مکاشفہ11 تا 15ابواب آیت بہ آیت مطالعہ آخری زمانہ کے پیغام کی روشنی میں
مجموعی تقسیم🟦
باب 11🔹
یہ باب اسرائیل کے ساتھ خدا کے دوبارہ معاملہ کرنے کو ظاہر کرتا ہے۔ ہیکل کی ناپ تول، دو گواہوں (موسٰی اور ایلیاہ کی روح میں) کی خدمت، ان کی شہادت اور پھر جی اُٹھنا واضح کرتا ہے کہ دُلہن کے اٹھائے جانے کے بعد خدا اسرائیل کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
باب 12🔹
یہ باب آسمانی پردے کے پیچھے جاری روحانی جنگ کو ظاہر کرتا ہے۔ عورت بنیادی طور پر اسرائیل ہے، مگر دُلہن کی ایک روحانی تصویر بھی رکھتی ہے۔ اژدہا شیطان ہے جو عورت کے بیج کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، اور آخر میں شیطان زمین پر گرا دیا جاتا ہے۔
باب 13🔹
یہ باب مخالف مسیح نظام کے مکمل ظہور کو دکھاتا ہے۔ پہلا حیوان سیاسی رومی مخالفِ مسیح نظام ہے، اور دوسراحیوان مذہبی قوت ہے۔ دونوں مل کر دنیا کو نشانِ حیوان قبول کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جبکہ دُلہن اس وقت زمین پر موجود نہیں ہوتی۔
باب 14🔹
یہ باب مخالف مسیح کے عروج کے مقابل خدا کا جواب ہے۔ 144,000 یہودی فتح کے مقام پر دکھائے جاتے ہیں، تین فرشتوں کے ذریعے آخری وارننگ دی جاتی ہے، اور گندم و انگور کی فصل کے ذریعے نجات اور عدالت کو واضح کیا جاتا ہے۔
باب 15🔹
یہ باب خدا کے غضب کی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ آسمانی ہیکل کھلتی ہے، سات فرشتوں کو پیالے دئے جاتے ہیں، اور فضل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ یہ اعلان ہے کہ اب صرف حتمی فیصلے باقی ہیں۔
باب 16🔹
یہ باب سات پیالوں کے ذریعے خدا کے آخری غضب کو دکھاتا ہے۔ یہ فیصلے مخالف مسیح نظام اور اس کے پیروکاروں پر نازل ہوتے ہیں اور ہرمجدون کی جنگ کی طرف لے جاتے ہیں، جہاں خدا کی عدالت پوری شدت سے ظاہر ہوتی ہے۔
تفسیر مکاشفہ باب 11 — خدا کا دوبارہ اسرائیل کی طرف رُجوع کرنا
جب مکاشفہ 10 میں غیرقوموں کے لیے فضل کا دروازہ اختتام کو پہنچ رہا ہوتا ہے، تو مکاشفہ 11 میں اچانک یہودی قوم دوبارہ منظر پر آ جاتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جو آخری زمانہ میں اسرائیل کے ساتھ خدا کے دوبارہ معاملہ کرنے کے آغاز کا اعلان کرتا ہے۔ مکاشفہ 11 میں دو گواہ—جو موسیٰ اور ایلیاہ کی روح میں ظاہر ہونے والے دو نبی ہیں—سامنے آتے ہیں، اور ان کی یہ خدمت مکمل طور پر اسرائیل کے لیے مخصوص ہے۔ اس مرحلے میں خدا غیرقوموں سے ہٹ کر دوبارہ ابرہام کی نسل سے براہِ راست معاملہ شروع کرتا ہے، اور تین سال ساڑھے (42 ماہ) کا وہی عرصہ شروع ہو جاتا ہے جو دانی ایل کے 70 ہفتوں کا باقی ماندہ حصہ ہے۔ بھائی برینہم نے بار بار تاکید کی کہ خدا کبھی بیک وقت دونوں قوموں—غیرقوموں اور یہودیوں—سے معاملہ نہیں کرتا؛ جب غیرقوموں کا دن پورا ہوتا ہے تو وہ اپنی توجہ دوبارہ اسرائیل کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اسی لیے مکاشفہ 10 کا مکمل ہونا لازمی طور پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اب خدا اسرائیل کے ساتھ اپنا مکاشفہ 11 والا مرحلہ شروع کرنے جا رہا ہے۔
مکاشفہ باب 11آیت 1 🟦
اور مُجھے عصا کی مانِند ایک ناپنے کی لکڑی دی گئی اور کِسی نے کہا کہ اُٹھ کر خُدا کے مَقدِس اور قُربان گاہ اور اُس میں کے عِبادت کرنے والوں کو ناپ۔
یہ آیت آخری زمانہ میں اسرائیل کے ساتھ خدا کے دوبارہ معاملہ کرنے کے آغاز کا اعلان ہے۔مکاشفہ 10 میں دُلہن کی بات ہوئی تھی—اب مکاشفہ 11 میں یہودی قوم دوبارہ منظر پر آتی ہے۔
مُجھے عصا کی مانِند ایک ناپنے کی لکڑی دی گئی (مکاشفہ 11:1)🟦
برادر برینہم کے مطابق “ناپ تول” ہمیشہ عدالت، فیصلہ، اور خدا کے معیار کی علامت ہے۔ یہ عمل کلیسیا یا دُلہن کے ساتھ متعلق نہیں، بلکہ خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ خدا کے دوبارہ معاملہ شروع ہونے کی نشانی ہے۔ اس مقام پر خدا اپنی توجہ دوبارہ یروشلیم، ہیکل، یہودی قوم، ان کی عبادت اور ان کی قربانیوں کی جانب موڑ رہا ہے، تاکہ انہیں اپنے نبیوں کے ذریعے پہلے عدالت اور پھر بحالی کے مرحلے میں داخل کرے۔ “ناپنے کی لکڑی” ملنا اس بات کی علامت ہے کہ خدا اب اسرائیل کو اپنے الٰہی معیار پر پرکھنے والا ہے، اور مکاشفہ 11 کا آغاز اسی فیصلے اور بحالی کے پروگرام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
بائبل میں ناپ تول کے متوازی حوالہ جات🟦
بائبل میں “ناپنے” کا عمل ہمیشہ فیصلہ، خدا کے حق، اور بحالی کی پیش گوئی کرتا ہے۔
زکریا 2:1–2 ●
میں خدا یروشلیم کو ناپتا ہے، جو شہر کی آئندہ عزت اور تحفظ کا اعلان ہے۔
حزقی ایل 40–42●
میں نبی کو ہیکل ناپنے کا حکم دیا جاتا ہے، جو مستقبل کی بحال شدہ عبادت گاہ کی تفصیل اور خدا کی پاکیزگی کے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔
عاموس 7باب7–8 ●
میں خدا “ناب کی رسّی” رکھتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب قوم کو خدا کے معیار سے جانچا جائے گا—اور جو چیز معیار پر پوری نہ اُترے گی وہ عدالت سے گزرے گی۔
یہی تصور مکاشفہ 11 میں دوبارہ ظاہر ہوتا ہے، جہاں اسرائیل کو خدا کے قانون اور وعدہ کے مطابق پرکھا جا رہا ہے۔
برادر برینہم کی وضاحت●
برادر برینہم نے مکاشفہ 11 کے آغاز کو اسرائیل کے ساتھ خدا کے دوبارہ تعلق کا اہم موڑ قرار دیا۔ ان کے مطابق:
ناپنا عدالت کو ظاہر کرتا ہے۔ خدا پھر سے اسرائیل کی طرف متوجہ ہو رہا ہے تاکہ انہیں پرکھے اور پھر بحال کرے۔ ( The Sixth Seal)
اس تعلیم کے مطابق، مکاشفہ 10 میں غیرقوموں کا دور مکمل ہو جاتا ہے، اور مکاشفہ 11 میں اسرائیل عدالت اور بحالی کے اُس مرحلے میں داخل ہوتا ہے جو دو گواہوں کی خدمت کے ذریعے اپنے کمال تک پہنچے گا۔
مَقدِس اور قُربان گاہ کو ناپ🟦
مکاشفہ 11 میں ہیکل اور قربان گاہ کو ناپنے کا حکم اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہودی ہیکل ضرور دوبارہ تعمیر ہوگی، اور قربانیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ یہ وہی علامت ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ خدا اپنی توجہ ایک بار پھر اسرائیل، ان کی عبادت، اور ان کے عہد کے نظام کی طرف موڑ رہا ہے۔ آج اسرائیلی قوم عملی طور پر ہیکل کی بحالی کے لیے درکار تمام اشیاء، لباس، سازوسامان اور قربانی کے آلات تیار کر چکی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نبوت پوری ہونے کے نہایت قریب ہے۔
برادر برینہم نے بھی واضح طور پر فرمایا
ہیکل ضرور دوبارہ تعمیر ہوگی، کیونکہ دُلہن کے اٹھائے جانے کے بعد خدا پھر سے یہودیوں سے معاملہ کرے گا۔
(The Seventh seal)
عِبادت کرنے والوں کو ناپ🟦
ہیکل کے ساتھ ساتھ سجدہ گزاروں کو ناپنے کا حکم اسرائیل کی روحانی حالت کو پرکھنے کے لیے ہے۔ اس ناپ تول میں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ کون حقیقت میں خدا کے ساتھ وفادار ہے، کون منافقت کے ساتھ عبادت کر رہا ہے، کون قربانی کے معنی کو سنجیدگی سے لیتا ہے، اور کون ہیکل میں سچے دل سے خدا کی پرستش بجا لاتا ہے۔ یہ جانچ پڑتال “اسرائیل کی عدالت” کے اُس مرحلے کی شروعات ہے جس میں خدا اپنے معیار کے مطابق قوم کو پرکھتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب دو گواہوں کی خدمت اسرائیل کے حقیقی اور جھوٹے عبادت گزاروں کو نمایاں کرے گی، اور خدا کے منصوبے کے مطابق قوم کو عدالت کے ذریعے پاکیزگی اور بحالی کی طرف لایا جائے گا۔
مکاشفہ 11باب آیت 2 🟦
صحن کو جو مَقدِس کے باہِر ہے خارِج کر دے
اور اُس صحن کو جو مَقدِس کے باہِر ہے خارِج کر دے اور اُسے نہ ناپ کِیُونکہ وہ غَیرقَوموں کو دے دِیا گیا ہے۔ وہ مُقدّس شہر کو بیالِیس مہِینے تک پامال کریں گے۔
مکاشفہ 11:2 میں بیرونی صحن کو ناپنے سے منع کیا جانا اسرائیل کے مصیبت کے زمانے کی ایک طاقتور پیشین گوئی ہے۔ آیت یہ بتاتی ہے کہ ہیکل کے باہر کا صحن غیر قوموں کو دیا جائے گا اور وہ بیالیس مہینے تک مقدس شہر یروشلیم کو روندیں گی۔ یہ منظر نامہ ہمیں سیدھا اُس دور میں لے جاتا ہے جہاں خدا دُلہن کے اُٹھا لئے جانے کے بعد دوبارہ اسرائیل سے براہِ راست معاملہ کرتا ہے اور قوم عدالت اور آزمائش کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔
بیرونی صحن کو نہ ناپ🟦
بیرونی صحن وہ مقام تھا جہاں غیر قوموں کو آنے کی اجازت ہوتی تھی، اس لیے خدا نے اسے ناپنے سے منع کیا۔ اس حکم میں یہ حقیقت پوشیدہ ہے کہ خدا بیرونی صحن پر کوئی عدالت جاری نہیں کر رہا کیونکہ وہ یہودیوں سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ غیر قوموں کے قبضے میں چلا جائے گا۔ برادر برینہم کے مطابق:●
“بیرونی صحن غیر قوموں کی دنیا کی نمائندگی کرتا ہے—خدا ان کی ناپ تول ختم کر چکا ہے۔
(The Sixth Seal)
یہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ غیر قوموں کا زمانہ اپنے اختتام پر پہنچ رہا ہے اور اب خدا کا مقصد اسرائیل کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
یہ غیر قوموں کو دیا گیا ہے🟦
بیرونی صحن کا غیر قوموں کے حوالے کیا جانا اُس ہی تسلط کو ظاہر کرتا ہے جس کی پیشگوئی یسوع نے لوقا 21:24 میں کی تھی:●
ور وہ تلوار کا لُقمہ ہو جائیں گے اور اسِیر ہو کر سب قَوموں میں پہُنچائے جائیں گے اور جب تک غَیر قَوموں کی مِیعاد پُوری نہ ہو یروشلِیم غَیر قَوموں سے پامال ہوتی رہے گی۔
اب وہ زمانہ اپنے اختتام تک پہنچ رہا ہے۔ اسلام، سیاست، اقوامِ عالم، اور عالمی دباؤ—سب اس حقیقت کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ یروشلیم کی عالمی کشمکش شدت اختیار کرے گی، اور غیر قومیں مقدس شہر پر اپنا عارضی تسلط قائم رکھیں گی۔
بیالیس مہینے” = 3½ سال🟦
یہ مدت—42 مہینے، 1260 دن، یعنی 3½ سال—در حقیقت دانی ایل کے آخری ہفتے کے دوسرا حصہ ہے۔ یہی وہ دور ہے جسے کہا جاتا ہے
یعقوب کی مصیبت●
اسرائیل کا سخت ترین آزمائشی وقت●
دانی ایل کا آخری 3½ سال●
دانی ایل 9:27 بھی اسی مدت کی تصدیق کرتا ہے جہاں اور اسرائیل سانحوں اور شدائد کے اس بڑے دور میں داخل ہوتا ہے۔
برادر برینہم نے فرمایا:●
بیالیس مہینے آخری ساڑھے تین سال ہیں—وہ عظیم مصیبت جب خدا اسرائیل سے معاملہ کرتا ہے۔
(Seventy Weeks of Daniel)
مکاشفہ 11باب:3–4 🟦
“دو گواہ” (موسیٰ اور ایلیاہ)●
اور مَیں اپنے دو گواہوں کو اِختیّار دُوں گا اور وہ ٹاٹ اوڑھے ہُوئے ایک ہزار دو سو ساٹھ دِن نُبُوّت کریں گے۔
یہ وُہی زَیتُون کے دو دَرخت اور دو چراغدان ہیں جو زمِین کے خُداوند کے سامنے کھڑے ہیں۔
مکاشفہ 11:3 دو عظیم الشان نبیوں کے ظہور کا اعلان کرتی ہے جو آخری زمانے میں اسرائیل کے ساتھ خدا کے براہِ راست معاملے کا مرکزی حصہ ہیں۔ یہ واضح کرتی ہے کہ یہ کام کسی انسان، کلیسیا یا کسی مذہبی تحریک کا نہیں بلکہ خود خدا کا مقرر کردہ مشن ہے۔ یہ دونوں گواہ، جو 1260 دن یعنی آخری ساڑھے تین سال تک نبوت کریں گے، وہی ہستیاں ہیں جن کے بارے میں برادر برینہم نے فرمایا کہ یہ موسیٰ اور ایلیاہ ہیں—وہی دو نبی جن کی واپسی اسرائیل کی بحالی اور عدالت کے لیے ضروری ہے۔
میں اپنے دو گواہوں کو اختیار دوں گا🟦
یہ جملہ اس خدمت کی الٰہی اصل کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کوئی انسانی تقرری، کلیسیا کا منصوبہ، یا کسی نبی کا ذاتی مشن نہیں—بلکہ خدا خود انہیں طاقت، اختیار اور نشان عطا کرتا ہے تاکہ وہ اسرائیل کو توبہ کی طرف واپس لائیں۔ برادر برینہم نے بغیر کسی ابہام کے کہا:کوئی اور نہیں—یہی دو ہیں جو اسرائیل کو واپس خدا کی طرف لائیں گے۔
(The seventh Seal)
اس پیشگوئی میں موسیٰ اور ایلیاہ کا انتخاب بے سبب نہیں بلکہ خدا کے مکمل منصوبے کے عین مطابق ہے۔
ان دونوں ہی کو کیوں منتخب کیا گیا؟●
موسیٰ اور ایلیاہ کی واپسی دراصل اسرائیل کی تاریخ، نبوت اور الٰہی ترتیب میں بھی درج ہے۔ ان کے منتخب کیے جانے کی چند اہم وجوہات یہ ہیں۔
دونوں عبرانی تاریخ کے عظیم ترین نبی ہیں—موسیٰ شریعت کے نمائندہ، ایلیاہ نبیوں کے سردار۔
دونوں نے قوم کو بارہا خدا کی طرف واپس بلایا اور بدعت و بغاوت کے خلاف کھڑے ہوئے۔
دونوں نشان، عجائبات اور عدالت کے مظاہر میں مشہور—موسیٰ نے مصر پر بلائیں لائیں، ایلیاہ نے آسمان سے آگ اتاری۔
بائبل میں ان کی دوبارہ آمد کی پیشگوئی موجود ہے—خاص طور پر ملاکی 4، دانی ایل 12 اور زکریا 4 میں۔
اس لیے مکاشفہ 11 کے دو گواہ کوئی علامتی کردار نہیں بلکہ حقیقی دو نبی ہیں جن کا مشن مصیبت کے آخری ساڑھے تین سال میں اسرائیل کو توبہ، بحالی اور عدالت کے لیے تیار کرنا ہے۔
ایک ہزار دو سو ساٹھ دن” = 1260 دن = 3½ سال🟦
یہ مدت دراصل آخری آدھے ہفتے کی علامت ہے—وہی وقت جو ابھی پورا ہونا باقی ہے۔ برادر برانہم کی واضح تعلیم کے مطابق پورا ہفتہ یعنی سات سال باقی نہیں، بلکہ اس کا صرف آدھا حصہ، یعنی ساڑھے تین سال (1260 دن) ہی مستقبل میں پورا ہوگا۔ اسی لیے دو گواہوں کی خدمت بھی اسی آخری ساڑھے تین سال میں انجام پائے گی، نہ کہ ہفتے کے پہلے حصے میں۔ یہ وہی عرصہ ہے جو دانی ایل کے آخری ہفتے کے دوسرے حصے کے طور پر باقی ہے۔ کل مدت ساڑھے تین سال ہے اور اسی زمانے میں خدا دوبارہ اسرائیل سے براہِ راست معاملہ کرے گا جبکہ دُلہن اس سے پہلے ہی اُٹھا لی جائے گی۔ چنانچہ دو گواہوں کی خدمت، عدالت کے اعلان، نشانات، معجزات اور خدا کے احکام کی سزائیں—سب اسی آخری حصے میں ظاہر ہوں گے۔
برادر برینہم:●
“اسرائیل کے لیے صرف ساڑھے تین سال باقی ہیں۔پہلا حصہ مسیح کی خدمت میں پورا ہو چکا ہے۔”
(Seventy Weeks of Daniel)
یہی آدھا ہفتہ (3½ سال) بائبل میں مختلف طریقوں سے بیان ہوا ہے
دانی ایل 12:7 → ●
اور میں نے سُنا کہ اُس شخص نے جو کتانی لباس پہنے تھا جو دریا کے پانی کے اُوپر کھڑا تھا دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر حُیّ القُیوم کی قسم کھائی اور کہا کہ ایک دور اور دور نیم دور۔ اور جب وہ مقدس لوگوں کے اقتدار کو نیست کر چُکیں گے تو یہ سب کچھ پُورا ہو جائے گا۔
دانی ایل 12:7 →ایک دور اور دور نیم دور
( ایک دور =1 سال، اور دور= 2 سال، نیم دور = ½ سال → کل 3½ سال)
دانی ایل 9:27 → “ہفتے کے درمیان قربانی بند ہوگی”
(مسیح کی خدمت → پہلا 3½ سال مکمل)
(آخری 3½ سال → ابھی پورا ہونا باقی)
مکاشفہ 12:6 → 1260 دن●
(یہی مدت دو گواہوں کی خدمت اور اسرائیل کی آزمائش کی ہے)
خلاصہ (برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق)🟦
دانی ایل کے 70 ہفتوں میں صرف آدھا ہفتہ باقی ہے
یہ مدت 1260 دن = 3½ سال ہے
یہی یعقوب کی بڑی مصیبت ہے
دو گواہ اسی آخری حصے میں خدمت کریں گے
دُلہن اس سے پہلے ہی رپچر میں جا چکی ہوگی۔
آیت 4 — ان دو گواہوں کی شناخت🟦
یہ وُہی زَیتُون کے دو دَرخت اور دو چراغدان ہیں جو زمِین کے خُداوند کے سامنے کھڑے ہیں۔
یہ آیت دو گواہوں کی اصل شناخت ظاہر کرتی ہے۔ یہ زبان سیدھی زکریا 4 سے لی گئی ہے، جہاں دو زیتون کے درخت اور دو چراغ دان خدا کے حضور کھڑے نظر آتے ہیں۔
دو زیتون کے درخت” = موسیٰ اور ایلیاہ🟦
زکریا 4:3 اور 11–14 میں نبی زکریا دو زیتون کے درخت دیکھتا ہے جو خداوند کے حضور کھڑے ہیں۔ فرشتہ انہیں "دو ممسوح" کہتا ہے جنہیں خدا نے خاص مقصد کے لیے چُنا ہے۔ برادر برینہم نے واضح کیا کہ
ایک زیتون کا درخت = موسیٰ●
دوسرا زیتون کا درخت = ایلیاہ●
برادر برینہم فرماتے ہیں:●
“آخر میں خدا اسرائیل کو دوبارہ شریعت اور نبیوں کے ذریعے اپنی طرف بلائے گا۔”
(The Seventh Seal)
اس طرح آخری زمانے میں اسرائیل کی بحالی شریعت (موسیٰ) اور نبیوں (ایلیاہ) کی مشترکہ گواہی کے ذریعے ہونے والی ہے۔
دو چراغ دان” = طاقت اور نور کا دوہرا مشن🟦
چراغ دان ہمیشہ روشنی، الہام، سچائی، اور نبوت کی علامت ہے۔ دو چراغ دان اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ دونوں نبی اسرائیل کے لیے خدا کے نور، قدرت اور سچائی کا دوہرا مشن لے کر آئیں گے۔
یہ دو گواہ قوم کے لیے نئی فجر کی مانند ہوں گے●
ان کی خدمت خدا کے منصوبے کی “دوہری گواہی” ہوگی●
یہ اسرائیل کے اندھیرے دور میں نور لے کر آئیں گے●
برادر برینہم کہتے ہیں:●
“خدا ہمیشہ اپنے کلام کی تصدیق کے لیے دو گواہوں کو استعمال کرتا ہے…اور اسرائیل کے لیے آخری تصدیق موسیٰ اور ایلیاہ ہوں گے۔”
(The sixth Seal)
کیوں موسیٰ اور ایلیاہ؟🟦
ان دو شخصیات—موسیٰ اور ایلیاہ—کا انتخاب محض تاریخی یا علامتی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ یہ خدا کے ازلی منصوبے کا حصہ ہے۔ موسیٰ شریعت کے نمائندہ تھے، وہی نبی جنہوں نے فرعون اور مصر پر خدا کی عدالت نازل کی، پانی کو خون میں تبدیل کیا، زمین پر آفتیں لائیں اور بنی اسرائیل کو غلامی سے نجات دلائی۔ دوسری طرف ایلیاہ نبوت کے نمائندہ تھے—وہ نبی جنہوں نے آسمان سے آگ نازل کی، بارش روک دی، بت پرستی کے خلاف اکیلے کھڑے ہوئے اور جن کی واپسی کی پیشگوئی براہِ راست ملاکی 4 میں درج ہے۔ برادر برانہم فرماتے ہیں کہ “موسٰی کے نشانات دوبارہ ظاہر ہوں گے—اور ایلیاہ کے نشانات بھی دوبارہ ظاہر ہوں گے۔ یہ دونوں اکٹھے اسرائیل کو خدا کی طرف لوٹائیں گے۔” (دی اینوائنٹڈ ونز)
یوں موسیٰ اور ایلیاہ کی مشترکہ خدمت آخری زمانے میں اسرائیل کی بحالی، عدالت اور سچائی کے اعلان
کے لیے خدا کے منصوبے کا بنیادی ستون ہے۔
مکاشفہ 11باب5–6 🟦
دو گواہوں کی طاقت اور معجزات (موسٰی اور ایلیاہ کی خدمت)
اور اگر کوئی اُنہِیں ضرر پہُنچانا چاہتا ہے تو اُن کے مُنہ سے آگ نِکل کر اُن کے دُشمنوں کو کھا جاتی ہے اور اگر کوئی اُنہِیں ضرر پہُنچانا چاہے گا تو وہ ضرُور اِسی طرح مارا جائے گا۔
یہ آیت دو گواہوں کو دی گئی الٰہی حفاظت اور فوق الفطرت عدالت کا اعلان ہے۔
اگر کوئی اُنہِیں ضرر پہُنچانا چاہتا ہے🟦
یہ دونوں گواہ خدا کے ایسے خصوصی تحفظ میں ہوں گے کہ کوئی حکومت، کوئی فوج، کوئی مذہبی قوت، اور نہ ہی کوئی مخالدف مسیح کا نظام انہیں چھو بھی سکے گا۔ دنیا کی کوئی طاقت ان پر غالب نہیں آ سکے گی، کیونکہ وہ براہِ راست خدا کے مقرر کردہ مشن پر ہوں گے۔ ان کی زندگی، ان کی خدمت اور ان کا ہر قدم خدا کی ہدایت اور حفاظت کے حصار میں ہوگا—اور کوئی قوت ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکے گی جب تک کہ ان کی مقررہ خدمت پوری نہ ہو جائے۔
برادر برینہم:●
“موسیٰ اور ایلیاہ خدا کے خاص پہرے میں ہوں گے۔کوئی دشمن انہیں چھو بھی نہیں سکے گا جب تک وہ اپنا مشن پورا نہ کر لیں۔”
(The Sixth Seal)
ان کے مُنہ سے آگ نِکل کر اُن کے دُشمنوں کو کھا جاتی ہے🟦
یہ الفاظ کسی عام انسانی طاقت کا بیان نہیں بلکہ خالصتاً نبوتی قدرت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ پوری زبان اور انداز سیدھے ایلیاہ کی خدمت کی یاد دلاتے ہیں، جس میں خدا کی آگ عدالت کے طور پر نازل ہوتی تھی۔ بائبل میں اس کی واضح مثال 2 سلاطین 1باب10–12 میں ملتی ہے، جہاں ایلیاہ نے آسمان سے آگ بلائی اور پچاس پچاس آدمی فوراً بھسم ہو گئے۔ اس لیے ایلیاہ کو بجا طور پر “آگ کا نبی” کہا جاتا ہے—وہ نبی جس کی خدمت کا نمایاں نشان آگ، عدالت اور الٰہی اختیار تھا۔
برادر برینہم:●
اور آخری زمانے میں وہی نشان دوبارہ ظاہر ہوگا۔”
(The Seventh Seal)
اگر کوئی اُنہِیں ضرر پہُنچانا چاہے گا تو وہ ضرُور اِسی طرح مارا جائے گا🟦
یہ عدالت مکمل، فوری اور بلا تاخیر ظاہر ہونے والی ہے۔ یہی طرز ہمیں خدا کے اُن دو عظیم نبیوں کی خدمات میں نظر آتا ہے جن کی نمائندگی دو گواہ آخری زمانے میں کرتے ہیں۔ موسیٰ کی خدمت میں مصریوں پر آفتیں فوراً نازل ہوتی تھیں ،پانی خون میں بدلتا، ٹڈیاں آتیں، اندھیرا چھا جاتا، اور قوم لمحوں میں خدا کی قدرت کا سامنا کرتی تھی۔ اسی طرح ایلیاہ کی خدمت میں آسمان سے آگ فوراً نازل ہوتی تھی اور خدا اپنے نبی کے ذریعے لمحوں میں عدالت ظاہر کرتا تھا۔ مکاشفہ 11 میں یہی دونوں انبیاء کا مشترکہ جلال اور طاقت کام کرتا نظر آتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آخری زمانے میں اسرائیل کے سامنے ہونے والی عدالت نہ صرف یقینی بلکہ فوری اور الٰہی اختیار کے ساتھ ظاہر ہوگی۔
مکاشفہ 11 —:6آیت
ان کی دی ہوئی قدرت
اُن کو اِختیّار ہے کہ آسمان کو بند کر دیں تاکہ اُن کی نُبُوّت کے زمانہ میں پانی نہ برسے اور پانِیوں پر اِختیّار ہے کہ اُنہِیں خُون بنا ڈالیں اور جِتنی دفعہ چاہیں زمِین پر ہر طرح کی آفت لائیں۔
یہ آیت ان دونوں انبیاء کی شناخت واضح کر دیتی ہے
“آسمان کو بند کرنے” کی قدرت = ایلیاہ🟦
“پانی کو خون بنانے” اور آفتیں نازل کرنے کی قدرت = موسٰی
آسمان کو بند کر دیں
یہ وہی نشان ہے جو ایلیاہ نے کیا تھا
1 سلاطین 17:1●
ایلیاہ نے کہا
“میرے کلام کے بغیر بارش نہیں ہوگی۔”
بارش 3½ سال نہیں ہوئی۔
یہ وہی مدت ہے جس میں دو گواہ نبوّت کریں گے (1260 دن = 3½ سال)۔
برداربرینہم:●
ایلیاہ کی خدمت کی پہچان قحط ہے۔اور یہی نشان اسرائیل میں دوبارہ ظاہر ہوگا۔
(Anointed Ones)
“پانیوں کو خون بنا دیں” =موسٰی🟦
یہ نشان موسٰی کی خدمت کا سب سے پہلا معجزہ تھا
خروج 7باب17–20●
موسٰی نے فرات، دریاؤں، ندیوں، تالابوں۔سب کو خون میں تبدیل کر دیا۔یہی قدرت آخری زمانے میں دوبارہ ظاہر ہوگی۔
برادر برینہم:
موسٰی وہی نشانات لے کر دوبارہ ظاہر ہوگا—بلائیں، خون، اور عدالتیں۔
(The Sixth Seal)
جِتنی دفعہ چاہیں زمِین پر ہر طرح کی آفت لائیں🟦
یہ دونوں انبیاء مصری آفتیں + نبوی عدالت دوبارہ لائیں گے
خون،مینڈک،جوئیں،اولے،اندھیرا،کیڑے،بیماری،موتاوریہ سب کچھ عالمی مخالف مسیح حکومت پر نازل ہوگا۔
برادربرینہم:●
مصیبت کے زمانے میں مصر والی وہی بلائیں دوبارہ ظاہر ہوں گی۔
(Revelation Chapter Four)
دو گواہوں کی خدمت کا نبوتی مفہوم🟦
نبوتی مفہوم نہایت عظیم اور فیصلہ کن ہے، کیونکہ یہ خدمت دُلہن کے اٹھائے جانے کے فوراً بعد شروع ہوتی ہے اور مکمل طور پر اسرائیل کے لیے مخصوص ہے۔ اس دوران خدا اسرائیل کو دوبارہ مسیح کی طرف واپس لانے کے لیے موسیٰ اور ایلیاہ کی معجزاتی اور عدالت سے بھرپور خدمت استعمال کرے گا۔ یہ وہ وقت ہوگا جب معجزات اپنی انتہا پر ہوں گے، زمین پر خوف چھا جائے گا، اور مخالف مسیح طاقتیں بھی ان دو نبیوں کے سامنے کھڑی نہ ہو سکیں گی۔ پوری دنیا ان کے اختیار، نشانات اور عدالتوں کو دیکھ کر لرز جائے گی، کیونکہ یہ دونوں خدا کے منصوبے کے مطابق اسرائیل کے لیے آخری مقرر کردہ یہودی پیامبر ہوں گے۔وہی نبی جن کے ذریعے خدا اپنی قوم کو واپس بحالی اور سچائی کی طرف بلائے گا۔
مکاشفہ 11باب7–10 🟦
دو گواہوں کا قتل اور دنیا کا جشن
جب وہ اپنی گواہی دے چُکیں گے تو وہ حَیوان جو اتھاہ گڑھے سے نِکلے گا اُن سے لڑ کر اُن پر غالِب آئے گا اور اُن کو مار ڈالے گا۔
اور اُن کی لاشیں اُس بڑے شہر کے بازار میں پڑی رہیں گی جو رُوحانی اِعتبار سے سدُوم اور مِصر کہلاتا ہے۔ جہاں اُن کا خُداوند بھی مصلُوب ہُؤا تھا۔
اور اُمّتوں اور قبِیلوں اور اہلِ زبان اور قَوموں میں سے لوگ اُن کی لاشوں کو ساڑھے تِین دِن تک دیکھتے رہیں گے اور اُن کی لاشوں کو قَبر میں نہ رکھنے دیں گے۔
اور زمِین کے رہنے والے اُن کے مرنے سے خُوشی منائیں گے اور شادِیانے بجائیں گے اور آپس میں تحفے بھیجیں گے کِیُونکہ اِن دونوں نبِیوں نے زمِین کے رہنے والوں کو ستایا تھا۔
جب دو گواہ اپنی گواہی مکمل کر چکتے ہیں، تب مکاشفہ 11:7 کے مطابق وہ حیوان جو لامحدود گڑھے سے نکلتا ہے، ان کے خلاف جنگ کرے گا، ان پر غالب آئے گا اور انہیں قتل کر ڈالے گا۔ یہ لمحہ مصیبت کے دور کا سب سے فیصلہ کن موڑ ہے۔ یہاں ایک عظیم روحانی اصول ظاہر ہوتا ہے: کوئی سچا نبی، کوئی خدا کا بندہ۔ کوئی گواہ۔اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کی مقررہ خدمت پوری نہ ہو جائے۔
برادر برینہم فرماتے ہیں:
اس لیے دو گواہوں پر بھی موت تب ہی غالب آتی ہے جب ان کا خدا کے سامنے مقرر کردہ مشن مکمل ہو جاتا ہے۔
(Trying to Do God a Service)
یہ “حیوان” وہی مخالف مسیح قوت ہے جسے برادر برینہم مسیح مخالف نظام کہتے ہیں۔ایک ایسا عالمی مذہبی، سیاسی اور شیطانی اتحاد جس کا مرکز روم ہے۔ یہی دانی ایل 7 میں دکھائی دینے والا حیوان ہے، یہی مکاشفہ 13 میں ابھرتا ہے، اور یہی آخر میں اسرائیل پر حکومت کرتا ہے۔ یہ قوت ایک عالمی حکومت قائم کرتی ہے، مسیح مخالف کی طاقت کا مرکز ہوتی ہے اور موسیٰ و ایلیاہ دونوں کی خدمت کے شدید مخالف کے طور پر سامنے آتی ہے۔ تاہم وہ ان نبیوں کو تب ہی قتل کر سکے گی جب خدا اجازت دے گا، کیونکہ یہ قتل شکست نہیں بلکہ خدمت کی تکمیل کا نشان ہے۔
برادر برینہم کہتے ہیں:
جب ان دونوں نبیوں کا پیغام مکمل ہو جائے گا تو آخرکار روم انہیں قتل کرے گا۔”
(The Sixth Seal)
ان کی لاشیں یروشلیم میں پڑی رہیں گی۔اس “بڑے شہر” میں جہاں ان کا خداوند بھی مصلوب ہوا تھا۔ خدا اس شہر کو روحانی طور پر “سدوم” اور “مصر” کہتا ہے، جو اس بات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے کہ آخری زمانے میں یروشلیم کی روحانی حالت بدکاری، بغاوت، کفر اور سخت دلی میں ڈوبی ہوئی ہوگی۔
برادر برینہم فرماتے ہیں: جب یہ دو گواہ آئیں گے تو اُس وقت اسرائیل کی حالت سدوم جیسی ہوگی۔
(The Spoken Word is the Original Seed)
اور ایک اور مقام پر کہتے ہیں: “اپنے کفر و بے اعتقادی کی وجہ سے یروشلیم کو روحانی طور پر ‘مصر’ کہا جائے گا۔”
(The Sixth Seal)
دنیا بھر کے لوگ تین دن تک ان کی لاشوں کو دیکھیں گے، جیسا کہ مکاشفہ 11:9 بیان کرتی ہے۔ یہ پیشگوئی صرف جدید دور میں پوری ہو سکتی تھی—ٹیلی ویژن، سیٹلائٹ، انٹرنیٹ اور عالمی نشریات کی وجہ سے دنیا اجتماعی طور پر اس واقعے کا نظارہ کر سکے گی۔ برادر برینہم نے پہلے ہی بتایا تھا: “ٹیلی ویژن ان کی لاشیں ساری دنیا کو دکھائے گا۔
(The Mark of the Beast)
اس کے بعد دنیا ان نبیوں کی موت پر خوشیاں منائے گی، جشن کرے گی اور ایک دوسرے کو تحفے دے گی۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ انسانیت اخلاقی اور روحانی طور پر انتہائی پستی میں گر چکی ہوگی۔ دنیا خوش ہوگی کیونکہ دو گواہوں نے ان کے گناہوں کو بے نقاب کیا، عدالت سنائی، جھوٹے نبیوں کو للکارا اور مسیح مخالف نظام کو چیلنج کیا تھا۔
خلاصہ🟦
حیوان۔ مسیح مخالف نظام۔دو گواہوں کو قتل کرے گا، ان کی لاشیں یروشلیم کی گلیوں میں تین دن تک پڑی رہیں گی، ساری دنیا انہیں دیکھے گی اور خوشی منائے گی، تحفے دیئے جائیں گے اور دنیا اپنی مکمل گراوٹ کے نچلے ترین مقام پر پہنچ جائے گی۔ برادربرینہم کے مطابق، دو گواہوں کا قتل انسانی تاریخ کی آخری تاریکی ہے۔وہ موڑ جہاں سے آگے خدا کا حتمی فیصلہ اور عظیم انتقام شروع ہوتا ہے۔
مکاشفہ 11باب11–14 🟦
دو گواہوں کا جی اٹھنا، آسمان پر جانا، اور عظیم زلزلہ
اور ساڑھے تِین دِن کے بعد خُدا کی طرف سے اُن میں زِندگی کی رُوح داخِل ہُوئی اور وہ اپنے پاؤں کے بل کھڑے ہو گئے اور اُن کے دیکھنے والوں پر بڑا خَوف چھا گیا۔
اور اُنہِیں آسمان پر سے ایک بُلند آواز سُنائی دی کہ یہاں اُوپر آ جاؤ۔ پَس وہ بادل پر سوار ہوکر آسمان پر چڑھ گئے اور اُن کے دُشمن اُنہِیں دیکھ رہے تھے۔
پھِر اُسی وقت ایک بڑا بھَونچال آگیا اور شہر کا دسواں حِصّہ گِر گیا اور اُس بھَونچال سے سات ہزار آدمِی مرے اور باقی ڈر گئے اور آسمان کے خُدا کی تمجِید کی۔
دُوسرا افسوس ہو چُکا۔ دیکھو تِیسرا افسوس جلد ہونے والا ہے۔
ساڑھے تین دن تک یروشلیم کی گلیوں میں پڑی رہنے کے بعد، خدا کی قدرت ان دو نبیوں پر ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ آیت 11 بیان کرتی ہے، “خدا کی طرف سے جان اُن میں داخل ہوئی، اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے، اور جنہوں نے انہیں دیکھا بہت ڈر گئے۔” یہ منظر دنیا کے لیے سب سے بڑا صدمہ اور شدید ترین روحانی جھٹکا ہوگا۔ جتنا وقت دنیا نے ان کی بے عزتی اور مذاق اڑانے میں گزارا، اتنا ہی وقت خدا نے خاموشی سے برداشت کیا۔پھر وہ خود حرکت میں آیا، اپنی روح ان میں داخل کی، وہ زندہ ہوئے اور سب کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ یہ وہی قدرت ہے جو یسوع کو مردوں میں سے زندہ کرتی ہے، جو حزقی ایل 37 میں خشک ہڈیوں کو زندگی دیتی ہے، اور جو ایلیاہ کے ذریعے بچے کو زندہ کرتی ہے۔ یوں ان کا جی اٹھنا دنیا کے لیے خوف، دہشت اور حیرت کا آخری نظارہ ہوگا—یہی ان کی ‘‘خری الٰہی تصدیق’’ ہے، خاص طور پر ان کے دشمنوں، ان کے قاتلوں اور ان لوگوں کے سامنے جنہوں نے ان کی موت پر جشن منایا تھا۔
اس کے فوراً بعد آیت 12 میں بیان ہوتا ہے کہ ان دونوں نے آسمان سے ایک عظیم آواز سنی: “اوپر آ یہاں!” اور وہ بادل میں چڑھ کر آسمان پر چلے گئے، جبکہ ان کے دشمن انہیں دیکھ رہے تھے۔ یہی آواز مکاشفہ 4:1 میں یوحنا کو سنائی گئی تھی—ربانی بلاہٹ، الٰہی حکم، ترجمہ کی آواز۔ یہی آواز پہلے دُلہن کو بلائے گی اور پھر ان دو گواہوں کو۔ وہ بادل میں اٹھا لیے جاتے ہیں، جیسے یسوع اعمال 1:9 میں آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے۔ ان کا زندہ ہونا بھی عوامی تھا، اور ان کا اٹھایا جانا بھی عوامی ہوگا۔یہ دنیا کے لیے دوسرا جھٹکا ہے، آخری وارننگ، خدا کی حتمی تصدیق۔
پھر آیت 13 میں بتایا گیا ہے کہ اُسی گھڑی ایک عظیم زلزلہ ہوا جس سے یروشلیم کا دسواں حصہ گر پڑا اور سات ہزار آدمی مارے گئے۔ یہ خدا کا فوری الٰہی فیصلہ ہے—دو گواہوں کے جی اٹھنے اور آسمان پر جانے کے فوراً بعد آنے والی عدالت۔ یہ وہی زلزلہ ہے جو زکریاہ 14 اور حزقی ایل 38 کی پیشگوئیوں سے مطابقت رکھتا ہے، اور یہ مصیبت کا دورکے شدید ترین عذابوں میں سے ایک ہے۔ یروشلیم کے دس فیصد حصے کا زمین بوس ہونا، سات ہزار لوگوں کا مارا جانا اور باقی لوگوں کا خوف سے خدا کی تمجید کرنا۔یہ سب اس بات کا اعلان ہے کہ یہ کوئی قدرتی واقعہ نہیں بلکہ براہِ راست خدا کا فیصلہ ہے۔ مگر ان کی یہ تمجید حقیقی توبہ نہیں، بلکہ صرف خوف کا ردِعمل ہے؛ دل کی تبدیلی نہیں بلکہ صرف وقتی دہشت۔
آیت 14 اس پورے مرحلے کا خلاصہ بیان کرتی ہے: “دُوسرا افسوس ہو چُکا۔ دیکھو تِیسرا افسوس جلد ہونے والا ہے۔” دوسرا افسوس دو گواہوں کی موت، ان کی بے حرمتی، ان کے جی اٹھنے اور زلزلے پر مشتمل ہے۔
برادر برینہم فرماتے ہیں: دوسرا افسوس دو نبیوں کے جی اٹھنے پر ختم ہوتا ہے، اور تیسرا افسوس مصیبت کے اوجِ کمال کا آغاز ہے۔”(چھٹی مہر) ۔اب دنیا آخری اور شدید ترین مرحلے میں داخل ہونے والی ہے—مکاشفہ 12–13 کا مخالف مسیح عروج، عظیم مصیبت کا اختتام اور خدا کے فیصلوں کا نقطۂ کمال۔
مکاشفہ 11باب11–14 :🟦
دو گواہوں کا جی اٹھنا، آسمان پر جانا، اور عظیم زلزلہ●
اور ساڑھے تِین دِن کے بعد خُدا کی طرف سے اُن میں زِندگی کی رُوح داخِل ہُوئی اور وہ اپنے پاؤں کے بل کھڑے ہو گئے اور اُن کے دیکھنے والوں پر بڑا خَوف چھا گیا۔
اور اُنہِیں آسمان پر سے ایک بُلند آواز سُنائی دی کہ یہاں اُوپر آ جاؤ۔ پَس وہ بادل پر سوار ہوکر آسمان پر چڑھ گئے اور اُن کے دُشمن اُنہِیں دیکھ رہے تھے۔
پھِر اُسی وقت ایک بڑا بھَونچال آگیا اور شہر کا دسواں حِصّہ گِر گیا اور اُس بھَونچال سے سات ہزار آدمِی مرے اور باقی ڈر گئے اور آسمان کے خُدا کی تمجِید کی۔
دُوسرا افسوس ہو چُکا۔ دیکھو تِیسرا افسوس جلد ہونے والا ہے۔
ساڑھے تین دن تک یروشلیم کی گلیوں میں پڑے رہنے کے بعد، مکاشفہ 11:11 بیان کرتی ہے کہ خدا کی طرف سے جان اُن میں داخل ہوئی، اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے، اور جنہوں نے انہیں دیکھا بہت ڈر گئے۔ جتنا وقت دنیا ان کی لاشوں کو دیکھتی رہی اور ان کی بے حرمتی جاری رہی، اتنا ہی وقت خدا نے خاموشی سے برداشت کیا، لیکن وقت پورا ہونے پر خدا خود حرکت میں آیا، اپنی روح انہیں دی اور وہ دو نبی سب کے سامنے زندہ ہو کر کھڑے ہو گئے۔ یہ وہی قدرت ہے جو یسوع مسیح کو زندہ کرتی ہے، جو حزقی ایل 37 میں خشک ہڈیوں کو زندگی دیتی ہے، اور جو ایلیاہ کے ذریعے بچے کو زندہ کرتی ہے—یہ حقیقی بحالی یعنی زندہ کرنے والی الٰہی قوت ہے۔ برادر برینہم فرماتے ہیں: “خدا اپنے نبیوں کی تصدیق اس طرح کرے گا کہ انہیں ساری دنیا کے سامنے مردوں میں سے زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرے گا۔”
(The Sixth Seal)
دنیا کے لیے یہ منظر خوف، حیرت، سراسیمگی اور دہشت کا آخری جھٹکا ہوگا۔ یہی وہ حتمی الٰہی تصدیق ہے جس میں وہ نبی جنہیں قتل کیا گیا، جن کی موت پر جشن منایا گیا اور تحفے تقسیم کیے گئے—سب کے سامنے دوبارہ زندہ ہو کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اس کے بعد آیت 12 میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے آسمان سے ایک بڑی آواز سنی جو کہتی تھی: “اوپر آ یہاں!” اور وہ بادل میں چڑھ کر آسمان پر چلے گئے جبکہ ان کے دشمن انہیں دیکھ رہے تھے۔ یہی وہ واقعہ ہے جسے برادر برینہم “دو گواہوں کا آسمان پر اُٹھا لیا جانا” کہتے ہیں۔ یہ آواز وہی ہے جو مکاشفہ 4:1 میں یوحنا کو سنائی گئی تھی—ایک ربانی بلاہٹ، ایک الٰہی حکم، اُٹھائے جانے کی آواز۔ برادر برینہم فرماتے ہیں:“وہی آواز جو دُلہن کو بلائے گی، انہی دو نبیوں کو بھی اوپر بلائے گی۔”
(Rapture Message)
جیسے یسوع اعمال 1:9 میں بادل پر آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے، اسی طرح دُلہن اٹھائی جائے گی اور یہی عمل ان دو گواہوں کے ساتھ بھی ہوگا۔ پہلے ان کا زندہ ہونا دنیا کےلیے صدمہ تھا، اور اب ان کا آسمان پر اٹھایا جانا دوسرا جھٹکا ہے—دنیا کی آخری وارننگ۔
ان کے آسمان پر چڑھتے ہی آیت 13 کے مطابق فوراً ایک عظیم زلزلہ آتا ہے، یروشلیم کا دسواں حصہ گر جاتا ہے اور سات ہزار آدمی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہ عظیم مصیبت کا دورکے سخت ترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔خدا کا اعلان کہ “تم نے میرے نبیوں کو مارا، اب میرا فیصلہ دیکھو!” یروشلیم کے دس فیصد حصے کا تباہ ہونا اور سات ہزار کی مخصوص تعداد کا مر جانا دنیا کو یہ احساس دلاتا ہے کہ یہ کوئی قدرتی حادثہ نہیں بلکہ خدا کا براہِ راست فیصلہ ہے۔ باقی لوگ خوف سے خدا کی تمجید کرتے ہیں، مگر یہ تمجید حقیقی توبہ نہیں بلکہ صرف دہشت کا اظہار ہے—دل کی تبدیلی کے بغیر اعتراف۔
آیت 14 کے مطابق “ دُوسرا افسوس ہو چُکا۔ دیکھو تِیسرا افسوس جلد ہونے والا ہے۔” پہلے افسوس میں ٹڈیوں کا عذاب تھا، دوسرا افسوس دو گواہوں کے قتل، ان کی بے حرمتی، ان کے جی اٹھنے اور زلزلے کے ساتھ ختم ہوتا ہے، اور تیسرا افسوس مکاشفہ 12–13 میں مخالف مسیح کے مکمل ظہور اور عظیم مصیبت کے کمال کی طرف بڑھتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق: “دوسرا افسوس دو نبیوں کے جی اٹھنے پر ختم ہوتا ہے، اور تیسرا افسوس مصیبت کے اوجِ کمال کا آغاز ہے۔”
(Sixth Seal)
آخر میں، ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ دو گواہ ساڑھے تین دن بعد زندہ ہوں گے، خدا کی روح ان میں داخل ہوگی، دنیا خوف سے لرز اٹھے گی، پھر آسمان سے “یہاں اُوپر آ جاؤ!” کی آواز آئے گی اور وہ بادل میں چڑھ کر آسمان پر چلے جائیں گے۔ ایک بڑا زلزلہ یروشلیم کو ہلا دے گا، شہر کا دس فیصد حصہ تباہ ہوگا، سات ہزار لوگ مارے جائیں گے، اور دنیا خدا کی قدرت کا اعتراف کرے گی۔ دوسرا افسوس ختم ہو جائے گا اور تیسرا افسوس قریب آ پہنچے گا۔ برادر برینہم کے مطابق، یہ واقعہ خدا کی آخری گواہی ہے کہ اس کے کلام کو دنیا قتل کر سکتی ہے، مگر شکست نہیں دے سکتی—وہ زندہ کرتا ہے، اٹھا لیتا ہے، اور پھر فیصلہ نازل ہوتا ہے۔
مکاشفہ 11باب:15–19 :🟦
ساتواں صور، مسیح کی بادشاہی اور آخری عدالت●
اور جب ساتویں فرِشتہ نے نرسِنگا پھُونکا تو آسمان پر بڑی آوازیں اِس مضمُون کی پَیدا ہُوئیں کہ دُنیا کی بادشاہی ہمارے خُداوند اور اُس کے مسِیح کی ہو گئی اور وہ ابدُالآباد بادشاہی کرے گا۔
اور چَوبِیسوں بُزُرگوں نے جو خُدا کے سامنے اپنے اپنے تخت پر بَیٹھے تھے مُنہ کے بل گِر کر خُدا کو سِجدہ کِیا۔
اور یہ کہا کہ اَے خُداوند خُدا۔ قادِرِ مُطلَق! جو ہے اور جو تھا۔ ہم تیرا شُکر کرتے ہیں کِیُونکہ تُو نے اپنی بڑی قُدرت کو ہاتھ میں لے کر بادشاہی کی۔
اور قَوموں کو غُصّہ آیا اور تیرا غضب نازِل ہُؤا اور وہ وقت آ پہُنچا ہے کہ مُردوں کا اِنصاف کِیا جائے اور تیرے بندوں نبِیوں اور مُقدّسوں اور اُن چھوٹے بڑوں کو جو تیرے نام سے ڈرتے ہیں اجر دِیا جائے اور زمِین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ کِیا جائے۔
اور خُدا کا جو مَقدِس آسمان پر ہے وہ کھولا گیا اور اُس کے مَقدِس میں اُس کے عہد کا صندُوق دِکھائی دِیا اور بِجلِیاں اور آوازیں اور گرجیں پَیدا ہُوئیں اور بھَونچال آیا اور بڑے اولے پڑے۔
مکاشفہ 11:15 میں ساتویں فرشتے کے نرسِنگا پھونکتے ہی آسمان خوشی کے نعروں سے گونج اٹھتا ہے، کیونکہ اب اعلان ہوتا ہے کہ دنیا کی بادشاہی ہمارے خدا اور اس کے مسیح کی بادشاہی بن چکی ہے، اور وہ ابدُالآباد حکومت کرے گا۔ یہ وہ لمحہ ہے جسے برادر برینہم “بادشاہ کے اعلان کا عظیم نرسِنگا ” کہتے ہیں۔ ان کے مطابق ساتواں نرسِنگا کلیسیا کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل کے لیے ہے، کیونکہ دُلہن پہلے ہی رَپچر میں جا چکی ہے، اور یہ نرسِنگا دراصل مصیبت کے دور کی عدالتوں کا اعلان ہے۔ نرسِنگا کی آواز کے ساتھ ہی یہ حقیقت قائم ہو جاتی ہے کہ دنیا کی تمام حکومتیں، سلطنتیں، جنگیں، سازشیں اور مخالف مسیح نظام کا پورا ڈھانچہ ختم ہو چکا ہے، اور اب صرف ایک ہی بادشاہ باقی رہتا ہے۔یسوع مسیح۔ یہی وہ بادشاہی ہے جو دانی ایل 2:44 کی پیشگوئی کے مطابق تمام زمینی سلطنتوں کو توڑ کر ہمیشہ کے لیے قائم ہوتی ہے، اور زبور 2 کے مطابق قومیں اس کی میراث بنتی ہیں اور وہ لوہے کے عصا سے حکمرانی کرتا ہے۔ اس بادشاہی کی نوعیت روحانی بھی ہے، زمینی بھی، سیاسی بھی ہے اور آسمانی بھی، اور یہ پہلے ہزار سالہ بادشاہی سے شروع ہو کر نئے آسمان و نئی زمین کے ساتھ ابدیت میں داخل ہو جاتی ہے۔
اس اعلان کے فوراً بعد چوبیس بزرگ مُنہ کے بل گِر کر خُدا کو سِجدہ کِرتےہیں اور خدا کی عبادت کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ برّہ نے اپنا تخت سنبھال لیا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق بزرگ نجات یافتہ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اور اب وہ اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ بادشاہ نے اپنی سلطنت قائم کر دی ہے۔ آیت 17 میں وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ تُو نے اپنی بڑی قُدرت کو ہاتھ میں لے کر بادشاہی کی۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دشمن کو مکمل طور پر زیر کیا جاتا ہے، شیطان کی طاقت بے اثر ہو جاتی ہے، اور زمین پر عدالت کا آغاز پوری شدت سے ہوتا ہے۔
آیت 18 میں بیان ہے کہ قومیں غضبناک ہو گئیں، اور اسی کے جواب میں خدا کا غضب نازل ہوا۔ یہ وہی عالمی بغاوت ہے جس کا ذکر زبور 2 میں ہے—قومیں بپھر جاتی ہیں، جنگی تیاریاں ہوتی ہیں، دنیا مخالف مسح کے نظام میں داخل ہو جاتی ہے، اور اسرائیل کے خلاف اتحاد بنتا ہے، جیسا یوایل 3 نے پیشگوئی کی تھی۔ مگر اسی وقت خدا کا غضب شروع ہو جاتا ہے۔وہ غضب جو عظیم مصیبت کی عدالتوں پر مشتمل ہے، جن میں سات پیالوں کی آفتیں، آگ، تاریکی، پانی کا خون بن جانا، زلزلے اور آخرکار شیطان کی جکڑ بندی شامل ہیں۔ اسی آیت میں یہ بھی اعلان ہوتا ہے کہ مردوں کے فیصلے کا وقت آ پہنچا ہے۔راستبازوں کو اجر دینے کا وقت اور بدکاروں کو سزا دینے کا وقت۔ دُلہن، شہداء اور نجات یافتہ لوگ اجر پاتے ہیں، جبکہ بدکاروں کا انجام عظیم سفید تخت کے فیصلے تک پہنچتا ہے۔
آیت 19 میں آسمانی مقدس کا دروازہ کھل جاتا ہے اور عہد کا صندوق ظاہر ہوتا ہے، جو خدا کی حضوری، تقدیس، عدالت اور وعدوں کی تکمیل کا نشان ہے۔ یہ منظر اعلان کرتا ہے کہ خدا نے اپنے وعدے پورے کر دیے: دُلہن کو اٹھا لیا، اسرائیل کو دو گواہوں کے ذریعے گواہی دی، مخالف مسیح قوت کو بے نقاب کیا اور اب زمین پر فیصلوں کا سلسلہ کھل چکا ہے۔ عہد کے صندوق کے ظاہر ہوتے ہی بجلیاں، آوازیں، گرج، زلزلہ اوربڑے اولے پڑے۔یہ وہی علامتیں ہیں جو سات مہروں، سات نرسنگوں اور سات پیالوں کی عدالتوں میں بار بار سامنے آتی ہیں، اور اب ابدیت کے دروازے کھلنے سے پہلے آخری فیصلوں کے جاری ہونے کا اعلان بن جاتی ہیں۔
اس پورے حصے کا خلاصہ یہی ہے کہ ساتواں نرسنگامسیح کی بادشاہی کے اعلان کا لمحہ ہے، آسمان خوشی سے بھر جاتا ہے، زمین عدالت میں داخل ہو جاتی ہے، قومیں بگڑتی ہیں، خدا کا غضب نازل ہوتا ہے، راستبازوں کو اجر ملتا ہے، بدکاروں کی سزا طے ہوتی ہے، آسمانی ہیکل کھلتی ہے، عہد کا صندوق ظاہر ہوتا ہے اور فیصلے ساری دنیا پر پوری شدت سے نازل ہوتے ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہ وہ گھڑی ہے جب خدا باقاعدہ اعلان کرتا ہے: دنیا میری ہے، بادشاہی میری ہے، اور میں ابدیت تک بادشاہی کروں گا۔ یہی ہزار سالہ بادشاہی کے آغاز، مسیح کے تخت نشین ہونے اور مخالف مسیح حکومت کے مکمل خاتمے کا لمحہ ہے۔
تفسیرمکاشفہ 12 — عورت، اژدہا اور مرد بچہ
مکاشفہ 12باب1-2آیات🟦
پھِر آسمان پر ایک بڑا نِشان دِکھائی دِیا یعنی ایک عَورت نظر آئی جو آفتاب کو اوڑھے ہُوئے تھی اور چاند اُس کے پاؤں کے نِیچے تھا اور بارہ سِتاروں کا تاج اُس کے سر پر۔
وہ حامِلہ تھی اور دردِ زِہ میں چلاتی تھی اور بچّہ جننے کی تکلِیف میں تھی۔
“آسمان پر بڑا نشان ظاہر ہوا”🔹
آسمانی تعارف ہے۔●
“آسمان” سے مراد:الٰہی دنیا ۔ خدا کی روحانی بادشاہی یعنی وہ روحانی مقام جہاں خدا اپنی نشانیاں، رویا اور نبوتیں ظاہر کرتا ہے۔ خدا نے آسمانی دنیا میں ایک غیر معمولی، غیر زمینی اور نبوتی منظر دکھایا — ایک ایسی علامت جو آنے والے عظیم روحانی واقعات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ کوئی عام رویا نہیں بلکہ خدا کا خاص اعلان ہے کہ اب اُس کے بڑے منصوبے کے مرحلے ظاہر ہونے والے ہیں۔ برادر برانہم کے مطابق "بڑا نشان" ہمیشہ کسی بڑے الٰہی زمانہ (دور) کی تبدیلی، عدالت یا اہم نبوت کی تکمیل کی علامت ہوتا ہے۔ اس لیے مکاشفہ 12 میں آسمان پر عورت کا ظاہر ہونا ایک عظیم روحانی اعلان ہے کہ خدا اب اسرائیل، دُلہن اور دشمن کے درمیان ازلی منصوبے کا اگلا حصہ ظاہر کرنے والا ہے۔ یہ نشان زمین پر آنے والے آخری واقعات کا آسمانی تعارف ہے۔
مکاشفہ 12 آسمانی دنیا کی اُس عظیم نبوت کو ظاہر کرتا ہے جو اسرائیل اور دُلہن دونوں کی شناخت، مقام، ذمہ داری اور دشمن کے ساتھ ازلی کشمکش کو پیش کرتی ہے۔ برادر برینہم واضح کرتے ہیں کہ اس باب کی عورت بنیادی طور پر اسرائیل ہے۔وہ قوم جسے خدا نے اپنے منصوبے، عہد اور مسیح کے ظہور کے لیے چُنا۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ عورت دُلہن کی ایک گہری روحانی تصویر بھی رکھتی ہے، کیونکہ بائبل میں “عورت” اکثر خدا کے منتخب لوگوں کی علامت کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
عورت کا سورج سے ملبوس ہونا اسرائیل پر خدا کے نور، جلال، وعدوں اور تقدیس کا نشان ہے—بالکل اسی طرح جیسے دُلہن مسیح کے نور میں کھڑی ہوتی ہے اور اس کے جلال کو ظاہر کرتی ہے۔ بطور اسرائیل چاند اس کے پاؤں کے نیچے — شریعت کی روشنی کا دور۔چاند کی روشنی اپنے اندر سے نہیں ہوتی بلکہ سورج کی عکاسی ہے۔اسی طرح موسیٰ کی شریعت بھی مسیح کی مکمل روشنی کی طرف ایک سایہ تھی۔
بطور دلہن چاند اس کے پاؤں کے نیچے — شریعت کا دور ختم، اب فضل کا دور۔دلہن کلیسیا شریعت کے نیچے نہیں بلکہ فضل کے عہد میں ہے۔وہ پرانی رسومات کو پیچھے چھوڑ کر خالص کلام کے تابع ہے۔
عورت کے سر پر بارہ ستاروں کا تاج اسرائیل کے بارہ قبائل کی نمائندگی کرتا ہے، لیکن برادر برینہم کے مطابق یہ تاج دُلہن کی روحانی تصویر میں بارہ رسولوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے—کیونکہ نئی پیدائش کی کلیسیا رسولی بنیاد پر کھڑی ہے۔ اس طرح یہ بارہ ستارے:
فطری اسرائیل کے بارہ قبائل●
روحانی دلہن کے بارہ رسول●
دونوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
اس دوہری علامت سے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ مکاشفہ 12 کی عورت میں دو تصویریں ایک ساتھ چل رہی ہیں:
اسرائیل — جسمانی عورت، جس سے مسیح دنیا میں آیا●
دُلہن — روحانی عورت، جس میں مسیح آج ظاہر ہوتا ہے●
یوں مکاشفہ 12 کی پہلی آیت ہی یہ اعلان کرتی ہے کہ عورت نبوتی طور پر اسرائیل ہے،
مگر روحانی طور پر وہ دُلہن کی مکمل تمثیل بھی رکھتی ہے—جس کا تاج 12 ستارے (قبائل و رسول)، جس کا لباس سورج (خدا کا نور)، اور جس کا مقام خدا کے منصوبے کے مرکز میں ہے۔
مکاشفہ 12باب-2آیت میں عورت کے دردِ زہ کا منظر اسرائیل کے اس تاریخی اور روحانی دکھ کو ظاہر کرتا ہے جس سے گزرتے ہوئے آخرکار مسیح کا جسمانی ظہور ہوا۔ مصر کی غلامی، بابل کی اسیری، رومیوں کا ظلم، ہامان کی نسل کُشی کی کوشش، اور ہیرودیس کا معصوم بچوں کا قتل—یہ سب اُس درد کا حصہ تھے جس میں اسرائیل صدیوں تک کراہتا رہا۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ جیسے اسرائیل اُن جسمانی تکالیف کے بوجھ تلے مسیح کو دنیا میں لایا، اسی طرح دُلہن بھی روحانی درد اور کلام کے بوجھ کے نیچے رہ کر مسیح کو اپنی زندگی میں ظاہر کرتی ہے۔ یعنی ایک طرف اسرائیل نے مسیح کو جسمانی طور پر جنم دیا، اور دوسری طرف دُلہن اسی مسیح کو روحانی طور پر اپنی گواہی، اطاعت اور کلام کی تجلی کے ذریعے ظاہر کرتی ہے۔ اس طرح اس آیت میں عورت کی دونوں تصویریں۔اسرائیل اور دُلہن۔اپنے اپنے مقام پر پوری طرح فٹ ہوتی ہیں۔
مکاشفہ 12باب4-3آیات🟦
پھِر ایک اَور نِشان آسمان پر دِکھائی دِیا یعنی ایک بڑا لال اژدہا۔ اُس کے سات سر اور دس سِینگ تھے اور اُس کے سروں پر سات تاج۔
اور اُس کی دُم نے آسمان کے تِہائی سِتارے کھینچ کر زمِین پر ڈال دِئے اور وہ اژدہا اُس عَورت کے آگے جا کھڑا ہُؤا جو جننے کو تھی تاکہ جب وہ جنے تو اُس کے بچّے کو نِگل جائے۔
آیت3 میں اژدہا کا منظر اُس ازلی دشمن کی تصویر ہے جو ابتدا سے خدا کے بیج کے خلاف سرگرم رہا ہے۔ مکاشفہ اسے بڑا سرخ اژدہا کہتا ہے—سرخ رنگ خونریزی، ظلم اور تباہی کی علامت ہے۔ اس کے سات سر رومی سلطنت کے سات بڑے بادشاہوں یا قوتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جبکہ دس سینگ اس کی سیاسی طاقتوں اور قوموں پر اس کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے سات تاج اس بات کی علامت ہیں کہ یہ قوت مذہبی۔سیاسی حکمرانی کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ وہی شیطانی نظام تھا جس نے اسرائیل کی تاریخ میں بیج کو مٹانے کے لیے فرعون کے ہاتھ سے لڑکے قتل کروائے، ہامان کو نسل کشی کی تحریک دی، اور ہیرودیس کے ذریعے معصوم بچوں کو ذبح کیا۔ برادر برینہم فرماتے ہیں کہ یہی دشمن آج دُلہن کے خلاف بھی روحانی میدان میں لڑ رہا ہے—جھوٹے نبیوں، مذہبی فریب اور ٘مخالف مسیح طاقت کے ذریعے۔ شیطان کا اصل حملہ ہمیشہ “عورت” پر ہوتا ہے، کیونکہ بیج عورت ہی میں رکھ دیا گیا ہے—چاہے وہ اسرائیل ہو یا دُلہن۔ اس طرح یہ آیت اسرائیل کی تاریخ اور دُلہن کی روحانی جنگ، دونوں پر پوری مطابقت کے ساتھ صادق آتی ہے۔
آیت 4۔اژدہا کی طاقت، اس کے اثر و رسوخ اور اس کے ازلی مقصد کو واضح کرتی ہے۔ اژدہا کی دُم کا آسمان کے تِہائی ستاروں کو گرانا ظاہر کرتا ہے کہ شیطان نے اپنی بغاوت میں آسمانی فرشتوں کے بڑے حصے کو اپنے ساتھ ملا لیا، جو بعد میں بدروہوں اور شیطانی قوتوں کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ عورت کے آگے اس کا کھڑا ہونا اس دائمی دشمنی کو ظاہر کرتا ہے جو عورت کے بیج کے خلاف ابتدا ہی سے جاری ہے—یعنی وہ ہر قیمت پر مسیح کے ظہور کو روکنا اور اسے ہلاک کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے اُس نے اسرائیل کی تاریخ میں بار بار بیج کو مٹانے کی کوششیں کیں: فرعون کے ذریعے لڑکوں کا قتل، ہامان کی نسلکُشی کی سازش، اور ہیرودیس کا معصوم بچوں کا قتل۔ لیکن برادر برانہم کے مطابق یہی دشمن آج دُلہن کے خلاف بھی کھڑا ہے—وہ کلام کے بیج کو اس کی زندگی میں ظاہر ہونے سے روکنے کے لیے جھوٹ، دھوکے اور روحانی حملوں کا سہارا لیتا ہے۔ مگر جس طرح خدا نے اسرائیل کے خلاف اُس کے ہر منصوبے کو ناکام کیا، وہی خدا دُلہن کے اندر بسے ہوئے کلام کی حفاظت بھی خود کرتا ہے، اور دشمن کا ہر وار اسی طرح ناکام ہوتا ہے۔
مکاشفہ 12باب5-6آیات🟦
اور وہ بَیٹا جنی یعنی وہ لڑکا جو لوہے کے عصا سے سب قَوموں پر حُکُومت کرے گا اور اُس کا بچّہ یکایک خُدا اور اُس کے تخت کے پاس تک پہُنچا دِیا گیا۔
اور وہ عَورت اُس بِیابان کو بھاگ گئی جہاں خُدا کی طرف سے اُس کے لِئے ایک جگہ تیّار کی گئی تھی تاکہ وہاں ایک ہزار دو سَو ساٹھ دِن تک اُس کی پرورِش کی جائے
عورت کا بیٹا جنّنا سب سے پہلے مسیح کے جسمانی ظہور کی طرف اشارہ کرتا ہے، کیونکہ وعدہ شدہ نجات دہندہ اسرائیل ہی سے آیا۔ اس بچے کا لوہے کے عصا سے سب قوموں پر حکومت کرنا مسیح کے مکمل اختیار، بادشاہی اور آنے والے ہزار سالہ دور میں اُس کی حاکمیت کی علامت ہے۔ بچے کا یکایک خدا اور اُس کے تخت تک پہنچا دیا جانا مسیح کے صعود، اُس کی جلالی تخت نشینی اور اُس مقام کی نشاندہی کرتا ہے جہاں وہ دشمنوں کو اپنے پاؤں تلے رکھنے تک انتظار کر رہا ہے۔
لیکن برادر برینہم کے مطابق اس آیت کی ایک روحانی گہرائی دُلہن کے لیے بھی ہے، کیونکہ دُلہن "کلام کے بیٹے" کو اپنی زندگی میں ظاہر کرتی ہے—یعنی مسیح کا کلام اس کے ذریعے جسم بن کر دنیا میں دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح شیطان مسیح کے جسمانی ظہور کو روک نہ سکا، ویسے ہی وہ دُلہن میں ظاہر ہونے والے مسیح کو بھی روک نہیں سکتا، کیونکہ یہ خدا کا مقدر کردہ بیج ہے۔
عورت کا بیابان میں بھاگ جانا اسرائیل کے لیے آخری ساڑھے تین سال کی خصوصی حفاظت کی علامت ہے، جب خدا خود اس قوم کے لیے جگہ تیار کرتا ہے تاکہ مخالف مسیح کے ظلم سے بچایا جائے۔ لیکن یہ منظر دُلہن کا عکس بھی ہے—فرق یہ ہے کہ دُلہن زمین پر موجود نہیں رہتی بلکہ رَپچر کے ذریعے پہلے ہی محفوظ مقام پر لے جا چکی ہوتی ہے، جبکہ اسرائیل زمین پر رہ کر خدا کی معجزانہ حفاظت میں بیابان کے دوران قائم رہتا ہے۔ یوں یہ آیت دونوں حقیقتوں کو سمیٹتی ہے: اسرائیل نے مسیح کو لایا، اور دُلہن مسیح کو ظاہر کرتی ہے؛ اسرائیل بیابان میں محفوظ ہوتا ہے، دُلہن آسمانی مقام پر۔
مکاشفہ 12باب7 تا 9آیات🟦
پھِر آسمان پر لڑائی ہُوئی۔ مِیکائیل اور اُس کے فرِشتے اژدہا سے لڑنے کو نِکلے اور اژدہا اور اُس کے فرِشتے اُن سے لڑے۔
لیکِن غالِب نہ آئے اور اِس کے بعد آسمان پر اُن کے لِئے جگہ نہ رہی۔
اور وہ بڑا اژدہا یعنی وُہی پُرانا سانپ جو اِبلِیس اور شَیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گُمراہ کر دیتا ہے زمِین پر گِرا دِیا گیا اور اُس کے فرِشتے بھی اُس کے ساتھ گِرا دِئے گئے۔
آیات آخری زمانے کی اُس عظیم اور فیصلہ کن جنگ کو بیان کرتی ہیں جو آسمان میں میکائیل اور اس کے فرشتوں اور اژدہا کے لشکر کے درمیان ہوتی ہے۔
میکائیل:●
برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق ''میکائیل کوئی الگ فرشتہ نہیں بلکہ مسیح ہی کا وہ الٰہی روپ ہے جس میں وہ جنگ کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔ دُلہن کے لیے مسیح ہمیشہ برّہ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے—محبت، فضل اور فدیے کے ساتھ—لیکن دشمن کے لیے وہ میکائیل ہے، یعنی جنگجو مسیح جو شیطان کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ مکاشفہ 12 میں آسمانی جنگ کے دوران میکائیل دراصل جنگجو مسیح ہے جو شیطان اور اس کے فرشتوں کو آسمان سے نکالتا ہے۔ آخری زمانے میں یہی میکائیل۔یعنی مسیح کا جنگی ظہور—اسرائیل کے لیے کھڑا ہوتا ہے، کیونکہ اُس وقت دُلہن رَپچر ہو چکی ہوتی ہے اور خدا اسرائیل کے ساتھ دوبارہ براہِ راست معاملہ کر رہا ہوتا ہے۔ یوں میکائیل کی ساری شناخت اور خدمت مسیح کی ذات کے اندر پوری ہوتی ہے۔''
میکائیل جو ہمیشہ اسرائیل کا محافظ رہا ہے—اب کھل کر شیطان کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ اژدہا اور اس کے فرشتے مقابلہ کرتے ہیں لیکن غالب نہیں آتے اور بالآخر آسمان سے ہمیشہ کے لیے نکال دیے جاتے ہیں۔ یہ اس حقیقت کی نشانی ہے کہ خدا کا منصوبہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور شیطان کے لیے آسمان میں کوئی مقام باقی نہیں رہا۔
جب وہ پُرانا سانپ، ابلیس، شیطان زمین پر پھینک دیا جاتا ہے، تو اس کے ساتھ اس کے گرائے ہوئے فرشتے بھی آتے ہیں۔
برادر برینہم کے مطابق اس وقت دُلہن رَپچر میں اوپر جا چکی ہوتی ہے، اس لیے شیطان کی زمین پر موجود موجودگی دُلہن کے لیے خطرہ نہیں بنتی۔ لیکن اگر کوئی پوچھے کہ جب دُلہن ابھی زمین پر ہے (رَپچر سے پہلے)، تو شیطان کے حملوں سے کیسے محفوظ رہتی ہے؟
تو برادر برینہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ
دُلہن شیطان سے اپنی طاقت سے نہیں بلکہ "کلام" سے محفوظ رہتی ہے۔
شیطان صرف وہاں اثر ڈال سکتا ہے جہاں کلام نہیں ہوتا۔ دُلہن کلام کی تکمیل ہے، اس لیے دشمن اس تک رسائی نہیں پا سکتا۔
دُلہن "مہر بند" ہوتی ہے (افسیوں 4:30)●
اور خُدا کے پاک رُوح کو رنجِیدہ نہ کرو جِس سے تُم پر مخلصی کے دِن کے لِئے مُہر ہُوئی۔
برادر برینہم فرماتے ہیں کہ مہر بند دُلہن پر شیطان ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ وہ محفوظ ہے جب تک کہ رَپچر کا دن نہ آ جائے۔
دُلہن "روحانی اسلحہ" پہن کر کھڑی ہوتی ہے۔●
سچائی کی کمر، ایمان کی سپر، روح کی تلوار—یہ سب شیطان کے ہر حملے کو روک دیتے ہیں۔
دُلہن شیطان کے آخری جھوٹوں میں نہیں پھنس سکتی۔●
کیونکہ وہ مشرق کی روشنی—یعنی مسیح کے کلام—سے پیدا ہوئی ہے۔
دُلہن "اپنی جگہ" میں رہتی ہے۔●
برادربرینہم فرماتے ہیں “جب دُلہن اپنی پوزیشن میں رہتی ہے، شیطان اُس کے قریب بھی نہیں آ سکتا۔”
یوں، یہ آیت دونوں حقائق کو ظاہر کرتی ہے:
آسمان میں شیطان کا خاتمہ، اور زمین پر اس کی آخری توجہ اسرائیل کی طرف—جبکہ دُلہن پہلے ہی محفوظ مقام (رَپچر) میں ہوتی ہے۔ لیکن رَپچر سے پہلے دُلہن کو کلام، مہر، ایمان اور خدا کی حضوری مکمل تحفظ دیتی ہے۔
مکاشفہ 12باب10تا 12آیات🟦
پھِر مَیں نے آسمان پر سے یہ بڑی آواز آتی سُنی کہ اَب ہمارے خُدا کی نِجات اور قُدرت اور بادشاہی اور اُس کے مسِیح کا اِختیّار ظاہِر ہُؤا کِیُونکہ ہمارے بھائِیوں پر اِلزام لگانے والا جو رات دِن ہمارے خُدا کے آگے اُن پر اِلزام لگایا کرتا ہے گِرا دِیا گیا۔
اور وہ برّہ کے خُون اور اپنی گواہی کے کلام کے باعِث اُس پر غالِب آئے اور اُنہوں نے اپنی جان کو عزِیز نہ سَمَجھا۔ یہاں تک کہ مَوت بھی گوارا کی۔
پَس اَے آسمانو اور اُن کے رہنے والو خُوشی مناؤ! اَے خُشکی اور تری تُم پر افسوس! کِیُونکہ ابلِیس بڑے غُصّہ میں تُمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اِس لِئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔
یہ آیات آسمان میں ہونے والے اس عظیم اعلان کو ظاہر کرتی ہیں جو شیطان کے گرائے جانے کے بعد سنائی دیتا ہے۔ آسمان سے آواز اعلان کرتی ہے کہ اب خدا کی نجات،قدرت، بادشاہی اور مسیح کا اختیار پوری طرح ظاہر ہو گیا ہے، کیونکہ وہ الزام لگانے والا۔جو دن رات خدا کے حضور ایمانداروں پر الزام لگاتا تھا—ہمیشہ کے لیے نیچے پھینک دیا گیا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ اس بات کی نشانی ہے کہ آسمانی فضا دُلہن کے لیے بالکل صاف ہو گئی ہے، کیونکہ دُلہن رَپچر میں اوپر موجود ہے اور اب کسی الزام لگانے والے کی پہنچ میں نہیں رہی۔
آیت 11 بتاتی ہے کہ ایمان والوں نے برّہ کے خون اور اپنی گواہی کے کلام کے وسیلے سے شیطان پر غلبہ پایا—یہ دُلہن کی روحانی فتح کا اصول ہے، کیونکہ دُلہن کبھی اپنی قوت سے نہیں بلکہ خون اور کلام سے غالب آتی ہے۔
آیت 12 دونوں تصویروں کو مخاطب کرتی ہے: آسمان خوشی مناتا ہے کیونکہ دُلہن وہاں محفوظ ہے اور شیطان کی موجودگی ختم ہو چکی۔ لیکن زمین پر افسوس ہے، کیونکہ ابلیس بڑے غضب کے ساتھ زمین پر اُتر آتا ہے، جانتے ہوئے کہ اس کے پاس بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ یہ حصہ براہِ راست اسرائیل سے متعلق ہے، کیونکہ دُلہن زمین پر نہیں بلکہ رَپچر میں ہے، اور شیطان کا آخری غصہ اسرائیل پر ظاہر ہوتا ہے۔ یوں یہ آیات آسمانی خوشی (دُلہن کے لیے) اور زمینی افسوس (اسرائیل کے لیے) دونوں حقیقتوں کو ایک ساتھ پیش کرتی ہیں۔
مکاشفہ 12باب15تا 13آیات🟦
اور جب اژدہا نے دیکھا کہ مَیں زمِین پر گِرا دِیا گیا ہُوں تو اُس عَورت کو ستایا جو بَیٹا جنی تھی۔
اور اُس عَورت کو بڑے عُقاب کے دو پر دِئے گئے تاکہ سانپ کے سامنے سے اُڑ کر بِیابان میں اپنی اُس جگہ پہُنچ جائے جہاں ایک زمانہ اور زمانوں اور آدھے زمانہ تک اُس کی پرورِش کی جائے گی۔
اور سانپ نے اُس عَورت کے پِیچھے اپنے مُنہ سے ندی کی طرح پانی بہایا تاکہ اُس کو اِس ندی سے بہا دے۔
یہ آیات بتاتی ہیں کہ جب اژدہا زمین پر گرا دیا جاتا ہے تو وہ فوراً اُس عورت کو ستانے لگتا ہے جس نے بیٹا جنّیا تھا—یہ بنیادی طور پر اسرائیل ہے، کیونکہ مسیح اسی قوم سے ظاہر ہوا۔ لیکن عورت کی یہ علامت دُلہن کی ایک عکس بھی رکھتی ہے، کیونکہ شیطان ہمیشہ خدا کے بیج کو نشانہ بناتا ہے—چاہے وہ اسرائیل میں ہو یا دُلہن میں۔
عورت کو عقاب کے دو بڑے پر ملتے ہیں تاکہ وہ سانپ کے منہ سے نکلنے والی اس ندی سے بچ سکے اور بیابان میں اُس جگہ پہنچ جائے جو خدا نے اس کی حفاظت کے لیے تیار کی ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ واضح طور پر ساڑھے تین سال کی آخری حفاظت ہے—دانی ایل اور مکاشفہ دونوں میں یہی مدت ہے، جہاں خدا اسرائیل کو دجالی حملوں سے بچاتا ہے۔
لیکن برادر برینہم کے مطابق جب دُلہن ابھی زمین پر ہوتی ہے (رَپچر سے پہلے)، تو “دو پروں” کی روحانی تصویر اُس پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ دُلہن کے لیے یہ دو پر ہیں:
برّہ کا خون ●
کلام کی گواہی ●
“عورت کو دو پر دیے گئے… خدا اسے اپنے طاقتور بازوؤں سے بچاتا ہے۔ یہ اسرائیل کے لیے جسمانی حفاظت ہے، مگر دُلہن کے لیے خون اور کلام کی روحانی حفاظت ہے۔
Sermon: The Sixth Seal (1963), Para 321
یہی دو چیزیں دُلہن کو شیطان کے فریب، حملوں، اور دباؤ سے اوپر اُٹھا دیتی ہیں۔ برینہم کہتے ہیں کہ دُلہن زمین پر رہتے ہوئے بھی شیطان کی ندی—یعنی اس کے جھوٹ، دباؤ، حملوں اور فریب—سے اسی لیے نہیں بہائی جاتی کیونکہ “عقاب کے دو پر” یعنی خون اور کلام اسے اونچا اُٹھا دیتے ہیں۔
سانپ کا عورت کے پیچھے ندی کی طرح پانی بہانا اس بات کی علامت ہے کہ شیطان اسرائیل کو مکمل طور پر مٹانے کے لیے قوموں اور فوجوں کو اُس کے خلاف سیلاب کی طرح کھڑا کرے گا۔ لیکن جیسے خدا دُلہن کو روحانی طور پر محفوظ رکھتا ہے، ویسے ہی اسرائیل کو آخری ساڑھے تین سال میں جسمانی طور پر محفوظ رکھتا ہے۔
یوں یہ آیات دونوں حقیقتوں کو ساتھ ظاہر کرتی ہیں:
ارض پر دُلہن—دو روحانی پروں (خون اور کلام) سے محفوظ؛
مصیبت میں اسرائیل—دو فطری پروں (خدا کی الٰہی حفاظت) کے ذریعے محفوظ۔
مکاشفہ 12باب16تا 17آیات🟦
مگر زمِین نے اُس عَورت کی مدد کی اور اپنا مُنہ کھول کر اُس ندی کو پِی لِیا جو اژدہا نے اپنے مُنہ سے بہائی تھی۔
اور اژدہا کو عَورت پر غُصّہ آیا اور اُس کی باقی اَولاد سے جو خُدا کے حُکموں پر عمل کرتی ہے اور یِسُوع کی گواہی دینے پر قائِم ہے لڑنے کو گیا۔
یہ آیات دکھاتی ہیں کہ جب شیطان عورت—یعنی اسرائیل—کو سیلاب کی طرح بہا دینے کی کوشش کرتا ہے تو زمین خود عورت کی مدد کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا فطری حالات، زمین کی قوتوں یا معجزانہ مداخلت کے ذریعے اسرائیل کو اُس عالمی حملے سے بچا لیتا ہے جو اژدہا نے اس کے خلاف چھوڑا تھا۔ برادر برانہم کے مطابق یہ اس بات کی علامت ہے کہ آخری ساڑھے تین سال میں خدا اسرائیل کی براہِ راست، معجزانہ حفاظت کرے گا، جیسے قدیم زمانے میں زمین کھل کر قورح کے خلاف کھڑی ہوئی تھی۔ یوں اژدہا کی ندی—یعنی قوموں، فوجوں اور سیاسی دباؤ کا سیلاب—اسرائیل کو چھو بھی نہیں پائے گا۔
لیکن جب شیطان دیکھتا ہے کہ عورت (اسرائیل) کو وہ نقصان نہیں پہنچا سکتا، تو وہ اُس کی باقی اولاد کی طرف رخ کرتا ہے—یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے حکموں پر چلتے ہیں اور یسوع کی گواہی پر قائم رہتے ہیں۔ برادر برانہم کہتے ہیں کہ یہ "باقی اولاد" دُلہن نہیں، کیونکہ دُلہن تو رَپچر میں جا چکی ہوتی ہے؛ بلکہ یہ 144,000 یہودی خادمین اور وہ ایماندار ہیں جو مصیبت کے دور میں گواہی دیتے ہیں اور اپنی جانیں بھی قربان کرتے ہیں۔ شیطان کا یہ آخری غصہ زمین پر ظاہر ہوتا ہے، جبکہ دُلہن آسمان میں محفوظ مقام پر ہے اور اسرائیل زمین پر خدا کی معجزانہ حفاظت میں۔ یوں یہ منظر دونوں حقیقتوں کو جمع کرتا ہے
اسرائیل کی حفاظت، دُلہن کی آسمانی سلامتی، اور دشمن کا آخری حملہ اُن باقی لوگوں پر جو مصیبت کے دور میں خدا کی گواہی رکھتے ہیں۔
مکاشفہ 12 — مختصر خلاصہ 🟦
مکاشفہ 12 میں تین مرکزی کردار دکھائے گئے ہیں: عورت، اژدہا، اور نرینہ بچہ۔
عورت بنیادی طور پر اسرائیل ہے، لیکن ساتھ ہی دُلہن کی ایک روحانی تصویر بھی ہے۔ وہ سورج سے ملبوس ہے، بارہ ستارے اس کے تاج ہیں—اس کے پیچھے اسرائیل کے 12 قبائل اور دُلہن کے 12 رسولوں کی تصویر ہے۔
عورت دردِ زہ میں ہے، جو اسرائیل کے تاریخی دکھ اور دُلہن کے روحانی بوجھ دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ نرینہ بچہ جنتی ہے—جسمانی معنوں میں مسیح، اور روحانی معنوں میں کلام کی تجلی جو دُلہن میں ظاہر ہوتی ہے۔ بچہ خدا کے تخت پر اٹھا لیا جاتا ہے، جو مسیح کے صعود اور جلال کی علامت ہے۔
اژدہا۔شیطان۔ابتدا سے عورت کے بیج کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے، اور آخری زمانے میں پھر اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے اٹھتا ہے۔ اسے آسمان سے نکال باہر کیا جاتا ہے، کیونکہ مسیح (بطور میکائیل) اور اس کے فرشتے اسے شکست دیتے ہیں۔ آسمان خوشی مناتا ہے، مگر زمین پر افسوس ہے، کیونکہ شیطان غصے میں نیچے آتا ہے، جانتے ہوئے کہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔
عورت (اسرائیل) بیابان میں 1260 دن تک خدا کی حفاظت میں رہتی ہے۔ زمین اس کی مدد کرتی ہے اور شیطان کے حملے کو نگل لیتی ہے۔ جب دشمن عورت تک نہیں پہنچ سکتا تو وہ باقی اولاد۔یعنی 144,000 یہودی گواہوں اور مصیبت کے ایمانداروں۔کے خلاف جنگ پر جاتا ہے۔ دُلہن اس پورے وقت آسمان میں رَپچر شدہ اور محفوظ رہتی ہے۔
ایک سطر میں مکاشفہ 12 کا خلاصہ:🟦
شیطان اور خدا کے بیج کے درمیان آخری جنگ۔
دُلہن آسمان میں محفوظ، اسرائیل زمین پر محفوظ،
اور شیطان شکست کی طرف بڑھتا ہوا۔
تفسیر مکاشفہ13 باب ۔دو حیوان اور آخری مخالف مسیح حکومت
1مکاشفہ باب13 آیت🟦
اور سَمَندَر کی ریت پر جا کھڑا ہُؤا۔ اور مَیں نے ایک حَیوان کو سَمَندَر میں سے نِکلتے ہُوئے دیکھا۔ اُس کے دس سِینگ اور سات سر تھے اور اُس کے سِینگوں پر دس تاج اور اُس کے سروں پر کُفر کے نام لِکھے ہُوئے تھے۔
حیوان🔹
بائبل میں “حیوان” کسی عام جانور کے لیے نہیں بلکہ ایک ظالمانہ، خدا مخالف سیاسی و حکومتی نظام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ ایسی طاقت کو ظاہر کرتا ہے جو انسانی، جابرانہ اور بےرحم ہو، اور جس میں خدا کی فطرت کے بجائے شیطانی اثر غالب ہو۔ اسی لیے دانی ایل نے بھی سلطنتوں کو “حیوانوں” کی صورت میں دیکھا (دانی ایل 7:3–7)، جہاں ہر حیوان ایک عالمی سلطنت کی نمائندگی کرتا ہے۔ مکاشفہ 13 کا یہ حیوان بھی اسی سلسلے کی آخری اور سب سے خطرناک شکل ہے—یعنی آخری زمانے کا مکلاف مسیح سیاسی نظام جو خدا کے خلاف کھڑا ہوتا ہے اور انسان کو خدا کی جگہ پر بٹھانا چاہتا ہے۔
دانی ایل 7:17 — “یہ بڑے حیوان چار ہیں جو زمین پر چار بادشاہ ہیں۔●
برادر برینہم کے مطابق یہ حیوان آخری زمانے کا سیاسی رومی مخالف مسیح نظام ہے، جو تاریخ میں موجود رہنے کے بعد آخری دنوں میں اپنی پوری قوت کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوتا ہے۔ “سمندر” سے مراد اقوام، قومیں اور سیاسی ہلچل ہے—یعنی یہ طاقت کسی ایک قوم تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست کے ہجوم سے نکل کر سامنے آتی ہے۔ اس کے سات سر رومی طاقت کے مختلف تاریخی ادوار اور اس کے مسلسل تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ دس سینگ آخری زمانے میں دس متحدہ قوموں یا بادشاہوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اس نظام کو عالمی سطح پر قائم کرنے میں مدد دیں گے۔ یہ درندہ محض ایک شخص نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی نظام ہے جو دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔
مکاشفہ باب13 آیت2🟦
اور جو حَیوان مَیں نے دیکھا اُس کی شکل تیندوے کی سی تھی اور پاؤں رِیچھ کے سے اور مُنہ ببر کا سا اور اُس اژدہا نے اپنی قُدرت اور اپنا تخت اور بڑا اِختیّار اُسے دے دِیا۔
یہ آیت مخالف مسیح نظام کی مکمل، مرکب اور عالمی فطرت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ حَیوان کوئی نئی طاقت نہیں بلکہ پچھلی تمام غیرقوموں کی سلطنتوں کا مجموعہ ہے۔
چیتا یونان کی اُس تیز، ذہین اور فلسفیانہ طاقت کی علامت ہے جس نے علم، منطق اور ثقافت کے ذریعے دنیا کو متاثر کیا؛
ریچھ فارس کی سخت، جابرانہ اور فوجی حکمرانی کو ظاہر کرتا ہے جو قوت اور ظلم کے ذریعے سلطنت قائم کرتا تھا؛
اور ببر شیر بابل کی مذہبی دھوکہ دہی، جادوگری اور روحانی آمریت کی تصویر ہے۔
مکاشفہ 13 میں یہ تینوں خصوصیات ایک ہی نظام میں جمع ہو جاتی ہیں، یعنی سیاسی طاقت (فارس)، فکری و ثقافتی اثر (یونان)، اور مذہبی کنٹرول (بابل) سب آخری مخالف مسیح نظام میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ آیت بتاتی ہے کہ اس حَیوان کو اپنی قوت، تخت اور بڑا اختیار اژدہا (شیطان) کی طرف سے ملتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام براہِ راست شیطانی پشت پناہی کے تحت کام کرتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یہ حَیوان دنیا کی تاریخ کا سب سے طاقتور، سب سے فریب دہ اور سب سے خطرناک نظام بن جاتا ہے، کیونکہ اس میں دانی ایل 7 میں دکھائی گئی تمام سلطنتوں کی روح آخری شکل میں موجود ہوتی ہے۔
دانی ایل 7:3–6 — جہاں بابل، فارس اور یونان کی سلطنتیں حیوانوں کی صورت میں دکھائی گئیں، جو مکاشفہ 13 میں ایک ہی حیوان میں جمع ہو جاتی ہیں۔
مکاشفہ باب13 آیت3 🟦
اور مَیں نے اُس کے سروں میں سے ایک پر گویا زخمِ کاری لگا ہُؤا دیکھا مگر اُس کا زخمِ کاری اچھّا ہو گیا اور ساری دُنیا تعّجُب کرتی ہُوئی اُس حَیوان کے پِیچھے پِیچھے ہولی۔
یہ آیت مخالف مسیح رومی نظام کی تاریخی موت اور آخری زمانے میں اس کی حیران کن بحالی کو نہایت گہرے انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “کاری زخم” رومی سیاسی سلطنت کے اُس زوال کی علامت ہے جو 476 عیسوی میں ہوا، جب مغربی روم باضابطہ طور پر ختم ہو گیا اور دنیا نے سمجھ لیا کہ یہ عالمی طاقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ یہ زخم اتنا گہرا تھا کہ انسانی لحاظ سے اس نظام کے دوبارہ اُٹھنے کی کوئی امید باقی نہ رہی۔ مگر مکاشفہ بتاتا ہے کہ یہ زخم اچھا ہو جاتا ہے—یعنی آخری زمانے میں وہی رومی سیاسی روح ایک نئی شکل، نئے اتحاد اور نئے عالمی ڈھانچے کے ساتھ دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ بحالی کسی ایک بادشاہ یا فرد کی نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی نظام کی ہے، جو یورپی اتحاد، عالمی سیاست اور بین الاقوامی طاقت کے ذریعے دوبارہ اثر و رسوخ حاصل کرتا ہے۔ اسی لیے لکھا ہے کہ “ساری دُنیا تعّجُب کرتی ہے”، کیونکہ یہ وہی سلطنت ہے جسے دنیا مردہ سمجھ چکی تھی، مگر اب وہ پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آتی ہے۔ یہ حیرت صرف سیاسی نہیں بلکہ روحانی بھی ہے، کیونکہ اس بحال شدہ نظام کے پیچھے شیطانی قوت کام کر رہی ہوتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہی لمحہ مخالف مسیح نظام کے مکمل ظہور کا نقطۂ آغاز ہے، جہاں روم ایک بار پھر دنیا کی قیادت سنبھالنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے—اور یہی وہ مرحلہ ہے جو اسرائیل کے مصیبت کے دور اور دنیا کی آخری آزمائشوں کی راہ ہموار کرتا ہے۔
مکاشفہ باب13 آیت4 🟦
اور چُونکہ اُس اژدہا نے اپنا اِختیّار اُس حَیوان کو دے دِیا تھا اِس لِئے اُنہوں نے اژدہا کی پرستِش کی اور اُس حَیوان کی بھی یہ کہہ کر پرستِش کی کہ اِس حَیوان کی مانِند کَون ہے؟ کَون اُس سے لڑ سکتا ہے؟
یہ آیت آخری زمانے میں دنیا کی انتہائی روحانی گراوٹ کو نمایاں کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہاں “پرستش” سے مراد صرف مذہبی سجدہ نہیں بلکہ مکمل اطاعت، وفاداری اور اعتماد ہے۔ دنیا اس حیوان کی طاقت، اس کے سیاسی استحکام، معاشی کنٹرول اور فوجی غلبے کو دیکھ کر اس کے سامنے جھک جاتی ہے، اور یوں انجانے میں اُس طاقت کی بھی پرستش کرنے لگتی ہے جو اس کے پیچھے کام کر رہی ہے—یعنی شیطان۔ آیت واضح کرتی ہے کہ حیوان کو اختیار دینے والا خود اژدہا ہے، اس لیے جب لوگ حیوان کی تعریف اور اطاعت کرتے ہیں تو درحقیقت وہ شیطان کی حکمرانی کو قبول کر رہے ہوتے ہیں۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ اس وقت دنیا یہ کہنے لگتی ہے: “کون اس حیوان کی مانند ہے؟ اور کون اس سے لڑ سکتا ہے؟” یعنی انسانیت اسے ناقابلِ شکست، ناگزیر اور واحد عالمی حل سمجھ لیتی ہے۔ یہی مخالف مسیح کا سب سے بڑا فریب ہے—کہ وہ خود کو امن، اتحاد اور بقا کا ضامن ظاہر کرتا ہے، حالانکہ اس کا انجام تباہی ہے۔ اس مرحلے پر دُلہن زمین پر موجود نہیں ہوتی کیونکہ وہ رَپچر میں اٹھا لی گئی ہوتی ہے، اس لیے یہ اجتماعی فریب اس پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ لیکن اسرائیل اور زمین پر رہ جانے والے لوگ اس دباؤ کے مرکز میں آ جاتے ہیں، کیونکہ مخالف مسیح نظام اب پوری قوت کے ساتھ اپنے اقتدار کو نافذ کرتا ہے۔ یوں یہ آیت دکھاتی ہے کہ دُلہن کی غیر موجودگی میں دنیا کس طرح تیزی سے شیطان کی حکمرانی کے سامنے جھک جاتی ہے، اور یہی اسرائیل کے مصیبت کے دور کی شدت کی بنیاد بنتا ہے۔
مکاشفہ باب13 آیات 4 تا 7 🟦
اور بڑے بول بولنے اور کُفر بکنے کے لِئے اُسے ایک مُنہ دِیا گیا اور اُسے بیالِیس مہِینے تک کام کرنے کا اِختیّار دِیا گیا۔
اور اُس نے خُدا کی نِسبت کُفر بکنے کے لِئے مُنہ کھولا کہ اُس کے نام اور اُس کے خَیمہ یعنی آسمان کے رہنے والوں کی نِسبت کُفر بکے۔
اور اُسے یہ اِختیّار دِیا گیا کہ مُقدّسوں سے لڑے اور اُن پر غالِب آئے اور اُسے ہر قبِیلہ اور اُمّت اور اہلِ زبان اور قَوم پر اِختیّار دِیا گیا۔
یہ آیات مخالف مسیح نظام کے عروج اور بے لگام اختیار کے دور کو بیان کرتی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق “اسے اختیار دیا گیا” اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ مخالف مسیح طاقت اپنی قوت خود سے حاصل نہیں کرتی بلکہ خدا کی اجازت سے ایک مقررہ وقت کے لیے اسے کام کرنے دیا جاتا ہے۔ یہ اختیار محدود ہے اور خاص طور پر 42 مہینوں یعنی ساڑھے تین سال تک ہی رہتا ہے۔ یہی وہ مدت ہے جو دانی ایل کی نبوت میں آخری ہفتے کے دوسرے حصے کے طور پر ظاہر کی گئی ہے، اور جسے مکاشفہ میں بار بار دہرایا گیا ہے تاکہ اس وقت کی شدت اور حد بندی واضح ہو جائے۔
اس عرصے میں حیوان خدا کے خلاف کفر بکنے لگتا ہے، خدا کے نام، اس کی حضوری اور آسمانی مقام کی توہین کرتا ہے، اور اپنی حکمرانی کو الٰہی حیثیت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ اسے “مقدسوں” سے لڑنے اور ان پر غالب آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ برادر برینہم نہایت وضاحت سے کہتے ہیں کہ یہاں “مقدس” سے مراد دُلہن نہیں، کیونکہ دُلہن اس وقت رَپچر میں اٹھا لی گئی ہوتی ہے۔ بلکہ یہ مقدس اسرائیل کی قوم،ایک لاکھ چالیس ہزار 144,000 منتخب یہودی خادمین اور وہ ایماندار ہیں جو مصیبت کے دور میں سچائی پر قائم رہتے ہیں۔
یہی وہ وقت ہے جسے برادر برینہم یعقوب کی مصیبت کہتے ہیں—اسرائیل کی تاریخ کا سب سے سخت دور، جب وہ شدید دباؤ، ظلم اور آزمائش سے گزرتا ہے تاکہ آخرکار خدا کی طرف پوری طرح متوجہ ہو۔ مخالف مسیح نظام کا مقصد اسرائیل کو مٹا دینا ہے، مگر خدا اسی مصیبت کے ذریعے اپنی قوم کو صاف کرتا ہے اور انہیں اپنے وعدے کی تکمیل کی طرف لے جاتا ہے۔ یوں یہ آیات دکھاتی ہیں کہ مخالف مسیح طاقت کا یہ خوفناک دور وقتی ہے، محدود ہے، اور بالآخر خدا کے نجاتی منصوبے کی تکمیل کا ذریعہ بنتا ہے۔
مکاشفہ باب13 آیات 8 تا 10 🟦
اور زمِین کے وہ سب رہنے والے جِن کے نام اُس برّہ کی کِتابِ حیات میں لِکھے نہِیں گئے جو بنایِ عالم کے وقت سے ذِبح ہُؤا ہے اُس حَیوان کی پرستِش کریں گے۔
جِس کے کان ہوں وہ سُنے۔
جِس کو قَید ہونے والی ہے وہ قَید میں پڑے گا۔ جو کوئی تلوار سے قتل کرے گا وہ ضرُور تلوار سے قتل کِیا جائے گا۔ مُقدّسوں کے صبر اور اِیمان کا یِہی مَوقع ہے۔
یہ آیات آخری زمانے میں انسانیت کی دو واضح جماعتوں کو سامنے لے آتی ہیں اور برادر برینہم کے مطابق یہ ایک نہایت سنجیدہ روحانی حد بندی ہے۔ آیت بتاتی ہے کہ زمین کے وہ سب رہنے والے جن کے نام برّہ کی کتابِ حیات میں درج نہیں—جو بنائے عالم سے ذبح کیا گیا—وہ مخالف مسیح حیوان کی پرستش کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مخالف مسیح فریب کا شکار وہی ہوں گے جو ازل سے خدا کے انتخاب میں شامل نہیں تھے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ اصل حفاظت نشان، عقل یا طاقت نہیں بلکہ نام کا کتابِ حیات میں ہونا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ دُلہن اس فریب میں نہیں پڑتی، کیونکہ اس کا نام ازل سے برّہ کی کتاب میں لکھا ہے۔
آیت 9 میں “جس کے کان ہوں وہ سُنے” ایک سخت روحانی تنبیہ ہے۔ یہ عام سننے کی بات نہیں بلکہ روحانی سمجھ بوجھ کی دعوت ہے، کیونکہ یہ پیغام صرف اُنہی کے لیے ہے جن کے دل خدا کے کلام کے لیے کھلے ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہ فقرہ ہمیشہ فیصلہ کن سچائی سے پہلے آتا ہے، تاکہ سچے اور جھوٹے میں فرق واضح ہو جائے۔
آیت 10 مصیبت کے دور میں خدا کے عدالتی اصول کو بیان کرتی ہے۔ جو قید کے لیے مقرر ہے وہ قید میں جائے گا، اور جو تلوار سے قتل کرتا ہے وہ تلوار سے قتل کیا جائے گا—یعنی اس وقت خدا کی عدالت براہِ راست اور فوری ہوگی۔ برادر برینہم کے مطابق یہ دُلہن کا وقت نہیں بلکہ مصیبت کے ایمانداروں اور اسرائیل کا دور ہے، جہاں انہیں تلوار اٹھانے یا مزاحمت کرنے کی اجازت نہیں بلکہ صبر اور ایمان پر قائم رہنے کی آزمائش دی جاتی ہے۔ اسی لیے آیت کے آخر میں کہا گیا ہے کہ “مقدسوں کے صبر اور ایمان کا یہی موقع ہے”یہ وہ گھڑی ہے جب ایمان تلوار سے نہیں بلکہ برداشت، وفاداری اور جان کی قربانی کے ذریعے ثابت ہوتا ہے۔
مکاشفہ باب13 آیت11 🟦
پھِر مَیں نے ایک اَور حَیوان کو زمِین میں سے نِکلتے ہُوئے دیکھا۔ اُس کے برّہ کے سے دو سِینگ تھے اور اژدہا کی طرح بولتا تھا۔
دوسرا حیوان🟦
یہ آیت مکاشفہ 13 کے دوسرے اور نہایت خطرناک مرحلے کو ظاہر کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “ایک اَور حَیوان کو زمِین میں سے نِکلتے ہُوئے دیکھا” سے مراد ریاستہائے متحدہ امریکہ (یو ایس اے) ہے۔ “زمین سے نکلنا” اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ طاقت سمندر (اقوام کی افراتفری) سے نہیں بلکہ ایک نسبتاً خالی، منظم اور نئے براعظم سے ابھری—جہاں ابتدا میں مذہبی آزادی، اخلاقی اقدار اور مسیحی اصولوں کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حیوان شروع میں برہ کی مانند دکھائی دیتا ہے، یعنی نرم، بے ضرر، مسیحی اور انسان دوست۔
اس کے دو سینگ برادر برینہم کے مطابق امریکہ کے دو عظیم اصولوں کی علامت ہیں: مذہبی آزادی اور سیاسی آزادی۔ یہ وہی اصول تھے جن کی بنیاد پر یہ قوم قائم ہوئی اور جنہوں نے دنیا بھر کے مظلوموں کو پناہ دی۔ لیکن نبوت یہ بتاتی ہے کہ اگرچہ یہ درندہ شکل میں برہ ہے، مگر بولتا اژدہا کی مانند ہے—یعنی وقت کے ساتھ اس کی زبان، پالیسیاں اور اختیار شیطانی نظام کے تابع ہو جاتے ہیں۔ یہاں “بولنے” سے مراد قوانین بنانا، احکام جاری کرنا اور عالمی اثر و رسوخ استعمال کرنا ہے۔
برادر برینہم واضح کرتے ہیں کہ یہی وہ موڑ ہے جہاں امریکہ جھوٹا نبی کے کردار میں داخل ہوتا ہے۔ یعنی وہ مذہب کے نام پر سیاسی طاقت کو تقدس عطا کرتا ہے اور دنیا کو پہلے حیوان۔رومی مخالف مسیح نظام۔کی طرف جھکنے پر مجبور کرتا ہے۔ یوں یہ درندہ نہ صرف خود بدل جاتا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک عالمی مذہبی–سیاسی اتحاد کی طرف لے جاتا ہے۔ ابتدا میں آزادی کا علمبردار، مگر انجام میں جبر کا آلہ—یہی اس دوسرے حیوان کی اصل نبوتی تصویر ہے۔
مکاشفہ باب13 آیات12 تا 14🟦
اور یہ پہلے حَیوان کا سارا اِختیّار اُس کے سامنے کام میں لاتا تھا اور زمِین اور اُس کے رہنے والوں سے اُس پہلے حَیوان کی پرستِش کراتا تھا جِس کا زخمِ کاری اچھّا ہو گیا تھا۔
اور وہ بڑے بڑے نِشان دِکھاتا تھا۔ یہاں تک کہ آدمِیوں کے سامنے آسمان سے زمِین پر آگ نازِل کر دیتا تھا۔
اور زمِین کے رہنے والوں کو اُن نِشانوں کے سبب سے جِن کے اُس حَیوان کے سامنے دِکھانے کا اُس کو اِختیّار دِیا گیا تھا اِس طرح گُمراہ کر دیتا تھا کہ زمِین کے رہنے والوں سے کہتا تھا کہ جِس حَیوان کے تلوار لگی تھی اور وہ زِندہ ہو گیا اُس کا بُت بناؤ۔
یہ آیات دوسرے حیوان کے اصل کردار اور مشن کو پوری طرح واضح کرتی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق دوسرا حیوان ، یعنی امریکہ، صرف ایک سیاسی طاقت نہیں رہتا بلکہ ایک مذہبی اتھارٹی کے طور پر سامنے آتا ہے جو پہلے حیوان ۔یعنی رومی مخالف مسیح نظام۔کے اختیار کو عملی طور پر نافذ کرواتا ہے۔ “پہلے حیوان کی طرف سے اختیار چلانا” اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اپنی طاقت، اثر و رسوخ اور مذہبی قیادت کو استعمال کرتے ہوئے روم کے نظام کو جائز، مقدس اور ضروری بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یوں سیاسی روم کو مذہبی تقدس کا لبادہ مل جاتا ہے۔
خاص طور پر اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ یہ کام پراٹسٹنٹ امریکن کے ذریعے ہوتا ہے۔ یعنی وہ پروٹسٹنٹ نظام جو ابتدا میں روم کے خلاف کھڑا ہوا تھا، آخرکار اسی کے ساتھ اتحاد کر لیتا ہے۔ یہ اتحاد خالصتاً روحانی نہیں بلکہ مذہبی، سیاسی اور سماجی دباؤ کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے، جس میں لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ عالمی امن، اتحاد اور بقا کا واحد راستہ اسی نظام کی اطاعت ہے۔ “نشان اور عجیب کام” دکھانے کا ذکر اس مذہبی فریب کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے ذریعے دنیا کو قائل کیا جاتا ہے کہ یہ سب خدا کی طرف سے ہے۔
یوں آیت 12–14 ہمیں دکھاتی ہیں کہ مخالف مسیح نظام صرف تلوار یا طاقت سے نہیں بلکہ مذہب کے نام پر دھوکے کے ذریعے غالب آتا ہے۔ امریکہ اس نظام کا ترجمان اور نافذ کرنے والا بن جاتا ہے، اور دنیا کو ایک عالمی مذہبی–سیاسی اتحاد کے تحت لے آتا ہے، جہاں اصل اختیار روم کے پاس اور عملی نفاذ جھوٹے نبی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سچائی اور فریب کا فرق صرف اُنہی پر ظاہر ہوتا ہے جن کی آنکھیں کلام کے نور سے کھلی ہوئی ہیں۔
مکاشفہ باب13 آیت15🟦
اور اُسے اُس حَیوان کے بُت میں رُوح پھُونکنے کا اِختیّار دِیا گیا تاکہ وہ حَیوان کا بُت بولے بھی اور جِتنے لوگ اُس حَیوان کے بُت کی پرستِش نہ کریں اُن کو قتل بھی کرائے۔
یہ آیت مخا لف مسیح نظام کے سب سے خطرناک اور فیصلہ کن مرحلے کو ظاہر کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “حیوان کا بت کی ”یہ کسی ظاہری بت یا تراشے ہوئے مجسمے کا ذکر نہیں بلکہ رومی سیاسی مخالفِ مسیح نظام کی ایک جیتی جاگتی نقل اور عملی خاکہ ہے۔، جو دوسرےحیوان —یعنی مذہبی طاقت (جھوٹے نبی / امریکہ)—کے ذریعے قائم کی جاتی ہے۔ “رُوح پھُونکنے کا اِختیّار” کا مطلب یہ ہے کہ اس سیاسی نظام کو مذہبی اختیار، روحانی جواز اور اخلاقی تقدس عطا کر دیا جاتا ہے، تاکہ وہ صرف حکومت نہ کرے بلکہ ضمیر پر بھی حکم چلائے۔ یوں سیاست اور مذہب مکمل طور پر ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں چرچ اور اسٹیٹ کا اتحاد مکمل ہوتا ہے۔ مذہب سیاست کو مقدس قرار دیتا ہے، اور سیاست مذہب کو نافذ کرتی ہے۔ اس بت کی عبادت سے مراد کسی بت کے سامنے جھکنا نہیں بلکہ اس نظام کی مکمل اطاعت، وفاداری اور اس کے قوانین کو خدا کی مرضی سمجھ کر قبول کرنا ہے۔ جو اس اتحاد کو رد کرتا ہے، اس پر “بغاوت”، “امن دشمنی” یا “مذہبی انتہا پسندی” کا الزام لگا کر اسے سزا دی جاتی ہے، حتیٰ کہ قتل تک۔
یہاں قتل کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ یہ نظام زبردستی ضمیر کو قابو میں لانا چاہتا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ دُلہن کا وقت نہیں، کیونکہ دُلہن پہلے ہی رَپچر میں اٹھا لی گئی ہوتی ہے، بلکہ یہ ظلم اسرائیل اور مصیبت کے ایمانداروں پر ڈھایا جاتا ہے۔ یوں آیت 15 ہمیں ایک ایسی دنیا کی تصویر دکھاتی ہے جہاں ریاست مذہب بن جاتی ہے، مذہب ریاست بن جاتا ہے، اور جو اس “مقدس آمریت” کو قبول نہیں کرتا، وہ زندہ رہنے کا حق کھو دیتا ہے۔ یہی حیوان کے بت کی اصل اور ہولناک حقیقت ہے۔
مکاشفہ باب13 آیات16 تا17 🟦
اور اُس نے سب چھوٹے بڑوں دَولتمندوں اور غرِیبوں۔ آزادوں اور غُلاموں کے دہنے ہاتھ یا اُن کے ماتھے پر ایک ایک چھاپ کرا دِیا۔
تاکہ اُس کے سِوا جِس پر نِشان یعنی اُس حَیوان کا نام یا اُس کے نام کا عدد ہو اَور کوئی خرِید و فروخت نہ کرسکے۔
یہ آیات مخالف مسیح نظام کے سب سے عملی اور سخت پہلو کو نمایاں کرتی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق “نشانِ حیوان” کسی ایک علامت یا مادی مہر تک محدود نہیں بلکہ ایک نظامِ وفاداری ہے، جس کے ذریعے مخالف مسیح لوگوں کی معیشت، تجارت، ملازمت اور روزمرہ زندگی کو اپنے قابو میں لے لیتا ہے۔ “خرید یا فروخت نہ کر سکنے” کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی بنیادی ضروریات—روزی، کاروبار، خوراک اور بقا—سب اس بات سے مشروط ہو جائیں گی کہ وہ مخالف مسیح نظام کے ساتھ مذہبی اور سیاسی وفاداری کا اظہار کرتا ہے یا نہیں۔ یوں یہ نشان انسان کے ہاتھ اور پیشانی پر مہر کی طرح لگتا ہے، یعنی عمل اور سوچ دونوں پر قبضہ۔
یہ دباؤ لوگوں کو تلوار سے نہیں بلکہ بھوک، معاشی تنہائی اور سماجی بائیکاٹ کے ذریعے جھکاتا ہے۔ جو اس نشان کو قبول نہیں کرتا، وہ معاشرے سے کاٹ دیا جاتا ہے اور اسے جینے کا حق مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ آزمائش دُلہن کے لیے نہیں، کیونکہ دُلہن اس وقت زمین پر موجود نہیں ہوتی بلکہ رَپچر میں اٹھا لی گئی ہوتی ہے۔ یہ سخت امتحان دراصل اسرائیل،ایک لاکھ چوالیس ہزار 144,000 یہودی خادمین اور مصیبت کے دور میں رہ جانے والے لوگوں کے لیے ہے، جہاں وفاداری کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔ اس طرح یہ آیات دکھاتی ہیں کہ آخری زمانے میں ایمان صرف زبان سے نہیں بلکہ معاشی قربانی اور عملی ثابت قدمی سے پرکھا جاتا ہے۔
مکاشفہ باب13 آیت 18 🟦
اور اُس نے سب چھوٹے بڑوں دَولتمندوں اور غرِیبوں۔ آزادوں اور غُلاموں کے دہنے ہاتھ یا اُن کے ماتھے پر ایک ایک چھاپ کرا دِیا۔
تاکہ اُس کے سِوا جِس پر نِشان یعنی اُس حَیوان کا نام یا اُس کے نام کا عدد ہو اَور کوئی خرِید و فروخت نہ کرسکے۔
یہ آیات مخالف مسیح نظام کے سب سے عملی اور سخت پہلو کو نمایاں کرتی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق “نشانِ حیوان” کسی ایک علامت یا مادی مہر تک محدود نہیں بلکہ ایک نظامِ وفاداری ہے، جس کے ذریعے مخالف مسیح لوگوں کی معیشت، تجارت، ملازمت اور روزمرہ زندگی کو اپنے قابو میں لے لیتا ہے۔ “خرید یا فروخت نہ کر سکنے” کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی بنیادی ضروریات—روزی، کاروبار، خوراک اور بقا—سب اس بات سے مشروط ہو جائیں گی کہ وہ مخالف مسیح نظام کے ساتھ مذہبی اور سیاسی وفاداری کا اظہار کرتا ہے یا نہیں۔ یوں یہ نشان انسان کے ہاتھ اور پیشانی پر مہر کی طرح لگتا ہے، یعنی عمل اور سوچ دونوں پر قبضہ۔
یہ دباؤ لوگوں کو تلوار سے نہیں بلکہ بھوک، معاشی تنہائی اور سماجی بائیکاٹ کے ذریعے جھکاتا ہے۔ جو اس نشان کو قبول نہیں کرتا، وہ معاشرے سے کاٹ دیا جاتا ہے اور اسے جینے کا حق مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ آزمائش دُلہن کے لیے نہیں، کیونکہ دُلہن اس وقت زمین پر موجود نہیں ہوتی بلکہ رَپچر میں اٹھا لی گئی ہوتی ہے۔ یہ سخت امتحان دراصل اسرائیل،ایک لاکھ چوالیس ہزار 144,000 یہودی خادمین اور مصیبت کے دور میں رہ جانے والے لوگوں کے لیے ہے، جہاں وفاداری کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔ اس طرح یہ آیات دکھاتی ہیں کہ آخری زمانے میں ایمان صرف زبان سے نہیں بلکہ معاشی قربانی اور عملی ثابت قدمی سے پرکھا جاتا ہے۔
جامع خلاصہ — مکاشفہ 13 🟦
مکاشفہ 13 میں شیطان کا مکمل مخالف مسیح نظام دکھایا گیا ہے:
پہلا حیوان سیاسی روم ہے، دوسرا حیوان مذہبی طاقت (امریکہ/جھوٹا مسیح) ہے۔ دونوں مل کر دنیا پر مذہبی، سیاسی اور معاشی کنٹرول قائم کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ 42 مہینوں کے دوران اسرائیل کے مصیبت کے آخری دور میں ہوتا ہے، جبکہ دُلہن اس وقت آسمان میں رَپچر میں محفوظ ہوتی ہے۔ 666 انسان کی آخری بغاوت اور خود کو خدا بنانے کی کوشش کی علامت ہے، جسے خدا آخرکار مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔
تفسیرمکاشفہ باب 14 — دُلہن کی فتح، اسرائیل کی گواہی اور آخری عدالت
مکاشفہ14 باب1اآیت 🟦
پھِر مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ وہ برّہ صِیُّون کے پہاڑ پر کھڑا ہے اور اُس کے ساتھ ایک لاکھ چَوالِیس ہزار شَخص ہیں جِن کے ماتھے پر اُس کا اور اُس کے باپ کا نام لِکھا ہُؤا ہے۔
یہ آیت مصیبت کے دور کے بعد خدا کی فتح اور وفاداروں کی سرفرازی کا منظر پیش کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ واقعہ مصیبت کے عین درمیان کا نہیں بلکہ اس کے بعد کا فاتحانہ اسٹیج ہے، جہاں 144,000 یہودی۔جو مکاشفہ 7 میں مہر کیے گئے تھے—اب برّہ کے ساتھ کھڑے دکھائے گئے ہیں۔ یہ لوگ دُلہن نہیں ہیں، کیونکہ دُلہن تو اس سے پہلے ہی رَپچر میں اٹھا لی گئی تھی؛ بلکہ یہ وہ اسرائیلی گواہ ہیں جنہوں نے مخالف مسیح نظام کے شدید دباؤ میں بھی وفاداری نبھائی۔
“صیہون پہاڑ” یہاں محض زمینی یروشلیم کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ برادر برینہم کے مطابق یہ خدا کی حضوری اور آسمانی مقام کی علامت ہے—یعنی یہ لوگ اب خدا کے خاص تحفظ، قبولیت اور ملکیت میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے ماتھوں پر برّہ اور باپ کا نام ہونا اس بات کی واضح مہر ہے کہ انہوں نے حیوان کا نشان قبول نہیں کیا بلکہ خدا کی مہر پائی۔ یہ مہر نہ صرف حفاظت کی نشانی ہے بلکہ شناخت کی بھی—کہ یہ لوگ کس کے ہیں اور کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یوں آیت 1 ہمیں دکھاتی ہے کہ مخالف مسیح کےظلم کے بعد خدا اپنی وفادار جماعت کو عزت، تحفظ اور فتح کے مقام پر لا کھڑا کرتا ہے، اور برّہ کے ساتھ ان کی وابستگی ہمیشہ کے لیے قائم ہو جاتی ہے۔
مکاشفہ14 باب2تا3آیات 🟦
اور مُجھے آسمان پر سے ایک اَیسی آواز سُنائی دی جو زور کے پانی اور بڑی گرج کی سی آواز تھی اور جو آواز مَیں نے سُنی وہ اَیسی تھی جَیسے بربط نواز بربط بجاتے ہوں۔
وہ تخت کے سامنے اور چاروں جانداروں اور بُزُرگوں کے آگے گویا ایک نیا گِیت گا رہے تھے اور اُن ایک لاکھ چَوالِیس ہزار شَخصوں کے سِوا جو دُنیا میں سے خرِید لِئے گئے تھے کوئی اُس گِیت کو نہ سِیکھ سکا۔
یہ آیت 144,000 کی خاص روحانی پہچان اور تجربے کو مزید واضح کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق آسمان سے آنے والی آواز—جو بہت سے پانیوں اور زور دار گرج کی مانند ہے—خدا کی قدرتی حضوری اور الٰہی منظوری کی علامت ہے۔ اس آواز کے ساتھ جو “نیا گیت” سنائی دیتا ہے، وہ کوئی عام عبادتی نغمہ نہیں بلکہ نجات اور چھٹکارے کا ایسا تجربہ ہے جو صرف انہی لوگوں کو حاصل ہوا جنہوں نے مصیبت کے دور میں مخالف مسیح نظام کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ جیسے دُلہن کے پاس اپنا ایک نیا گیت ہے جو صرف وہی جانتی اور گاتی ہے کیونکہ وہ خاص فضل کے دور سے گزری ہے، بالکل ویسے ہی یہ “نیا گیت” صرف 144,000 یہودی ہی سیکھ سکتے ہیں، کیونکہ ان کا راستہ، آزمائش اور وفاداری منفرد رہی ہے۔
یہ گیت دراصل ان کی ثابت قدمی، قربانی اور خدا کی خاص نجات کا زندہ ثبوت ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ ہر خاص نجات ایک خاص گیت کو جنم دیتی ہے، اور چونکہ یہ لوگ یعقوب کے مصیبت کے دور سے گزر کر خدا کے لیے وفادار ٹھہرے، اس لیے ان کا گیت بھی منفرد ہے۔ یوں یہ منظر ہمیں دکھاتا ہے کہ خدا نہ صرف اپنے لوگوں کو بچاتا ہے بلکہ ان کے دکھ، وفاداری اور قربانی کو ایک دائمی گواہی میں بدل دیتا ہے—ایک ایسا گیت جو ابد تک صرف وہی گا سکتے ہیں جو اس راہ سے گزرے ہیں۔
مکاشفہ14 باب 4آیت 🟦
یہ وہ ہیں جو عَورتوں کے ساتھ آلُودہ نہِیں ہُوئے بلکہ کُنوارے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو بّرہ کے پِیچھے پِیچھے چلتے ہیں۔ جہاں کہِیں وہ جاتا ہے۔ یہ خُدا اور برّہ کے لِئے پہلے پھَل ہونے کے واسطے آدمِیوں میں سے خرِید لِئے گئے ہیں۔
یہ آیت 144,000 کی روحانی پاکیزگی اور غیرمتزلزل وفاداری کو بیان کرتی ہے۔ یہاں “عورتوں سے آلودہ نہ ہونا” جسمانی پاکدامنی کی شرط نہیں بلکہ روحانی بےداغی کا بیان ہے۔ بائبل میں “عورت” اکثر مذہبی نظام یا فرقہ جاتی تنظیم کی علامت ہوتی ہے، اس لیے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ 144,000 کسی مذہبی بابل، مخالف مسیح کے نظام، یا رومی چرچ اور اس کی بیٹیوں کے فریب میں نہیں آئے۔ وہ مذہبی سیاست، انسانی عقائد اور تنظیمی جکڑ بندیوں سے خود کو پاک رکھتے ہیں۔
یہ لوگ خالص یہودی ہیں جن کی آنکھیں شریعت اور نبیوں کے ذریعے کھلتی ہیں، اور وہ اسی بنیاد پر مسیح کو پہچانتے ہیں۔ “برّہ جہاں جاتا ہے اس کے پیچھے چلتے ہیں” اس بات کی علامت ہے کہ انہوں نے سہولت، جان، اور دباؤ—ہر قیمت پر—سچائی کی پیروی کی۔ وہ مخالف مسیح کےنظام کے سامنے جھکنے کے بجائے برّہ کے ساتھ وفادار رہے، اور یہی ان کی شناخت، گواہی اور امتیاز ہے۔
مکاشفہ14 باب 5آیت 🟦
اور اُن کے مُنہ سے کبھی جھُوٹ نہ نِکلا تھا۔ وہ بےعَیب ہیں۔
یہ آیت 144,000 کی گواہی کی خالصتاً سچائی اور بے داغ کردار کو نمایاں کرتی ہے۔ “ان کے منہ میں جھوٹ نہ پایا گیا” سے مراد یہ نہیں کہ وہ کبھی لغزش کا شکار نہیں ہوئے، بلکہ یہ کہ انہوں نے مخالف مسیح کے نظام کے جھوٹ، مذہبی فریب اور سیاسی پروپیگنڈے کو قبول نہیں کیا۔ جب دنیا جھوٹے امن، جھوٹے مسیح اور جھوٹے معجزات کے پیچھے چل رہی تھی، تب یہ لوگ سچائی پر قائم رہے اور اپنے اقرار میں ملاوٹ نہیں آنے دی۔
برادر برینہم کے مطابق یہی وہ گروہ ہے جو آخر زمانے میں اسرائیل کے لیے خالص اور سچی گواہی بنے گا۔ ان کی گواہی کسی فرقہ، تنظیم یا انسانی عقیدے پر مبنی نہیں بلکہ شریعت اور نبیوں کی روشنی میں مسیح کی پہچان پر قائم ہوگی۔ اسی لیے انہیں “بے عیب” کہا گیا ہے۔کیونکہ خدا کی نظر میں ان کی نیت، ان کا کلام اور ان کی وفاداری خالص ٹھہری، اور وہ جھوٹ کے دور میں بھی سچ کے نمائندے بن کر کھڑے رہے۔
اب تین فرشتوں کے پیغامات — عالمی اعلان
مکاشفہ14 باب 6 تا 7آیات🟦
پھِر مَیں نے ایک اور فرِشتہ کو آسمان کے بِیچ میں اُڑتے ہُوئے دیکھا جِس کے پاس زمِین کے رہنے والوں کی ہر قَوم اور قبِیلہ اور اہلِ زبان اور اُمّت کے سُنانے کے لِئے ابدی خُوشخَبری تھی۔
اور اُس نے بڑی آواز سے کہا کہ خُدا سے ڈرو اور اُس کی تمجِید کرو کِیُونکہ اُس کی عدالت کا وقت آ پہُنچا ہے اور اُسی کی عِبادت کرو جِس نے آسمان اور زمِین اور سَمَندَر اور پانی کے چشمے پَیدا کِئے۔
یہ آیات خدا کی طرف سے آخری عالمی انتباہ کو ظاہر کرتی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہاں بیان کی گئی “ابدی انجیل” وہ انجیل نہیں ہے جو کلیسیا کے زمانے میں فضل کے تحت سنائی گئی، بلکہ یہ قوموں کے لیے عدالت سے پہلے کی آخری گواہی ہے۔ اس کا مرکزی پیغام نجات کی دعوت سے زیادہ تنبیہ اور اعلان ہے: “خدا سے ڈرو اور اس کی تمجید کرو، کیونکہ اس کی عدالت کی گھڑی آ پہنچی ہے۔” یعنی اب توبہ کا عام وقت ختم ہو رہا ہے اور دنیا ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ پیغام مخالف مسیح نظام کے عروج کے وقت، پوری دنیا میں پہنچایا جاتا ہے تاکہ کوئی یہ عذر نہ کر سکے کہ اسے خبر نہیں تھی۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ خدا کا انصاف ہے کہ وہ فیصلہ نازل کرنے سے پہلے گواہی ضرور دیتا ہے۔ یہی بات یسوع نے بھی کہی تھی کہ “ اور بادشاہی کی اِس خُوشخَبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قَوموں کے لِئے گواہی ہو۔ تب خاتِمہ ہوگا۔ (متی 24:14)۔
یوں پہلا فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسانیت کے سامنے آخری موقع ہے کہ وہ خدا کی بالادستی کو تسلیم کرے، کیونکہ عدالت کی گھڑی بالکل قریب آ چکی ہے۔
مکاشفہ14 باب 8 آیت🟦
پھِر اِس کے بعد ایک اَور دُوسرا فرِشتہ یہ کہتا ہُؤا آیا کہ گِر پڑا۔ وہ بڑا شہر بابل گِر پڑا جِس نے اپنی حرامکاری کی غضبناک مَے تمام قَوموں کو پِلائی ہے۔
یہ آیت خدا کی طرف سے مذہبی نظام پر حتمی فیصلہ کا اعلان ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “بابل” کسی ایک شہر کا نام نہیں بلکہ ایک مذہبی نظام ہے جس کی جڑیں قدیم بابل سے نکل کر آخرکار رومی کلیسیائی نظام اور اس کی تمام “بیٹیوں” تک پہنچتی ہیں—یعنی وہ تمام مذہبی تنظیمیں جو کلامِ خدا کے بجائے انسانی عقائد، روایات اور سیاسی طاقت کے ساتھ جُڑ چکی ہیں۔ “گر پڑا، گر پڑا” اس بات پر زور دیتا ہے کہ اگرچہ یہ نظام زمین پر بظاہر طاقتور، منظم اور بااثر دکھائی دیتا ہے، لیکن خدا کی نظر میں اس کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کی روحانی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ بابل کا زوال اس لیے یقینی ہے کیونکہ اس نے قوموں کو روحانی زنا سے پلایا—یعنی سچائی کے خالص کلام کو انسانی تعلیمات، سیاست اور طاقت کے ساتھ ملا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اعلان مخالف مسیح نظام کے عروج کے وقت آتا ہے، تاکہ خدا کے لوگ جان لیں کہ جس نظام کو دنیا نجات دہندہ سمجھ رہی ہے وہ دراصل خدا کے حضور پہلے ہی مردہ اور گرا ہوا ہے۔ یوں دوسرا فرشتہ یہ واضح کرتا ہے کہ مذہبی بابل کا انجام طے ہو چکا ہے، اور جو اس کے ساتھ جُڑے رہیں گے وہ بھی اسی فیصلے میں شریک ہوں گے۔
مکاشفہ14 باب 9 تا 11آیات🟦
پھِر اِن کے بعد ایک اَور تِیسرے فرِشتہ نے آ کر بڑی آواز سے کہا کہ جو کوئی اُس حَیوان اور اُس کے بُت کی پرستِش کرے اور اپنے ماتھے یا اپنے ہاتھ پر اُس کی چھاپ لے لے۔
وہ خُدا کے قہر کی اُس خالِص مَے کو پِئے گا جو اُس کے غضب کے پیالہ میں بھری گئی ہے اور پاک فرِشتوں کے سامنے اور برّہ کے سامنے آگ اور گندھک کے عذاب میں مُبتلا ہوگا۔
اور اُن کے عذاب کا دھُواں ابدُالآباد اُٹھتا رہے گا اور جو اُس حَیوان اور اُس کے بُت کی پرستِش کرتے ہیں اور جو اُس کے نام کی چھاپ لیتے ہیں اُن کو رات دِن چَین نہ مِلے گا۔
یہ آیات خدا کی طرف سے سب سے سخت، حتمی اور ناقابلِ نظرانداز وارننگ ہیں۔ تیسرا فرشتہ کوئی نرمی یا رعایت نہیں چھوڑتا بلکہ صاف اور دوٹوک اعلان کرتا ہے کہ جو کوئی حیوان یا اس کے بُت کی پرستش کرے، یا اس کا نشان قبول کرے، وہ خدا کے غضب کے پیالے میں شریک ہوگا۔ یہاں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ نشانِ حیوان کوئی حادثہ، مجبوری یا لاعلمی کا معاملہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی وفاداری ہے—یعنی انسان جان بوجھ کر خدا کے مقابل ایک نظام کا انتخاب کرتا ہے۔
اس انتباہ کے بعد کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ جب یہ پیغام دنیا میں گونجتا ہے تو ہر شخص کے سامنے دو راستے کھل جاتے ہیں: یا تو برّہ کے ساتھ وفاداری، یا حیوان کے ساتھ۔ جو نشان قبول کرتا ہے وہ وقتی سہولت، جان اور معیشت کے بدلے اپنی ابدی قسمت داؤ پر لگا دیتا ہے۔ اسی لیے اس انجام کو “ابدی سزا” کہا گیا ہے، کیونکہ یہ فیصلہ وقتی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ یوں تیسرا فرشتہ انسانیت کے سامنے آخری لکیر کھینچ دیتا ہے—جہاں غیرجانبداری ممکن نہیں رہتی اور ہر شخص کو اپنی وفاداری کا واضح انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
مکاشفہ14 باب 12 تا 13آیات🟦
مُقدّسوں یعنی خُدا کے حُکموں پر عمل کرنے والوں اور یِسُوع پر اِیمان رکھنے والوں کے صبر کا یہی مَوقع ہے۔
پھِر مَیں نے آسمان میں سے یہ آواز سُنی کہ لِکھ! مُبارک ہیں وہ مُردے جو اَب سے خُداوند میں مرتے ہیں۔ رُوح فرماتا ہے بیشک! کِیُونکہ وہ اپنی محنتوں سے آرام پائیں گے اور اُن کے اعمال اُن کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔
یہ دونوں آیات مصیبت کے دور میں رہنے والے خدا کے لوگوں کی روحانی کیفیت اور حقیقی فتح کو واضح کرتی ہیں۔ آیت 12 میں “مقدسوں کا صبر” اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں دُلہن کا ذکر نہیں ہے، کیونکہ دُلہن تو پہلے ہی رَپچر میں اٹھا لی گئی ہوتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہاں اسرائیل کے لوگ اور مصیبت کے دور کے ایماندار مراد ہیں، جن کے لیے نجات کا راستہ طاقت، بغاوت یا سیاسی مزاحمت نہیں بلکہ صبر، ثابت قدمی، ایمان اور خدا کے حکموں پر قائم رہنا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ایمان کو عمل کے ذریعے ثابت کرنا پڑتا ہے۔
آیت 13 میں خدا ان وفاداروں کے لیے ایک عظیم تسلی کا اعلان کرتا ہے: “خداوند میں مرنے والے مبارک ہیں۔ یہ خاص طور پر شہداء کے لیے وعدہ ہے—وہ لوگ جو مخالف مسیح نظام کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی جان دے دیتے ہیں۔ اگرچہ زمین پر وہ شکست خوردہ اور ہارے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، مگر خدا کی نظر میں وہ فاتح ہیں، کیونکہ وہ اپنے کاموں کے بعد آرام پاتے ہیں اور ان کا اجر ان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یوں یہ آیات دکھاتی ہیں کہ خدا کی بادشاہی میں اصل فتح جان بچانے میں نہیں بلکہ وفادار رہنے میں ہے، چاہے اس کی قیمت موت ہی کیوں نہ ہو۔
فصل اور عدالت
مکاشفہ14 باب 14 تا 16آیات🟦
پھِر مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک سفید بادل ہے اور اُس بادل پر آدمزاد کی مانِند کوئی بَیٹھا ہے جِس کے سر پر سونے کا تاج اور ہاتھ میں تیز درانتی ہے۔
پھِر ایک اَور فرِشتہ نے مَقدِس سے نِکل کر اُس بادل پر بَیٹھے ہُوئے سے بڑی آواز کے ساتھ پُکار کر کہا کہ اپنی درانتی چلا کر کاٹ کِیُونکہ کاٹنے کا وقت آ گیا۔ اِس لِئے کہ زمِین کی فصل بہُت پک گئی۔
پَس جو بادل پر بَیٹھا تھا اُس نے اپنی درانتی زمِین پر ڈال دی اور زمِین کی فصل کٹ گئی۔
یہ آیات الٰہی فصل اور منصفانہ جمع کیا جانے کا منظر پیش کرتی ہیں۔🔹
برادر برینہم کے مطابق “ابنِ آدم” کا بادل پر بیٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ مسیح اب عدالت کے اختیار میں ظاہر ہو رہا ہے—یہ وہی ہے جسے دانی ایل نے “ابنِ آدم” کے طور پر دیکھا تھا۔ یہاں بیان کی گئی گندم کی فصل سے مراد دُلہن کا رَپچر نہیں ہے، کیونکہ دُلہن اس سے پہلے ہی اٹھا لی گئی ہوتی ہے؛ بلکہ یہ اُن راستبازوں کی جمعی ہے جو اپنے اپنے زمانوں میں خدا کے لیے وفادار ٹھہرے اور اب خدا کے مقررہ نظام کے تحت جمع کیے جا رہے ہیں۔
خدا ہمیشہ ترتیب اور وقت کے مطابق کام کرتا ہے۔ جیسے قدرتی فصل میں پہلے گندم کاٹ لی جاتی ہے، ویسے ہی یہاں خدا اُن لوگوں کو الگ کرتا ہے جو اس کے ہیں، اس سے پہلے کہ انگوروں کی فصل یعنی بدکاروں پر سخت عدالت نازل ہو۔ اس طرح آیت 14–16 ہمیں دکھاتی ہے کہ خدا کی عدالت اندھی نہیں بلکہ منظم ہے—پہلے راستبازوں کی حفاظت اور جمعی، پھر غضب اور سزا۔ یہ منظر اس بات کی تصدیق ہے کہ خدا ہر ایک کو اس کے وقت اور مقام کے مطابق پورا انصاف دیتا ہے۔
مکاشفہ14 باب 17 تا 20آیات🟦
پھِر ایک اَور فرِشتہ اُس مَقدِس میں سے نِکلا جو آسمان پر ہے۔ اُس کے پاس بھی تیز درانتی تھی۔
پھِر ایک اَور فرِشتہ قُربان گاہ سے نِکلا جِس کا آگ پر اِختیّار تھا۔ اُس نے تیز درانتی والے سے بڑی آواز سے کہا کہ اپنی تیز درانتی چلا کر زمِین کے انگُور کے دَرخت کے گُچھّے کاٹ لے کِیُونکہ اُس کے انگُور بِالکُل پک گئے ہیں۔
اور اُس فرِشتہ نے اپنی درانتی زمِین پر ڈالی اور زمِین کے انگُور کے دَرخت کی فصل کاٹ کر خُدا کے قہر کے بڑے حَوض میں ڈال دی۔
اور شہر کے باہِر اُس حَوض میں انگُور رَوندے گئے اور حَوض میں سے اِتنا خُون نِکلا کہ گھوڑوں کی لگاموں تک پہُنچ گیا اور سولہ سَو فرلانگ تک بہ نِکلا۔
یہ آیات خدا کے غضب کی آخری اور شدید ترین عدالت کو ظاہر کرتی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہاں “انگور کی فصل” سے مراد بدکاروں اور مخالف مسیح نظام کے پیروکاروں پر نازل ہونے والا حتمی فیصلہ ہے۔ انگوروں کو “غضب کے حوض” میں ڈالنا اس بات کی علامت ہے کہ خدا اب رحم کے مرحلے سے گزر کر سخت عدالت کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ منظر براہِ راست ہرمجدون اور قوموں کے خلاف آخری فیصلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
“خون کا بہنا” محض علامتی زبان نہیں بلکہ مخالف مسیح نظام کی مکمل اور فیصلہ کن شکست کو ظاہر کرتا ہے۔جب انسان مسلسل خدا کے فضل کو رد کرتا ہے تو آخرکار وہ خود کو عدالت کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ جو نظام خدا کی جگہ لینے کی کوشش کرتا ہے، وہی نظام خدا کے غضب کے حوض میں کچلا جاتا ہے۔ یوں انگور کی فصل ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خدا کی عدالت یقینی ہے، اور مخالف مسیح طاقتیں چاہے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ دکھائی دیں، ان کا انجام مکمل تباہی اور خاتمہ ہے۔
جامع خلاصہ — مکاشفہ باب 14 🟦
مکاشفہ باب 14، باب 13 میں دکھائے گئےمخالف مسیح کےعروج کا الٰہی جواب ہے۔ یہاں خدا ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ مخالف مسیح نظام عارضی طور پر غالب دکھائی دیتا ہے، مگر آخری فتح خدا ہی کی ہے۔
144,000 یہودی خدا کی مہر کے ساتھ فتح کے مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں، جو اسرائیل کی نجات اور حفاظت کی علامت ہیں۔
تین فرشتوں کے پیغامات دنیا کے لیے آخری وارننگ ہیں: خدا سے ڈرنا، مذہبی بابل کے زوال کو پہچاننا، اور نشانِ حیوان سے بچنا۔
آخر میں فصل کی تصویر بتاتی ہے کہ خدا پہلے راستبازوں کو محفوظ کرتا ہے اور پھر بدکاروں پر سخت عدالت نازل کرتا ہے۔
یوں باب 14 اعلان کرتا ہے کہ بادشاہی، اختیار اور انجام ہمیشہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
تفسیر مکاشفہ باب 15 — سات پیالے: آخری غضب کی تیاری
مکاشفہ باب 15 پوری کتاب کا سب سے مختصر مگر نہایت سنجیدہ باب ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہ باب فیصلے کا اعلان نہیں بلکہ فیصلے سے پہلے کی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں فضل کا دروازہ بند ہو چکا ہے، دُلہن اٹھا لی گئی ہے، اسرائیل اپنی گواہی پا چکا ہے، اور اب صرف خدا کا غضب باقی رہ گیا ہے جو سات کٹوریوں کے ذریعے نازل ہوگا۔
باب 15آیت 1🟦
پھِر مَیں نے آسمان پر ایک اَور بڑا اور عجِیب نِشان یعنی سات فرِشتے ساتوں پِچھلی آفتوں کو لِئے ہُوئے دیکھے کِیُونکہ اِن آفتوں پر خُدا کا قہر ختم ہو گیا ہے۔
یہ آیت اس بات کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ خدا کا منصوبہ اب اپنے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ برادر برینہم کے مطابق “سات فرشتے” وہ الٰہی خادم ہیں جنہیں خدا نے خاص طور پر اپنے غضب کی تکمیل کے لیے مقرر کیا ہے، اور “سات آخری آفتیں” اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اب دنیا کے لیے مزید کوئی مہلت، کوئی انتباہ اور کوئی رعایت باقی نہیں رہی۔ یہ آفتیں سابقہ مہروں یا نر سنگوں کی طرح جزوی یا اصلاحی نہیں بلکہ مکمل، حتمی اور فیصلہ کن ہیں۔
برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ سات آفتیں کلیسیا یا دُلہن کے لیے ہرگز نہیں ہیں، کیونکہ دُلہن تو اس مرحلے سے پہلے ہی رَپچر میں اٹھا لی گئی ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ آفتیں اسرائیل کو توبہ کی طرف بلانے کے لیے بھی نہیں بلکہ مخالف مسیح نظام، اسکے بت، اس کے نشان کو قبول کرنے والوں اور خدا کی کھلی مخالفت کرنے والوں پر نازل ہوتی ہیں۔ لفظ “ پِچھلی /آخری” اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ فیصلے واپس نہیں لیے جائیں گے، نہ ہی ان کے بعد کوئی نیا موقع دیا جائے گا۔ یوں آیت 1 اعلان کرتی ہے کہ خدا کا صبر پورا ہو چکا ہے، اور اب اس کا غضب مکمل انصاف کے ساتھ ظاہر ہونے والا ہے۔
باب 15آیت 2🟦
پِھر مَیں نے شِیشہ کا سا ایک سمُندر دیکھا جِس میں آگ مِلی ہُوئی تھی اور جو اُس حَیوان اور اُس کے بُت اور اُس کے نام کے عدد پر غالِب آئے تھے اُن کو اُس شِیشہ کے سمُندر کے پاس خُدا کی بربطیں لِئے کھڑے ہُوئے دیکھا۔
شیشے کا سمندر اور غالب آنے والے🔹
یہ آیت خدا کے غضب سے پہلے فتح کا ایک عظیم منظر دکھاتی ہے۔ “شیشے کا سمندر” خدا کی پاکیزگی، راست عدالت اور الٰہی تقدس کی علامت ہے—ایسا مقام جہاں کوئی ناپاک چیز کھڑی نہیں ہو سکتی۔ اس سمندر کے کنارے وہ لوگ کھڑے دکھائے گئے ہیں جو حیوان، اس کے بت اور اس کے نشان پر غالب آئے۔ یہ دُلہن نہیں ہے، کیونکہ دُلہن تو اس وقت تک رَپچر میں جا چکی ہوتی ہے؛ بلکہ یہ مصیبت کے دور کے ایماندار اور شہداء ہیں جنہوں نے اپنی جان کی قیمت پر مخالف مسیح نظام کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔
ان لوگوں کے ہاتھوں میں خدا کیربطیں ہونا اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے ان کی وفاداری، صبر اور قربانی کو قبول کر لیا ہے۔ اگرچہ زمین پر وہ ہارے ہوئے، کمزور اور شکست خوردہ دکھائی دیتے تھے، مگر آسمان میں وہ فاتح، معزز اور منظور شدہ ٹھہرے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خدا کے نزدیک اصل فتح طاقت یا تعداد میں نہیں بلکہ وفاداری اور ثابت قدمی میں ہے، اور جو مخالف مسیح نظام کے مقابل کھڑا رہتا ہے وہ آخرکار خدا کے حضور فتح کے مقام پر کھڑا کیا جاتا ہے۔
باب 15آیات 3تا4 🟦
اور وہ خُدا کے بندہ مُوسیٰ کا گِیت اور برّہ کا گِیت گا گا کر کہتے تھے
اَے خُداوند خُدا! قادِرِ مُطلق!
تیرے کام بڑے اور عجِیب ہیں۔
اَے ازلی بادشاہ!
تیری راہیں راست اور درُست ہیں۔
اَے خُداوند! کَون تُجھ سے نہ ڈرے گا؟
اور کَون تیرے نام کی تمجِید نہ کرے گا؟
کیونکہ صِرف تُو ہی قدُّوس ہے
اور سب قَومیں آ کر
تیرے سامنے سِجدہ کریں گی
کیونکہ تیرے اِنصاف کے کام ظاہِر ہو گئے ہیں۔
آیت 3 — “وہ خدا کے خادم موسٰی کا گیت اور برّہ کا گیت گا رہے تھے🔹
یہ آیت نجات کے دو عظیم عہدوں کے ملاپ کو ظاہر کرتی ہے۔ “موسٰی کا گیت” شریعت کے تحت حاصل کی گئی نجات اور دشمن پر فتح کی یاد دلاتا ہے، جیسا کہ اسرائیل نے بحرِ قلزم کے بعد گایا تھا، جبکہ “برّہ کا گیت” فضل، قربانی اور چھٹکارے کی تکمیل کی علامت ہے جو یسوع مسیح کے وسیلہ سے آئی۔ ان دونوں گیتوں کا ایک ساتھ گایا جانا اس بات کا اعلان ہے کہ خدا نے اسرائیل (شریعت کے دور) اور غیر قوموں/فضل کے دور دونوں کے ساتھ اپنے وعدے پورے کر دیے ہیں۔
یہ گیت وہی لوگ گاتے ہیں جو مصیبت کے دور میں وفادار رہے، کیونکہ انہوں نے دونوں سچائیوں کو پہچانا—خدا کی راست عدالت اور اس کی نجات۔ گیت کے الفاظ “تیری راہیں راست اور سچی ہیں” اس بات کی گواہی ہیں کہ اب کوئی شک باقی نہیں رہتا: خدا کے تمام فیصلے درست، منصفانہ اور کامل ہیں۔ یوں آیت 3 اعلان کرتی ہے کہ تاریخ کے تمام ادوار آخرکار ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں—خدا کی راستبازی، اس کی فتح اور اس کی ابدی بادشاہی۔
آیت 4 —یہ آیت خدا کی مطلق بالادستی اور عالمگیر اعتراف کو ظاہر کرتی ہے۔ برادر برینہم کے مطابق یہاں یہ اعلان ہو رہا ہے کہ جب خدا کے فیصلے پوری شدت سے ظاہر ہو جاتے ہیں تو آخرکار قومیں، بادشاہتیں اور نظام سب ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ خدا ہی واحد قدوس، راست اور سچا ہے۔ “تو ہی قدوس ہے” اس بات کی تصدیق ہے کہ خدا کے فیصلے کسی انتقام پر مبنی نہیں بلکہ پاکیزگی اور کامل انصاف پر قائم ہیں۔
اگرچہ قومیں پہلے بغاوت کرتی رہیں، مگر جب خدا کی عدالت ظاہر ہوتی ہے تو وہ جھکنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ “تیری راست عدالتیں ظاہر ہوئیں” کا مطلب ہے کہ اب کسی کے پاس انکار کی گنجائش نہیں رہتی—خدا نے اپنے فیصلوں کو سب کے سامنے کھول دیا ہے۔ یہ آیت دکھاتی ہے کہ انسان شاید فضل کے وقت خدا کو رد کر دے، مگر عدالت کے وقت ہر زبان اقرار کرے گی کہ خدا ہی حق پر تھا۔ یوں آیت 4 خدا کی فتح کا وہ لمحہ ہے جب پوری دنیا مان لیتی ہے کہ اس کی راہیں ہمیشہ راست اور اس کا نام ہی لائقِ جلال ہے۔
باب 15آیت 5 🟦
اِن باتوں کے بعد مَیں نے دیکھا کہ شہادت کے خَیمہ کا مَقدِس آسمان میں کھولا گیا۔
یہ آیت ایک نہایت سنجیدہ اور فیصلہ کن مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ برادر برانہم کے مطابق آسمانی ہیکل کا کھلنا اس بات کا اعلان ہے کہ اب شفاعت کا وقت ختم ہو چکا ہے اور خدا خود عدالت کے عمل میں داخل ہو رہا ہے۔ “گواہی کے خیمہ کی ہیکل” وہ مقام ہے جہاں خدا کی حضوری اور اس کی شریعت کی گواہی موجود ہوتی ہے، اور اس کا کھل جانا ظاہر کرتا ہے کہ اب خدا کے فیصلے خفیہ نہیں بلکہ علانیہ ہونے والے ہیں۔
برادربرینہم سکھاتے ہیں کہ فضل کے زمانے میں ہیکل بند رہتی ہے کیونکہ مسیح شفاعت کر رہا ہوتا ہے، لیکن جب یہ ہیکل کھلتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ برّہ نے شفاعت چھوڑ دی ہے اور اب عدالت جاری ہونے والی ہے۔ یہ لمحہ دُلہن کے اٹھائے جانے، اسرائیل کی گواہی اور مصیبت کے دور کے اختتام کے بعد آتا ہے۔ یوں آیت 5 ہمیں بتاتی ہے کہ اب دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں رحم کی جگہ راست اور کامل انصاف نے لے لی ہے، اور خدا کے فیصلے بغیر کسی تاخیر کے نازل ہوں۔
باب 15آیت 6 تا 8🟦
اور وہ ساتوں فرِشتے جِن کے پاس ساتوں آفتیں تِھیں آب دار اور چمک دار جواہِر سے آراستہ اور سِینوں پر سُنہری سِینہ بند باندھے ہُوئے مَقدِس سے نِکلے۔
اور اُن چاروں جان داروں میں سے ایک نے سات سونے کے پیالے ابدُالآباد زِندہ رہنے والے خُدا کے قہر سے بھرے ہُوئے اُن ساتوں فرِشتوں کو دِئے۔
اور خُدا کے جلال اور اُس کی قُدرت کے سبب سے مَقدِس دُھوئیں سے بھر گیا اور جب تک اُن ساتوں فرِشتوں کی ساتوں آفتیں ختم نہ ہو چُکِیں کوئی اُس مَقدِس میں داخِل نہ ہو سکا۔
یہ آیات خدا کے غضب کے آخری اور ناقابلِ واپسی مرحلے کو مکمل طور پر ظاہر کرتی ہیں۔ آیت 6 میں سات فرشتے ہیکل سے نکلتے ہوئے دکھائے گئے ہیں، جو پاک اور چمکتے ہوئے کتان کے لباس میں ملبوس ہیں—یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو فیصلے وہ لانے جا رہے ہیں وہ بالکل پاک، راست اور منصفانہ ہیں۔ ان کے سینوں پر سُنہری سِینہ بند اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ خدمت خدا کے شاہی اختیار کے تحت انجام دی جا رہی ہے، نہ کہ کسی جذباتی یا انتقامی جذبے سے۔
آیت 7 میں ان سات فرشتوں کو سونے کے پیالے دیئے جاتےہیں جو خدا کے غضب سے بھری ہوئی ہیں۔ برادر برینہم کے مطابق یہ پیالے اس بات کی نشانی ہیں کہ خدا کا صبر مکمل ہو چکا ہے اور اب اس کا غضب پیمانے کے مطابق اور پورا پورا نازل ہونے والا ہے۔ یہ غضب کلیسیا یا دُلہن کے لیے نہیں بلکہ صرف اُن لوگوں اور نظاموں کے لیے ہے جنہوں نے جان بوجھ کر خدا کو رد کیا، حیوان کی پرستش کی اور اس کا نشان قبول کیا۔
آیت 8 میں ہیکل کا دھوئیں سے بھر جانا ایک نہایت سنجیدہ اعلان ہے۔ برادر برینہم سکھاتے ہیں کہ یہ دھواں خدا کے جلال اور قدرت کی علامت ہے، لیکن ساتھ ہی یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ اب کوئی اندر داخل نہیں ہو سکتا۔ یعنی اس وقت کے بعد نہ کوئی دعا، نہ کوئی شفاعت، نہ کوئی توبہ قبول کی جاتی ہے۔ فضل کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو چکا ہے، اور اب جو کچھ ہونے والا ہے وہ صرف اور صرف خدا کا حتمی اور کامل انصاف ہے۔ یوں مکاشفہ باب 15 کا اختتام ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا اب اُس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں فیصلے ٹل نہیں سکتے، اور خدا کی عدالت پوری شدت کے ساتھ نازل ہونے والی ہے۔
خلاصہ — مکاشفہ باب 15🟦
مکاشفہ باب 15 خدا کے غضب کی آخری تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔
دُلہن پہلے ہی اٹھا لی گئی ہے، اسرائیل اپنی گواہی پا چکا ہے، اور مصیبت کے ایماندار فتح کے مقام پر کھڑے ہیں۔ اب صرف سات پیالے باقی ہیں—جو مخالف مسیح نظام اور بدکار دنیا پر نازل ہوں گی۔ یہ باب اعلان کرتا ہے کہ خدا کا صبر ختم ہو چکا ہے، اور اب اس کی عدالت پوری شدت کے ساتھ ظاہر ہونے والی ہے۔
یہ مطالعہ مکاشفہ کی کتاب کا ایک جامع مگر خلاصہ پیشکش ہے۔ چونکہ یہ کتاب نہایت گہری، نبوتی اور روحانی پہلو رکھتی ہے، اس لیے ہر آیت اور ہر علامت میں مزید تفصیل اور گہرائی موجود ہے۔ جہاں ضرورت محسوس ہو، وہاں مزید تشریح، حوالہ جات اور روحانی پہلو شامل کیے جا سکتے ہیں۔
اس تحریر کا مقصد مکمل حتمی تشریح پیش کرنا نہیں بلکہ کلام کی مرکزی سچائیوں کو واضح کرنا ہے۔ قاری کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ ذاتی مطالعہ، دعا اور روح القدس کی راہنمائی کے ذریعے مزید گہرائی حاصل کرے۔
اگر کسی مقام پر مزید وضاحت یا تفصیل کی ضرورت ہو تو آئندہ حصوں میں اسے وسعت دی جا سکتی ہے، کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور مسلسل ظاہر ہونے والا ہے۔
براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں
واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔
✝️ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)
مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج از ہلسنکی فن لینڈ