ میں جلادینا” مکمل تباہی کی علامت ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ جب سیاسی نظام کو مذہبی سہارے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے تو وہ مذہب کو بوجھ سمجھ کر ہٹا دیتا ہے۔ یہ سب کچھ محض انسانی سیاست کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کے منصوبے کے مطابق ہوتا ہے، تاکہ جھوٹا مذہب ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 17 🟦
کِیُونکہ خُدا اُن کے دِلوں میں یہ ڈالے گا کہ وہ اُس کی رای پر چلیں اور جب تک کہ خُدا کی باتیں پُوری نہ ہو لیں وہ مُتفِق اُلرّای ہوکر اپنی بادشاہی اُس حَیوان کو دے دیں۔
یہ آیت خدا کی مکمل حاکمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق حتیٰ کہ دشمنوں کے فیصلے بھی خدا کے اختیار سے باہر نہیں ہوتے۔ یہاں خدا خود اجازت دیتا ہے کہ یہ طاقتیں متحد ہوں، تاکہ اس کا کلام اور اس کی نبوت پوری ہو۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ آزادانہ فیصلے کر رہا ہے، مگر درحقیقت وہ خدا کے مقررہ منصوبے کے اندر چل رہا ہوتا ہے۔
یہ آیت دُلہن کے لیے بڑی تسلی کا پیغام ہے کہ حالات کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں، کنٹرول ہمیشہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی سیاسی یا مذہبی طاقت اس کے منصوبے کو بدل نہیں سکتی۔
تفسیرمکاشفہ باب 17 — آیت 18 🟦
اور وہ عَورت جِسے تُو نے دیکھا وہ بڑا شہر ہے جو زمِین کے بادشاہوں پر حکُومت کرتا ہے۔
یہ آیت باب 17 کا حتمی خلاصہ پیش کرتی ہے۔ کِسبی عورت کوئی فرد نہیں بلکہ ایک نظام ہے—ایک بڑا مذہبی شہر یا مرکز جو دنیا کی سیاست پر اثر انداز ہوتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ شناخت مذہبی روم کی طرف واضح اشارہ ہے، جو صدیوں سے بادشاہوں، حکومتوں اور قوموں پر مذہبی اثر رکھتا آیا ہے۔
یہ آیت تمام علامتوں کو سمیٹ کر واضح کر دیتی ہے کہ بابلِ عظیم کوئی تصوراتی خیال نہیں بلکہ ایک حقیقی، تاریخی اور عالمی مذہبی نظام ہے جسے خدا آخرکار مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔
باب 17 کا مختصر نتیجہ 🟦
کِسبی عورت = عالمی مذہبی بابل🔹
حیوان = سیاسی مخالفِ مسیح🔹
مذہب سیاست پر سوار🔹
آخر میں سیاست مذہب کو تباہ کرتی ہے🔹
سب کچھ خدا کے منصوبے کے مطابق🔹
برّہ غالب، دُلہن محفوظ🔹
متعلقہ بائبلی آیات●
(مکاشفہ 17باب13–18)●
ایک رائے، ایک اختیار — حیوان کو طاقت دینا●
مکاشفہ 17:13●
اِن سب کی ایک ہے رای ہو گی اور وہ اپنی قُدرت اور اِختیّار اُس حَیوان کو دے دیں گے۔
زبور 2:2●
زمین کے بادشاہ… خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف مشورہ کرتے ہیں۔
برّہ سے لڑائی — برّہ کی فتح●
مکاشفہ 17:14●
وہ برّہ سے لڑیں گے اور برّہ اُن پر غالِب آئے گا کِیُونکہ وہ خُداوندوں کا خُداوند اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور جو بُلائے ہُوئے اور برگُزیدہ اور وفادار اُس کے ساتھ ہیں وہ بھی غالِب آئیں گے۔
دانی ایل 7:14●
اُس کی بادشاہی ابدی بادشاہی ہے۔
بلائے ہوئے، چُنے ہوئے، وفادار
رومیوں 8:30●
جنہیں اُس نے پہلے مقرر کیا اُنہیں بلایا بھی۔
متی 24:13●
جو آخر تک قائم رہے گا وہی نجات پائے گا۔
پانی = قومیں اور زبانیں●
مکاشفہ 17:15●
پھِر اُس نے مُجھ سے کہا کہ جو پانی تُو نے دیکھے جِن پر کسبی بَیٹھی ہے وہ اُمّتیں اور گرُوہ اور قَومیں اور اہلِ زبان ہیں۔
سیاست مذہب کو تباہ کرتی ہے●
مکاشفہ 17:16●
اور جو دس سِینگ تُو نے دیکھے وہ اور حَیوان اُس کسبی سے عَداوَت رکھّیں گے اور اُسے بیکس اور ننگا کر دیں گے اور اُس کا گوشت کھا جائیں گے اور اُس کو آگ میں جلا ڈالیں گے۔
سب کچھ خدا کے منصوبے کے مطابق
امثال 21:1●
بادشاہ کا دل خُداوند کے ہاتھ میں ہے۔
یسعیاہ 46:10●
میرا منصوبہ قائم رہے گا۔
بڑی عورت = بڑا شہر●
مکاشفہ 17:18●
اور وہ عَورت جِسے تُو نے دیکھا وہ بڑا شہر ہے جو زمِین کے بادشاہوں پر حکُومت کرتا ہے۔
تفسیرمکاشفہ باب 18 بابلِ عظیم کا عملی زوال
مکاشفہ باب 18 آیت 1🟦
ن باتوں کے بعد مَیں نے ایک اَور فرِشتہ کو آسمان پر سے اُترتے دیکھا جِسے بڑا اِختیّار تھا اور زمِین اُس کے جلال سے روشن ہوگئی۔
برادر برینہم کے مطابق یہ فرشتہ رحمت کے پیغام کے لیے نہیں بلکہ فیصلے کے اعلان کے لیے آتا ہے۔ اس کے پاس “بڑا اختیار” ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اب بات کسی مقامی یا جزوی فیصلے کی نہیں بلکہ عالمی مذہبی نظام کے خاتمے کی ہے۔ زمین کا جلال سے روشن ہونا اس حقیقت کی علامت ہے کہ بابل کی اصل حقیقت اب چھپی نہیں رہے گی؛ جو نظام صدیوں سے مقدس ظاہر کیا جاتا رہا، وہ اب جھوٹ، فریب اور بدکاری کے ساتھ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ یہ روشنی دُلہن کی نہیں بلکہ انکشافِ عدالت کی روشنی ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیت 2🟦
اُس نے بڑی آواز سے چِلّا کر کہا کہ گِر پڑا بڑا شہر بابل گِر پڑا اور شیاطِین کا مسکن اور ناپاک رُوح کا اڈا اور ہر ناپاک اور مکرُوہ پرِندہ کا اڈا ہو گیا۔
برادر برینہم کے مطابق بابل کسی ایک شہر، عمارت یا عام لوگوں کا نام نہیں بلکہ ایک نظام ہے—ایسا مذہبی نظام جو ابتدا میں خدا کے کلام سے نکلا، مگر وقت کے ساتھ کلام کو چھوڑ کر تنظیم، روایت اور انسانی اختیار پر قائم ہو گیا۔ بابل کی بنیاد نمرود کے زمانے میں رکھی گئی، جب انسان نے خدا تک پہنچنے کے لیے اپنی راہ خود بنانے کی کوشش کی۔ یہی روح بعد میں مذہب میں داخل ہوئی اور سچائی کی جگہ رسومات، القاب اور طاقت نے لے لی۔
دو بار “گر پڑا” کہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بابل کی گراوٹ مرحلہ وار مگر مکمل ہے۔ پہلے وہ روحانی طور پر گرا—جب اس نے مکاشفہ شدہ کلام کو رد کیا۔ پھر وہ اخلاقی طور پر گرا—جب اس نے سیاست اور دنیاوی طاقت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کیا۔ آخرکار وہ عملی طور پر گرا—جب خدا نے اس کے نظام کو بے نقاب کر کے فیصلے کے تحت لے آیا۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ خدا کی نظر میں بابل کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا، مگر اب وہ فیصلہ ظاہر ہو رہا ہے۔
اب بابل خدا کے حضور کوئی مقام نہیں رکھتی بلکہ بدروحوں، ناپاک تعلیمات اور جھوٹے مکاشفوں کی رہائش گاہ بن چکی ہے۔ اس میں مذہبی سرگرمی تو بہت ہے، مگر زندگی نہیں؛ شوروغل ہے، مگر روح نہیں؛ تنظیم ہے، مگر مکاشفہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظام اب نہ شفا دے سکتا ہے، نہ نجات—بلکہ لوگوں کو قید، خوف اور فریب میں جکڑ کر رکھتا ہے۔ اسی لیے برادر برینہم کے مطابق خدا اپنے لوگوں کو آخری بار محبت اور سچائی کے ساتھ آواز دیتا ہے: “اُس میں سے نکل آؤ!”
تفسیرِ مکاشفہ باب 18 — آیت 3 🟦
کیونکہ اُس کی حرامکاری کی غضبناک مَے کے باعث تمام قومیں گِر گئی ہیں اور زمین کے بادشاہوں نے اُس کے ساتھ حرامکاری کی ہے اور دنیا کے سوداگر اُس کے عیش و عشرت کی بدولت دولت مند ہو گئے۔
یہ آیت مذہبی بابل کے عالمی اثر کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ یہاں “تمام قوموں کا گر جانا” اس بات کی نشانی ہے کہ یہ نظام کسی ایک ملک، ایک چرچ یا ایک فرقے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پوری دنیا کو اپنی روحانی بدکاری کے زیرِ اثر کر لیا۔ برادر برینہمؑ کے مطابق “گرنا” اخلاقی یا سیاسی زوال سے بڑھ کر روحانی زوال ہے، جہاں قومیں خدا کے خالص کلام کو چھوڑ کر مذہبی نظام کی جھوٹی سلامتی کو قبول کر لیتی ہیں۔
“زمین کے بادشاہوں نے اُس کے ساتھ حرامکاری کی” ایک بار پھر اس سچ کو ظاہر کرتا ہے کہ مذہب اور سیاست کا ناجائز اتحاد ہی مذہبی بابل کی اصل طاقت ہے۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ جب حکومتیں خدا پر بھروسہ کرنے کے بجائے مذہبی نظاموں سے اخلاقی جواز، عوامی قبولیت اور سیاسی استحکام حاصل کرنے لگتی ہیں، تو یہ روحانی زنا کہلاتا ہے۔ اس اتحاد کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ مذہب خدا کا رہتا ہے اور نہ سیاست انصاف پر قائم رہتی ہے۔
آیت کے آخری حصے میں “دنیا کے سوداگر” کا ذکر اس فریب کے ایک اور پہلو کو کھولتا ہے۔ یہ صرف مذہبی یا سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک معاشی نظام بھی ہے۔ مذہبی بابل نے عبادت، تقدس، نجات اور مذہبی خدمات کو تجارت بنا دیا۔ برادر برینہم کے مطابق جب مذہب دولت کمانے کا ذریعہ بن جائے—جب چرچ ایک کاروبار بن جائے—تو پھر سوداگر خوشحال ہوتے ہیں، مگر روحانی زندگی مر جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تاجر اس نظام کے گرنے پر روئیں گے، کیونکہ ان کا فائدہ خدا میں نہیں بلکہ بابل میں تھا۔
یہ آیت ہمیں یہ گہرا سبق دیتی ہے کہ مذہبی بابل صرف جھوٹی تعلیم نہیں لکہ ایک مکمل عالمی نظام ہے—مذہبی، سیاسی اور معاشی—جو خدا کے نام پر دنیا کو اپنے قابو میں لاتا ہے۔ مگر چونکہ اس کی بنیاد کلامِ خدا پر نہیں بلکہ انسانی لالچ، طاقت اور فریب پر ہے، اس لیے اس کا انجام یقینی زوال ہے، جسے مکاشفہ باب 18 میں پوری شدت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے
مکاشفہ باب 18 آیت4 🟦
پھِر مَیں نے آسمان میں کِسی اَور کو یہ کہتے سُنا کہ اَے میری اُمّت کے لوگو! اُس میں سے نِکل آؤ تاکہ تُم اُس کے گُناہوں میں شرِیک نہ ہو اور اُس کی آفتوں میں سے کوئی تُم پر نہ آ جائے۔
یہ خدا کی طرف سے رحمت کا آخری دروازہ ہے۔ برادر برینہم واضح کرتے ہیں کہ یہ پکار دُلہن کے لیے نہیں، کیونکہ دُلہن تو پہلے ہی کلام کے ذریعے نظاموں سے نکل چکی ہے۔ یہ آواز اُن مخلص دلوں کے لیے ہے جو ابھی بھی تنظیمی مذہب میں ہیں مگر دل سے سچائی چاہتے ہیں۔ خدا انہیں خبردار کرتا ہے کہ بابل میں رہنا اب گناہ میں شراکت ہے، اور شراکت سزا کو بھی شریک کرتی ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیت5 🟦
کِیُونکہ اُس کے گُناہ آسمان تک پہُنچ گئے ہیں اور اُس کی بدکارِیاں خُدا کو یاد آ گئی ہیں۔
یہاں “پہنچ گئے” کا مطلب یہ نہیں کہ خدا پہلے نہیں جانتا تھا، بلکہ یہ کہ اب حد پوری ہو چکی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق خدا کا صبر انسان کو مہلت دیتا ہے، مگر جب مہلت کو رد کیا جائے تو وہی صبر انصاف میں بدل جاتا ہے۔ اب بابل کے گناہ یاد کیے جاتے ہیں—یعنی فیصلہ فعال ہو جاتا ہے۔
● متعلقہ بائبلی آیات
(مکاشفہ باب 18باب1–5)●
جلال کے ساتھ اُترنے والا فرشتہ●
حزقی ایل 43:2●
یا وہ دیکھتا ہوں کہا اسرائیل کے خدا کا جلال مشرق کی طرف سے آیا اور اس کی آوازسیلاب کے شور کی سی تھی اور اس کے جلال سے منور ہو گئی ۔
2 کرنتھیوں 4:6●
اِس لِئے کہ خُدا ہی ہے جِس نے فرمایا کہ تارِیکی میں سے نُور چمکے اور وُہی ہمارے دِلوں میں چمکا تاکہ خُدا کے جلال کی پہچان کا نُور یِسُوع مسِیح کے چہرہ سے جلوہ گر ہو۔
بابل کا گرنا●
یسعیاہ 21:9●
اور دیکھ سپاہیوں کےغول اور انکے سوار دو دوکر کے آتے ہیں۔ پھر اس نے یوں کہا کہ بابل گر پڑا گر پڑا اور اسکے معبودوں کی سب تراشی ہوئی مورتیں بالکل ٹوٹی پڑی ہیں۔
مکاشفہ 14:8●
بابلِ عظیم گِر پڑا۔
ناپاکی اور بدروحوں کا مسکن●
یسعیاہ 13:21●
پر بن کے جنگلی درندے وہاں بیٹھینگے اور ان کے گھروں میں اُلو بھرے ہونگے ۔ وہاں شتر مرغ بسیں گے اور چھگمانس وہاں ناچینگے۔
قوموں، بادشاہوں اور تجارت کا فریب●
نحوم 3:4●
یہ اس خُوب صورت جادوگرنی فاحشہ کی بدکاری کی کثرت کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ قوموں کو اپنی بدکاری سےاور گھرانوں کو اپنی جادوگری سے بیچتی ہے۔
حزقی ایل 27:33●
تاجر اُس سے مالدار ہوئے۔
میری اُمت، اُس میں سے نکل آؤ●
یرمیاہ 51:6●
بابلؔ سے نکل بھاگو اور ہر ایک اپنی جان بچا ئے ۔اُسکی بد کرداری کی سزا میں شریک ہو کر ہلاک نہ ہو کیونکہ یہ خداوند کے اِنتقام کا وقت ہے ۔وہ اُسے بدلہ دیتا ہے
2 کرنتھیوں 6:17●
اُن میں سے نکل آؤ اور الگ ہو جاؤ۔
گناہ آسمان تک پہنچ گئے●
پیدائش 18باب:20–21●
اُن کا گناہ بہت بھاری ہو گیا ہے۔
زبور 9:16
خُداوند کی شہرت پھیل گءی۔ اُس نے اِنصاف کیا ہے۔ شریر اپنے ہی ہاتھ کے کاموں میں پھنس گیا ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیت6 🟦
جَیسا اُس نے کِیا وَیسا ہی تُم بھی اُس کے ساتھ کرو اور اُسے اُس کے کاموں کو دوچند بدلہ دو۔ جِس قدر اُس نے پیالہ بھرا تُم اُس کے لِئے دُگنا بھر دو۔
یہ آیت خدا کے کامل اور منصفانہ انصاف کو ظاہر کرتی ہے۔ بابل نے جس پیمانے سے دنیا، قوموں اور خدا کے خادموں کے ساتھ برتاؤ کیا—یعنی جھوٹ، جبر، مذہبی فریب اور حتیٰ کہ قتل کے ذریعے—اب اُسی پیمانے سے اس کے ساتھ برتاؤ کیا جاتا ہے، بلکہ “دوگنا” اس بات کی علامت ہے کہ اس کا گناہ جان بوجھ کر اور روشنی کے باوجود تھا۔ برادر برینہم کے مطابق خدا کا انصاف نہ تو وقتی غصے پر مبنی ہے اور نہ ہی انتقام پر، بلکہ یہ کلام کے عین مطابق، ناپ تول کے ساتھ نافذ ہوتا ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیت 7 🟦
جِس قدر اُس نے اپنے آپ کو شاندار بنایا اور عیّاشی کی تھی اُسی قدر اُس کو عذاب اور غم میں ڈال دو کِیُونکہ وہ اپنے دِل میں کہتی ہے کہ مَیں ملکہ ہو بَیٹھی ہُوں۔ بیوہ نہِیں اور کبھی غم نہ دیکھُوں گی۔
یہاں بابل کی اصل جڑ کھل کر سامنے آتی ہے: غرور اور خودمختاری۔ اس نے اپنے آپ کو “ملکہ” کہا، یعنی ایسا نظام جو خود کو ناقابلِ سوال اور ناقابلِ زوال سمجھتا ہے۔ “میں بیوہ نہیں” کہنا اس بات کا اعلان ہے کہ وہ خود کو خدا کے بغیر بھی مکمل، محفوظ اور طاقتور سمجھتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب خدا کی عبادت چھوڑ کر اپنی عبادت شروع کر دیتا ہے، اور یہی خودکفالت آخرکار تباہی میں بدل جاتی ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیت8 🟦
اِس لِئے اُس پر ایک ہی دِن میں آفتیں آئیں گی یعنی مَوت اور غم اور کال اور وہ آگ میں جلا کر خاک کر دی جائے گی کِیُونکہ اُس کا اِنصاف کرنے والا خُداوند خُدا قوی ہے۔
یہ آیت بابل کے زوال کی اچانک اور حتمی نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ جو مذہبی نظام صدیوں میں تعمیر ہوا، جو ناقابلِ شکست دکھائی دیتا تھا، وہ ایک ہی لمحے میں گرا دیا جاتا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے: وقت، طاقت اور تسلسل خدا کے اختیار میں ہیں، انسان کے نہیں۔ جب خدا حرکت میں آتا ہے تو دیر نہیں لگتی۔
مکاشفہ باب 18 آیات9–10🟦
اور اُس کے ساتھ حرامکاری اور عیّاشی کرنے والے زمِین کے بادشاہ جب اُس کے جلنے کا دھُواں دیکھیں گے تو اُس کے لِئے روئیں گے اور چھاتی پِٹِیں گے۔
10 اور اُس کے عذاب کے ڈر سے دُور کھڑے ہُوئے کہیں گے اَے بڑے شہر! اَے بابل! اَے مضبُوط شہر! افسوس! افسوس! گھڑی ہی بھر میں تُجھے سزا مِل گئی۔
بادشاہوں کا نوحہ🔹
یہاں دنیا کے سیاسی حکمران بابل کے جلنے کو دیکھ کر روتے ہیں، مگر ان کا رونا توبہ کا نہیں بلکہ نقصان کا ہے۔ وہ اس لیے نہیں روتے کہ انہوں نے خدا کے خلاف کیا، بلکہ اس لیے کہ اب وہ مذہبی نظام ختم ہو گیا جس کے ذریعے وہ اقتدار اور کنٹرول حاصل کرتے تھے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ دنیاوی غم اور آسمانی توبہ کے فرق کو واضح کرتا ہے—دنیا فائدہ کھونے پر روتی ہے، خدا گناہ پر رونے کو دیکھتا ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیات11–17🟦
اور دُنیا کے سوداگر اُس کے ساتھ روئیں گے اور ماتم کریں گے کِیُونکہ اَب کوئی اُن کا مال نہِیں خرِیدنے کا۔
اور وہ مال یہ ہے سونا۔ چاندی۔ جواہِر۔ موتی اور مہِین کتانی اور ارغوانی اور ریشمی اور قِرمزی کپڑے اور ہر طرح کی خُوشبُودار لکڑیاں اور ہاتھی دانت کی طرح طرح کی چِیزیں اور نِہایت بیش قِیمت لکڑی اور پِیتل اور لوہے اور سنگِ مرمر کی طرح طرح کی چِیزیں۔
اور دار چِینی اور مصالِح اور عُود اور عِطر اور لُبان اور مَے اور تیل اور مَیدہ اور گیہُوں اور مویشی اور بھیڑیں اور گھوڑے اور گاڑِیاں اور غُلام اور آدمِیوں کی جانیں۔
اَب تیرے دِل پسند میوے تیرے پاس سے دُور ہو گئے اور سب لزیز اور تحفہ چِیزیں تُجھ سے جاتی رہیں۔ اَب وہ ہرگِز ہاتھ نہ آئیں گی۔
اِن چِیزوں کے سوداگر جو اُس کے سبب سے مالدار بن گئے تھے اُس کے عذاب کے خَوف سے دُور کھڑے ہُوئے روئیں گے اور غم کریں گے۔
اور کہیں گے افسوس! افسوس! وہ بڑا شہر جو مہِین کتانی اور ارغوانی اور قِرمزی کپڑے پہنے ہُوئے اور سونے اور جواہِر اور موتِیوں سے آراستہ تھا!
گھڑی ہی بھر میں اُس کی اِتنی بڑی دَولت برباد ہو گئی اور سب ناخُدا اور جہاز کے سب مُسافِر اور مَلّاح اور اَور جِتنے سَمَندَر کا کام کرتے ہیں۔
تاجروں کا نوحہ🔹
یہ حصہ ظاہر کرتا ہے کہ بابل صرف مذہبی نہیں بلکہ معاشی طاقت بھی تھی۔ تاجر اس لیے روتے ہیں کہ اب ان کا مال نہیں بکتا—یعنی مذہب ایک منڈی بن چکا تھا۔ برادر برینہم کے مطابق جب ایمان تجارت بن جائے، جب نجات قیمت پر ملنے لگے، اور جب مذہب دولت کمانے کا ذریعہ بن جائے، تو اس کا انجام لازماً تباہی ہوتا ہے۔ یہاں رونا بھی عبادت کے ختم ہونے پر نہیں بلکہ کاروبار کے بند ہونے پر ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیات18–19🟦
جب اُس کے جلنے کا دھُواں دیکھیں گے تو دُور کھڑے ہُوئے چِلّائیں گے اور کہیں گے کَون سا شہر اِس بڑے شہر کی مانِند ہے؟
اور اپنے سروں پر خاک ڈالیں گے اور روتے ہُوئے اور ماتم کرتے ہُوئے چِلّا چِلّا کر کہیں گے افسوس! افسوس! وہ بڑا شہر جِس کی دَولت سے سَمَندَر کے سب جہاز والے دَولتمند ہوگئے گھڑی ہی بھر میں اُجڑ گیا۔
سمندری لوگ🔹
یہ لوگ دور کھڑے ہو کر بابل کی راکھ کو دیکھتے اور نوحہ کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بابل کا اثر صرف ایک خطے تک محدود نہیں تھا بلکہ دنیا کے آخری کناروں تک پھیلا ہوا تھا۔ مگر اب اس عظیم سمجھے جانے والے نظام کی حالت یہ ہے کہ نہ مرکز باقی رہا، نہ اختیار، نہ اثر—صرف راکھ۔ برادر برینہم کے مطابق یہ تصویر اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ جو چیز خدا پر قائم نہ ہو، وہ آخرکار مکمل طور پر مٹ جاتی ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیت20 🟦
اَے آسمان اور اَے مُقدّسو اور رَسُولو اور نبِیو! اُس پر خُوشی کرو کِیُونکہ خُدا نے اِنصاف کر کے اُس سے تُمہارا بدلہ لے لِیا۔
یہ آیت زمین اور آسمان کے ردِعمل کا واضح فرق دکھاتی ہے۔ زمین روتی ہے کیونکہ اُس کے مفادات ختم ہوئے، مگر آسمان خوش ہوتا ہے کیونکہ آخرکار انصاف نافذ ہو گیا۔ برادر برینہم کے مطابق یہ خوشی انتقام کی نہیں بلکہ راستبازی کی فتح کی خوشی ہے۔ وہ خون جو برسوں دبایا گیا، وہ دعائیں جو جواب کے انتظار میں تھیں—اب سنی گئیں۔ خدا نے دکھا دیا کہ اُس کے نبیوں، رسولوں اور مقدسوں کا خون رائیگاں نہیں گیا۔
مکاشفہ باب 18 آیت21 🟦
پھِر ایک زورآور فرِشتہ نے چکّی کے پاٹ کی مانِند ایک پتھّر اُٹھایا اور یہ کہہ کر سَمَندَر میں پھینک گیا کہ بابل کا بڑا شہر بھی اِسی طرح زور سے گِرایا جائے گا اور پھِر کبھی اُس کا پتہ نہ مِلے گا۔
یہ عمل بابل کے ہمیشہ کے لیے خاتمے کی علامت ہے۔ جیسے بھاری پتھر سمندر میں ڈوب کر واپس نہیں آتا، ویسے ہی بابل کا نظام دوبارہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔ برادر برینہم کے مطابق یہ محض وقتی سزا نہیں بلکہ حتمی اور ناقابلِ واپسی فیصلہ ہے۔ خدا یہ اعلان کر دیتا ہے کہ اب اس نظام کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیت22 🟦
اور بربط نوازوں اور مُطِربوں اور بانسلی بجانے والوں اور نرسِنگا پھُونکنے والوں کی آواز پھِر کبھی تُجھ میں نہ سُنائی دے گی اور کِسی پیشہ کا کاریگر تُجھ میں پھِر کبھی نہ پایا جائے گا اور چکّی کی آواز تُجھ میں پھِر کبھی نہ سُنائی دے گی۔
یہ آیت بابل کے اندر موجود ظاہری مذہبی رونق کے مکمل خاتمے کو ظاہر کرتی ہے۔ موسیقی، تقاریب اور مذہبی سرگرمیاں سب بند ہو جاتی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق بابل میں شور تو بہت تھا، مگر روح نہیں تھی؛ سرگرمی تھی، مگر زندگی نہیں تھی۔ اب جب خدا کی حضوری ہٹ جاتی ہے تو وہ تمام ظاہری چمک بھی ختم ہو جاتی ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیت23 🟦
اور چِراغ کی روشنی تُجھ میں پھِر کبھی نہ چمکے گی اور تُجھ میں دُلہے اور دُلہن کی آواز پھِر کبھی نہ سُنائی دے گی کِیُونکہ تیرے سوداگر زمِین کے امِیر تھے اور تیری جادُوگری سے سب قَومیں گُمراہ ہو گئِیں۔
چراغ کی روشنی کا بجھ جانا اس بات کی علامت ہے کہ روحانی روشنی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ شادی کی آواز نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ برّہ کی دلہن اس نظام کا حصہ کبھی تھی ہی نہیں۔ برادر برینہم کے مطابق دُلہن پہلے ہی اس نظام سے نکل چکی تھی، اس لیے بابل میں شادی کا چراغ جل ہی نہیں سکتا تھا۔ یہاں صرف ایک خالی ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔
مکاشفہ باب 18 آیت 24 🟦
اور نبِیوں اور مُقدّسوں اور زمِین کے اَور سب مقتُولوں کا خُون اُس میں پایا گیا۔
باب کا اختتام ایک سنگین الزام پر ہوتا ہے۔ بابل پر آنے والا فیصلہ اتفاقی یا سخت نہیں بلکہ بالکل عادلانہ ہے، کیونکہ وہ خدا کے لوگوں کے خون میں شریک تھی۔ برادر برینہم کے مطابق بابل نے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سچائی کو دبایا، نبیوں کو رد کیا، اور ایمانداروں کو ستایا—اسی لیے اس کا انجام ناگزیر تھا۔
باب 18 کا مکمل انجامی خلاصہ🟦
آسمان خوش، زمین ماتم کرتی ہے●
بابل کا خاتمہ ہمیشہ کے لیے●
مذہبی شور ختم، روحانی روشنی بجھ گئی●
دُلہن پہلے ہی باہر تھی●
خون کا حساب پورا ہوا●
خدا کا انصاف ثابت ہو●
تفسیرمکاشفہ باب 19برّہ کی شادی، آسمانی خوشی اور مخالفِ مسیح کی حتمی شکست
مکاشفہ باب 19 آیت1 🟦
اِن باتوں کے بعد مَیں نے آسمان پر گویا ایک بڑی جماعت کو بُلند آواز سے یہ کہتے سُنا کہ ہلّلُویاہ! نِجات اور جلال اور قُدرت ہمارے خُدا ہی کی ہے۔
یہ عظیم آواز آسمان میں موجود اُس نجات یافتہ مجمع کی ہے جو تمام زمانوں میں خدا کے فضل سے بچایا گیا۔ برادر برینہم واضح کرتے ہیں کہ یہ آواز دُلہن کی نہیں، کیونکہ دُلہن اب برّہ کے ساتھ مخصوص مقام پر ہے، بلکہ یہ اُن سب کی آواز ہے جو خدا کے منصوبے میں اپنے اپنے وقت پر شامل ہوئے۔ اس خوشی کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی بابل کا خاتمہ ہو چکا ہے، سچائی غالب آ گئی ہے، اور خدا کا انصاف بالآخر ظاہر ہو گیا ہے۔ “ہللویّاہ” کا نعرہ انسان کی کامیابی پر نہیں بلکہ خدا کی فتح پر آسمان کا ردِعمل ہے۔
مکاشفہ باب 19 آیت2 🟦
کیُونکہ اُس کے فیصلے راست اور دُرُست ہیں اِس لِئے کہ اُس نے اُس بڑی کسبی کا اِنصاف کِیا جِس نے اپنی حرامکاری سے دُنیا کو خراب کِیا تھا اور اُس نے اپنے بندوں کے خُون کا بدلہ لِیا۔
یہ آیت بابل پر آنے والے فیصلے کی راستبازی کی گواہی دیتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق خدا کا غضب کبھی اندھا یا جذباتی نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ کلام کے عین مطابق ہوتا ہے۔ یہاں خاص طور پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خدا نے اپنے نبیوں، خادموں اور مقدسوں کے خون کا حساب لیا، اور وہ مذہبی فریب جو صدیوں تک چھپا رہا، اب پوری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ اس طرح یہ فیصلہ انصاف کی تکمیل ہے، نہ کہ زیادتی۔
مکاشفہ باب 19 آیت3 🟦
پھِر دُوسری بار اُنہوں نے ہلّلُویاہ کہا اور اُس کے جلنے کا دھُواں ابدُالآباد اُٹھتا رہے گا۔
یہ دوسرا “ہللویّاہ” اس بات کا اعلان ہے کہ بابل کی تباہی عارضی نہیں بلکہ دائمی ہے۔ “اُس کا دھواں ہمیشہ اٹھتا رہے گا” کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹا مذہبی نظام دوبارہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔ برادر برینہم کے مطابق یہ خدا کی طرف سے حتمی مہر ہے کہ جس چیز کو اس نے رد کر دیا، وہ تاریخ میں دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتی۔
مکاشفہ باب 19 آیت4 🟦
اور چَوبِیسوں بُزُرگوں اور چاروں جانداروں نے گِر کر خُدا کو سِجدہ کیا جو تخت پر بَیٹھا تھا اور کہا آمِین۔ ہلّلُویاہ!
یہ منظر مکمل عبادت اور اتفاق کا ہے۔ چوبیس بزرگ تمام زمانوں کے نجات یافتہ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اور چار جاندار خدا کے مکاشفہ اور گواہی کی علامت ہیں۔ یہاں نہ کوئی فرقہ باقی ہے، نہ کوئی تنظیم، نہ کوئی اختلاف—صرف خدا کی بادشاہی کو تسلیم کرتے ہوئے خالص عبادت ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں سب کچھ انسان کے ہاتھ سے نکل کر مکمل طور پر خدا کے اختیار میں آ جاتا ہے۔
مکاشفہ باب 19 آیت5 🟦
اور تخت میں سے یہ آواز نِکلی کہ اَے اُس سے ڈرنے والے بندو خواہ چھوٹے ہو خواہ بڑے! تُم سب ہمارے خُدا کی حمد کرو۔
یہ آواز خود خدا کے تخت سے آتی ہے اور اگلے مرحلے کی اجازت دیتی ہے۔ اب بابل ختم ہو چکی ہے، دُلہن تیار ہو چکی ہے، اور شادی کا وقت آ پہنچا ہے۔ یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ تاریخ کا دھارا بدلنے والا ہے—اب دنیا کے نظام کا نہیں بلکہ خدا کی بادشاہی کا دور شروع ہونے جا رہا ہے۔
مکاشفہ باب 19 آیت6 🟦
پھِر مَیں نے بڑی جماعت کی سی آواز اور زور کے پانی کی سی آواز اور سخت گرجوں کی سی آواز سُنی کہ ہلّلُویاہ! اِس لِئے کہ خُداوند ہمارے خُدا قادِرِ مُطلَق بادشاہی کرتا ہے۔
یہ آسمان کی سب سے بڑی خوشی کا لمحہ ہے، کیونکہ خدا نے براہِ راست بادشاہی سنبھال لی ہے۔ شیطان کا نظام ناکام ہو چکا ہے، انسانی حکومتیں ختم ہو رہی ہیں، اور اب حقیقی حکمران ظاہر ہو رہا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہی وہ لمحہ ہے جب خدا خود تاریخ کے اسٹیج پر کھڑا ہو کر اقتدار سنبھالتا ہے۔
مکاشفہ باب 19 آیت7 🟦
آؤ۔ ہم خُوشی کریں اور نِہایت شادمان ہوں اور اُس کی تمجِید کریں اِس لِئے کہ برّہ کی شادِی آ پہُنچی اور اُس کی بِیوی نے اپنے آپ کو تیّار کر لِیا۔
یہ اعلان مکاشفہ باب 19 کا دل اور مرکز ہے، کیونکہ یہاں خدا کا ازلی مقصد اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ برّہ کی شادی زمین پر نہیں بلکہ آسمان میں ہوتی ہے، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دُلہن پہلے ہی رَپچر کے ذریعے دنیا سے اُٹھا لی گئی ہوتی ہے۔ یہ شادی کوئی علامتی خیال یا روحانی استعارہ نہیں بلکہ ایک حقیقی، آسمانی اور جلالی واقعہ ہے، جس میں مسیح اور اُس کی دُلہن کا ازلی اتحاد ظاہر ہوتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جس کے لیے دُلہن کو صدیوں تک تیار کیا گیا۔ اس نے اپنے آپ کو مذہبی نظاموں، فرقہ وارانہ بندشوں اور انسانی تنظیموں سے الگ رکھا، کیونکہ برادر برینہم کے مطابق دُلہن کی وفاداری کسی چرچ سے نہیں بلکہ کلام سے ہوتی ہے۔ اس نے مکاشفہ شدہ کلام کو تھاما، چاہے اس کی قیمت ردّی، تنہائی یا مخالفت ہی کیوں نہ ہو۔ اسی پاکیزگی اور وفاداری کے باعث وہ “تیار” پائی گئی—نہ اپنے اعمال کے سبب، بلکہ اُس فضل کے ذریعے جو اسے کلام کے ساتھ چلنے سے ملا۔
یہ شادی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اب جدائی ختم ہو گئی ہے۔ وہ مسیح جو زمین پر ردّ کیا گیا، اب اپنی دُلہن کے ساتھ جلال میں متحد ہوتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں دُلہن کی ساری جدوجہد، آزمائش اور وفاداری کا اجر ظاہر ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آسمان خوشی سے گونج اٹھتا ہے، کیونکہ ازلی محبت کا مقصد پورا ہو چکا ہوتا ہے۔
مکاشفہ باب 19 آیت8 🟦
اور اُس کو چمکدار اور صاف مہِین کتانی کپڑا پہننے کا اِختیّار دِیا گیا کِیُونکہ مہِین کتانی کپڑے سے مُقدّس لوگوں کی راستبازی کے کام مُراد ہیں۔
یہ باریک، چمکدار اور پاک کتان دُلہن کے ذاتی اعمال، مذہبی سرگرمیوں یا انسانی کوششوں کی علامت نہیں بلکہ اُس الٰہی راستبازی کی نشانی ہے جو خدا نے خود دُلہن کو عطا کی۔ برادر برینہم واضح کرتے ہیں کہ اگر لباس اعمال سے بنتا تو کوئی بھی دُلہن میں شامل نہ ہو پاتا، کیونکہ اعمال کبھی کامل نہیں ہو سکتے۔ یہ کتان دراصل اُس زندگی کی تصویر ہے جو دُلہن نے مکاشفہ شدہ کلام کے مطابق گزاری—یعنی ایسی زندگی جو زمانے کے مذہبی نظاموں کے خلاف کھڑی رہی، سچائی پر قائم رہی، اور ہر دور میں خدا کی آواز کو پہچانتی رہی۔
برادر برینہم کے مطابق دُلہن کا لباس “پہنایا جاتا ہے”، کمایا نہیں جاتا۔ یہ فضل کا نتیجہ ہے، نہ کہ محنت کا۔ یہی وجہ ہے کہ کتان “چمکدار” ہے—کیونکہ یہ انسانی کوشش سے نہیں بلکہ خدا کی حضوری سے آیا ہے۔ دُلہن نے اپنے آپ کو پاک رکھا، مگر پاکیزگی کا اصل ذریعہ خدا کا کلام اور اُس کی عطا کردہ راستبازی ہے۔
مکاشفہ باب 19 آیت9 🟦
اور اُس نے مُجھ سے کہا لِکھ۔ مُبارک ہیں وہ جو برّہ کی شادِی کی ضِیافت میں بُلائے گئے ہیں۔ پھِر اُس نے مُجھے سے کہا یہ خُدا کی سَچّی باتیں ہیں۔
یہ آیت ایک نہایت اہم امتیاز کو واضح کرتی ہے جس پر برادر برینہم بار بار زور دیتے ہیں۔ یہاں شادی اور شادی کی ضیافت دو الگ چیزیں ہیں۔ دُلہن خود شادی میں شامل ہوتی ہے—وہ برّہ کے ساتھ ازلی رشتے میں بندھی ہوتی ہے۔ لیکن شادی کی ضیافت میں جو “بلائے گئے” ہیں، وہ دُلہن نہیں بلکہ مہمان ہیں۔
برادر برینہم کے مطابق ان مہمانوں میں پرانے عہد کے مقدس، جیسے ابراہیم، موسیٰ، دانی ایل، اور وہ تمام نجات یافتہ شامل ہیں جو دُلہن کے گروہ میں نہیں تھے مگر خدا کے فضل سے بچائے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ “مبارک” کہلاتے ہیں—کیونکہ اگرچہ وہ دُلہن نہیں، پھر بھی انہیں برّہ کے جلال میں شریک ہونے کا موقع دیا گیا ہے۔
اس فرق کو نہ سمجھنے سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، مثلاً سب کو دُلہن سمجھ لینا یا شادی اور ضیافت کو ایک ہی واقعہ مان لینا۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ بائبل امتیاز کی کتاب ہے، اور یہاں بھی خدا نے واضح فرق رکھا ہے: دُلہن شادی میں، اور باقی نجات یافتہ ضیافت میں۔ یہی درست ترتیب مکاشفہ باب 19 کی گہرائی کو کھولتی ہے۔
تفسیرِ مکاشفہ باب 19 — آیت 10 🟦
صرف خدا کی عبادت🔹
اور مَیں اُسے سِجدہ کرنے کے لِئے اُس کے پاؤں پر گِرا۔ اُس نے مُجھ سے کہا کہ خَبردار! اَیسا نہ کر۔ مَیں بھی تیرا اور تیرے اُن بھائِیوں کا ہم خِدمت ہُوں جو یِسُوع کی گواہی دینے پر قائِم ہیں۔ خُدا ہی کو سِجدہ کر کِیُونکہ یِسُوع کی گواہی نُبُوّت کی رُوح ہے۔
یہ آیت ایک نہایت سنجیدہ روحانی انتباہ ہے، خاص طور پر آخری زمانے کے لیے۔ یوحنا اس عظیم مکاشفے، جلال اور شادی کے منظر کو دیکھ کر اتنا متاثر ہوتا ہے کہ وہ فرشتے کو سجدہ کرنے لگتا ہے، مگر فوراً ہی اُسے روکا جاتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان—یہاں تک کہ سچا نبی—اگر محتاط نہ رہے تو مکاشفے کے وسیلے کو خدا کی جگہ دینے کی غلطی کر سکتا ہے۔
فرشتہ واضح کرتا ہے کہ وہ کوئی عبادت کے لائق ہستی نہیں بلکہ “ہم خدمت” ہے—یعنی یوحنا اور اُس کے بھائیوں کی طرح خدا کا خادم۔ برادر برینہم بار بار سکھاتے ہیں کہ کوئی فرشتہ، کوئی نبی، کوئی پیامبر عبادت کے قابل نہیں۔ ہر سچا خادم ہمیشہ توجہ اپنی ذات سے ہٹا کر خدا اور اُس کے کلام کی طرف لے جاتا ہے۔
:یہاں سب سے اہم جملہ ہے
“یسوع کی گواہی نبوت کی روح ہے”۔
برادر برینہم کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سچی نبوت، ہر سچا مکاشفہ، اور ہر حقیقی پیغام کا مرکز یسوع مسیح ہوتا ہے—نہ کہ کوئی نظام، شخصیت یا تنظیم۔ اگر کوئی تعلیم یا مکاشفہ یسوع کو مرکز میں نہ رکھے، تو وہ نبوت کی روح سے نہیں۔
:یہ آیت آخری زمانے کے ایمانداروں کے لیے ایک حفاظتی دیوار ہے
خادم کی عزت کرو، مگر عبادت نہ کرو
مکاشفے کو پہچانو، مگر ذریعہ کو خدا نہ بناؤ
ہر چیز کو اس معیار پر پرکھو: کیا یہ یسوع کی گواہی دیتی ہے؟
برادر برینہم کے مطابق یہی وہ توازن ہے جو دُلہن کو دھوکے سے بچاتا ہے—کیونکہ دُلہن کسی انسان کی پیروی نہیں کرتی، بلکہ مکاشفہ شدہ کلام میں ظاہر ہونے والے یسوع مسیح کی پیروی کرتی ہے۔
تفسیرِ مکاشفہ باب 19 — آیت11 🟦
پھِر مَیں نے آسمان کو کھُلا ہُؤا دیکھا اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے اور اُس پر ایک سوار ہے جو سَچّا اور برحق کہلاتا ہے اور وہ راستی کے ساتھ اِنصاف اور لڑائی کرتا ہے۔ سفید گھوڑے پر سوار: مسیح بطور بادشاہ اور منصف🔹
یہ آیت مکاشفہ 19 کا ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ یہاں یسوع مسیح اب برّہ کے طور پر نہیں بلکہ فاتح بادشاہ اور منصف کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ منظر رَپچر کے بعد کا ہے، جب رحم کا دور ختم ہو چکا اور عدالت کا وقت شروع ہو گیا ہے۔ “آسمان کا کھل جانا” اس بات کی علامت ہے کہ اب خدا کا منصوبہ پوری طرح ظاہر ہو رہا ہے—اب کچھ پوشیدہ نہیں رہا۔
سفید گھوڑا فتح، پاکیزگی اور خدائی اختیار کی علامت ہے۔ یہ وہی مسیح ہے جو پہلے عاجزی سے آیا تھا، مگر اب وہ طاقت اور اختیار کے ساتھ واپس آ رہا ہے۔ اس کا نام “امین اور سچا” ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اس کے فیصلے نہ تعصب پر مبنی ہیں، نہ انسانی سیاست پر—بلکہ مکمل طور پر کلام کے مطابق ہیں۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یسوع راستبازی سے جنگ کرتا ہے؛ یعنی وہ تلوار، ہتھیار یا فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اپنے کلام سے فیصلہ کرتا ہے۔
یہ جنگ کسی انسان کی جنگ نہیں بلکہ خدا کی جنگ ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب دنیا کے تمام نظام—مذہبی، سیاسی اور معاشی—خدا کے کلام کے سامنے کھڑے کیے جاتے ہیں۔ دُلہن اس جنگ میں لڑنے کے لیے نہیں بلکہ فاتح کے ساتھ کھڑی ہونے کے لیے ہے، کیونکہ فیصلہ وہ کلام کر رہا ہے جو ابتدا سے منادی ہوتا آیا تھا۔
برادر برینہم کے مطابق مکاشفہ 19:11 ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ آخرکار تاریخ کا انجام انسان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ امین اور سچے مسیح کے ہاتھ میں ہے، جو ہر بات کو انصاف اور راستبازی کے ساتھ ختم کرتا ہے۔
تفسیرِ مکاشفہ باب 19 آیت12— 13 🟦
اور اُس کی آنکھیں آگ کے شعلے ہیں اور اُس کے سر پر بہُت سے تاج ہیں اور اُس کا ایک نام لِکھا ہُؤا ہے جِسے اُس کے سِوا اَور کوئی نہِیں جانتا۔
اور وہ خُون کی چھِڑکی ہُوئی پوشاک پہنے ہُوئے ہے اور اُس کا نام کلامِ خُدا کہلاتا ہے۔
آنکھیں آگ کی مانند، نام جو کوئی نہیں جانتا، اور “خدا کا کلام”🔹
یہاں مسیح کی مکمل شناخت ظاہر کی جاتی ہے۔ “آنکھیں آگ کے شعلے کی مانند” ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اُس کی نظر سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں—وہ دلوں کے بھید جانتا ہے، نیتوں کو پرکھتا ہے، اور ہر فریب کو بے نقاب کرتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ نظر رحم کی نہیں بلکہ جانچ اور عدالت کی نظر ہے؛ اب وقت پرکھنے کا ہے، برداشت کرنے کا نہیں۔
“سر پر بہت سے تاج” ظاہر کرتے ہیں کہ اب تمام اختیار اسی کے پاس ہے—سیاسی، مذہبی، آسمانی اور زمینی۔ جو تاج کبھی انسانوں اور نظاموں نے اپنے سر پر رکھے تھے، اب وہ سب ایک ہی بادشاہ کے تحت آ چکے ہیں۔ یہ اعلان ہے کہ کوئی اور اقتدار باقی نہیں رہا۔
“ایک نام جسے اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا” مسیح کے اُس مکمل اور ابدی مکاشفہ کی طرف اشارہ ہے جو انسان کی عقل سے بالا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ ہم مسیح کو جتنا جان سکتے تھے، جان چکے—مگر وہ اپنی ذات میں اس سے کہیں بڑا ہے۔ اس نام کا راز یہ بتاتا ہے کہ خدا کبھی مکمل طور پر انسانی فہم میں محدود نہیں ہوتا۔
“خون میں ڈوبا ہوا لباس” اُس کے اپنے خون کی علامت نہیں بلکہ دشمنوں پر آنے والی عدالت کی تصویر ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کلام جسے رد کیا گیا، اب فیصلہ بن کر لوٹتا ہے۔ اسی لیے اُس کا نام “خدا کا کلام” رکھا گیا—کیونکہ وہی کلام جو پہلے منادی ہوا، اب فیصلہ کرنے والا کلام بن چکا ہے۔
برادر برینہم کے مطابق یہ آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ آخر میں کسی فلسفے، نظام یا طاقت کا فیصلہ نہیں ہوگا—بلکہ صرف کلام فیصلہ کرے گا۔ اور وہ کلام خود مسیح ہے، جو اب بادشاہوں کے بادشاہ کے طور پر ظاہر ہو چکا ہے۔
تفسیرِ مکاشفہ باب 19 آیت 14 🟦
اور آسمان کی فَوجیں سفید گھوڑوں پر سوار اور سفید اور صاف مہِین کتانی کپڑے پہنے ہُوئے اُس کے پِیچھے پِیچھے ہیں۔
آسمانی لشکر سفید گھوڑوں پر🔹
یہ آیت ایک نہایت جلالی سچائی کو ظاہر کرتی ہے: آسمانی لشکر دراصل دُلہن ہے۔ برادر برینہم واضح کرتے ہیں کہ یہ کوئی فرشتوں کی فوج نہیں، بلکہ وہ منتخب لوگ ہیں جو پہلے ہی رَپچر میں اٹھائے جا چکے، برّہ کی شادی میں شریک ہو چکے، اور اب مسیح کے ساتھ واپس آ رہے ہیں۔ سفید گھوڑے فتح، پاکیزگی اور آسمانی اختیار کی علامت ہیں—یہ اعلان ہے کہ دُلہن اب مصیبت میں نہیں بلکہ فتح میں ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس لشکر کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں۔ برادر برینہم کے مطابق دُلہن لڑنے کے لیے نہیں آتی، کیونکہ جنگ وہ خود نہیں لڑتی—کلام خود جنگ کرتا ہے۔ دُلہن کا کردار گواہی کا ہے، شرکت کا ہے، نہ کہ خونریزی کا۔ باریک کتان وہی راستبازی ہے جو پہلے بیان کی گئی—کمایا ہوا لباس نہیں بلکہ خدا کی طرف سے عطا کیا گیا جلالی لباس۔
یہ منظر ثابت کرتا ہے کہ جس دُلہن کو دنیا نے رد کیا، جسے کمزور سمجھا گیا، وہی اب بادشاہ کے ساتھ بادشاہی میں شریک ہو چکی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ دُلہن کی مکمل بحالی، عزت اور ابدی مقام کا اعلان ہے—اب وہ کلیسیا نہیں بلکہ ملکہ کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔
تفسیرِ مکاشفہ باب 19 آیت 15 🟦
اور قَوموں کے مارنے کے لِئے اُس کے مُنہ سے ایک تیز تلوار نِکلتی ہے اور وہ لوہے کے عصا سے اُن پر حُکُومت کرے گا اور قادِرِ مُطلَق خُدا کی سخت غضب کی مَے کے حَوض میں انگُور رَوندے گا۔
لوہے کا عصا اور کلام کی حتمی عدالت🔹
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اب رحم کا دور ختم ہو چکا ہے اور عدالت کا دور شروع ہو گیا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق مسیح کے مُنہ سے نکلنے والی تیز تلوار کوئی جسمانی ہتھیار نہیں بلکہ خود خدا کا کلام ہے۔ وہی کلام جو زمانوں میں منادی گیا، جسے لوگوں نے رد کیا، اب فیصلہ بن کر واپس آ رہا ہے۔ یہاں مسیح دلیل یا مناظرے سے نہیں بلکہ کلام کے اختیار سے قوموں کا فیصلہ کرتا ہے۔
“لوہے کا عصا” ناقابلِ مزاحمت حکومت کی علامت ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ وہی وعدہ ہے جو زبور، دانی ایل اور مکاشفہ میں کیا گیا تھا—اب مسیح انسانوں کی حکومتوں کو ختم کر کے براہِ راست حکمرانی سنبھالتا ہے۔ یہ حکومت نرم اپیل نہیں بلکہ راست اور اٹل اختیار ہے، جس کے آگے کوئی نظام، کوئی سیاست، کوئی طاقت کھڑی نہیں رہ سکتی۔
“قادرِ مطلق خدا کے قہر کی مے کی حوض” اس بات کی نشاندہی کرتا ہےمخالف مسیح نظام، اس کے اتحادی اور خدا کے مخالفین اب مکمل حساب میں آ چکے ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہ وہ لمحہ ہے جب خدا اپنے صبر کے بعد انصاف کو نافذ کرتا ہے—نہ زیادتی، نہ تاخیر۔ یوں یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ اب کلام ہی بادشاہ ہے، اور اسی کے تحت دنیا کا فیصلہ ہوتا ہے۔
تفسیرِ مکاشفہ باب 19 آیت 16 🟦
اور اُس کی پوشاک اور ران پر یہ نام لِکھا ہُؤا ہے بادشاہوں کا بادشاہ اور خُداوندوں کا خُداوند۔
بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند🔹
یہ آیت مسیح کی حتمی شناخت اور مطلق اختیار کا اعلان ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ کوئی نیا لقب نہیں بلکہ وہی سچائی ہے جو ابتدا سے موجود تھی مگر اب سب کے سامنے ظاہر ہو رہی ہے۔ زمین پر بہت سے بادشاہ، حکومتیں اور نظام گزرے، مگر یہ سب عارضی تھے؛ اب صرف ایک ہی حقیقی حکمران باقی رہتا ہے—یسوع مسیح۔
نام کا لباس اور ران پر لکھا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کی بادشاہی نہ صرف روحانی بلکہ عملی اور نافذ شدہ ہے۔ ران قوت اور اختیار کی جگہ سمجھی جاتی ہے، اس لیے یہ اعلان ہے کہ اب تمام اختیار، طاقت اور فیصلہ مسیح کے ہاتھ میں ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ وہ لمحہ ہے جب سیاست، قومیت، فرقہ بندی اور انسانی حکومتیں ختم ہو جاتی ہیں، اور خدا کی بادشاہی پوری طرح قائم ہو جاتی ہے۔
:یہ آیت اس سچ کو مہر بند کرتی ہے کہ
اب کوئی دوسرا بادشاہ نہیں●
کوئی متوازی اختیار نہیں●
کوئی مذہبی یا سیاسی نظام باقی نہیں●
صرف بادشاہوں کا بادشاہ—اور وہ ابدُالآباد حکومت کرتا ہے۔
تفسیرِ مکاشفہ باب 19 آیات 17–18 🟦
پھِر مَیں نے ایک فرِشتہ کو آفتاب پر کھڑے ہُوئے دیکھا اور اُس نے بڑی آواز سے چِلّا کر آسمان کے سب اُڑنے والے پرِندوں سے کہا آؤ۔ خُدا کی بڑی ضِیافت میں شرِیک ہونے کے لِئے جمع ہو جاؤ۔
تاکہ تُم بادشاہوں کا گوشت اور فَوجی سَرداروں کا گوشت اور زورآوروں کا گوشت اور گھوڑوں اور اُن کے سوأروں کا گوشت اور سب آدمِیوں کا گوشت کھاؤ۔ خواہ آزاد ہوں خواہ غُلام۔ خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے۔
عظیم دعوت اور عدالت کا اعلان🔹
یہ آیات رحمت کے دور کے مکمل اختتام اور عدالت کے آغاز کا اعلان ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہ دعوت خوشی کی نہیں بلکہ فیصلے کی ضیافت ہے۔ سورج میں کھڑا فرشتہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ اعلان کھلے عام، واضح اور ناقابلِ انکار ہے—اب کوئی پردہ یا مہلت باقی نہیں۔ یہاں وہی لوگ نشانہ بنتے ہیں جو زمین پر طاقت، سیاست، فوج اور مخالف مسیح نظام کے ستون تھے۔ خدا دکھاتا ہے کہ انسان کی تمام عظمت—بادشاہ، سردار، فوجیں—سب کلامِ خدا کے سامنے بے بس ہیں۔
یہ منظر ظاہر کرتا ہے کہ انسانی طاقت کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ کوئی لمبی جنگ نہیں؛ مسیح کی موجودگی اور کلام ہی کافی ہے۔ پرندوں کی ضیافت اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کے نظام کی لاشیں—یعنی اس کی شان، غرور اور اختیار—ہمیشہ کے لیے مٹا دیے جاتے ہیں۔ یہ آیات اعلان کرتی ہیں کہ اب زمین پر انسان کی حکومت ختم اور خدا کی بادشاہی نافذ ہو چکی ہے۔br>
تفسیرِ مکاشفہ باب 19 آیات 19–21 🟦
پھِر مَیں نے اُس حَیوان اور زمِین کے بادشاہوں اور اُن کی فَوجوں کو اُس گھوڑے کے سوار اور اُس کی فَوج سے جنگ کرنے کے لِئے اِکٹھّے دیکھا۔
اور وہ حَیوان اور اُس کے ساتھ وہ جھُوٹا نبی پکڑا گیا جِس نے اُس کے سامنے اَیسے نِشان دِکھائے تھے جِن سے اُس نے حَیوان کی چھاپ لینے والوں اور اُس کے بُت کی پرستِش کرنے والوں کو گُمراہ کِیا تھا۔ وہ دونوں آگ کی اُس جھِیل میں زِندہ ڈالے گئے جو گندھک سے جلتی ہے۔br>
اور باقی اُس گھوڑے کے سوار کی تلوار سے جو اُس کے مُنہ سے نِکلتی تھی قتل کِئے گئے اور سب پرِندے اُن کے گوشت سے سیر ہو گئے۔
حیوان اور جھوٹے نبی کی حتمی شکست🔹
یہ آیات ہر مجمع شدہ ٘مخالف مسیح طاقت کی آخری ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ حیوان (سیاسی مخالفِ مسیح نظام)، جھوٹا نبی (مذہبی طاقت)، اور زمین کے بادشاہ اپنی تمام فوجی، سیاسی اور مذہبی قوت کے ساتھ جمع ہوتے ہیں، مگر یہ جنگ حقیقت میں جنگ نہیں بنتی۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ انسان کی آخری حماقت ہے کہ وہ خدا کے کلام کے خلاف کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
“اور حیوان پکڑا گیا اور اُس کے ساتھ جھوٹا نبی بھی…”🔹
یہاں فیصلہ فوری ہے۔ کوئی مقدمہ، کوئی تاخیر، کوئی مہلت نہیں۔ حیوان اور جھوٹا نبی دونوں زندہ آگ کی جھیل میں ڈالے جاتے ہیں۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے: وہ پہلے انسان ہیں جو قیامت یا بڑے سفید تخت کے فیصلے سے پہلے ہی آگ کی جھیل میں جاتے ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کا گناہ لاعلمی نہیں بلکہ جان بوجھ کر، منظم اور خدا کے خلاف بغاوت تھا۔
“اور باقی سب اُس تلوار سے مارے گئے…”🔹
یہ تلوار کوئی لوہے کی تلوار نہیں بلکہ مسیح کے منہ سے نکلنے والا کلام ہے۔ یعنی وہی کلام جو منادی کے ذریعے دنیا کو دیا گیا تھا، اب فیصلے کے لیے کام کرتا ہے۔ برادر برینہم کہتے ہیں
“وہی کلام جو نجات کے لیے پیش کیا گیا تھا، رد کیے جانے پر عدالت بن جاتا ہے۔”
تفسیرمکاشفہ باب 20 شیطان کی قید، ہزار سالہ بادشاہی، اور بڑا سفید تخت
مکاشفہ باب 20 —آیات 1–3 🟦
شیطان کی قید🔹
پھِر مَیں نے ایک فرِشتہ کو آسمان سے اُترتے دیکھا جِس کے ہاتھ میں اتھاہ گڑھے کی کُنجی اور ایک بڑی زنجِیر تھی۔
اُس نے اُس اژدہا یعنی پُرانے سانپ کو جو اِبلِیس اور شَیطان ہے پکڑ کر ہزار برس کے لِئے باندھا۔
اور اُسے اتھاہ گڑھے میں ڈال کر بند کر دِیا اور اُس پر مُہر کر دی تاکہ وہ ہزار برس کے پُورے ہونے تک قَوموں کو پھِر گُمراہ نہ کرے۔ اِس کے بعد ضرُور ہے کہ تھوڑے عرصہ کے لِئے کھولا جائے۔
یہ آیات شیطان کی حقیقی، مکمل اور جسمانی قید کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ یہاں کسی روحانی تشبیہ، اخلاقی مثال یا علامتی زبان کی گنجائش باقی نہیں رہتی، کیونکہ کلام واضح طور پر بتاتا ہے کہ شیطان کو پکڑا گیا، باندھا گیا، اتھاہ کنڈ میں ڈالا گیا اور اُس پر مہر لگا دی گئی۔ برادر برینہم زور دیتے ہیں کہ یہ وہ لمحہ ہے جب پہلی مرتبہ شیطان کی سرگرمی مکمل طور پر ختم کی جاتی ہے، کیونکہ کلیسائی ادوار کے دوران وہ ہمیشہ کسی نہ کسی صورت میں آزاد رہا اور قوموں، سیاسی طاقتوں اور مذہبی نظاموں کے ذریعے کام کرتا رہا۔ مکاشفہ 12:9 اُسے “تمام دنیا کو گمراہ کرنے والا” کہتا ہے، جبکہ 2-کرنتھیوں 4:4 میں اُسے “اس جہان کا خدا” کہا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آج تک مکمل طور پر بند نہیں ہوا تھا۔
ہزار سالہ بادشاہی سے پہلے اُس کی قید کا خاص مقصد یہ ہے کہ وہ اب قوموں کو دھوکا نہ دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس آنے والے دور میں نہ صرف جنگیں ختم ہو جاتی ہیں بلکہ فریب پر مبنی سیاست، مذہبی منافقت اور طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل کرنے کا پورا نظام ٹوٹ جاتا ہے۔ یسعیاہ 2:4 میں قوموں کے ہتھیار ڈالنے اور جنگ نہ سیکھنے کا وعدہ ہے، جبکہ یسعیاہ 11:9 میں زمین کے خدا کے علم سے بھر جانے کا ذکر ہے۔ رادر برینہم کے مطابق یہ سب کچھ اسی لیے ممکن ہوتا ہے کیونکہ شیطان، جو ہر فساد کی جڑ ہے، اب ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ قید اس حقیقت کا اعلان ہے کہ زمین اب شیطان کے قبضہ سے نکل کر دلھن اور مسیح کے اختیار میں واپس آ چکی ہے، اور وہ کھویا ہوا اختیار جو آدم نے کھو دیا تھا اب مکمل طور پر بحال ہو رہا ہے، جیسا کہ دانی ایل 7:27 میں بادشاہی کے مقدسوں کو دیے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
مکاشفہ باب 20 —آیات 4–6🟦
ہزار سالہ بادشاہی اور پہلی قیامت🔹
پھِر مَیں نے تخت دیکھے اور لوگ اُن پر بَیٹھ گئے اور عدالت اُن کے سُپُرد کی گئی اور اُن کی رُوحوں کو بھی دیکھا جِن کے سر یِسُوع کی گواہی دینے اور خُدا کے کلام کے سبب سے کاٹے گئے تھے اور جِنہوں نے نہ اُس حَیوان کی پرستِش کی تھی نہ اُس کے بُت کی اور نہ اُس کی چھاپ اپنے ماتھے اور ہاتھوں پر لی تھی۔ وہ زِندہ ہو کر ہزار برس تک مسِیح کے ساتھ بادشاہی کرتے رہے۔
اور جب تک یہ ہزار برس پُورے نہ ہو لِئے باقی مُردے زِندہ نہ ہُوئے۔ پہلی قِیامت یہی ہے۔
مُبارک اور مُقدّس وہ ہے جو پہلی قِیامت میں شرِیک ہو۔ اَیسوں پر دُوسری مَوت کا کُچھ اِختیّار نہِیں بلکہ وہ خُدا اور مسِیح کے کاہِن ہوں گے اور اُس کے ساتھ ہزار برس تک بادشاہی کریں گے۔
یہ آیات دلھن کے اُس جلالی مقام کو ظاہر کرتی ہیں جس کی تیاری خدا نے ازل سے کی تھی۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہر دور میں کلام کو ترجیح دی، قیمت ادا کی، آزمائشوں اور ردّیوں کے باوجود وفادار رہے اور وقت کے مخالفِ مسیح نظام کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔ متی 24:13 میں آخر تک قائم رہنے والوں کے لیے نجات کا وعدہ ہے، اور مکاشفہ 3:21 میں غالب آنے والوں کے لیے تخت پر بیٹھنے کا اعلان ہے، جو یہاں پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
برادر برینہم کے مطابق یہ تخت کسی عام ایماندار کے لیے نہیں بلکہ صرف منتخبہ کے لیے ہیں۔ دلھن اب محض نجات یافتہ جماعت نہیں بلکہ ایک شاہی دلھن ہے، جو مسیح کے ساتھ شریکِ حکومت بنتی ہے۔ مکاشفہ 5باب9–10 میں دلھن کو بادشاہ اور کاہن کہا گیا ہے، جبکہ 1-کرنتھیوں 6:2 یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقدس دنیا کا انصاف کریں گے۔ یہ حکومت ہزار سال تک زمین پر قائم رہتی ہے اور یہ وہی وعدہ ہے جو رومیوں 8:17 میں مسیح کے ساتھ وارث ہونے کے بارے میں دیا گیا تھا۔
پہلی قیامت صرف اُن کے لیے ہے جن کے نام برّہ کی زندگی کی کتاب میں ازل سے لکھے گئے تھے۔ لوقا 10:20 اور مکاشفہ 13:8 واضح کرتے ہیں کہ یہ نام وقت میں نہیں بلکہ بنیادِ عالم سے پہلے لکھے گئے تھے۔ اس قیامت میں شامل لوگوں کے لیے کوئی عدالت نہیں، کیونکہ اُن کا فیصلہ پہلے ہی صلیب پر ہو چکا تھا۔ یوحنا 5:24 کے مطابق وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو چکے ہیں، اور رومیوں 8:1 اعلان کرتا ہے کہ مسیح یسوع میں ہونے والوں پر اب کوئی سزا باقی نہیں رہی۔
مکاشفہ باب 20 —آیات 7–9 —🟦
شیطان کی عارضی رہائی اور آخری بغاوت🔹
اور جب ہزار برس پُورے ہو چُکیں گے تو شَیطان قَید سے چھوڑ دِیا جائے گا۔
اور اُن قَوموں کو جو زمِین کے چاروں طرف ہوں گی یعنی جُوج و ماجُوج کو گُمراہ کر کے لڑائی کے لِئے جمع کرنے کو نِکلے گا۔ اُن کا شُمار سَمَندَر کی ریت کے برابر ہوگا۔
اور وہ تمام زمِین پر پھَیل جائیں گی اور مُقدّسوں کی لشکرگاہ اور عزِیز شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیں گی اور آسمان پر سے آگ نازِل ہوکر اُنہِیں کھا جائے گی۔
یہ شیطان کی آخری اور سب سے بڑی ناکامی پر مبنی کوشش ہے۔ ہزار سال کے کامل امن، راست حکومت، اور براہِ راست مسیحی بادشاہی کے باوجود یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ماحول انسان کے دل کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ ہزار سالہ بادشاہی بیرونی نظم کو تو درست کرتی ہے مگر باطنی فطرت کو نہیں بدلتی، کیونکہ دل کی تبدیلی صرف نئی پیدایش سے ہوتی ہے۔ یرمیاہ 17:9 انسان کے دل کو فریب دہندہ قرار دیتا ہے، اور یوحنا 3:3 واضح کرتا ہے کہ نئی پیدایش کے بغیر کوئی خدا کی بادشاہی نہیں دیکھ سکتا۔
شیطان اپنی رہائی کے بعد اُنہی لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے جو ہزار سال تک ظاہری طور پر مطیع رہے مگر دل سے تابع نہ تھے۔ تاہم یہ بغاوت کسی لمبی جنگ یا مقابلے میں تبدیل نہیں ہوتی۔ مکاشفہ 20:9 کے مطابق آسمان سے آگ نازل ہوتی ہے اور سب کو فوراً بھسم کر دیتی ہے۔ یہ خدا کی فوری، قطعی اور ناقابلِ اپیل عدالت ہے، جس کی جھلک 2-تھسلنیکیوں 1باب7–9 میں بھی ملتی ہے، جہاں خدا کی حضوری سے نکلنے والی آگ کا ذکر ہے۔
مکاشفہ باب 20 —آیت 10 —🟦
شیطان کی ابدی سزا🔹
اور اُن کا گُمراہ کرنے والا اِبلِیس آگ اور گندھک کی اُس جھِیل میں ڈالا جائے گا جہاں وہ حَیوان اور جھُوٹا نبی بھی ہوگا اور وہ رات دِن ابدُالآباد عذاب میں رہیں گے۔
یہ آیت شیطان کے کردار، اختیار اور وجود کے حتمی خاتمے کا اعلان ہے۔ یہ کوئی عارضی سزا، اصلاحی مرحلہ یا مستقبل میں رہائی کی حالت نہیں بلکہ ایک ابدیت پر محیط، ناقابلِ واپسی فیصلہ ہے۔ برادر برینہم اس نکتے پر خاص زور دیتے ہیں کہ یہاں شیطان کا انجام اس کے پورے کام اور اس کی صدیوں پر محیط بغاوت کے تناسب سے ہے۔ وہ جو ازل سے خدا کے منصوبے کی مخالفت کرتا رہا، انسان کو گمراہ کرتا رہا، سچائی کو بگاڑتا رہا، اور اپنے آپ کو خدا کے برابر کرنے کی کوشش کرتا رہا، اب ہمیشہ کے لیے اُس مقام میں ڈال دیا جاتا ہے جہاں سے نہ واپسی ہے اور نہ کوئی اثر۔
برادر برینہم کے مطابق یہ بات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ حیوان اور جھوٹا نبی پہلے ہی آگ کی جھیل میں موجود ہیں، جیسا کہ مکاشفہ 19:20 میں بیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی علامتی طاقتیں نہیں بلکہ حقیقی، شعوری اور جواب دہ ہستیاں تھیں جنہوں نے جان بوجھ کر، منظم طریقے سے اور مکمل شعور کے ساتھ خدا کے کلام، مسیح کے اختیار اور دلھن کی سچائی کے خلاف بغاوت کی۔ اب شیطان، جو ان تمام نظاموں کا اصل معمار اور روحانی سر تھا، اُن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح برائی کا پورا ڈھانچہ—روحانی، مذہبی اور سیاسی—ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جاتا ہے۔
یہاں یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی آزمائش باقی رہتی ہے، نہ گناہ کا کوئی امکان، نہ فریب کی کوئی راہ۔ وہ قوت جو انسان کو بہکاتی تھی، شک میں ڈالتی تھی، کلام کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی تھی اور خودی کو ابھارتی تھی، اب ہمیشہ کے لیے بے اثر ہو جاتی ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہی وہ لمحہ ہے جب کائنات میں اخلاقی کشمکش ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ فریب کا منبع ہی ختم کر دیا گیا ہے۔
یہ آگ کی جھیل کوئی انسانی تصور یا وقتی تعزیری عمل نہیں بلکہ خدا کی مقرر کردہ آخری عدالت ہے، جس کے بارے میں خود یسوع مسیح فرماتے ہیں کہ یہ “ابلیس اور اُس کے فرشتوں کے لیے تیار کی گئی تھی” (متی 25:41)، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کا اصل مقصد انسان کو نہیں بلکہ اُس باغی روحانی نظام کو ختم کرنا تھا جس نے ابتدا میں انسان کو گناہ میں گرایا۔ برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق، جو لوگ جان بوجھ کر اس فریب، کفر اور مخالفت کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں، وہ بھی اسی انجام میں شریک ہو جاتے ہیں، نہ اس لیے کہ خدا عذاب میں خوشی رکھتا ہے بلکہ اس لیے کہ راستبازی کا تقاضا ہے کہ گناہ اور بغاوت کا مکمل خاتمہ ہو۔ چنانچہ مکاشفہ 20:10 میں بیان کیا گیا انجام اس بات کا اعلان ہے کہ ایک مقررہ فیصلے کے بعد شیطان، مخالفِ مسیح اور ہر باغی قوت فنا کر دی جائے گی، اور یوں کائنات ہمیشہ کے لیے خدا کی حاکمیت، پاکیزگی اور کامل امن کے تحت آ جائے گی، جہاں گناہ، موت اور بغاوت کا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔
مکاشفہ باب 20 —آیات 11–15 — 🟦
بڑا سفید تخت🔹
پھِر مَیں نے ایک بڑا سفید تخت اور اُس کو جو اُس پر بَیٹھا ہُؤا تھا دیکھا جِس کے سامنے سے زمِین اور آسمان بھاگ گئے اور اُنہِیں کہِیں جگہ نہ مِلی۔
اور سَمَندَر نے اپنے اَندر کے مُردوں کو دے دِیا اور مَوت اور عالمِ ارواح نے اپنے اَندر کے مُردوں کو دے دِیا اور اُن میں سے ہر ایک کے اعمال کے مُوافِق اُس کا اِنصاف کِیا گیا۔
پھِر مَوت اور عالمِ ارواح آگ کی جھِیل میں ڈالے گئے۔ یہ آگ کی جھِیل دُوسری مَوت ہے۔
اور جِس کِسی کا نام کِتابِ حیات میں لِکھا ہُؤا نہ مِلا وہ آگ کی جھِیل میں ڈالا گیا۔
یہ منظر پوری الٰہی تاریخ کا سب سے سنجیدہ اور فیصلہ کن لمحہ ہے۔ بڑا سفید تخت کسی تختِ رحم کی علامت نہیں بلکہ مطلق راستبازی اور کامل انصاف کی علامت ہے، کیونکہ یہاں فضل کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور صرف عدالت باقی رہتی ہے (زبور 9:7–8، واعظ 12:14)۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہاں وہی مسیح تخت پر جلوہ افروز ہے جو کبھی صلیب پر مصلوب ہوا تھا، مگر اب وہ نجات دہندہ کے طور پر نہیں بلکہ منصفِ اعظم کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جیسا کہ یوحنا 5:22 اور اعمال 17:31 میں بیان ہے۔ “زمین اور آسمان کا بھاگ جانا” اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پرانا نظام، پرانی تخلیق اور وہ تمام حوالہ جاتی ڈھانچے جن میں انسان خود کو چھپاتا تھا اب ختم ہو چکے ہیں، کیونکہ پہلی چیزیں جاتی رہتی ہیں (2-پطرس 3باب10–12، مکاشفہ 21:1)۔ اب کوئی پسِ منظر، کوئی عذر اور کوئی سایہ باقی نہیں رہتا—ہر چیز خدا کے جلالی حضور میں بے نقاب ہو جاتی ہے (عبرانیوں 4:13، لوقا 12:2)۔
(مکاشفہ 20:12) پھِر مَیں نے چھوٹے بڑے سب مُردوں کو اُس تخت کے سامنے کھڑے ہُوئے دیکھا اور کِتابیں کھولی گئِیں۔ پھِر ایک اَور کِتاب کھولی گئی یعنی کِتابِ حیات اور جِس طرح اُن کِتابوں میں لِکھا ہُؤا تھا اُن کے اعمال کے مُطابِق مُردوں کا اِنصاف کِیا گیا۔
یہاں جن مُردوں کا ذکر ہے وہ پہلی قیامت میں شامل نہیں تھے۔ یہ دلھن نہیں، نہ ہی وہ منتخبہ جن کا فیصلہ صلیب پر ہو چکا تھا (یوحنا 5:24، رومیوں 8:1)، بلکہ یہ وہ تمام انسان ہیں جو مختلف ادوار میں زندہ رہے مگر نجات کے الٰہی بندوبست کو قبول نہ کر سکے (متی 22:14، یوحنا 3:18)۔ برادر برینہم واضح کرتے ہیں کہ یہاں دو طرح کی کتابیں کھولی جاتی ہیں: ایک وہ کتابیں جن میں اعمال درج ہیں (زبور 56:8، واعظ 12:14)، اور دوسری زندگی کی کتاب جس میں نام ازل سے لکھے گئے تھے (فلپیوں 4:3، مکاشفہ 13:8)۔ اعمال کی کتابیں انسان کی پوری زندگی، نیت، روش اور ردِعمل کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ زندگی کی کتاب یہ حتمی فیصلہ کرتی ہے کہ کوئی شخص ازل کے انتخاب میں شامل تھا یا نہیں (افسیوں 1:4–5)۔
مکاشفہ 20:13 اور سَمَندَر نے اپنے اَندر کے مُردوں کو دے دِیا اور مَوت اور عالمِ ارواح نے اپنے اَندر کے مُردوں کو دے دِیا اور اُن میں سے ہر ایک کے اعمال کے مُوافِق اُس کا اِنصاف کِیا گیا۔
یہ آیت مکمل وضاحت کے ساتھ بتاتی ہے کہ کوئی بھی انسان—چاہے وہ کسی بھی زمانے میں مرا ہو، کسی بھی حالت میں ہو، یا کسی بھی جگہ دفن ہوا ہو—اس عدالت سے باہر نہیں رہتا۔ سمندر، موت اور پاتال سب اپنے مُردے واپس دے دیتے ہیں، جو خدا کی کامل خودمختاری کو ظاہر کرتا ہے (ایوب 26:6، دانی ایل 12:2)۔ برادر برینہم کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ فطرت، نہ وقت، نہ موت، نہ تاریخ، کسی کو خدا کے سامنے چھپا سکتی ہے۔ ہر روح اور ہر جسم خدا کے حضور جواب دہ بنتا ہے (یوحنا 5باب28–29)۔
مکاشفہ 20:14 پھِر مَوت اور عالمِ ارواح آگ کی جھِیل میں ڈالے گئے۔ یہ آگ کی جھِیل دُوسری مَوت ہے۔
یہاں موت خود ختم کر دی جاتی ہے۔ موت کوئی ازلی حقیقت نہیں بلکہ گناہ کا نتیجہ تھی (رومیوں 5:12)، اور جب گناہ، فریب اور شیطان کا نظام مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے تو موت کا وجود بھی باقی نہیں رہتا۔ موت اور پاتال کا آگ کی جھیل میں ڈال دیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ اب نہ قبر رہے گی، نہ جدائی، نہ فنا، کیونکہ آخری دشمن یعنی موت بھی نیست و نابود کر دی جاتی ہے (1-کرنتھیوں 15:26، 54–55)۔
مکاشفہ 20:15 اور جِس کِسی کا نام کِتابِ حیات میں لِکھا ہُؤا نہ مِلا وہ آگ کی جھِیل میں ڈالا گیا۔
یہ بڑا سفید تخت کا آخری اور سب سے سنجیدہ اعلان ہے۔ یہاں کوئی بحث، کوئی اپیل، کوئی مہلت باقی نہیں رہتی۔ زندگی کی کتاب فیصلہ کن معیار ہے۔ فلپیوں 4:3 اور مکاشفہ 13:8 اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کتاب وقت میں نہیں بلکہ ازل میں مرتب کی گئی تھی۔ جو اس کتاب میں نہیں پایا جاتا، اُس کا انجام وہی ہے جو شیطان، حیوان اور جھوٹے نبی کا ہے۔ یہی دوسری موت ہے—یعنی خدا سے ہمیشہ کی جدائی—جس کی تصدیق مکاشفہ 21:8 میں کی گئی ہے۔
حتمی فکری نتیجہ🟦
برادر برینہم کے مطابق بڑا سفید تخت اس بات کا آخری اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ خدا کی نجات پہلے فضل کے ذریعے پیش کی گئی، مگر جس نے اُس فضل کو رد کیا، اُس کے لیے کامل انصاف باقی رہتا ہے۔ یہاں خدا کا کلام، جو کبھی نجات کے لیے منادی کیا گیا تھا، اب عدالت کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس مقام پر کائنات میں خدا کی حاکمیت، راستبازی اور سچائی پر کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔
تفسیرمکاشفہ باب 21 — نیا آسمان، نئی زمین، اور نیا یروشلیم
مکاشفہ باب 21آیت 1 —🟦
نیا آسمان اور نئی زمین🔹
“پھِر مَیں نے ایک نیا آسمان اور نئی زمِین کو دیکھا کِیُونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمِین جاتی رہی تھی اور سَمَندَر بھی نہ رہا۔”
برادر برینہم کے مطابق یہ آیت عظیم سفید تخت کے بعد کے منظر کو بیان کرتی ہے، جہاں خدا پرانی تخلیق کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا بلکہ آگ کے ذریعے پاک کر کے ایک نئی حالت میں داخل کرتا ہے۔ “نیا آسمان اور نئی زمین” کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کوئی اور سیارہ بناتا ہے، بلکہ وہی زمین اور آسمان بدل دیے جاتے ہیں—بالکل اسی طرح جیسے نوح کے زمانے میں زمین پانی سے پاک کی گئی تھی، ویسے ہی آخر میں آگ سے پاک کی جاتی ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ پرانی تخلیق گناہ، لعنت، موت اور فساد کے زیرِ اثر تھی، اس لیے وہ حالت ختم ہو جاتی ہے اور ایک ایسی دنیا ظاہر ہوتی ہے جہاں یہ سب کچھ باقی نہیں رہتا۔
“پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی” سے مراد یہ ہے کہ پرانا نظام، پرانی ترتیب اور گناہ سے آلودہ حالت ختم ہو چکی ہے، نہ کہ زمین کا وجود مٹ گیا۔ اسی طرح “سمندر بھی نہ رہا” برادر برینہم کے مطابق صرف جغرافیائی بات نہیں بلکہ ایک روحانی علامت بھی ہے۔ سمندر اکثر بائبل میں قوموں کی بے چینی، جدائی، ہلچل اور عدمِ سکون کی علامت ہے؛ اس کا نہ رہنا ظاہر کرتا ہے کہ اب ابدیت میں کوئی جدائی، کوئی خوف، کوئی سیاسی یا روحانی طوفان باقی نہیں رہے گا۔ یہ مکمل امن، ترتیب اور خدا کی حضوری کا دور ہے، جہاں ہر چیز خدا کے اختیار کے تحت ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔
حوالہ جات:●
یسعیاہ 65:17 — “ کیونکہ دیکھو میں نئے آسمان اور نئی زمین کو پیدا کرتا ہوں اور پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہو گا اور وہ خیال میں نہ آئیں گی۔”
2-پطرس 3:13 — “ لیکِن اُس کے وعدہ کے مُوافِق ہم نئے آسمان اور نئی زمِین کا اِنتظار کرتے ہیں جِن میں راستبازی بسی رہے گی۔”
مکاشفہ باب 21آیت 2 —🟦
نیا یروشلیم (دُلہن کا ابدی شہر)🔹
“ پھِر مَیں نے شہرِ مُقدّس نئے یروشلِیم کو آسمان پر سے خُدا کے پاس سے اُترتے دیکھا اور وہ اُس دُلہن کی مانِند آراستہ تھا جِس نے اپنے شَوہر کے لِئے شِنگھار کِیا ہو۔”
برادر برینہم کے مطابق یہ آیت دُلہن کے ابدی ٹھکانے کو ظاہر کرتی ہے۔ نیا یروشلیم خود دُلہن نہیں بلکہ دُلہن کا شہر اور گھر ہے—وہ مقام جہاں دُلہن ہمیشہ کے لیے خدا کے ساتھ سکونت کرے گی۔ اس کا “آسمان سے اُترنا” اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شہر انسان کی تعمیر یا کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کی تیار کردہ جگہ ہے، جیسا کہ یسوع نے فرمایا: “مکِیُونکہ مَیں جاتا ہُوں تاکہ تُمہارے لئِے جگہ تیّارکرُوں۔”
شہر کا “دُلہن کی مانند آراستہ ہونا” یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی خوبصورتی، پاکیزگی اور جلال براہِ راست دُلہن کے جلال سے ہم آہنگ ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ جیسے دُلہن کلام کے مطابق پاک کی گئی، ویسے ہی یہ شہر بھی کسی انسانی ملاوٹ کے بغیر کامل اور مقدس ہے۔ یہ آیت اس حقیقت کو مضبوط کرتی ہے کہ دُلہن صرف کسی روحانی حالت کا نام نہیں بلکہ اس کا حقیقی، جلالی اور ابدی گھر بھی ہے جو خدا نے خود تیار کیا ہے۔
حوالہ جات:●
یوحنا 14باب:2–3 — “میرے باپ کے گھر میں بہُت سے مکان ہے اگر نہ ہوتے تو مَیں تُم سے کہہ دیتا کِیُونکہ مَیں جاتا ہُوں تاکہ تُمہارے لئِے جگہ تیّارکرُوں۔
اور اگر مَیں جا کر تُمہارے لئِے جگہ تیّار کرُوں تو پِھر آ کر تُمہیں اپنے ساتھ لے لُوں گا تاکہ جہاں مَیں ہُوں تُم بھی ہو۔”
عبرانیوں 11:10 — “ کِیُونکہ اُس پایدار شہر کا اُمِیدوار تھا جِس کا مِعمار اور بنانے والا خُدا ہے۔”
مکاشفہ باب 21 آیت 3 — 🟦
خدا کا خیمہ انسانوں کے ساتھ🔹
“ پھِر مَیں نے تخت میں سے کِسی کو بُلند آواز سے یہ کہتا سُنا کہ دیکھ خُدا کا خَیمہ آدمِیوں کے درمِیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سُکُونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خُدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خُدا ہو گا۔”
برادر برینہم کے مطابق یہ آیت ابدیت کی سب سے بڑی خوشخبری ہے۔ یہاں “خدا کا خیمہ” کسی عارضی سکونت یا علامتی قربت کی بات نہیں بلکہ مستقل، براہِ راست اور ابدی حضوری کا اعلان ہے۔ پرانے عہد میں خدا خیمۂ اجتماع میں، پھر ہیکل میں، اور نئے عہد میں روح القدس کے وسیلہ سے قریب آیا—لیکن اب، مکاشفہ 21 میں، ہر پردہ، ہر دیوار اور ہر درمیانی وسیلہ ختم ہو جاتا ہے۔
“وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا” کا مطلب ہے کہ اب خدا اور انسان کے درمیان کوئی جدائی باقی نہیں رہے گی—نہ گناہ کی، نہ موت کی، نہ جسمانی کمزوری کی۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہی وہ حالت ہے جس کے لیے نجات کا سارا منصوبہ تھا: خدا اپنے لوگوں کے درمیان، اور لوگ مکمل طور پر خدا کے۔ “وہ اُس کے لوگ ہوں گے” ایک عارضی تعلق نہیں بلکہ ابدیت کا عہد ہے، جہاں خدا خود اُن کا خدا ہوگا—نہ صرف نجات دہندہ بلکہ ہمیشگی کا ساتھی۔
حوالہ جات:●
احبار 26باب11–12 — “اور میں اپنا مسکن تمہارے درمیان قائم رکھونگا اور میری روح تم سے نفرت نہ کریگی۔ اور میں تمہارے درمیان چلا پھرا کرونگا اور تمہارا خدا ہونگا اور تم میری قوم ہوگے۔”
حزقی ایل 37:27 — “ میرا خیمہ بھی ان کے ساتھ ہو گا ۔میں ان کا خدا ہونگا اور وہ مےرے لوگ ہونگے ۔”
مکاشفہ باب 21آیت 4 — 🟦
آنسو، موت اور دکھ کا مکمل خاتمہ🔹
“اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسُو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ مَوت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ دَرد۔ پہلی چِیزیں جاتی رہیں۔”
برادر برینہم کے مطابق یہ آیت ابدیت کی کامل حالت کو بیان کرتی ہے، جہاں گناہ کے تمام نتائج ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ “ہر آنسو پونچھ ڈالے گا” محض جذباتی تسلی نہیں بلکہ حقیقی حقیقت ہے—یعنی ابدیت میں کوئی ایسی یاد، کوئی ایسا زخم یا کوئی ایسا دکھ باقی نہیں رہے گا جس پر آنسو آئے۔ “نہ موت رہے گی” اس بات کا اعلان ہے کہ دشمنِ آخر، یعنی موت، مکمل طور پر مٹا دی گئی ہے؛ اب قبر، جدائی اور خوف کا کوئی وجود نہیں۔
“نہ غم، نہ نالہ، نہ درد” یہ سب اس دنیا کی نشانیاں تھیں جو لعنت کے زیرِ اثر تھی۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ “پہلی باتیں جاتی رہیں” کا مطلب یہ ہے کہ پرانی تخلیق کی پوری ترتیب—دکھ، بیماری، بڑھاپا اور کمزوری—سب ختم ہو چکی ہے۔ اب خدا اور اُس کے لوگوں کے درمیان ایسی زندگی شروع ہو جاتی ہے جو کبھی ٹوٹتی نہیں، کبھی بوجھل نہیں ہوتی، اور کبھی ختم نہیں ہوتی۔
حوالہ جات:●
یسعیاہ 25:8 — “وہ موت کو ہمیشہ کے لیے نابود کریگا اور خداوند خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالے گا اور اپنےلوگوں کی رسوائی تمام زمین پر سے مٹا ڈالیگا کیونکہ خداوند نے یہ فرمایا ہے۔”
1-کرنتھیوں 15:26 — “ سب سے پِچھلا دُشمن جو نِیست کِیا جائے گا وہ مَوت ہے۔”
مکاشفہ باب 21 آیت 5 — 🟦
دیکھو، میں سب کچھ نیا کرتا ہوں🔹
“ اور جو تخت پر بَیٹھا ہُؤا تھا اُس نے کہا دیکھ مَیں سب چِیزوں کو نیا بنا دیتا ہُوں۔ پھِر اُس نے کہا لِکھ لے کِیُونکہ یہ باتیں سَچ اور برحق ہیں۔”
برادر برینہم کے مطابق یہ آیت ابدیت کے آغاز پر خدا کی حتمی مُہر ہے۔ “تخت پر بیٹھنے والا” خود خدا ہے، جو یہ اعلان کرتا ہے کہ اب صرف انسان، زمین یا حالات نہیں بلکہ ہر چیز—سوچ، حالت، تخلیق، اور وجود—نئی ہو چکی ہے۔ یہ “نیا” کسی پرانی چیز کی مرمت یا بہتری نہیں بلکہ کامل تبدیلی (کامل تجدید) ہے، جہاں گناہ کی کوئی یاد، لعنت کا کوئی اثر، یا کمزوری کی کوئی علامت باقی نہیں رہتی۔
“لکھ” کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ وعدہ ناقابلِ تبدیلی اور قطعی ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ خدا نے اسے لکھوانا اس لیے ضروری سمجھا کیونکہ یہ انسان کے احساسات یا حالات پر نہیں بلکہ خدا کے کلام پر قائم ہے۔ “سچی اور برحق” کا مطلب ہے کہ یہ باتیں کبھی ناکام نہیں ہوں گی—جیسے نجات سچی تھی، ویسے ہی ابدیت کا یہ وعدہ بھی سچا ہے۔ یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ اب تاریخ ختم اور ابدیت مکمل طور پر شروع ہو چکی ہے۔
حوالہ جات:●
2-کرنتھیوں 5:17 — “ اِس لِئے اگر کوئی مسِیح میں ہے تو وہ نیا مخلُوق ہے۔ پُرانی چِیزیں جاتی رہیں۔ دیکھو وہ نئی ہوگئِیں۔”
یسعیاہ 43:19 — “ دیکھو میں ایک نیا کام کرونگا۔ اب وہ ظہور میں آئیگا کیا تم اس سے ناواقف رہو گے؟ ہاں میں بیابان میں ایک راہ اورصحرا میں ندیاں جاری کرونگا۔”
مکاشفہ 21 باب آیت 6 — 🟦
“باتیں پُوری ہو گئِیں” اور زندگی کے پانی کا چشمہ🔹
“پھِر اُس نے مُجھ سے کہا یہ باتیں پُوری ہو گئِیں۔ مَیں الفا اور اومیگا یعنی اِبتدا اور اِنتہا ہُوں۔ مَیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مُفت پِلاؤں گا۔”
برادر برینہم کے مطابق “باتیں پُوری ہو گئِیں” خدا کے نجاتی منصوبے کی حتمی تکمیل کا اعلان ہے۔ جو کام ازل میں سوچا گیا، جو وقت کے اندر صلیب پر پورا ہوا، اور جو قیامت، رَپچر، عدالت اور ابدیت کے مراحل سے گزرا—اب وہ سب اپنے آخری مقصد تک پہنچ چکا ہے۔ یہاں خدا خود بول رہا ہے کہ اب کوئی ادھورا مرحلہ باقی نہیں؛ نجات، بحالی اور ابدیت سب مکمل ہو چکے ہیں۔یہی الفاظ صلیب پر یسوع نے کہے تھے: “تمام ہوا” (یوحنا 19:30)، لیکن وہاں نجات مکمل ہوئی تھی، جبکہ یہاں ابدیت مکمل ہو رہی ہے (عبرانیوں 9:12، مکاشفہ 10:7)۔ صلیب پر گناہ کا مسئلہ حل ہوا، اور یہاں گناہ کے تمام اثرات، یادیں اور نتائج ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔
“میں الفا اور اومیگا، ابتدا اور انتہا ہوں” اس بات کی گواہی ہے کہ ساری تاریخ خدا کے ہاتھ میں تھی—نہ انسان کے منصوبے، نہ نظاموں کی کامیابی، نہ شیطان کی چالیں اس منصوبے کو بدل سکیں۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ وہی خدا جو ابتدا میں تھا، وہی انتہا میں بھی ہے؛ درمیان میں کوئی دوسرا مالک نہیں۔
“ مَیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مُفت پِلاؤں گا۔” فضل کی بنیاد کو ظاہر کرتا ہے۔ ابدیت میں داخلہ کسی کمائی، عمل یا مذہبی کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ مکمل طور پر فضل کا عطیہ ہے۔ “پیاسا” وہ ہے جو سچائی کا خواہاں تھا، جس نے زندگی کی طلب رکھی، اور جس نے کلام کو رد نہیں کیا۔ برادر برینہم کے مطابق یہ پانی وہی زندگی ہے جو ابتدا میں کھو گئی تھی اور اب مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے—بغیر قیمت، بغیر شرط، ہمیشہ کے لیے۔
حوالہ جات:●
یسعیاہ 55:1 — “اے سب پیاسوں پانی کے پاس آؤ اور وہ بھی جس کے پاس پیسہ نہ ہو۔آؤ مول لو اور کھاؤ۔ہاں آؤ اور دودھ بے زر اور بے قیمت خریدو۔”
یوحنا 4:14 — “مگر جو کوئی اُس پانی میں سے پیئے گا جو میں اُسے دونگا وہ ابد تک پیاسا نہ ہوگا بلکہ جو پانی میں اُسے دونگا وہ اُس میں ایک چشمہ بن جائیگا جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے جاری رہیگا۔ْ”
مکاشفہ 22:17 — “ اور رُوح اور دُلہن کہتی ہیں آ اور سُننے والا بھی کہے آ۔ اور جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبِ حیات مُفت لے۔”
مکاشفہ 21 باب آیت 7 — 🟦
غالب آنے والوں کی میراث 🔹
“ جو غالِب آئے وُہی اِن چِیزوں کا وارِث ہوگا اور مَیں اُس کا خُدا ہُوں گا اور وہ میرا بَیٹا ہو گا۔”
برادر برینہم کے مطابق “غالب آنے والا” وہ نہیں جو مذہبی ہجوم میں شامل ہو، بلکہ وہ ہے جو مکاشفہ شدہ کلام پر قائم رہتا ہے، خواہ اُسے ردّ، تنہائی یا مخالفت ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑے۔ غالب آنے کا مطلب دنیا پر فتح نہیں بلکہ نظاموں، روایتوں اور جھوٹ کے خلاف سچ پر قائم رہنا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں خدا کی آواز کو پہچانا اور اُس پر عمل کیا۔
“وہی اِن چیزوں کا وارث ہوگا” اس بات کی نشاندہی ہے کہ ابدیت کی ساری برکتیں—نیا آسمان، نئی زمین، خدا کی حضوری اور نیا یروشلیم—غالب آنے والوں کی قانونی میراث ہیں، کوئی عارضی انعام نہیں۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ وارثی فضل سے ملتی ہے، کمائی سے نہیں؛ کیونکہ بیٹا ہونے کی بنیاد رشتہ ہے، نہ کہ اعمال۔
“میں اُس کا خدا ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا” ابدی رفاقت اور شناخت کا اعلان ہے۔ اب خدا صرف نجات دہندہ نہیں بلکہ ہمیشہ کا باپ ہے، اور غالب آنے والا صرف خادم نہیں بلکہ بیٹا ہے—یعنی اختیار، محبت اور قربت میں شریک۔ یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ ابدیت میں خدا اور اُس کے بیٹوں کے درمیان کوئی فاصلہ، کوئی خوف اور کوئی عدمِ تحفظ باقی نہیں رہتا۔
حوالہ جات:●
رومیوں 8:17 — “ اور اگر فرزند ہیں تو وارِث بھی ہیں یعنی خُدا کے وارِث اور مسِیح کے ہم مِیراث بشرطیکہ ہم اُس کے ساتھ دُکھ اُٹھائیں تاکہ اُس کے جلال بھی پائیں۔”
مکاشفہ 3:21 — “ جو غالِب آئے مَیں اُسے اپنے ساتھ اپنے تخت پر بِٹھاؤں گا جِس طرح مَیں غالِب آ کر اپنے باپ کے ساتھ اُس کے تخت پر بَیٹھ گا”
“مگر بُزدِلوں اور بے اِیمانوں اور گھِنَونے لوگوں اور خُونِیوں اور حرامکاروں اور جادُوگروں اور بُت پرستوں اور سب جھُوٹوں کا حِصّہ آگ اور گندھک سے جلنے والی جھِیل میں ہوگا۔ یہ دُوسری مَوت ہے۔”
یہ آیت ابدیت کی واضح حد بندی کرتی ہے۔ یہاں خدا صاف طور پر بتا دیتا ہے کہ نئی تخلیق میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوگی۔ “بُزدِل” سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے سچائی کو پہچانا مگر نظاموں، لوگوں یا نقصان کے خوف سے اس پر قائم نہ رہے۔ “بے ایمان” وہ ہیں جنہوں نے خدا کے کلام پر یقین کرنے کے بجائے انسانی عقل، روایت یا مذہبی نظام پر بھروسا کیا۔ باقی فہرست—خُونِیوں، حرامکار، جادوگر، بت پرست اور جھوٹے—ان سب کی جڑ ایک ہی ہے: خدا کے مکاشفہ شدہ کلام کو رد کرنا۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ “آگ اور گندھک کی جھیل” کوئی علامتی بات نہیں بلکہ حقیقی اور حتمی سزا ہے، جسے یہاں “دوسری موت” کہا گیا ہے۔ پہلی موت جسمانی تھی، مگر دوسری موت ابدی جدائی ہے—خدا کی حضوری، زندگی اور روشنی سے ہمیشہ کے لیے الگ ہو جانا۔ یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ نجات کسی مذہبی لیبل یا اچھے اعمال سے نہیں بلکہ ایمان، قائم رہنے اور کلام کے ساتھ وفاداری سے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مکاشفہ 21 میں جلال اور محبت کے بیانات کے فوراً بعد یہ آیت رکھی گئی ہے—تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ابدیت میں سب خودبخود داخل ہو جائیں گے۔ خدا کی بادشاہی محبت پر قائم ہے، مگر وہ پاکیزگی اور سچائی کے بغیر شریک نہیں کی جا سکتی۔
حوالہ جات:●
متی 10:33 — “مگر جو کوئی آدمِیوں کے سامنے میرا اِنکار کرے گا میں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اُس کا اِنکار کرُوں گا۔”
2-تھسلنیکیوں 1باب8–9 — “اور جو خُدا کو نہِیں پہچانتے اور ہمارے خُداوند یِسُوع کی خُوشخَبری کو نہِیں مانتے اُن سے بدلہ لے گا۔
وہ خُداوند کے چہرہ اور اُس کی قُدرت کے جلال سے دُور ہوکر ابدی ہلاکت کی سزا پائیں گے۔”
مکاشفہ :21 آیت 9 —🟦
دُلہن کا تعارف: برّہ کی بیوی🔹
“پھِر اُن سات فرِشتوں میں سے جِن کے پاس سات پیالے تھے اور وہ پِچھلی سات آفتوں سے بھرے ہُوئے تھے ایک نے آ کر مُجھ سے کہا اِدھر آ۔ مَیں تُجھے دُلہن یعنی برّہ کی بِیوی دِکھاؤں۔”
یہ آیت ایک نہایت اہم تبدیلی دکھاتی ہے: عدالت کے پیالے رکھنے والا فرشتہ اب فضل اور جلال کی رویا دکھانے آتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت پوری ہو چکی ہے اور اب توجہ نجات یافتہ دُلہن پر ہے۔ فرشتہ کہتا ہے “میں تجھے دُلہن دکھاؤں گا”، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ اب خدا دُلہن کی شناخت، اس کی جگہ اور اس کے ابدی مرتبے کو واضح کرنا چاہتا ہے۔
برادر برینہم خاص طور پر زور دیتے ہیں کہ یہاں دُلہن اور شہر کے تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگلی آیات میں یوحنا کو ایک شہر دکھایا جاتا ہے، جس سے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ دُلہن کوئی اینٹ پتھر کا شہر نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے یہ شہر تیار کیا گیا ہے۔ شہر دُلہن کا ابد ی گھر ہے، اور دُلہن اس شہر کی وارث ہے۔ یوں آیت 9 ہمیں بتاتی ہے کہ دُلہن برّہ کی بیوی ہے—یعنی وہ لوگ جو کلام کے ساتھ وفادار رہے، غالب آئے، اور اب ابدی جلال میں داخل ہو چکے ہیں۔
حوالہ جات:●
افسیوں 5باب:25–27 — “اَے شَوہرو! اپنی بِیویوں سے محبّت رکھّو جَیسے مسِیح نے بھی کلِیسیا سے محبّت کر کے اپنے آپ کو اُس کے واسطے مَوت کے حوالہ کر دِیا۔
تاکہ اُس کو کلام کے ساتھ پانی سے غُسل دے کر اور صاف کر کے مُقدّس بنائے۔
اور ایک اَیسی جلال والی کلِیسیا بنا کر اپنے پاس حاضِر کرے جِس کے بَدَن میں داغ یا جھُرّی یا کوئی اَور اَیسی چِیز نہ ہو بلکہ پاک اور بے عَیب ہو۔”
مکاشفہ 19:7 — “آؤ۔ ہم خُوشی کریں اور نِہایت شادمان ہوں اور اُس کی تمجِید کریں اِس لِئے کہ برّہ کی شادِی آ پہُنچی اور اُس کی بِیوی نے اپنے آپ کو تیّار کر لِیا۔”
مکاشفہ :21 آیت 10 — 🟦
مقدس شہر کا دکھایا جانا (دُلہن کا ابدی گھر)🔹
“ اور وہ مُجھے رُوح میں ایک بڑے اور اُونچے پہاڑ پر لے گیا اور شہرِ مُقدّس یروشلِیم کو آسمان پر سے خُدا کے پاس سے اُترتے دِکھایا۔”
برادر برینہم کے مطابق “روح میں لے جانا” اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یوحنا کسی زمینی مقام پر نہیں بلکہ مکاشفہ کے دائرے میں ہے، جہاں وقت، مادّہ اور فاصلہ معنی نہیں رکھتے۔ خدا جب ابدی سچائی دکھاتا ہے تو انسان کو فطری آنکھ سے ہٹا کر روحانی بصیرت میں لے جاتا ہے۔ اسی لیے یہ شہر کسی نقشے پر نہیں بلکہ خدا کے منصوبے میں دکھایا جاتا ہے۔
“بڑا اور اونچا پہاڑ” نہ صرف بلند نقطۂ نظر بلکہ حتمی سچائی کی علامت ہے۔ برادر برینہم کے مطابق پہاڑ ہمیشہ مکاشفہ کی جگہ رہا ہے—سینا، تبدیلی کا پہاڑ، اور یہاں ابدیت کا پہاڑ۔ شہر کا “اترنا” اس بات کی تصدیق ہے کہ نجات، جلال اور ابدیت انسان کی تعمیر نہیں بلکہ خدا کا تحفہ ہیں۔ یہ شہر دُلہن نہیں بلکہ دُلہن کے لیے تیار کیا گیا گھر ہے—جیسے حوّا آدم کے لیے بنائی گئی، ویسے ہی یہ شہر مسیح کی دُلہن کے لیے ہے۔
حوالہ جات: ●
عبرانیوں 11:10“ کِیُونکہ اُس پایدار شہر کا اُمِیدوار تھا جِس کا مِعمار اور بنانے والا خُدا ہے۔”
یوحنا 14:2“میرے باپ کے گھر میں بہُت سے مکان ہے اگر نہ ہوتے تو مَیں تُم سے کہہ دیتا کِیُونکہ مَیں جاتا ہُوں تاکہ تُمہارے لئِے جگہ تیّارکرُوں۔ ”
مکاشفہ :21 آیت 11 — 🟦
خدا کا جلال اور اصل روشنی🔹
“اُس میں خُدا کا جلال تھا اور اُس کے چمک نِہایت قِیمتی پتھّر یعنی اُس یشب کی سی تھی جو بلّور کی طرح شِفاف ہو۔”
یہ روشنی کسی مخلوق، سورج، چراغ یا کسی ثانوی وسیلے سے نہیں بلکہ براہِ راست خدا کی ذات سے نکلتی ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہی وہی جلال (شیکینہ جلال) ہے جو پرانے عہد میں خیمۂ اجتماع اور بعد میں ہیکل میں بادل اور آگ کی صورت ظاہر ہوتا تھا، جہاں عام انسان داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن اب، ابدیت میں، وہی جلال بغیر کسی پردے، بغیر کسی حجاب کے، پوری شدت کے ساتھ ظاہر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان ہر جدائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔
برادر برینہم کے مطابق یہاں روشنی اور زندگی ایک ہی چیز ہیں۔ جیسے یوحنا کی انجیل کہتی ہے کہ “اُس میں زندگی تھی، اور وہ زندگی آدمیوں کا نور تھی”، ویسے ہی اس شہر میں زندگی کسی ذریعہ سے نہیں بلکہ خود خدا کے جلال سے بہتی ہے۔ اب زندگی کو قائم رکھنے کے لیے کسی نظام، عبادت گاہ یا رسم کی ضرورت نہیں، کیونکہ خدا خود مسلسل حضوری میں موجود ہے۔
قیمتی پتھر کی مثال خاص طور پر شفافیت، پاکیزگی اور بے ملاوٹ سچائی کو ظاہر کرتی ہے۔ برادر برینہم وضاحت کرتے ہیں کہ قیمتی پتھر میں روشنی داخل ہو کر ٹوٹتی نہیں بلکہ منعکس ہوتی ہے—یہ اس بات کی علامت ہے کہ دُلہن بھی خدا کے جلال کو روکتی نہیں بلکہ مکمل طور پر ظاہر کرتی ہے۔ ابدیت میں کوئی راز، کوئی خفیہ تعلیم، کوئی مذہبی پردہ باقی نہیں رہتا؛ سب کچھ نور میں ہے، سب کچھ ظاہر ہے، اور سب کچھ سچ ہے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ یہ جلال فیصلہ یا خوف کا نہیں بلکہ مکمل اطمینان اور سکون کا جلال ہے۔ جو نور اس دنیا میں گنہگار کے لیے ناقابلِ برداشت تھا، وہی نور اب نجات یافتہ لوگوں کے لیے ابدی آرام بن چکا ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی برّہ کے خون میں پاک کیے جا چکے ہیں۔
حوالہ جات: ●
یوحنا 1باب:4–5 “اُس میں زِندگی تھی اور وہ زِندگی آدمِیوں کا نُور تھی۔ اور نُور تارِیکی میں چمکتا ہے اور تارِیکی نے اُسے قُبُول نہ کِیا۔”
1-تیمُتھیُس 6:16 “بقا صِرف اُسی کو ہے اور وہ اُس نُور میں رہتا ہے جِس تک کِسی کی رسائی نہِیں ہو سکتی ہے۔ نہ اُسے کِسی اِنسان نے دیکھا اور نہ دیکھ سکتا ہے۔ اُس کی عِزّت اور سلطنت ابد تک رہے۔ آمِین۔”
مکاشفہ 21آیت 12 —🟦
دیواریں اور بارہ دروازے (ابدی تحفظ اور وعدوں کی تکمیل)🔹
“اور اُس کی شہرِ پناہ بڑی اور بُلند تھی اور اُس کے بارہ دروازے اور دروازوں پر بارہ فرِشتے تھے اور اُن پر بنی اِسرائیل کے بارہ قبِیلوں کے نام لِکھے ہُوئے تھے۔”
برادر برینہم کے مطابق اس شہر کی اونچی اور مضبوط دیوار ابدی تحفظ کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ابدیت میں اب کوئی دشمن، کوئی گناہ، کوئی فریب اور کوئی شیطانی دخل اندازی ممکن نہیں۔ جو کچھ اس شہر کے اندر ہے وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے، کیونکہ لعنت، موت اور شیطان کا باب بند ہو چکا ہے۔
بارہ دروازے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ خدا نے فطری اسرائیل کے ساتھ کیے گئے اپنے تمام وعدے پورے کر دیے ہیں۔ ہر دروازے پر اسرائیل کے بارہ قبائل کے نام اس حقیقت کی گواہی ہیں کہ اسرائیل کو خدا کے نجاتی منصوبے میں کبھی رد نہیں کیا گیا بلکہ اپنے وقت اور ترتیب میں مکمل مقام دیا گیا۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ خدا کے دو الگ منصوبے ہیں—ایک اسرائیل کے لیے اور ایک دُلہن کے لیے—اور یہ دروازے اس ترتیب کی یادگار ہیں۔
مزید گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ دروازے “داخلے کے تاریخی راستے” بھی ہیں—یعنی نجات کی جڑ ہمیشہ اسرائیل سے نکلی۔ یسوع مسیح جسمانی طور پر اسرائیل سے آیا، رسول اسرائیلی تھے، اور مکاشفہ کی بنیاد اسرائیلی عہد پر رکھی گئی۔ اس لیے ابدیت میں بھی اسرائیل کا نشان مٹایا نہیں جاتا بلکہ عزت کے ساتھ محفوظ رکھا جاتا ہے۔
دروازوں پر مقرر فرشتے خدا کے اختیار اور نظم کی علامت ہیں۔ یہ کسی خطرے کے لیے نہیں بلکہ اس بات کے اعلان کے لیے ہیں کہ یہ شہر خدا کے مقرر کردہ نظام کے تحت قائم ہے۔ ابدیت میں سب کچھ ترتیب، امن اور مکمل اختیار کے ساتھ چلتا ہے—نہ افراتفری، نہ بے قاعدگی۔
یوں یہ آیت ہمیں دکھاتی ہے کہ نیا یروشلیم ایک ایسا شہر ہے جہاں تحفظ کامل ہے، وعدے پورے ہو چکے ہیں، اور خدا کی حاکمیت ابدی طور پر قائم ہے—یہ دُلہن کا محفوظ، مقدس اور ہمیشہ کا گھر ہے۔
حوالہ جات : ●
یسعیاہ 54:14 “تو راست بازی سے پاک ہو جائے گا۔تو ظلم سے دور رہے گئ کیونکہ تُو بےخوف ہوگئ اور دہشت سے دور رہے گئ کیونکہ وہ تیرے قریب نہ آے گئ۔”
رومیوں 11:29“ اِس لِئے کہ خُدا کی نِعمتیں اور بُلاوا بے تبدِیل ہے۔”
مکاشفہ 21باب آیت 13 — 🟦
چاروں سمتوں کے دروازے (کامل شمولیت اور الٰہی توازن) 🔹
“ تِین دروازے مشرِق کی طرف تھے۔ تِین دروازے شُمال کی طرف۔ تِین دروازے جنُوب کی طرف اور تِین دروازے مغرِب کی طرف۔”
برادر برینہم کے مطابق چاروں سمتوں میں تین تین دروازوں کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی نجات اور بادشاہی ہر سمت، ہر دور اور ہر نسل تک پہنچی ہے۔ ابدیت میں داخلہ کسی ایک قوم، خطے یا ثقافت تک محدود نہیں رہتا، بلکہ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک—جہاں جہاں سے خدا نے اپنے لوگوں کو بلایا—سب کے لیے راستہ کھلا ہے۔
عدد بارہ بائبل میں ہمیشہ الٰہی نظم، حکمرانی اور مکمل انتظام کی علامت رہا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ خدا افراتفری کا خدا نہیں بلکہ ترتیب کا خدا ہے، اور جب وہ کسی چیز کو “بارہ” کے سانچے میں رکھتا ہے تو وہ اُس کے مکمل اور سرکاری انتظام کو ظاہر کرتا ہے۔ چار سمتیں (مشرق، مغرب، شمال، جنوب) پوری زمین کی نمائندگی کرتی ہیں، اور تین دروازے ہر سمت میں ہونا شہ رخی کمال (3) اور زمینی مکملیت (4) کے ملاپ کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں 3 × 4 = 12 خدا کی کامل حکمرانی کی تصویر بنتا ہے۔
برادر برینہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تاریخ کے ہر بڑے مرحلے میں عدد بارہ نمایاں رہا ہے:
اسرائیل کے بارہ قبائل — فطری قوم کی ترتیب
برّہ کے بارہ رسول — روحانی بنیاد
آسمانی شہر کے بارہ دروازے — ابدی تکمیل
یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک مسلسل الٰہی خاکہ ہے۔ جو کچھ ابتدا میں بیج کی صورت میں رکھا گیا تھا، وہ آخر میں مکمل ساخت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ابدیت کوئی نیا منصوبہ نہیں بلکہ اُس منصوبے کی تکمیل ہے جو ازل سے مقرر تھا۔
مزید گہرائی میں، عدد بارہ “حکومت” کی علامت بھی ہے۔ پرانے عہد میں اسرائیل بارہ قبائل کے ذریعے منظم ہوا، نئے عہد میں کلیسیا بارہ رسولوں کی تعلیم پر قائم ہوئی، اور ابدیت میں شہر بارہ دروازوں اور بارہ بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کی بادشاہی ہمیشہ ترتیب وار اور اختیار کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔
:یوں عدد بارہ یہ اعلان کرتا ہے کہ
خدا کا منصوبہ کبھی ٹوٹا نہیں،
خدا کی ترتیب کبھی بکھری نہیں،
اور ابدیت اُس ترتیب کی کامل تکمیل ہے جو ابتدا سے مقرر تھی۔
یہ آیت یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ نئے یروشلیم میں کوئی امتیاز، کوئی رکاوٹ اور کوئی بند دروازہ نہیں۔ جو خدا کے بلانے میں شامل ہیں، وہ جس سمت سے بھی آئے ہوں، اُن کے لیے رسائی مہیا ہے—مگر صرف اسی ترتیب کے تحت جو خدا نے مقرر کی ہے۔
یوں مکاشفہ 21:13 یہ اعلان کرتی ہے کہ ابدی شہر میں داخلہ عالمگیر ہے مگر بے قاعدہ نہیں؛ سب کے لیے راستہ ہے، مگر وہی جو خدا کے منصوبے اور برّہ کی کتابِ حیات میں شامل ہیں۔
حوالہ جات : ●
یسعیاہ 43باب5–6 تو خوف نہ کر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں تیری نسل کو مشرق سے لے آونگا اور مغرب سے تجھے فراہم کرونگا۔ میں شمال سے کہونگا کہ دے ڈال اورجنوب سے کہ رکھ نہ چھوڑ۔ میرے بیٹوں کو دور سے اور میری بیٹیوں کو زمین کی انتہا سے لاؤ۔
زبور 107:3 اور اُن کو مُلک مُلک سے جمع کیا۔ پُورب سے اور پّچھم سے ۔ اُتّر سے اور دکِھّن سے ۔
مکاشفہ 21باب آیت 15 🟦
سونے کی ناپ (خدا کا کامل معیار)🔹
“ اور جو مُجھ سے کہہ رہا تھا اُس کے پاس شہر اور اُس کے دروازے اور اُس کی شہرِ پناہ کے ناپنے کے لِئے ایک پیمایش کا آلہ یعنی سونے کا گز تھا۔”
برادر برینہم کے مطابق “سونے کی ناپ” محض ایک پیمائش کا آلہ نہیں بلکہ ایک روحانی اعلان ہے۔ سونا بائبل میں ہمیشہ الٰہی فطرت کی علامت رہا ہے—وہ چیز جو آگ میں آزمائی گئی اور خالص ثابت ہوئی (ایوب 23:10)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیا یروشلیم کسی انسانی خاکے، مذہبی روایت یا تنظیمی ڈھانچے پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل طور پر خدا کی فطرت اور اُس کے کلام کے مطابق قائم ہے۔
“ناپنا” بائبل میں تین باتوں کی علامت ہے:
ملکیت — جو چیز ناپی جاتی ہے وہ خدا کی ملکیت میں ہے۔●
قبولیت — خدا اسے منظور کر چکا ہے۔●
کمال — وہ مقررہ معیار پر پوری اتر چکی ہے۔●
حزقی ایل 40 اور زکریاہ 2 میں بھی ناپنے کا عمل خدا کے منصوبے کی تصدیق کو ظاہر کرتا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ جب خدا ناپتا ہے تو وہ دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ اعلان کرنے کے لیے ناپتا ہے—کہ “یہ کامل ہے”۔
یہاں شہر، دیواریں اور دروازے سب ناپے جاتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابدیت میں کوئی بے ترتیبی یا غیر یقینی پن نہیں ہوگا۔ ہر چیز اپنی مقررہ جگہ پر، مکمل ہم آہنگی میں ہوگی۔ یہ وہی ترتیب ہے جو کلیسیا کے زمانوں میں جزوی طور پر دیکھی گئی، مگر یہاں مکمل صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
گہرے روحانی مفہوم میں، برادر برینہم اس ناپ کو دُلہن کے ساتھ بھی جوڑتے ہیں۔ جیسے شہر خدا کے معیار پر پورا اترتا ہے، ویسے ہی دُلہن بھی “کلام کی ناپ” پر پوری اترتی ہے۔ افسیوں 4:13 میں “مسِیح کے پُورے قد کے اندازہ تک نہ پہُنچ جائیں۔” کا ذکر اسی پیمائش کی طرف اشارہ ہے۔ دُلہن کو تنظیمی معیار نہیں بلکہ مکاشفہ شدہ کلام کے معیار پر ناپا جاتا ہے۔
:یوں یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ
ابدیت کوئی تجربہ نہیں،نجات کوئی ادھورا منصوبہ نہیں اور دُلہن کوئی نامکمل عمارت نہیں
بلکہ سب کچھ خدا کے سونے کے معیار پر مکمل، متوازن اور ابدی طور پر قائم ہے۔
حوالہ جات:●
حزقی ایل 40:3۔۔ اور وہ مجھے وہاں لے گےا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہے جسکی جھلک پیتل کی سی ہے اور وہ سن کی ڈوری اور پیمائش کا سر کنڈا ہاتھ میں لئے پھاٹک پر کھڑا ہے ۔
افسیوں 4:13۔۔ جب تک ہم سب کے سب خُدا کے بَیٹے کے اِیمان اور اُس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامِل اِنسان نہ بنیں یعنی مسِیح کے پُورے قد کے اندازہ تک نہ پہُنچ جائیں۔
مکاشفہ 21باب آیت 16 🟦
شہر کی کامل ساخت🔹
“ اور وہ شہر چَوکور واقع ہُؤا تھا اور اُس کی لمبائی چَوڑائی کے برابر تھی۔ اُس نے اُس شہر کو اُس گز سے ناپا تو ہزار فرلانگ نِکلا۔ اُس کی لمبائی اور چَوڑائی اور اُونچائی برابر تھی۔”
برادر برینہم کے مطابق شہر کا چوکور اور مکعب ہونا محض معماری کی تفصیل نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی اعلان ہے۔ پرانے عہد میں صرف پاک ترین مقام مکعب تھا—جہاں صرف سردار کاہن سال میں ایک بار داخل ہوتا تھا (1-سلاطین 6:20؛ عبرانیوں 9:7)۔ مگر یہاں پورا شہر ہی مکعب ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ابدیت میں پوری فضا خدا کی براہِ راست حضوری سے معمور ہوگی۔ اب کوئی پردہ نہیں، کوئی درمیانی درجہ نہیں—ہر جگہ پاک ترین ہے۔
لمبائی، چوڑائی اور اونچائی کا برابر ہونا کامل توازن، ہم آہنگی اور استحکام کو ظاہر کرتا ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ خدا کی تخلیق کبھی بے ترتیب نہیں ہوتی؛ اُس کا منصوبہ ازل سے مکمل اور متوازن تھا، اور نیا یروشلیم اُس منصوبے کی حتمی تکمیل ہے۔ یہ شہر صرف افقی (زمین) تک محدود نہیں بلکہ عمودی (آسمانی) جہت بھی رکھتا ہے—یعنی خدا اور انسان کا مکمل اتحاد۔
“بارہ ہزار فرلانگ” میں عدد بارہ کی تکرار خدا کی عہدی تکمیل کی علامت ہے—بارہ قبائل، بارہ رسول۔ برادر برینہم کے مطابق یہ اس بات کی گواہی ہے کہ اسرائیل اور دُلہن دونوں اپنے اپنے مقام پر مکمل ہو چکے ہیں، اور ابدیت میں خدا کا پورا منصوبہ ہم آہنگی کے ساتھ قائم ہے۔
حوالہ جات: ●
1-سلاطین 6:20۔۔ اور اِلہام گاہ اندر ہی اندر بیس ہاتھ لمبی اور بیس ہاتھ چوڑی اور بیس ہاتھ اونچی تھی اور اُس نے اُس پر خالص سونا منڈھا اور مذبح کو دیودار سے پاٹا۔
تفسیر کا سلسلہ جاری ہے
مکاشفہ 21باب آیت 17 — 🟦
دیوار کی پیمائش🔹
“ اور اُس نے اُس کی شہرِ پناہ کو آدمِی کی یعنی فرِشتہ کی پیمایش کے مُطابِق ناپا تو ایک سَو چَوالِیس ہاتھ نِکلی۔”
یہاں “آدمی کی یعنی فرشتہ کی پیمائش” ایک اہم روحانی نکتہ ظاہر کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ فرشتہ اور انسان ایک ہی ہستی ہیں، بلکہ یہ کہ پیمائش کا معیار وہی ہے جو خدا نے انسان کے لیے مقرر کیا ہے—اور وہی معیار آسمانی ترتیب میں بھی درست اور مکمل ہے۔
مختصر طور پر:
یہ جملہ اعلان کرتا ہے کہ نیا یروشلیم خدا کے کامل، انسانی طور پر ظاہر شدہ معیار—یعنی مسیح—کے مطابق مکمل ہے۔br>
144 (12×12) صرف ایک عدد نہیں بلکہ الٰہی تکمیل کی مہر ہے۔ برادر برینہم کے مطابق 12 اسرائیل کی نمائندگی کرتا ہے اور 12 رسولی بنیاد کی—اور 144 ان دونوں کی مکمل ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ دیوار تحفظ، حد اور پاکیزگی کی علامت ہے۔ اس کی پیمائش اعلان کرتی ہے کہ ابدیت میں کوئی دراڑ باقی نہیں، کوئی کمزوری نہیں، کوئی دشمن داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ مکمل حفاظت ہے جو مکاشفہ 7 کے 144,000 کی مہر کی یاد دلاتی ہے—خدا کی ملکیت اور حفاظت کی علامت۔
حوالہ جات: ●
مکاشفہ 7:4۔۔اور جِن پر مُہر کی گئی مَیں نے اُن کا شُمار سُنا کہ بنی اِسرائیل کے سب قبِیلوں میں سے ایک لاکھ چَوالِیس ہزار پر مُہر کی گئی۔
مکاشفہ 21باب آیت 18 — 🟦
دیوار یشب کی، شہر خالص سونے کا🔹
“ اور اُس نے اُس کی شہرِ پناہ کو آدمِی کی یعنی فرِشتہ کی پیمایش کے مُطابِق ناپا تو ایک سَو چَوالِیس ہاتھ نِکلی۔”
یشب وہی پتھر ہے جو مکاشفہ 4:3 میں خدا کے تخت کے گرد دکھایا گیا تھا۔ برادر برینہم کے مطابق یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ شہر خدا کی فطرت کو منعکس کرتا ہے—یہ صرف خدا کا شہر نہیں بلکہ خدا کی صفات کا اظہار ہے۔ خالص سونا شفاف ہے، یعنی سچائی مکمل طور پر ظاہر ہے۔ یہاں کوئی مذہبی پردہ، کوئی دکھاوا، کوئی ملاوٹ باقی نہیں—ہر چیز نور میں ہے۔
حوالہ جات: ●
مکاشفہ 4:3۔۔اور جو اُس پر بَیٹھا ہے وہ سنگِ یشب اور عقِیق سا معلُوم ہوتا ہے اور اُس تخت کے گِرد زُمُرّد کی سی ایک دھُنک معلُوم ہوتی ہے۔
“ اور اُس شہر کی شہرِ پناہ کی بُنیادیں ہر طرح کے جواہِر سے آراستہ تھِیں۔ پہلی بُنیاد یشب کی تھی۔ دُوسری نِیلم کی تھی۔ تِیسری شب چِراغ کی تھی۔ چَوتھی زمُرّد کی۔
پانچوِیں عقِیق کی۔ چھٹّی لعل کی۔ ساتوِیں سُنہرے پتھّر کی۔ آٹھوِیں فیروزہ کی۔ نوِیں زبرجد کی۔ دسوِیں یمنی کی۔ گیارھوِیں سنگِ سُنبلی کی اور بارھوِیں یاقُوت کی”
برادر برینہم کے مطابق یہ بارہ بنیادیں صرف آرائش نہیں بلکہ نجات کے پورے منصوبے کا روحانی خاکہ ہیں۔ ہر بنیاد پر برّہ کے ایک رسول کا نام لکھا ہے (مکاشفہ 21:14)، جس کا مطلب ہے کہ نیا یروشلیم رسولی مکاشفہ پر قائم ہے—وہی مکاشفہ جو ابتدا میں کلیسیا کو دیا گیا تھا۔
قیمتی پتھر بائبل میں ہمیشہ روشنی کو منعکس کرتے ہیں۔ جب نور ان پر پڑتا ہے تو ہر پتھر مختلف رنگ دکھاتا ہے۔ اسی طرح برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ دُلہن ایک ہی تجربے سے نہیں بنی بلکہ مختلف آزمائشوں، قربانیوں، وفاداریوں اور روحانی مکاشفوں کے ذریعے تیار ہوئی ہے۔ ہر رنگ خدا کی کسی صفت کو ظاہر کرتا ہے—راستبازی، قدوسیت، وفاداری، صبر، محبت، اور سچائی۔
یہ بھی اہم ہے کہ یہ بنیادیں “نیچے” ہیں—یعنی جو کچھ اوپر نظر آتا ہے وہ نیچے کی مضبوط بنیاد پر کھڑا ہے۔ دُلہن کی ساری جلالی حالت اسی بنیاد پر قائم ہے جو ابتدا میں رکھی گئی تھی۔: :برادر برینہم کے مطابق
نہ تنظیمی عقائد●
نہ صدیوں کی روایت●
بلکہ رسولوں کا مکاشفہ شدہ کلام●
اسی لیے افسیوں 2:20 کہتا ہے کہ ہم “اور رَسُولوں اور نبِیوں کی نیو پر جِس کے کونے کے سِرے کا پتھّر خُود مسِیح یِسُوع ہے تعمِیر کِئے گئے ہو۔”
:مختصر مگر گہرا مطلب یہ ہے
نیا یروشلیم دراصل اُس دُلہن کی مکمل تصویر ہے جو کلام پر بنی، آزمائش میں نکھری، اور خدا کے نور کو مختلف پہلوؤں میں منعکس کرتی ہے—مگر بنیاد ہمیشہ ایک ہی رہی: مسیح اور اُس کا مکاشفہ۔
حوالہ جات: ●
مکاشفہ 4:3۔۔اور رَسُولوں اور نبِیوں کی نیو پر جِس کے کونے کے سِرے کا پتھّر خُود مسِیح یِسُوع ہے تعمِیر کِئے گئے ہو۔
مکاشفہ 21باب آیت 21 🟦
بارہ موتی🔹
“اور بارہ دروازے بارہ موتِیوں کے تھے۔ ہر دروازہ ایک موتی کا تھی اور شہر کی سڑک شفّاف شِیشہ کی مانِند خالِص سونے کی تھی۔”
برادر برینہم کے مطابق موتی باقی قیمتی پتھروں سے مختلف ہے، کیونکہ وہ زمین سے نہیں نکالا جاتا بلکہ ایک زندہ مخلوق کے اندر تکلیف کے نتیجے میں بنتا ہے۔ جب سیپی کے اندر کوئی اجنبی ذرہ داخل ہوتا ہے تو وہ اس تکلیف کے گرد ایک قیمتی تہہ چڑھاتی رہتی ہے، یہاں تک کہ موتی بن جاتا ہے۔ یہ مسیح کی تصویر ہے—وہ آسمانی تھا، دنیا نے اسے رد کیا، اس نے زخم سہے، اور انہی زخموں سے نجات کا دروازہ کھلا۔
ہر دروازہ “ایک ہی موتی” کا ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ابدیت میں داخلہ صرف ایک ہی راستے سے ہے—برّہ کے زخموں کے ذریعے (یوحنا 10:9)۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے اعمال، مذہبی وابستگی یا انسانی کوشش سے داخل نہیں ہو سکتا؛ دروازہ قربانی ہے۔
شہر کی سڑک کا “خالص سونا جو شفاف شیشے کی مانند ہے” اس بات کی علامت ہے کہ نہ صرف داخلہ فضل سے ہے بلکہ ہماری ابدی زندگی بھی فضل پر قائم ہے۔ سونا الٰہی فطرت کی علامت ہے، اور اس کا شفاف ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ابدیت میں کچھ بھی خفیہ نہیں—سب کچھ نور میں ہے۔ ہم خون کے ذریعے داخل ہوئے، اور فضل کی روشنی میں چلتے ہیں۔
حوالہ جات: ●
متی 13باب:45–46۔۔ پھِر آسمان کی بادشاہی اُس سوداگر کی مانِند ہے جو عمدہ موتیوں کی تلاش میں تھا۔ جب اُسے ایک بیش قِیمت موتی مِلا تو اُس نے جا کر جو کُچھ اُس کا تھا سب بیچ ڈالا اور اُسے مول لے لِیا۔
یوحنا 10:9۔۔ دروازہ مَیں ہُوں اگر کوئی مُجھ سے داخِل ہو تو نِجات پائے گا اوقر اَندر باہِر آیا جایا کرے گا اور چارا پائے گا۔
مکاشفہ 21باب آیت 22 — 🟦
ہیکل نہیں (براہِ راست حضوری کی حالت)🔹
“ اور مَیں نے اُس میں کوئی مَقدِس نہ دیکھا اِس لِئے کہ خُداوند خُدا قادِرِ مُطلَق اور برّہ اُس کا مَقدِس ہیں۔”
برادر برینہم کے مطابق ہیکل کی عدم موجودگی اس بات کا اعلان ہے کہ اب عبادت کسی جگہ، نظام یا رسم کی محتاج نہیں۔ پرانے عہد میں خدا کی حضوری خیمۂ اجتماع اور ہیکل تک محدود تھی، اور بیچ میں پردہ تھا جو انسان اور خدا کے درمیان حد قائم کرتا تھا۔ مگر جب مسیح نے صلیب پر جان دی تو وہ پردہ پھٹ گیا (متی 27:51)، جو اس بات کی علامت تھا کہ راستہ کھل گیا ہے۔
ابدیت میں یہ سچائی اپنی مکمل صورت میں ظاہر ہوتی ہے—اب نہ کوئی پردہ، نہ کوئی درمیانی خدمت، نہ کوئی علامتی قربانی۔ خدا خود ہیکل ہے، اور برّہ خود قربان گاہ۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ کامل رفاقت کی حالت ہے، جہاں انسان براہِ راست خدا کی حضوری میں رہتا ہے۔
یہاں عبادت کوئی مخصوص عمل نہیں بلکہ ابدی حالت ہے۔ خدا کی حضوری ہی ماحول ہے، نور ہے، زندگی ہے۔ یہی وہ حالت ہے جس کا وعدہ یوحنا 17:24 میں کیا گیا تھا—کہ جہاں وہ ہے، وہاں اس کے لوگ بھی ہوں۔
حوالہ جات: ●
عبرانیوں 10باب19–20: پَس اَے بھائِیو! چُونکہ ہمیں یِسُوع کے خُون کے سبب سے اُس نئی اور زِندہ راہ سے پاک مکان میں داخِل ہونے کی دِلیری ہے۔ جو اُس نے پردہ یعنی اپنے جِسم میں سے ہوکر ہمارے واسطے مخصُوص کی ہے۔
یوحنا 17:24: اَے باپ! میں جانتا ہُوں کہ جنہِیں تُونے مُجھے دِیا ہے جہاں مَیں ہُوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں تاکہ میرے اُس جلال کو دیکھیں جو تُونے مُجھے دِیا ہے کِیُونکہ تُونے بِنایِ عالَم سے پیشتر مُجھ سے محبّت رکھّی۔
مکاشفہ 21باب آیت 23 — 🟦
سورج اور چاند کی حاجت نہیں (مکمل نور کی حالت)🔹
“ اور اُس شہر میں سُورج یا چاند کی روشنی کی کُچھ حاجت نہِیں کِیُونکہ خُدا کے جلال نے اُسے روشن کر رکھّا ہے اور برّہ اُس کا چِراغ ہے”
برادر برینہم کے مطابق یہ آیت ابدیت کی سب سے گہری سچائیوں میں سے ایک کو ظاہر کرتی ہے۔ کلیسیا کے زمانوں میں روشنی ہمیشہ جزوی رہی—کبھی نبی کے ذریعے، کبھی پیغام کے ذریعے، کبھی کسی مخصوص زمانے کی مکاشفہ شدہ سچائی کے ذریعے۔ پولس کہتا ہے: “ اَب ہم کو آئِینہ میں دھُندلا سا دِکھائی دیتا ہے” (1-کرنتھیوں 13:12)۔ مگر نیا یروشلیم اس جزوی روشنی کا خاتمہ ہے۔ یہاں خدا کا جلال براہِ راست نور ہے—کسی ثانوی وسیلے، کسی زمانی پیغام یا کسی علامتی چراغ کی ضرورت نہیں۔
“برّہ اُس کا چراغ ہے” اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہی مسیح جو زمانوں میں کلام کے ذریعے ظاہر ہوتا رہا، اب مکمل اور دائمی روشنی کے طور پر حاضر ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ زمین پر رات گناہ، جہالت اور جدائی کی علامت تھی، مگر ابدیت میں نہ رات ہے نہ سایہ (مکاشفہ 22:5)۔ یہ جزوی سے کامل کی طرف منتقلی ہے—جہاں سچائی مکمل طور پر ظاہر ہے، اور خدا کی حضوری ہر سمت میں روشن ہے۔
یہ آیت یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ابدیت میں وقت کی وہ تقسیم نہیں رہے گی جو سورج اور چاند طے کرتے تھے۔ اب نہ دن اور رات کا چکر، نہ اندھیرے کا خوف—صرف مسلسل، غیر منقطع الٰہی نور۔
حوالہ جات: ●
یسعیاہ 60:19 : پھر تیری روشنی نہ دن کوسورج سے ہو گی نہ چاند کے چمکنے سے بلکہ خداوند تیراابدی نور اور تیرا خدا تیراجلال ہو گا۔
مکاشفہ 22:5:اور پھِر رات نہ ہوگی اور وہ چِراغ اور سُورج کی روشنی کے محتاج نہ ہوں گے کِیُونکہ خُداوند خُدا اُن کو روشن کرے گا اور وہ ابدُالآباد بادشاہی کریں گے۔
1-کرنتھیوں 13:12 : اَب ہم کو آئِینہ میں دھُندلا سا دِکھائی دیتا ہے مگر اُس وقت رُوبرُو دیکھیں گے۔ اِس وقت میرا عِلم ناقِص ہے مگر اُس وقت اَیسے پُورے طَور پر پہچانُوں گا جَیسے مَیں پہچانا گیا ہُوں۔
مکاشفہ 21باب آیت 24–26 —🟦
قومیں نور میں چلیں گی (ابدیت کی ہم آہنگی)🔹
“ اور قَومیں اُس کی روشنی میں چلیں پھِریں گی اور زمِین کے بادشاہ اپنی شان و شَوکت کا سامان اُس میں لاَئیں گے۔ اور اُس کے دروازے دِن کو ہرگِز بند نہ ہوں گے (اور رات وہاں نہ ہوگی)۔ اور لوگ قَوموں کی شان و شَوکت اور عِزّت کا سامان اُس میں لائیں گے۔”
برادر برینہم کے مطابق یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ ابدیت بے ترتیبی یا خلا کی حالت نہیں بلکہ کامل الٰہی ترتیب کی حالت ہے۔ “قومیں نور میں چلیں گی” کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں گناہ آلود قومیت باقی رہے گی، بلکہ یہ کہ مختلف نجات یافتہ گروہ خدا کے جلال کے تحت اپنی اپنی پہچان کے ساتھ ہم آہنگی میں رہیں گے۔ نور میں چلنا اس بات کی علامت ہے کہ ہر حرکت، ہر خدمت، ہر رفاقت خدا کی حضوری میں اور مکمل شفافیت کے ساتھ ہو گی۔
“زمین کے بادشاہ اپنی شوکت اور عزت اُس میں لائیں گے” برادر برینہم کے مطابق اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو کچھ خدا نے مختلف زمانوں میں اپنے لوگوں میں پیدا کیا—ایمان، وفاداری، قربانی، گواہی—وہ سب ابدیت میں خدا کے جلال کے لیے ہوگا، نہ کہ انسانی فخر کے لیے۔ اب کوئی سیاسی طاقت، کوئی خفیہ منصوبہ، کوئی مقابلہ یا خودنمائی باقی نہیں۔ ہر عزت واپس خدا ہی کو دی جاتی ہے۔
“دروازے ہرگز بند نہ ہوں گے” اس بات کی علامت ہے کہ اب کوئی خطرہ، کوئی دشمن، کوئی تاریکی باقی نہیں جس کے باعث حفاظت کی خاطر دروازے بند کیے جائیں۔ یہ مکمل امن، مکمل قبولیت اور دائمی کھلے پن کی حالت ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ جہاں نور کامل ہو وہاں خوف باقی نہیں رہتا۔
یہ منظر یسعیاہ 60 کی نبوت کی تکمیل ہے، جہاں قومیں خدا کے نور کی طرف آتی ہیں—مگر یہاں وہ نبوت جزوی نہیں بلکہ ابدی صورت میں پوری ہو رہی ہے۔
حوالہ جات: ●
یسعیاہ 60:3: اور قومیں تیری روشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطین تیرے طلوع کی تجلی میں چلیں گے۔
یسعیاہ 60:11:اور تیرے پھاٹک ہمیشہ کُھلے رہیں گے۔وہ دن رات کبھی بند ہوں گے تاکہ قوموں کی دولت اور اُن کے بادشاہوںکو تیرے پاس لائیں۔
1-یوحنا 1:7: لیکِن اگر ہم نُور میں چلیں جِس طرح کہ وہ نُور میں ہے تو ہماری آپس میں شِراکت ہے اور اُس کے بَیٹے یِسُوع کا خُون ہمیں تمام گُناہوں سے پاک کرتا ہے۔
مکاشفہ 21باب آیت27 — 🟦
ناپاک چیز داخل نہ ہوگی (ابدیت کی کامل پاکیزگی)🔹
“اور اُس میں کوئی ناپاک چیز ہرگز داخل نہ ہوگی، نہ وہ جو مکروہ کام کرتا ہے یا جھوٹ بولتا ہے، مگر وہی جن کے نام برّہ کی کتابِ حیات میں لکھے ہیں۔”
یہ آیت ابدیت کی حتمی اور غیر متبدل حد کو ظاہر کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہاں “ناپاک” صرف اخلاقی گناہ تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ چیز ہے جو خدا کے مکاشفہ شدہ کلام کے خلاف ہے—چاہے وہ جھوٹا مذہبی نظام ہو، انسانی روایت ہو، یا خود ساختہ راستبازی۔ ابدیت میں کسی قسم کی ملاوٹ، دوغلا پن یا نیم سچائی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
“مکروہ کام” اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کے نزدیک جھوٹا مذہب، روحانی بدکاری اور کلام سے بے وفائی بھی ناپاکی ہے (مکاشفہ 17 کا پس منظر)۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ آخری آزمائش یہی تھی—کیا انسان کلام کے ساتھ وفادار رہا یا نظام کے ساتھ؟
“جھوٹ بولتا ہے” صرف زبان کا جھوٹ نہیں بلکہ روحانی جھوٹ بھی ہے—یعنی خدا کے نام پر غلط تعلیم، غلط مکاشفہ، یا مسیح کی اصل شناخت کو بگاڑنا۔ ابدیت میں صرف سچائی باقی رہتی ہے، کیونکہ خدا خود سچ ہے (یوحنا 14:6)۔
اصل نکتہ یہ ہے: داخلہ کسی مذہبی شناخت، فرقے، بپتسمہ کی رسم، یا ظاہری خدمت کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف “برّہ کی کتابِ حیات” کے مطابق ہے۔ برادر برینہم واضح کرتے ہیں کہ کتابِ حیات میں نام ازل سے خدا کے منصوبے میں تھے، اور وہی لوگ وقت میں کلام کو پہچانتے اور قبول کرتے ہیں۔
یہ آیت مکاشفہ 20:15 کی تصدیق کرتی ہے—جس کا نام کتاب میں نہ پایا گیا وہ آگ کی جھیل میں ڈالا گیا۔ یہاں برعکس صورت ہے: جن کے نام لکھے ہیں وہی داخل ہوتے ہیں۔
:پس ابدیت کا دروازہ صرف ایک راستہ رکھتا ہے
برّہ کا خون
مکاشفہ شدہ کلام پر ایمان
خدا کی مقرر کردہ راستبازی
یہ کامل پاکیزگی کی بادشاہی ہے—جہاں کچھ بھی خدا کی فطرت کے خلاف داخل نہیں ہو سکتا۔
حوالہ جات: ●
مکاشفہ 20:15: اور جِس کِسی کا نام کِتابِ حیات میں لِکھا ہُؤا نہ مِلا وہ آگ کی جھِیل میں ڈالا گیا۔
یوحنا 14:6: یِسُوع نے اُس سے کہا کہ راہ اور حق اور زِندگی مَیں ہُوں کوئی میرے وسِیلہ کے بغَیر باپ کے پاس نہِیں آتا۔
افسیوں 1:4: چُنانچہ اُس نے ہم کو بنایِ عالم سے پیشتر اُس میں چُن لِیا تاکہ ہم اُس کے نزدِیک محبّت میں پاک اور بے عَیب ہوں۔
مکاشفہ باب 21 — مختصر خلاصہ 🟦
مکاشفہ 21 عظیم سفید تخت کے بعد کی ابدی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ خدا نیا آسمان اور نئی زمین قائم کرتا ہے—جہاں گناہ، موت اور لعنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ نیا یروشلیم آسمان سے اُترتا ہے؛ یہ دُلہن کا ابدی گھر ہے، انسانی تعمیر نہیں بلکہ خدا کی تیاری ہے۔
شہر مکعب شکل میں ہے—پاک ترین مقام کی توسیع—جو ظاہر کرتا ہے کہ ابدیت میں خدا کی حضوری ہر جگہ مکمل ہے۔ بارہ دروازے اسرائیل کے وعدوں کی تکمیل کو، اور بارہ بنیادیں رسولی مکاشفہ کو ظاہر کرتی ہیں۔ شہر کو سورج یا چاند کی حاجت نہیں کیونکہ خدا خود اس کی روشنی ہے۔
کوئی ناپاک چیز وہاں داخل نہیں ہو سکتی؛ صرف وہی جو برّہ کی کتابِ حیات میں لکھے ہیں۔
مرکزی پیغام:🟦
خدا کا نجاتی منصوبہ مکمل ہو چکا—اب ابدی حضوری، مکمل نور، اور کامل امن ہے۔
تفسیرمکاشفہ باب 22 عدن کی بحالی
مکاشفہ 22آیت 1 —🟦
تخت سے نکلنے والا دریا (اختیار اور منبع)🔹
“پھِر اُس نے مُجھے بلّور کی طرح چمکتا ہُؤا آبِ حیات کا ایک درِیا دِکھایا جو خُدا اور برّہ کے تخت سے نِکل کر اُس شہر کی سڑک کے بِیچ میں بہُتا تھا۔”
یہاں ایک نہایت گہرا مکاشفہ پوشیدہ ہے۔ یوحنا دو تخت نہیں دیکھتا بلکہ ایک ہی تخت دیکھتا ہے جسے “خدا اور برّہ کا تخت” کہا گیا ہے۔ یہ نجات کے مکمل منصوبہ کی تکمیل کا اعلان ہے۔ فدیہ دینے والا برّہ (یوحنا 1:29) اور ازلی خدا ایک ہی جلال اور اختیار میں ظاہر ہیں۔ یہ وہی سچائی ہے جسے کلسیوں 2:9 میں بیان کیا گیا: “کیونکہ اُسی میں الوہیت کی ساری معموری مجسم ہو کر بسی ہوئی ہے۔”
یہ دریا تخت سے نکلتا ہے — یعنی زندگی کا منبع اختیار ہے۔ ابدی زندگی خودمختار یا بے سمت نہیں بلکہ الٰہی حاکمیت کے تحت بہتی ہے۔ یوحنا 7:38 میں یسوع نے کہا: “جو مجھ پر ایمان لاتا ہے اُس کے اندر سے آبِ حیات کے دریا جاری ہوں گے۔” یہ وہی روحانی دریا ہے جو یہاں ابدیت میں مکمل طور پر ظاہر ہے۔
پیدائش 2:10 میں بھی ایک دریا عدن سے نکلتا تھا جو باغ کو سیراب کرتا تھا۔ مگر وہاں ایک باغ تھا؛ یہاں ایک شہر ہے۔ عدن ایک آغاز تھا، مگر مکاشفہ 22 تکمیل ہے۔ یہ صرف واپسی نہیں بلکہ ترقی یافتہ بحالی ہے — باغ سے شہر تک، معصومیت سے جلال تک۔
حوالہ جات●
پیدائش 2:10:اور عدؔن سے ایک دریا باغ کے سیراب کرنے کو نِکلا اور وہاں سے چارندیوں میں تقسیم ہُوا ۔
یوحنا 7:38:جو مُجھ پر اِیمان لائے گا اُس کے اَندر سے جَیسا کہ کتاِب مُقدّس میں آیا ہے زِندگی کے پانی کی ندیاں جاری ہوں گی۔
مکاشفہ 22آیت 2 —🟦
زندگی کا درخت دونوں طرف🔹
“اور درِیا کے وار پار زِندگی کا دَرخت تھا۔ اُس میں بارہ قِسم کے پھَل آتے تھے اور ہر مہِینے میں پھَلتا تھا اور اُس دَرخت کے پتّوں سے قَوموں کو شِفا ہوتی تھی۔”
طبعی منطق کے مطابق ایک درخت دونوں کناروں پر نہیں ہو سکتا، مگر یہ علامتی مکاشفہ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسیح محدود نہیں۔ وہ زندگی کا واحد منبع ہے (یوحنا 14:6)، اور اُس تک رسائی مکمل اور ہر سمت سے ممکن ہے۔
پیدائش 3باب22–24 میں انسان کو زندگی کے درخت سے دور کر دیا گیا تھا۔ مگر یہاں دوبارہ رسائی بحال ہو گئی ہے۔ یوحنا 6:35 میں یسوع نے فرمایا: “میں زندگی کی روٹی ہوں۔” وہی مسیح جو صلیب پر زخمی ہوا، اب ابدیت میں زندگی کا مکمل درخت ہے۔
“بارہ پھل دیتا ہے، اور ہر مہینے اپنا پھل دیتا ہے” (مکاشفہ 22:2)۔ یہاں “بارہ” تکمیل کا عدد ہے — اسرائیل کے بارہ قبائل (مکاشفہ 7:4) اور برّہ کے بارہ رسول (مکاشفہ 21:14)۔ “ہر مہینے” وقت کی گنتی نہیں بلکہ مسلسل تازگی کی علامت ہے۔ ابدی زندگی کبھی باسی نہیں ہوتی۔ 2-کرنتھیوں 4:16 کہتا ہے: “ باطِنی اِنسانِیّت روز بروز نئی ہوتی جاتی ہے۔” ابدیت میں یہ نیا پن کامل ہو جائے گا۔
“اور اُس کے پتے قوموں کی شفا کے لیے تھے” (مکاشفہ 22:2)۔ یہ بیماری کی موجودگی نہیں بلکہ مکمل ہم آہنگی اور بحالی کی علامت ہے، جیسا کہ یسعیاہ 60:18 میں لکھا ہے کہ تب نہ ظلم ہوگا نہ تباہی۔
حوالہ جات●
پیدائش 3باب22–24
حزقی ایل 47:12
مکاشفہ 22آیت 3 — 🟦
لعنت کا مکمل خاتمہ🔹
“اور پِھر لَعنت نہ ہو گی اور خُدا اور بَرّہ کا تخت اُس شہر میں ہو گا اور اُس کے بندے اُس کی عِبادت کریں گے۔ ”
یہ جملہ پوری بائبل کے دردناک باب کا اختتام ہے۔ پیدائش 3باب17–19 میں جب آدم گرا تو زمین پر لعنت آئی، محنت مشقت میں بدل گئی، درد انسانی تجربہ بن گیا، اور موت انسان کی قسمت ٹھہری (رومیوں 5:12)۔ گناہ کے باعث پوری مخلوق کراہتی رہی (رومیوں 8:22)۔
مگر مکاشفہ 22:3 اعلان کرتا ہے کہ وہ لعنت جو عدن میں شروع ہوئی تھی، اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔ مکاشفہ 21:4 پہلے ہی بتا چکا ہے کہ “نہ موت رہے گی، نہ ماتم، نہ آہ و نالہ، نہ درد۔”
یہ حالت ہزار سالہ بادشاہی سے بھی آگے کی ہے۔ مکاشفہ 20:10 میں شیطان ہمیشہ کے لیے آگ کی جھیل میں ڈالا جا چکا ہے۔ اب نہ کوئی آزمائش باقی ہے، نہ کوئی فریب، نہ کوئی بغاوت۔ یہ مکمل کمال کی حالت ہے۔
آیت آگے کہتی ہے: “اور اُس کے بندے اُس کی عبادت کریں گے۔” یہاں خدمت ہے، مگر غلامی نہیں؛ عبادت ہے، مگر فاصلے کے بغیر۔ عبرانیوں 12:28 کے مطابق یہ ایسی بادشاہی ہے جو ہلنے والی نہیں۔ اب انسان خدا کی حضوری میں بحال شدہ رفاقت میں ہے—جیسا عدن میں تھا، بلکہ اُس سے بھی بڑھ کر۔
حوالاجات●
پیدائش 3باب17–19
مکاشفہ 21:4
مکاشفہ 22آیت 4 — 🟦
اُس کا نام اُن کے ماتھوں پر🔹
“اور وہ اُس کا مُنہ دیکھیں گے اور اُس کا نام اُن کے ماتھوں پر لِکھا ہُؤا ہو گا۔”
پرانے عہد میں خدا کا چہرہ دیکھنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ خروج 33:20 میں خدا نے موسیٰ سے کہا: “تو میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا کیونکہ انسان مجھے دیکھ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔” مگر یہاں ابدیت میں دُلہن اُس کا چہرہ دیکھتی ہے۔ یہ کامل مصالحت اور اتحاد کا ثبوت ہے۔ 1-یوحنا 3:2 کہتا ہے: “اِتنا جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہِر ہو گا تو ہم بھی اُس کی مانِند ہوں گے کیونکہ اُس کو وَیسا ہی دیکھیں گے جَیسا وہ ہے۔”
“نام اُن کے ماتھوں پر” صرف شناخت نہیں بلکہ مکمل تبدیلی کی علامت ہے۔ مکاشفہ 14:1 میں بھی برّہ کا نام پیشانیوں پر لکھا ہوا تھا۔ بائبل میں ماتھا ذہن اور سوچ کی علامت ہے۔ رومیوں 12:2 میں ذہن کی تجدید شروع ہوتی ہے، مگر یہاں وہ کامل ہو چکی ہے۔
نام کردار کی علامت ہے۔ اب اُن کی سوچ، ارادہ اور فطرت مکمل طور پر مسیح کی مانند ہے۔ یہ وہی وعدہ ہے جو 2-کرنتھیوں 3:18 میں دیا گیا تھا کہ ہم جلال سے جلال تک اُس کی صورت میں بدلتے جاتے ہیں—اور یہاں وہ تبدیلی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
حوالاجات●
متی 5:8
1-یوحنا 3:2
مکاشفہ 22آیت5 — 🟦
ابدی نور🔹
“اور پِھر رات نہ ہو گی اور وہ چراغ اور سُورج کی روشنی کے مُحتاج نہ ہوں گے کیونکہ خُداوند خُدا اُن کو رَوشن کرے گا اور وہ ابدُالآباد بادشاہی کریں گے۔”
رات ہمیشہ جدائی، کمزوری اور جزوی سمجھ کی علامت رہی ہے۔ مگر یہاں اعلان ہے کہ رات ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ یسعیاہ 60:19 میں پیشین گوئی تھی کہ “خداوند تیرا ابدی نور ہوگا۔” مکاشفہ 21:23 بھی بتاتا ہے کہ شہر کو سورج یا چاند کی ضرورت نہیں کیونکہ برّہ اُس کا چراغ ہے۔1-یوحنا 1:5 کہتا ہے: “خدا نور ہے اور اُس میں ذرا بھی تاریکی نہیں۔”
کلیسیا کے زمانوں میں مکاشفہ جزوی تھا۔ 1-کرنتھیوں 13:12 کے مطابق “اب ہم آئینے میں دھندلا سا دیکھائی دیتا ہے۔” مگر ابدیت میں کوئی آئینہ نہیں، کوئی سایہ نہیں، کوئی درمیانی ذریعہ نہیں۔ یہ براہِ راست جلال کی حالت ہے — مکمل وضاحت، مکمل سچائی، مکمل حضوری۔
اور آیت کے آخر میں لکھا ہے: “اور وہ ابدالآباد بادشاہی کریں گے۔” یہ صرف زندہ رہنا نہیں بلکہ جلال میں حکمرانی کرنا ہے (2-تیمتھیس 2:12)۔ وہی انسان جو عدن میں گرا تھا، اب جلال میں بحال ہو کر ابدی اختیار میں شریک ہے۔
حوالاجات●
یسعیاہ 60:19
مکاشفہ 21:23
مکاشفہ 22آیت6 — 🟦
یہ باتیں سچی اور برحق ہیں🔹
“پِھر اُس نے مُجھ سے کہا یہ باتیں سچ اور برحق ہیں چُنانچہ خُداوند نے جو نبیوں کی رُوحوں کا خُدا ہے اپنے فرِشتہ کو اِس لِئے بھیجا کہ اپنے بندوں کو وہ باتیں دِکھائے جِن کا جلد ہونا ضرُور ہے۔”
برادر برینہم سکھاتے تھے کہ مکاشفہ کی کتاب کوئی تمثیلی کہانی نہیں بلکہ “ الٰہی مکاشفہ” ہے — خدا کا براہِ راست مکاشفہ۔ یہاں زور دیا گیا ہے کہ یہ باتیں “سچی اور برحق” ہیں۔ یعنی ابدیت، نیا آسمان، نیا شہر — سب حقیقت ہیں، محض روحانی علامتیں نہیں۔
یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ خدا کا منصوبہ مکمل اور یقینی ہے۔ جو کچھ اُس نے وعدہ کیا ہے، وہ پورا ہوگا۔
برادر برینہم سکھاتے تھے کہ بائبل میں “فرشتہ” ہمیشہ پر والے آسمانی مخلوق ہی نہیں ہوتا، بلکہ لفظ اینجل کا مطلب “پیغامبر” یا “قاصد” بھی ہے۔ مکاشفہ 1:1 میں بھی یہی ترتیب ہے: خدا → یسوع مسیح → فرشتہ → یوحنا → کلیسیا۔
مکاشفہ میں فرشتے کی ترتیب🔹
مکاشفہ 1:20 کے مطابق سات ستارے “سات کلیسیاؤں کے فرشتے” ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہ پر والے فرشتے نہیں بلکہ زمینی پیغامبر تھے — ہر دور کے لیے ایک مسح شدہ خادم۔
اسی اصول کے مطابق مکاشفہ 22:6 میں “فرشتہ” مکاشفہ پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ خدا براہِ راست سب کو نہیں بولتا بلکہ ایک مقررہ وسیلہ استعمال کرتا ہے۔ یہی طریقہ پورے کلام میں نظر آتا ہے:
خدا نے موسیٰ کو استعمال کیا (خروج 3:10)●
خدا نے انبیاء کو استعمال کیا (عاموس 3:7)●
خدا نے یوحنا کو استعمال کیا (مکاشفہ 1:1)●
فرشتہ کا مقصد🔹
آیت میں لکھا ہے:
“اپنے بندوں کو وہ باتیں دکھانے کے لیے…”
برادر برینہم کے مطابق مکاشفہ کا مقصد پوشیدہ رکھنا نہیں بلکہ ظاہر کرنا ہے۔ دانی ایل 12:4 میں کتاب کو مہر کیا گیا تھا، مگر مکاشفہ میں وہ راز کھولے گئے۔
فرشتہ خود مرکز نہیں ہوتا — وہ صرف پیغام کا وسیلہ ہے۔ اسی لیے آگے آیت 8–9 میں جب یوحنا سجدہ کرنے لگا تو فرشتے نے فوراً روکا۔ پیغام خدا کا ہے، فرشتہ صرف ذریعہ ہے۔
آخر زمانہ اور فرشتہ کا تصور🔹
برادر برینہم اکثر کہتے تھے کہ خدا ہر دور میں ایک پیغامبر بھیجتا ہے جو اُس دور کا کلام ظاہر کرتا ہے۔ مکاشفہ 10:7 کے مطابق:
“ساتویں فرشتے کی آواز کے دنوں میں خدا کا بھید پورا ہوگا۔”
یعنی خدا اپنے منصوبہ کو بے ترتیب نہیں بلکہ مقررہ وسیلوں کے ذریعے مکمل کرتا ہے۔
حوالاجات●
مکاشفہ 1:1
دانی ایل 2:28
مکاشفہ 22آیت7 — 🟦
دیکھ میں جلد آنے والا ہوں🔹
“اور دیکھ مَیں جلد آنے والا ہُوں۔ مُبارک ہے وہ جو اِس کِتاب کی نبُوّت کی باتوں پر عمل کرتا ہے۔”
برادر برینہم سکھاتے تھے کہ “جلد” کا مطلب کیلنڈر کے مطابق فوری آنا نہیں بلکہ اچانک اور غیر متوقع تکمیل ہے۔ 2-پطرس 3:8 کے مطابق خدا کے نزدیک ایک دن ہزار برس کے برابر ہے۔ اس لیے جو انسان کو تاخیر نظر آتی ہے وہ دراصل مقررہ وقت کا انتظار ہے۔ متی 24:44 میں یسوع نے فرمایا کہ وہ اُس گھڑی آئے گا جس کا گمان نہ ہوگا۔
یہ وعدہ خاص طور پر دُلہن کے لیے ہے، دنیا کے لیے نہیں۔ دنیا کو یہ آواز سنائی نہیں دیتی، مگر دُلہن اپنے چرواہے کی آواز پہچانتی ہے (یوحنا 10:27)۔ یہ آخر زمانہ کی روحانی پکار ہے — ایک اندرونی بلاوا جو صرف چنے ہوئے سنتے ہیں۔
آیت میں برکت صرف پڑھنے یا سننے پر نہیں بلکہ “عمل کرنے” پر ہے۔ مکاشفہ 1:3 میں بھی یہی ترتیب ہے: پڑھنا، سننا اور رکھنا۔ برادر برینہم کے مطابق سچا ایمان وہ ہے جو کلام کو زندگی میں ظاہر کرے۔ یعقوب 1:22 میں بھی تاکید ہے کہ صرف سننے والے نہیں بلکہ عمل کرنے والے بنو۔
یہ آیت فوری سنجیدگی کی طرف بلاتی ہے۔ لوقا 17:30 کے مطابق ابنِ آدم کا ظاہر ہونا اچانک ہوگا۔ برادر برینہم کے مطابق یہ “آسمانی بلائے جانے کی کیفیت” کی بات ہے — یعنی دُلہن کو ہر وقت تیار رہنا ہے، کیونکہ اُس کی آمد یقینی ہے۔
حوالاجات●
مکاشفہ 1:3
متی 24:44
مکاشفہ 22آیت8 — 🟦
یوحنا کا سجدہ کرنا🔹
“مَیں وُہی یُوحنّا ہُوں جو اِن باتوں کو سُنتا اور دیکھتا تھا اور جب مَیں نے سُنا اور دیکھا تو جِس فرِشتہ نے مُجھے یہ باتیں دِکھائیں مَیں اُس کے پاؤں پر سِجدہ کرنے کو گِرا۔ ”
یہ ایک نہایت اہم لمحہ ہے۔ یوحنا، جو خود رسول تھا، اتنے عظیم مکاشفہ کو دیکھ کر جذبات میں آ گیا اور فرشتہ کے سامنے جھکنے لگا۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں برادر برینہم سخت خبردار کرتے تھے۔
مکاشفہ 19:10 میں بھی یہی واقعہ ہوا جہاں فرشتے نے فوراً کہا: “ایسا نہ کر! خدا کی عبادت کر۔” اعمال 10باب25–26 میں بھی جب کرنیلیس نے پطرس کے سامنے جھکنا چاہا تو اُس نے اُسے اٹھا کر کہا: “میں بھی انسان ہوں۔”
برادر برینہم کے مطابق یہ آخر زمانہ کے لیے ایک اہم سبق ہے۔ جب خدا کوئی عظیم مکاشفہ دیتا ہے تو انسان کا رجحان ہوتا ہے کہ وہ اُس وسیلہ کو بلند کر دے جس کے ذریعے مکاشفہ آیا۔ مگر مکاشفہ کا مقصد وسیلہ کی تمجید نہیں بلکہ خدا کی تمجید ہے۔
وہ اکثر کہتے تھے:
“میں صرف اُس کی آواز ہوں؛ اصل کلام خدا ہے۔”
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے:
مکاشفہ عظیم ہو سکتا ہے۔
وسیلہ مسح شدہ ہو سکتا ہے۔
مگر عبادت صرف خدا کے لیے ہے (خروج 20:3)۔
یہ آخر زمانہ میں بت پرستی کی ایک نفیس شکل سے خبردار کرتی ہے — یعنی روحانی شخصیت کی پرستش۔
حوالاجات●
مکاشفہ 19:10
اعمال 10باب:25–26
مکاشفہ 22آیت9 —🟦
عبادت صرف خدا کے لیے🔹
“اُس نے مُجھ سے کہا خبردار! اَیسا نہ کر۔ مَیں بھی تیرا اور تیرے بھائی نبیوں اور اِس کِتاب کی باتوں پر عمل کرنے والوں کا ہم خِدمت ہُوں۔ خُدا ہی کو سِجدہ کر۔ ”
یہ آیت مکاشفہ کے اختتام پر ایک نہایت اہم توازن قائم کرتی ہے۔ یوحنا ایک عظیم روحانی تجربہ کے بعد جھک جاتا ہے، مگر فرشتہ فوراً اُسے روکتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مکاشفہ جتنا بھی عظیم ہو، عبادت کا مرکز کبھی وسیلہ نہیں بن سکتا۔
فرشتہ خود کہتا ہے:
“میں تیرا اور تیرے بھائیوں کا ہم خدمت ہوں۔”
یعنی آسمانی مخلوق /جسمانی مخلوق بھی خدا کے منصوبہ میں خادم ہے، مالک نہیں۔ یہی اصول زمینی خادموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
وسیلہ اور منبع کا فرق🔹
برادر برینہم بار بار اس فرق پر زور دیتے تھے کہ:
خدا منبع ہے
خادم وسیلہ ہے
اگر وسیلہ کو منبع سمجھ لیا جائے تو روحانی انحراف شروع ہو جاتا ہے۔ اعمال 14باب11–15 میں جب لوگ پولس اور برنباس کو دیوتا سمجھنے لگے تو انہوں نے فوراً انکار کیا۔ اسی طرح اعمال 10باب25–26 میں پطرس نے سجدہ قبول کرنے سے انکار کیا۔
یہی روح یہاں بھی نظر آتی ہے — سچا خادم کبھی عبادت قبول نہیں کرتا۔
نبوت کی روح اور مرکزِ توجہ🔹
مکاشفہ 19:10 میں لکھا ہے:
“یسوع کی گواہی نبوت کی روح ہے۔”
برادر برینہم کے مطابق ہر سچا مکاشفہ یسوع مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے، نہ کہ کسی انسان کی طرف۔ اگر کوئی پیغام کسی شخص کو مرکز بنا دے تو وہ اپنی اصل روحانی سمت کھو دیتا ہے۔
سچی نبوت ہمیشہ مسیح کو جلال دیتی ہے (یوحنا 13باب16–14)۔ روح القدس انسان کو نہیں بلکہ مسیح کو ظاہر کرتا ہے۔
آخر زمانہ کا باریک خطرہ🔹
برادر برینہم خبردار کرتے تھے کہ آخر زمانہ میں بت پرستی صرف پتھر کے بتوں کی صورت میں نہیں ہوگی، بلکہ روحانی شخصیتوں کو غیر متوازن طور پر بلند کرنے کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔
جب خدا کسی مسح شدہ خادم کو استعمال کرتا ہے، تو خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ پیغام کے بجائے پیغامبر کو مرکز بنا لیں۔ مگر مکاشفہ 22:9 واضح اعلان ہے:
خادم “ہم خدمت” ہے — عبادت کے لائق نہیں۔
خروج 20:3 میں پہلا حکم یہی ہے:
“میرے سوا تیرا کوئی اور خدا نہ ہو۔”
ابدیت کا اصول🔹
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تعلیم مکاشفہ کے آخر میں دی جا رہی ہے — یعنی ابدیت کے دہانے پر۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے حضور داخل ہونے کا بنیادی اصول یہی ہے: عبادت خالص ہو۔
خادم کا احترام ہو سکتا ہے۔
تعلیم کی قدر ہو سکتی ہے۔
مگر سجدہ صرف خدا کے لیے ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ روحانی تجربہ کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو، دل کا سجدہ صرف خدا کے لیے محفوظ رہنا چاہیے۔
حوالاجات●
خروج 20:3
مکاشفہ 19:10
مکاشفہ باب 22آیت 10 —🟦
اِن باتوں کو مہر نہ کر🔹
“پِھر اُس نے مُجھ سے کہا اِس کِتاب کی نبُوّت کی باتوں کو پَوشِیدہ نہ رکھّ کیونکہ وقت نزدِیک ہے۔ ”
یہ آیت مکاشفہ کی کتاب کے مقصد کو واضح کرتی ہے۔ برادر ولیم برینہم کے مطابق بائبل کا آخری پیغام چھپانے کے لیے نہیں بلکہ ظاہر کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ لفظ “مکاشفہ” خود ہی پردہ ہٹانے کا مطلب رکھتا ہے۔ خدا رازوں کو ہمیشہ کے لیے پوشیدہ نہیں رکھتا بلکہ مقررہ وقت پر انہیں ظاہر کرتا ہے۔ اسی لیے یہاں یوحنا کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان باتوں کو مہر نہ کرے۔
دانی ایل 12:4 میں نبی دانی ایل کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ کتاب کو مہر کر دے کیونکہ اُس وقت تک نبوتوں کی تکمیل کا وقت نہیں آیا تھا۔ مگر مکاشفہ 22:10 میں یوحنا کو برعکس حکم ملتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ فرق اس بات کی علامت ہے کہ ہم تکمیل کے زمانہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ جو باتیں پہلے راز تھیں، وہ آخر زمانہ میں کھولی جانی تھیں۔ مکاشفہ 10:7 کے مطابق خدا کا بھید مقررہ وقت پر پورا ہونا تھا۔ اس لیے یہ چھپانے کا نہیں بلکہ ظاہر کرنے کا وقت ہے۔
“وقت نزدیک ہے” کا مطلب یہ نہیں کہ صرف چند دن باقی تھے بلکہ یہ کہ خدا کا منصوبہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ برادر برینہم سکھاتے تھے کہ جب نبوتیں پوری ہونے لگتی ہیں تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اختتام کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ خدا کا کلام کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ حبقوق 2:3 کے مطابق اگرچہ تاخیر محسوس ہو مگر وہ اپنے وقت پر ضرور پورا ہوگا۔
یہ آیت ایک روحانی ذمہ داری بھی ظاہر کرتی ہے۔ جب خدا کسی زمانہ میں سچائی کو ظاہر کر دے تو اُسے روایات، نظاموں یا انسانی خیالات کے نیچے چھپایا نہیں جا سکتا۔ متی 5:15 کے مطابق چراغ کو پیمانہ کے نیچے نہیں رکھا جاتا بلکہ چراغدان پر رکھا جاتا ہے تاکہ سب کو روشنی دے۔ اسی طرح آخر زمانہ میں ظاہر شدہ کلام کو دبایا نہیں بلکہ پھیلایا جانا ہے۔
یہ اعلان کرتا ہے کہ ہم مہر کیے ہوئے زمانہ میں نہیں بلکہ ظاہر ہونے کے زمانہ میں جی رہے ہیں۔ خدا کا منصوبہ اپنے اختتامی مرحلے میں ہے، اور جو کچھ اُس نے وعدہ کیا ہے وہ مکمل ہو کر رہے گا۔
حوالاجات●
دانی ایل 12:4
مکاشفہ 1:11
مکاشفہ باب 22آیت 11 —🟦
حتمی علیحدگی کا اعلان🔹
“جو بُرائی کرتا ہے وہ بُرائی ہی کرتا جائے اور جو نجِس ہے وہ نجِس ہی ہوتا جائے اور جو راست باز ہے وہ راست بازی ہی کرتا جائے اور جو پاک ہے وہ پاک ہی ہوتا جائے۔ ”
یہ آیت نہایت سنجیدہ اور فیصلہ کن اعلان ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ تبدیلی کا وقت نہیں بلکہ حالت کی تصدیق کا وقت ہے۔ جب کلام مکمل طور پر ظاہر ہو جاتا ہے تو ہر شخص اپنی اندرونی فطرت کے مطابق ظاہر ہو جاتا ہے۔ سچائی انسان کو بدلنے کے لیے دی جاتی ہے، مگر جب سچائی کو بار بار رد کیا جائے تو دل سخت ہو جاتا ہے۔ 2-تھسلنیکیوں 2باب10–11 کے مطابق جو سچائی سے محبت نہیں رکھتے اُنہیں فریب کے حوالے کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ جھوٹ پر ایمان لائیں۔
یہ آیت اس لمحہ کی تصویر پیش کرتی ہے جب فضل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ متی 25:10 میں جب دولہا آیا تو دروازہ بند ہو گیا، اور جو باہر تھے وہ باہر ہی رہ گئے۔ برادر برینہم سکھاتے تھے کہ جب خدا کی طرف سے آخری بلاوا مکمل ہو جائے تو انسان جس روحانی حالت میں ہوتا ہے، وہی حالت اُس کی ابدی حالت بن جاتی ہے۔ جو روشنی کو قبول کرتا ہے وہ مزید روشن ہوتا جاتا ہے، اور جو رد کرتا ہے وہ مزید اندھیرے میں چلا جاتا ہے۔
یہاں “راست باز ہے وہ راست بازی ہی کرتا جائے” کا مطلب یہ ہے کہ راستباز لوگ مسلسل پاکیزگی میں ترقی کرتے رہتے ہیں۔ فلپیوں 1:6 کے مطابق جس نے اچھا کام شروع کیا وہ اسے مکمل بھی کرے گا۔ دوسری طرف جو ناراست ہے وہ اپنی بغاوت میں ثابت رہتا ہے کیونکہ اُس نے روشنی کو قبول نہیں کیا۔ یہ اندر اور باہر کی آخری تقسیم ہے، جیسا مکاشفہ 20:15 میں آخری عدالت کا ذکر ہے۔
برادر برینہم کے مطابق یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ ہم علیحدگی کے زمانہ میں جی رہے ہیں۔ کلام ایک تلوار کی مانند ہے جو دلوں کو ظاہر کرتا ہے (عبرانیوں 4:12)۔ ہر شخص اپنی اصل فطرت کے مطابق کھڑا ہوگا۔ یہ خوفناک اعلان نہیں بلکہ انصاف کا مکمل ظہور ہے — کیونکہ خدا ہر ایک کو اُس کے انتخاب کے مطابق رہنے دیتا ہے۔
یہ آیت ہمیں خبردار کرتی ہے کہ فضل کا وقت ہمیشہ نہیں رہتا۔ آج انتخاب کا وقت ہے، کیونکہ ایک دن ایسا آئے گا جب حالت ہمیشہ کے لیے قائم ہو جائے گی۔
حوالاجات●
دانی ایل 12:10
مکاشفہ 20:15
مکاشفہ باب 22آیت12–13—🟦
اجر، اختیار اور ازلی شناخت🔹
“دیکھ مَیں جلد آنے والا ہُوں اور ہر ایک کے کام کے مُوافِق دینے کے لِئے اَجر میرے پاس ہے۔ مَیں الفا اور اومیگا۔ اَوّل و آخِر۔ اِبتدا و اِنتہا ہُوں۔ ”
یہاں مسیح خود بول رہا ہے اور اپنی آمد کے ساتھ اجر کا ذکر کرتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق نجات فضل سے ہے، مگر اجر وفاداری کے مطابق ہے۔ افسیوں 2:8 ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نجات اعمال سے نہیں بلکہ ایمان کے وسیلہ سے ہے، لیکن 2-کرنتھیوں 5:10 بتاتا ہے کہ ہر ایک کو اپنے کاموں کے مطابق بدلہ ملے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابدی زندگی تو فضل کا تحفہ ہے، مگر خدمت اور وفاداری کا اجر الگ پہلو رکھتا ہے۔
“دینے کے لِئے اَجر میرے پاس ہے” یہ ظاہر کرتا ہے کہ اجر انسان تقسیم نہیں کرتا بلکہ مسیح خود دیتا ہے۔ وہی دلوں کو جانتا ہے اور وہی انصاف کے ساتھ بدلہ دیتا ہے۔ متی 16:27 کے مطابق ابنِ آدم اپنے فرشتوں کے ساتھ آئے گا اور ہر ایک کو اُس کے کاموں کے مطابق بدلہ دے گا۔ برادر برینہم کے مطابق یہ دُلہن کے لیے حوصلہ افزائی ہے کہ اُس کی وفاداری رائیگاں نہیں جائے گی۔
آگے آیت 13 میں مسیح اپنی ازلی شناخت ظاہر کرتا ہے: “میں الفا اور اومیگا، اوّل اور آخر، ابتدا اور انتہا ہوں۔” یہ اعلان اُس کی الوہیت کا بیان ہے۔ یسعیاہ 44:6 میں خدا فرماتا ہے کہ “میں اوّل ہوں اور میں آخر ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں۔” برادر برینہم کے مطابق یہ ظاہر کرتا ہے کہ نجات کا منصوبہ ابتدا سے انتہا تک مسیح ہی میں مکمل ہوا۔ وہی تخلیق کا منبع ہے (کلسیوں 1:16) اور وہی تکمیل کا مرکز۔
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ اتفاقیہ نہیں بلکہ الٰہی منصوبہ کے تحت چل رہی ہے۔ جس نے ابتدا کی وہی اختتام کرے گا۔ جو وعدہ عدن میں دیا گیا تھا وہی مکاشفہ میں مکمل ہوتا ہے۔ مسیح نہ صرف تاریخ کا حصہ ہے بلکہ تاریخ کا حاکم ہے۔
یہ اعلان دُلہن کے لیے یقین دہانی ہے کہ اُس کا خدا ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی۔ جو اُس کے ساتھ شروع ہوا ہے وہ اُسی میں مکمل ہوگا۔ یہ وعدہ صرف آمد کا نہیں بلکہ کامل انصاف اور جلالی تکمیل کا وعدہ ہے۔
حوالاجات●
متی 16:27
رومیوں 2:6
یسعیاہ 44:6
مکاشفہ 1:8
مکاشفہ باب 22آیت14–15 —🟦
اندر اور باہر کی حتمی تقسیم🔹
“مُبارک ہیں وہ جو اپنے جامے دھوتے ہیں کیونکہ زِندگی کے درخت کے پاس آنے کا اِختیار پائیں گے اور اُن دروازوں سے شہر میں داخِل ہوں گے۔
مگر کُتّے اور جادُوگر اور حرام کار اور خُونی اور بُت پَرست اور جُھوٹی بات کا ہر ایک پسند کرنے اور گھڑنے والا باہر رہے گا۔”
یہاں دوبارہ “مبارک” کا اعلان ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “جامے دھونا” کسی مذہبی رسم یا انسانی کوشش کی طرف اشارہ نہیں بلکہ برّہ کے خون کے وسیلہ سے پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے۔ مکاشفہ 7:14 میں لکھا ہے کہ اُنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خون میں دھو کر سفید کیے۔ یعنی راستبازی اپنی نہیں بلکہ مسیح کی دی ہوئی راستبازی ہے۔ یہی وہ شرط ہے جس کے ذریعے زندگی کے درخت تک رسائی بحال ہوتی ہے — وہی درخت جو پیدائش 3باب–22:24 میں انسان سے دور کر دیا گیا تھا۔
برادر برینہم کے مطابق زندگی کا درخت دراصل مسیح خود ہے۔ عدن میں دو درخت نمایاں تھے — زندگی کا درخت اور نیکی و بدی کی پہچان کا درخت (پیدائش 2:9)۔ اُن کی تعلیم کے مطابق زندگی کا درخت خدا کا کلام تھا، اور کلام مجسم ہو کر یسوع مسیح میں ظاہر ہوا (یوحنا 1:1، 14)۔ جب انسان نے غلط انتخاب کیا تو اُسے زندگی کے درخت سے کاٹ دیا گیا تاکہ وہ گناہ کی حالت میں ہمیشہ زندہ نہ رہے۔ مگر صلیب پر مسیح کے ذریعے وہ راستہ دوبارہ کھولا گیا۔
زندگی کے درخت تک “حق” ملنا محض داخلہ نہیں بلکہ ابدی رفاقت کی بحالی ہے۔ یوحنا 6:35 میں یسوع نے فرمایا: “میں زندگی کی روٹی ہوں۔” یعنی زندگی کسی مقام یا شے میں نہیں بلکہ شخص میں ہے — اور وہ شخص مسیح ہے۔ مکاشفہ 2:7 میں بھی وعدہ ہے کہ جو غالب آئے گا اُسے زندگی کے درخت میں سے کھانے کو دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دُلہن کو نہ صرف نجات بلکہ مسیح کے ساتھ مکمل شرکت نصیب ہوگی۔
زندگی کا درخت ابدی تازگی اور مسلسل حیات کی علامت ہے۔ مکاشفہ 22:2 میں وہ ہر مہینے پھل دیتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ابدیت میں زندگی کبھی ختم یا کمزور نہیں ہوتی۔ برادر برینہم کے مطابق یہ “بحال شدہ عدن” ہے، مگر پہلے سے زیادہ جلالی حالت میں — کیونکہ اب انسان آزمائش سے گزر کر کامل ہو چکا ہے۔
پھر آیت 15 میں “باہر” رہنے والوں کا ذکر ہے۔ یہ فہرست صرف اعمال کی نہیں بلکہ فطرت کی عکاسی کرتی ہے۔ “ہر وہ شخص جو جھوٹ سے محبت رکھتا ہے” اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ دل کی رغبت ہے۔ جو سچائی کو قبول نہیں کرتے وہ زندگی کے درخت تک رسائی نہیں پا سکتے۔ کیونکہ زندگی کا درخت سچائی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور سچائی مسیح ہے (یوحنا 14:6)۔
یہاں اندر اور باہر کی مکمل تقسیم ہے۔ شہر کے اندر خدا کی حضوری اور زندگی کا درخت ہے، اور باہر خدا سے جدائی۔ مکاشفہ 21:27 کے مطابق کوئی ناپاک چیز شہر میں داخل نہیں ہوتی۔ یہ کامل پاکیزگی اور کامل انصاف کی حالت ہے۔
یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ نجات فضل سے ہے، مگر زندگی کے درخت تک رسائی اُن کے لیے ہے جو مسیح میں ہیں۔ جو اُس کے خون سے دھوئے گئے ہیں وہ اندر ہیں اور ابدی زندگی میں شریک ہیں؛ اور جو سچائی کو رد کرتے ہیں وہ اُس زندگی سے محروم رہ جاتے ہیں۔
حوالاجات●
مکاشفہ 7:14
یوحنا 14:6
1-کرنتھیوں 6باب9–10
مکاشفہ 21:8
مکاشفہ باب 22آیت16–17 — 🟦
روح اور دُلہن کی آخری پکار🔹
“مُجھ یِسُوع نے اپنا فرِشتہ اِس لِئے بھیجا کہ کلِیسیاؤں کے بارے میں تُمہارے آگے اِن باتوں کی گواہی دے۔ مَیں داؤُد کی اَصل و نسل اور صُبح کا چمکتا ہُؤا سِتارہ ہُوں۔
اور رُوح اور دُلہن کہتی ہیں آ
اور سُننے والا بھی کہے آ۔
اور جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبِ حیات مُفت لے۔”
یہاں خود یسوع مسیح اپنی شناخت ظاہر کرتا ہے۔ “داؤد کی جڑ اور نسل” ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ صرف داؤد کی نسل سے آیا بلکہ داؤد کا منبع بھی ہے (یسعیاہ 11:1؛ مکاشفہ 5:5)۔ برادر برینہم کے مطابق یہ اُس کی الوہیت اور انسانیت دونوں کو ظاہر کرتا ہے — وہ جڑ بھی ہے اور شاخ بھی۔ “صبح کا روشن ستارہ” اُس کے ظاہر ہونے کی علامت ہے، جیسے رات کے اندھیرے کے بعد صبح کی پہلی روشنی۔ 2-پطرس 1:19 میں بھی صبح کا ستارہ دلوں میں طلوع ہونے کا ذکر ہے۔ برادر برینہم اس کو آخر زمانہ میں مسیح کے روحانی ظہور سے جوڑتے تھے — پہلے دلوں میں ظاہر ہونا، پھر جلال میں آنا۔
آیت 17 میں ایک نہایت گہرا روحانی اتحاد دکھائی دیتا ہے: “روح اور دُلہن کہتے ہیں آ۔” برادر برینہم کے مطابق یہ کلام کی دُلہن اور روح القدس کی مکمل ہم آہنگی ہے۔ دُلہن اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتی بلکہ وہی کہتی ہے جو روح کہتا ہے۔ یہ یوحنا 17:21 کی تکمیل ہے — کامل اتحاد۔ جب دُلہن کلام بن جاتی ہے تو اُس کی آواز اور روح کی آواز ایک ہو جاتی ہے۔
یہ دعوت عام بھی ہے اور خاص بھی۔ “سننے والا بھی کہے آ” ظاہر کرتا ہے کہ جو واقعی سنتا ہے وہ اسی پکار میں شامل ہو جاتا ہے۔ پھر یہ اعلان ہے: “جو پیاسا ہو وہ آئے… آبِ حیات مفت لے۔” یسعیاہ 55:1 اور یوحنا 7باب37–38 میں بھی یہی دعوت ہے۔ نجات خریدی نہیں جاتی بلکہ فضل سے دی جاتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ فضل کے دور کی آخری کھلی دعوت ہے — دروازہ ابھی کھلا ہے مگر ہمیشہ کھلا نہیں رہے گا۔
یہ نہایت اہم ہے کہ بائبل کا اختتام ایک دعوت پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف عدالت پر۔ پہلے علیحدگی کا اعلان ہوا، پھر اجر کا ذکر، اور اب آخری بلاوا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی فطرت رحمت سے بھری ہوئی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر پیاسا آئے اور زندگی حاصل کرے۔
یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ آخر زمانہ کی دُلہن صرف منتظر نہیں بلکہ دعوت دینے والی بھی ہے۔ وہ دنیا کو نہیں بدل سکتی، مگر وہ پکار سکتی ہے۔ روح کی آواز اور دُلہن کی آواز ایک ہو کر کہتی ہیں: “آ۔”
حوالاجات●
مکاشفہ 5:5
یرمیاہ 23:5
یسعیاہ 55:1
یوحنا 7:37
مکاشفہ باب 22آیت18–19 —🟦
کلام میں اضافہ یا کمی کی سخت تنبیہ🔹
“مَیں ہر ایک آدمی کے آگے جو اِس کِتاب کی نبُوّت کی باتیں سُنتا ہے گواہی دیتا ہُوں کہ اگر کوئی آدمی اُن میں کُچھ بڑھائے تو خُدا اِس کِتاب میں لِکھی ہُوئی آفتیں اُس پر نازِل کرے گا۔ 19اور اگر کوئی اِس نبُوّت کی کِتاب کی باتوں میں سے کُچھ نِکال ڈالے تو خُدا اُس زِندگی کے درخت اور مُقدّس شہر میں سے جِن کا اِس کِتاب میں ذِکر ہے اُس کا حِصّہ نِکال ڈالے گا۔”
یہ بائبل کی نہایت سنجیدہ اور فیصلہ کن تنبیہ ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ صرف مکاشفہ کی کتاب تک محدود نہیں بلکہ خدا کے پورے کلام کے لیے اصول ہے۔ استثنا 4:2 میں بھی خدا نے حکم دیا تھا کہ اُس کے کلام میں نہ کچھ بڑھایا جائے اور نہ کچھ گھٹایا جائے۔ یعنی خدا کا کلام مکمل ہے، انسان کو اُس میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں۔
برادر برینہم سکھاتے تھے کہ تاریخ کے ہر دور میں انسان نے کلام میں اضافہ یا کمی کی۔ کچھ نے انسانی روایات شامل کیں، کچھ نے مکاشفہ کے حصے رد کیے، اور کچھ نے اصل سچائی کو بدل دیا۔ مگر خدا کا کلام اپنی اصل حالت میں کامل ہے۔ امثال 30باب5–6 بھی خبردار کرتا ہے کہ خدا کے کلام میں اضافہ نہ کرو ورنہ وہ تجھے جھوٹا ٹھہرائے گا۔
یہاں تنبیہ دو حصوں میں ہے۔ جو اضافہ کرتا ہے اُس پر آفتیں آئیں گی، اور جو کمی کرتا ہے اُس کا حصہ زندگی کے درخت اور مقدس شہر سے نکال دیا جائے گا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کلام سے چھیڑ چھاڑ صرف نظریاتی مسئلہ نہیں بلکہ ابدی انجام کا مسئلہ ہے۔ زندگی کے درخت کا ذکر دوبارہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ابدی زندگی کا تعلق خالص کلام کے ساتھ ہے۔
برادر برینہم کے مطابق آخر زمانہ میں سب سے بڑا حملہ کلام کی خالصیت پر ہوگا۔ دشمن کلام کو بدل کر، نرم کر کے یا نئے معنی دے کر اصل پیغام کو مسخ کرنے کی کوشش کرے گا۔ مگر دُلہن کا کام ہے کہ وہ خالص کلام کو سنبھالے اور اُس پر قائم رہے۔ یوحنا 17:17 کے مطابق “تیرا کلام سچائی ہے۔” اگر کلام کو بدل دیا جائے تو سچائی بھی مسخ ہو جاتی ہے۔
یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ مکاشفہ کی کتاب فضل اور دعوت پر ختم ہوتی ہے، مگر ساتھ ہی سخت تنبیہ بھی دیتی ہے۔ خدا محبت ہے، مگر اُس کا کلام مقدس اور غیر متبدل ہے۔ جو اُس کے کلام کو قبول کرتا ہے وہ زندگی میں شریک ہے، اور جو اُس سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے وہ خود کو اُس زندگی سے دور کر لیتا ہے۔
یہ اعلان دراصل دُلہن کے لیے وفاداری کا امتحان ہے — خالص کلام پر قائم رہنا، نہ اُس میں اضافہ کرنا اور نہ اُس میں کمی کرنا۔
حوالاجات●
استثنا 4:2
گلتیوں 1:8
استثنا 12:32
مکاشفہ 20:15
مکاشفہ باب 22آیت20–21 —🟦
آخری پکار اور فضل کا اختتام🔹
“جو اِن باتوں کی گواہی دیتا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ بیشک مَیں جلد آنے والا ہُوں۔
آمِین۔ اَے خُداوند یِسُوع آ۔
خُداوند یِسُوعؔ کا فضل مُقدّسوں کے ساتھ رہے۔ آمِین۔”
یہ بائبل کا آخری مکالمہ ہے۔ مسیح خود فرماتا ہے: “ہاں میں جلد آنے والا ہوں۔” برادر برینہم کے مطابق یہ وعدہ محض تسلی نہیں بلکہ یقین دہانی ہے۔ وہی جس نے ابتدا کی تھی وہی تکمیل کے قریب کھڑا ہے۔ “جلد” کا مطلب اچانک اور یقینی تکمیل ہے۔ یہ اعلان دُلہن کے دل میں ایک زندہ امید جگاتا ہے۔
یوحنا کا جواب ہے: “آمین۔ آ اے خداوند یسوع۔” برادر برینہم کے مطابق یہ خوف کی چیخ نہیں بلکہ محبت کی آرزو ہے۔ یہ دُلہن کی زبان ہے۔ جیسے رِبقہ نے اپنے دلہن کے پاس جانے میں تاخیر نہ کی، ویسے ہی سچی دُلہن اپنے دولہا کی آمد کی آرزو رکھتی ہے۔ 2-تیمتھیس 4:8 میں بھی اُن لوگوں کے لیے تاج کا وعدہ ہے جو اُس کے ظہور کو عزیز رکھتے ہیں۔ یہ پکار اُنہی کے دل سے نکلتی ہے جو اُس سے محبت کرتے ہیں۔
پھر بائبل کا آخری جملہ ہے: “خداوند یسوع کا فضل سب مقدسوں کے ساتھ ہو۔” یہ نہایت معنی خیز ہے کہ بائبل عدالت پر نہیں بلکہ فضل پر ختم ہوتی ہے۔ پیدائش میں گناہ کے بعد بھی خدا نے وعدہ دیا، اور مکاشفہ کے اختتام پر بھی فضل کا اعلان ہے۔ افسیوں 2:8 کے مطابق نجات فضل سے ہے، اور یہی فضل آخر تک قائم رہتا ہے۔
برادر برینہم سکھاتے تھے کہ فضل ہی وہ دروازہ ہے جس کے ذریعے انسان داخل ہوتا ہے، اور فضل ہی وہ طاقت ہے جو اُسے آخر تک قائم رکھتی ہے۔ ابدیت کا دروازہ بھی فضل سے کھلا ہے۔ یہ اعلان یاد دلاتا ہے کہ اگرچہ عدالت حقیقت ہے، مگر خدا کی فطرت محبت اور فضل سے بھری ہوئی ہے۔
یہ آخری آیات تین باتوں کو سمیٹتی ہیں: وعدہ، آرزو، اور فضل۔ مسیح وعدہ کرتا ہے، دُلہن آرزو کرتی ہے، اور خدا فضل دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ کلام ختم ہوتا ہے — مگر کہانی ختم نہیں ہوتی، بلکہ ابدی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔
حوالاجات●
یوحنا 14:3
2-تیمتھیس 4:8
افسیوں 2:8
عبرانیوں 13:25
مکاشفہ 22 — خلاصہ🟦
مکاشفہ 22 بائبل کا اختتامی باب ہے جو ابدیت کی تکمیل کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں آبِ حیات کا دریا خدا اور برّہ کے تخت سے نکلتا ہے، جو روح القدس اور ابدی زندگی کی علامت ہے۔ زندگی کا درخت دوبارہ دستیاب ہے، جو مسیح خود ہے۔ عدن میں جو رسائی کھو گئی تھی وہ اب مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے۔
لعنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔ نہ موت، نہ درد، نہ گناہ باقی ہے۔ خدا اور اُس کی دُلہن براہِ راست رفاقت میں ہیں۔ وہ اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں، اور اُس کا نام اُن کے ماتھوں پر ہے — یعنی فطرت کی مکمل تبدیلی اور کلام کے ساتھ کامل ہم آہنگی۔
رات نہیں رہی، کیونکہ خدا خود نور ہے۔ جزوی مکاشفہ ختم ہو چکا ہے اور مکمل جلال ظاہر ہو چکا ہے۔ پھر مسیح اعلان کرتا ہے کہ وہ جلد آنے والا ہے، اور برکت اُن کے لیے ہے جو کلام پر عمل کرتے ہیں۔
باب کے آخر میں روح اور دُلہن کی مشترکہ پکار ہے: “آ” — یہ فضل کی آخری دعوت ہے۔ ساتھ ہی سخت تنبیہ ہے کہ کلام میں نہ اضافہ کیا جائے اور نہ کمی۔ آخر میں وعدہ اور آرزو ہے: “آ اے خداوند یسوع”، اور بائبل فضل کے اعلان پر ختم ہوتی ہے۔
ایک جملے میں خلاصہ:🟦
مکاشفہ 22 عدن کی مکمل بحالی، دُلہن کی آخری پکار، اور فضل کے ساتھ ابدیت میں داخل ہونے کا اعلان ہے۔
مکاشفہ کی کتاب — اختتامیہ بیان
مکاشفہ کی کتاب خوف کی نہیں بلکہ فتح کی کتاب ہے۔ یہ تباہی کی کہانی نہیں بلکہ یسوع مسیح کے جلالی ظہور کی مکمل تصویر ہے۔ جو کچھ پیدائش میں شروع ہوا تھا، وہ مکاشفہ میں مکمل ہوتا ہے۔ عدن میں انسان گرا، مگر مکاشفہ میں انسان جلال میں بحال ہوتا ہے۔ گناہ داخل ہوا، مگر آخر میں گناہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ سانپ نے دھوکا دیا، مگر آخر میں برّہ فتح یاب ہوتا ہے۔
یہ کتاب ہمیں سات کلیسیائی زمانوں سے لے کر سات مہروں، نرسنگوں اور پیالوں تک لے جاتی ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ تاریخ اندھی طاقتوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا کے مقررہ منصوبہ کے تحت چل رہی ہے۔ ہر مہر، ہر عدالت، ہر واقعہ اُس الٰہی نقشہ کا حصہ ہے جو ابتدا سے طے تھا۔
برادر ولیم برینہم کے مطابق مکاشفہ کی کتاب دراصل “یسوع مسیح کا مکاشفہ” ہے۔ یہ کسی نظام یا شخصیت کی تمجید نہیں بلکہ مسیح کے ظاہر ہونے کا اعلان ہے۔ اس کتاب میں دُلہن کی شناخت واضح ہوتی ہے، مخالفِ مسیح کی روح بے نقاب ہوتی ہے، اور آخر میں کامل علیحدگی ہو جاتی ہے — اندر اور باہر، نور اور تاریکی، سچائی اور جھوٹ۔
مکاشفہ ہمیں خبردار بھی کرتی ہے اور حوصلہ بھی دیتی ہے۔ خبردار کرتی ہے کہ کلام میں اضافہ یا کمی نہ کی جائے، اور حوصلہ دیتی ہے کہ وفاداری رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ کتاب دکھاتی ہے کہ آزمائشیں عارضی ہیں مگر جلال ابدی ہے۔
آخر میں مکاشفہ عدالت پر نہیں بلکہ فضل پر ختم ہوتی ہے۔ “آ اے خداوند یسوع” کی پکار کے ساتھ بائبل ختم ہوتی ہے، اور فضل کا اعلان سب مقدسوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کا آخری لفظ تباہی نہیں بلکہ فضل ہے۔
مکاشفہ کی کتاب تاریخ کا خاتمہ نہیں بلکہ خدا کے منصوبہ کی تکمیل ہے۔
یہ دُلہن کی شناخت، کلام کی سچائی، عدالت کی حقیقت اور ابدی جلال کی امید کا اعلان ہے۔
یہ خوف کی نہیں —
بلکہ جلالی فتح کی کتاب ہے۔
وضاحتی نوٹ
یہ مطالعہ مکاشفہ کی کتاب کا ایک جامع مگر خلاصہ پیشکش ہے۔ چونکہ یہ کتاب نہایت گہری، نبوتی اور روحانی پہلو رکھتی ہے، اس لیے ہر آیت اور ہر علامت میں مزید تفصیل اور گہرائی موجود ہے۔ جہاں ضرورت محسوس ہو، وہاں مزید تشریح، حوالہ جات اور روحانی پہلو شامل کیے جا سکتے ہیں۔
اس تحریر کا مقصد مکمل حتمی تشریح پیش کرنا نہیں بلکہ کلام کی مرکزی سچائیوں کو واضح کرنا ہے۔ قاری کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ ذاتی مطالعہ، دعا اور روح القدس کی راہنمائی کے ذریعے مزید گہرائی حاصل کرے۔
اگر کسی مقام پر مزید وضاحت یا تفصیل کی ضرورت ہو تو آئندہ حصوں میں اسے وسعت دی جا سکتی ہے، کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور مسلسل ظاہر ہونے والا ہے۔
براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں
واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔
✝️ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)
مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج از ہلسنکی فن لینڈ