Resources Word

The Three Pulls: From Signs to the Revealing of the Word -Part1

تین کھچاؤ: نشانات سے کلام کے ظہور تک

حصہ اوّل

برادر ولیم برینہم کی تعلیم کی روشنی میں ایک گہرا مطالعہ

تعارف

بھائی ولیم برینہم کی خدمت کو سمجھتے ہوئے ایک اصطلاح بار بار سامنے آتی ہے: پہلا کھچاؤ، دوسرا کھچاؤ اور تیسرا کھچاؤ۔ یہ تین الگ الگ انجیلیں یا تین مختلف پیغامات نہیں تھے، بلکہ بھائی برینہم کے مطابق یہ ایک ہی خدمت کے مختلف مراحل تھے، جن کے ذریعے خدا لوگوں کی توجہ پہلے نشانات اور معجزات کی طرف کھینچتا ہوا بالآخر کلام کی طرف لے جا رہا تھا۔ اس لیے اس موضوع کو سمجھنے کے لیے صرف معجزات پر رک جانا کافی نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تینوں کھچاؤ کس منزل کی طرف لے جا رہے تھے۔

بھائی برینہم کی آخری تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا مرکزی نقطہ کلام کا کھلنا، بھیدوں کا ظاہر ہونا اور لوگوں کو واپس کلام کی طرف لانا تھا۔ اسی لیے اس مطالعہ کے پہلے حصے میں ہم تینوں کھچاؤ، خیمے کی رویا، تلوار اور سات مہروں کے ساتھ تیسرے کھچاؤ کے تعلق کو دیکھیں گے۔

اس کے بعد حصہ دوم میں ہم اس موضوع کی مزید گہرائی میں جائیں گے، جہاں تیسرے کھچاؤ اور تخلیقی کلام فرمودہ کلام (سپوکن ورڈ)، یسوع مسیح کی خدمت کے تین مراحل، دلہن کے ساتھ اس کے تعلق، اور آخری زمانہ میں حقیقی کلام کی پہچان پر غور کیا جائے گا۔ یوں دونوں حصے مل کر ہمیں اس بنیادی حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں کہ نشان توجہ کھینچ سکتے ہیں، لیکن آخرکار انسان کو کلام کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

“کھچاؤ” کا مطلب کیا ہے؟(Pull)

لفظ “کھچاؤ” کی تصویر ماہی گیری سے آتی ہے۔ بھائی ولیم برینہم نے ایک رویا بیان کی جس میں وہ مچھلی پکڑ رہے تھے اور انہیں بتایا گیا کہ پہلے ایک کھچاؤ ہوگا، پھر دوسرا، اور آخر میں تیسرا کھچاؤ آئے گا۔ بعد میں انہوں نے ان تین مراحل کو اپنی خدمت کے مختلف حصوں سے جوڑا۔ اس تصویر میں ایک گہرا روحانی اصول نظر آتا ہے: نشان انسان کی توجہ کھینچتا ہے، روحانی پہچان دل کی حالت کو ظاہر کرتی ہے، لیکن آخرکار کلام انسان کو فیصلے کے مقام پر لے آتا ہے۔ اسی لیے تین کھچاؤ کو صرف تین معجزاتی تجربات سمجھنا اس تعلیم کو محدود کر دیتا ہے، کیونکہ بھائی برینہم کے مطابق ان کا سفر بالآخر کلام کے کھلنے اور خدا کی آواز کو پہچاننے کی طرف جاتا ہے۔

پہلا کھچاؤ: شفا اور ہاتھ کا نشان

بھائی ولیم برینہم کی ابتدائی خدمت میں الٰہی شفا نمایاں تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب وہ بیمار شخص کا ہاتھ پکڑتے تو ان کے ہاتھ میں ایک خاص جسمانی ردعمل ظاہر ہوتا، جسے وہ بیماری کی موجودگی کی نشانی سمجھتے تھے۔ بھائی برینہم نے اپنی خدمت کے اس ابتدائی مرحلے کو پہلا کھچاؤ قرار دیا۔

اس پہلے کھچاؤ کا بنیادی مقصد صرف بیماری کی نشاندہی کرنا نہیں تھا، بلکہ لوگوں کی توجہ خدا کی قدرت اور اُس پیغام کی طرف کھینچنا تھا جس کی منادی ہو رہی تھی۔ بائبل میں بھی نشانوں کا یہی اصول دکھائی دیتا ہے: “اور اِیمان لانے والوں کے درمیان یہ مُعجِزے ہوں گے۔ ” (مرقس 16:17)۔ نشان خدا کے کام کی گواہی دے سکتا ہے، لیکن نشان بذاتِ خود مکمل پیغام نہیں ہوتا۔

یہی نمونہ موسیٰ کی خدمت میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ خدا نے موسیٰ کو نشان دیے تاکہ بنی اسرائیل جانیں کہ خدا نے اسے بھیجا ہے، لیکن موسیٰ کے ہاتھ کا نشان مصر سے نکلنے کا مکمل پیغام نہیں تھا۔ نشان نے لوگوں کی توجہ اس خُداوند اور اُس کلام کی طرف دلائی جو موسیٰ کے وسیلہ سے ان تک پہنچ رہا تھا۔

اسی طرح بھائی برینہم کی تعلیم میں پہلا کھچاؤ بنیادی طور پر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے والا نشان تھا۔ یہ منزل نہیں بلکہ آگے آنے والی خدمت کے لیے ایک ابتدائی مرحلہ تھا۔ پہلے نشان نے توجہ کھینچی، پھر خدمت مزید گہری ہوئی، کیونکہ خدا کا مقصد صرف لوگوں کو معجزہ دکھانا نہیں بلکہ بالآخر انہیں اپنے کلام کی طرف لانا تھا۔

دوسرا کھچاؤ: دلوں کے بھید جاننا

دوسرے مرحلے میں بھائی ولیم برینہم کی خدمت مزید گہری ہوئی۔ اب معاملہ صرف جسمانی بیماری کی نشاندہی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اجتماعات میں لوگوں کی زندگی کے واقعات، ان کے حالات اور پوشیدہ باتیں بیان کیے جانے لگیں۔ بھائی برینہم نے اپنی خدمت کے اس مرحلے کو دوسرا کھچاؤ کہا اور اسے روحانی پہچان یاڈِسرنمنٹ کی خدمت سے جوڑا۔

بھائی برینہم اس دوسرے کھچاؤ کا بائبلی نمونہ خاص طور پر یسوع مسیح کی خدمت میں دیکھتے تھے۔ سامری عورت سے گفتگو کرتے ہوئے یسوع نے اس کی زندگی کی وہ حقیقت ظاہر کی جو اس نے خود پہلے بیان نہیں کی تھی: “کیونکہ تُو پانچ شوہر کر چُکی ہے” (یوحنا 4:18)۔ اس پر عورت نے جواب دیا: “اے خداوند! مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تو نبی ہے” (یوحنا 4:19)۔ اس پوشیدہ حقیقت کے ظاہر ہونے نے عورت کی توجہ یسوع کی طرف مبذول کی۔

اسی طرح نتن ایل کے واقعہ میں یسوع نے اسے دیکھ کر اس کے کردار کے بارے میں بات کی اور پھر فرمایا کہ “اس سے پہلے کہ فلپس نے تجھے بلایا، جب تو انجیر کے درخت کے نیچے تھا، میں نے تجھے دیکھا” (یوحنا 1باب47-48)۔ نتن ایل اس بات سے متاثر ہوا اور اس نے یسوع کو خدا کا بیٹا اور اسرائیل کا بادشاہ تسلیم کیا (یوحنا 1:49)۔ بھائی برینہم ان واقعات کو اس اصول کی مثال سمجھتے تھے کہ خدا انسان کے ظاہر ہی کو نہیں بلکہ اس کی پوشیدہ حالت کو بھی جانتا ہے۔

اسی بنیاد پر بھائی برینہم نے دوسرے کھچاؤ کو دلوں اور زندگی کے بھید ظاہر ہونے کے مرحلے سے جوڑا۔ پہلے کھچاؤ میں جسمانی بیماری سے متعلق نشان نے لوگوں کی توجہ کھینچی، جبکہ دوسرے کھچاؤ میں توجہ انسان کی اندرونی حالت اور روحانی پہچان کی طرف بڑھی۔ لیکن بھائی برینہم کی تعلیم میں یہ بھی آخری منزل نہیں تھی، کیونکہ ان کے مطابق خدمت کو بالآخر تیسرے کھچاؤ اور کلام کے زیادہ گہرے کھلنے کی طرف بڑھنا تھا۔

پہلے اور دوسرے کھچاؤ میں ایک خطرہ

بھائی برینہم نے پہلے اور دوسرے کھچاؤ کے سلسلے میں ایک اہم خطرے کی طرف توجہ دلائی، اور وہ تھا نقل(اِمِٹیشن)۔ جب خدا کسی نشان یا روحانی نعمت کے ذریعے کام کرتا ہے تو لوگ بعض اوقات اس کے ظاہری طریقۂ کار کو دیکھ کر وہی کام دہرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن خدا کے کام کی ظاہری صورت نقل کی جا سکتی ہے، اس کا اصل سرچشمہ نہیں۔بھائی برینہم کے نزدیک نشان کا مقصد لوگوں کو نشان دکھانے والے انسان پر روکنا نہیں بلکہ خدا اور اُس کے کلام کی طرف متوجہ کرنا تھا۔

اس کی ایک واضح مثال موسیٰ اور مصر کے جادوگروں میں ملتی ہے۔ جب موسیٰ اور ہارون نے فرعون کے سامنے نشان دکھایا تو مصر کے جادوگروں نے بھی بعض ابتدائی نشانوں کی مشابہت پیدا کی (خروج 7:10-12، 22)۔ لیکن ایک مقام پر وہ آگے نہ بڑھ سکے اور انہیں کہنا پڑا: “یہ خدا کی قدرت ہے” (خروج 8باب18-19)۔ اس واقعہ سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے کہ کسی نشان کی ظاہری مشابہت پیدا ہوجانا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔

اسی طرح اعمال کی کتاب میں شمعون جادوگر نے دیکھا کہ رسولوں کے وسیلہ سے روح القدس کی قدرت ظاہر ہو رہی ہے تو اس نے یہ اختیار حاصل کرنے کے لیے پیسے پیش کیے۔ پطرس نے اسے سختی سے روکا (اعمال 8باب18-23)۔ یہاں مسئلہ یہ تھا کہ شمعون خدا کی قدرت کو ایک ایسی صلاحیت سمجھ رہا تھا جسے انسان حاصل کرکے اپنے اختیار میں استعمال کرسکتا ہے۔ لیکن روحانی نعمت کوئی انسانی تکنیک نہیں جسے دیکھ کر سیکھ لیا جائے۔

ایک اور مضبوط مثال سکوا کے سات بیٹوں کی ہے۔ انہوں نے پولس کی خدمت میں یسوع کے نام کی قدرت دیکھی اور اسی طریقے کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا: “جِس یِسُوع کی پولُس منادی کرتا ہے مَیں تُم کو اُسی کی قَسم دیتا ہُوں۔ (اعمال 19باب13-16)۔ الفاظ وہی تھے، لیکن ان کے پیچھے وہ حقیقی روحانی اختیار نہیں تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بدروح نے جواب دیا: میں اُن سے کہا کہ یِسُوع کو تو مَیں جانتی ہُوں اور پولُس سے بھی واقِف ہُوں مگر تُم کون ہو؟ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ صرف الفاظ، انداز یا طریقہ نقل کرلینا حقیقی روحانی خدمت پیدا نہیں کرتا۔

اسی پس منظر میں بھائی برینہم نے اپنی ماہی گیری کی رویا بیان کی۔ ان کے بیان کے مطابق انہیں دکھایا گیا کہ مچھلی پکڑنے کے لیے کھچاؤ کس طرح کرنا ہے، لیکن جب انہوں نے دوسروں کو اس کا طریقہ سمجھانے اور دکھانے کی کوشش کی تو ڈوری الجھ گئی۔ انہوں نے اس منظر کو اپنی خدمت کے لیے ایک سبق کے طور پر سمجھا کہ خدا جس کام کو اپنے مخصوص طریقے سے کرتا ہے، اسے انسان کسی فارمولے، تکنیک یا قابلِ نقل نظام میں تبدیل نہ کرے۔

یہی بات تیسرے کھچاؤ کو سمجھنے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔بھائی برینہم کے بیان کے مطابق انہیں اس مرتبہ ہدایت دی گئی کہ “اسے سمجھانے کی کوشش نہ کرنا۔” پہلے دو کھچاؤ کے ظاہری پہلو لوگوں کو دکھائی دیتے تھے، اس لیے ان کی نقل کرنے کی کوشش ممکن تھی۔ لیکن تیسرے کھچاؤ کے متعلق زور کسی انسانی تکنیک پر نہیں بلکہ خدا کے اپنے کام اور کلام کے کھلنے پر تھا۔

آخری زمانہ کے تناظر میں یہ بات مزید سنجیدہ ہوجاتی ہے، کیونکہ یسوع نے خبردار کیا کہ ایسے نشان بھی ظاہر ہوسکتے ہیں جو لوگوں کو متاثر کریں (متی 24:24) کِیُونکہ جھُوٹے مسِیح اور جھُوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور اَیسے بڑے نِشان اور عجِیب کام دِکھائیں گے کہ اگر مُمِکن ہو تو برگُزِیدوں کو بھی گُمراہ کرلیں۔ اس لیے ایماندار کی آخری کسوٹی صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ “کیا کوئی نشان ہوا؟” بلکہ یہ بھی کہ “کیا یہ خدا کے کلام کے مطابق ہے؟” نشان کی نقل ہوسکتی ہے، مذہبی انداز کی نقل ہوسکتی ہے، حتیٰ کہ الفاظ کی بھی نقل ہوسکتی ہے، لیکن اصل اور نقل کے درمیان فیصلہ آخرکار کلام کرتا ہے۔

خیمے کی رویا اور تیسرا کھچاؤ

تیسرے کھچاؤ کو سمجھنے میں بھائی برینہم کی بیان کردہ بڑے خیمے کی رویا (ٹینٹ وژن)خاص اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ایک بہت بڑا اجتماع دیکھا جہاں لوگ جمع تھے، منادی ہو رہی تھی اور دعا کے لیے قطار بنائی جا رہی تھی۔ پھر انہوں نے خیمے کے اندر یا اس کے ایک حصے میں ایک چھوٹا سا کمرہ دیکھا۔ ان کے بیان کے مطابق وہ نور، جسے وہ خداوند کے فرشتے کی موجودگی سے منسوب کرتے تھے، اس کمرے کی طرف گیا اور انہیں بتایا گیا: “میں تم سے وہاں ملوں گا” اور یہ کہ “یہ تیسرا کھچاؤ ہوگا۔” یوں بھائی برینہم نے اس رویا کو اپنی خدمت کے ایک ایسے مرحلے سے جوڑا جو پہلے دو کھچاؤ سے مختلف نوعیت رکھتا تھا۔

اس رویا کی ایک اہم بات یہ تھی کہ بھائی برینہم کے مطابق تیسرا کھچاؤ “عوامی نمائش” (پبلک شو)نہیں ہونا تھا۔ پہلے دو کھچاؤ کے ظاہری پہلو لوگوں کے سامنے دیکھے جا سکتے تھے، اس لیے ان کی نقل یا انہیں ایک طریقۂ کار بنانے کا امکان موجود تھا، لیکن تیسرے کھچاؤ کے بارے میں انہیں اسے ظاہر کرکے سمجھانے سے منع کیا گیا۔ اس لیے بھائی برینہم کی تعلیم میں تیسرا کھچاؤ کسی روحانی تحفے کی نمائش سے زیادہ خدا کی براہِ راست کارروائی، اُس کی حضوری اور کلام کے گہرے کام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

تیسرا کھچاؤ اور کلام

بھائی برینہم کی بعد کی تعلیمات میں تیسرے کھچاؤ کا سب سے نمایاں پہلو کلام کا کھلنا بن جاتا ہے۔ پہلے کھچاؤ میں شفا اور نشان نمایاں تھے، دوسرے میں روحانی پہچان اور لوگوں کے بھید ظاہر ہونے پر زور تھا، لیکن تیسرے مرحلے میں توجہ کسی ظاہری نشان سے بڑھ کر خدا کے کلام اور اس میں پوشیدہ بھیدوں کے ظاہر ہونے کی طرف منتقل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اس لحاظ سے تیسرا کھچاؤ صرف قدرت کے ایک بڑے مظاہرے کا نام نہیں بلکہ کلام کی گہرائی میں داخل ہونے سے بھی متعلق ہے۔

25 جولائی 1965 کے پیغام :آخری زمانہ کے مسح شدہ لوگ،میں بھائی ب برینہم نے اپنی خدمت کے ان مراحل کا خلاصہ کرتے ہوئے پہلے کھچاؤ کو شفا، دوسرے کو نبوت اور دلوں کے بھید جاننے اور تیسرے کو کلام کے کھلنے اور بھیدوں کے ظاہر ہونے سے جوڑا۔ یہ وضاحت خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہاں بھائی برینہم خود تیسرے کھچاؤ کی توجہ کسی ایک ظاہری معجزے پر نہیں بلکہ کلام کے مکاشفہ پر لے جاتے ہیں۔

یہ بات ہمیں تیسرے کھچاؤ کو صرف مستقبل میں ہونے والے کسی غیر معمولی معجزے تک محدود کرنے سے بھی روکتی ہے۔ بھائی برینہم کی اپنی وضاحت کو سامنے رکھا جائے تو تیسرے کھچاؤ کا ایک اہم پہلو ان کی خدمت کے دوران ہی کلام کے بھیدوں کے کھلنے سے متعلق تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے تیسرے کھچاؤ کے ہر پہلو کو مکمل طور پر ظاہر کردیا تھا، بلکہ یہ کہ اس کی بنیادی سمت کو سمجھنے کے لیے کلام کو مرکز میں رکھنا ضروری ہے۔

یہاں ایک گہرا روحانی اصول سامنے آتا ہے: نشان انسان کی توجہ حاصل کرسکتا ہے اور روحانی پہچان اسے حیران کرسکتی ہے، لیکن آخرکار کلام انسان کے ایمان کو آزماتا اور اسے فیصلہ کے مقام پر لاتا ہے۔ اسی لیے بھائی برینہم کی تعلیم میں تیسرے کھچاؤ کا مرکز محض یہ نہیں رہتا کہ خدا کیا معجزہ کرسکتا ہے، بلکہ یہ سوال زیادہ اہم ہوجاتا ہے کہ خدا اپنے کلام کے ذریعے کیا ظاہر کر رہا ہے، اور کیا انسان اُس ظاہر شدہ کلام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟

تلوار اور کلام

تیسرے کھچاؤ کے سلسلے میں بھائی برینہم نے (سبینو کینین ) میں پیش آنے والا ایک تجربہ بھی بیان کیا، جہاں ان کے مطابق ایک تلوار ان کے ہاتھ میں ظاہر ہوئی اور انہوں نے اس واقعہ کو “بادشاہ کی تلوار” سے جوڑا۔ اس واقعہ کی اہمیت کو وہ محض ایک غیر معمولی نشان تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے کلام کے ساتھ مربوط کرتے تھے۔ بائبل بھی تلوار کو خدا کے کلام کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہے: رُوح کی تلوار جو خُدا کا کلام ہے لے لو۔(افسیوں 6:17)، اور عبرانیوں 4:12 کہتی ہے:کِیُونکہ خُدا کا کلام زِندہ اور مؤثّر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زِیادہ تیز ہے ۔ اس طرح تلوار کی تصویر دوبارہ توجہ انسان یا ظاہری نشان سے ہٹا کر خدا کے زندہ اور مؤثر کلام کی طرف لے جاتی ہے۔

تیسرے کھچاؤ کے تناظر میں یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اگر اس کا مرکزی تعلق کلام کے کھلنے اور بھیدوں کے ظاہر ہونے سے ہے تو مقصد صرف یہ ثابت کرنا نہیں کہ خدا غیر معمولی کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ خدا اس زمانے کے لیے اپنے کلام میں کیا ظاہر کر رہا ہے؟ نشان توجہ کھینچ سکتا ہے، لیکن کلام راستہ دکھاتا اور انسان کو فیصلہ کے مقام تک لے جاتا ہے۔ اسی لیے تیسرے کھچاؤ کو سمجھتے وقت تلوار کی علامت ہمیں پھر اسی مرکز کی طرف واپس لاتی ہے: خدا کا کلام، جو زندہ ہے، دل کو پرکھتا ہے اور اپنے وقت کے لیے خدا کے مقصد کو ظاہر کرتا ہے۔

تیسرا کھچاؤ اور سات مہریں

1963 میں سات مہروں (سیون سیلز)کی منادی کے دوران بھائی برینہم نے تیسرے کھچاؤ کو ایک نہایت اہم مقام پر ساتویں مہر کے راز کے ساتھ جوڑا۔ (دی سیونتھ سیل)ساتویں مہر کے پیغام میں انہوں نے اپنی پہلے بیان کردہ ماہی گیری کی رویا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تیسرا کھچاؤ سامنے آ رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں تیسرے کھچاؤ کا تعلق صرف شفا یا کسی ظاہری نشان سے نہیں بلکہ کلام کے گہرے بھیدوں کے کھلنے سے بھی تھا۔

تاہم ساتویں مہر کے بارے میں بھائی برینہم نے ایک واضح حد قائم کی۔ انہوں نے اس کے بعض پہلوؤں پر گفتگو کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا کہ اس راز کا ایک حصہ ایسا ہے جسے وہ کھول کر بیان نہیں کر رہے تھے۔ اس لیے ساتویں مہر اور تیسرے کھچاؤ کو مکمل طور پر ایک ہی چیز قرار دینا ان کے بیانات سے زیادہ آگے جانے کا خطرہ رکھتا ہے۔

یہ احتیاط خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ بھائی برینہم نے تیسرے کھچاؤ کے کچھ پہلوؤں کو کلام کے کھلنے، بھیدوں کے ظاہر ہونے اور اپنی خدمت کے مخصوص تجربات سے جوڑا، لیکن ہر تفصیل کی مکمل تشریح نہیں کی۔ جو بات ظاہر کی گئی اسے قبول کرنا اور جس بات کو راز میں رکھا گیا اس کے بارے میں قیاس آرائی سے بچنا، اس موضوع کو سمجھنے کا زیادہ محتاط طریقہ ہے۔

اس لیے تیسرے کھچاؤ اور ساتویں مہر کے تعلق کو سمجھتے ہوئے ایک توازن ضروری ہے: کچھ حصہ ظاہر کیا گیا، جبکہ کچھ حصہ راز میں رکھا گیا۔ استثنا 29:29 کا اصول یہاں مناسب یاد دہانی ہے: “ غیب کا مالک تو خداوند ہمارا خدا ہی ہے پر جو باتیں ظاہر کی گئی ہیں و ہ ہمیشہ تک ہمارے اور ہماری اولاد کے لیے ہیں ۔” لہٰذا ہماری توجہ قیاس آرائی پر نہیں بلکہ اس کلام پر ہونی چاہیے جو ظاہر کیا گیا ہے۔

بھائی برینہم نے بھی اسی طرف احتیاط دلائی۔ ساتویں مہر میں تیسرے کھچاؤ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے سمجھانے کی کوشش نہ کی جائے، اور پھر بتایا کہ اس سے متعلق ایک بات ایسی ہے جس کی وہ تشریح نہیں کرسکتے۔ اسی پیغام میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک خاص مقام پر رکنے کے لیے روکے گئے:
“STOP! Go no further than this right here.”

اس لیے جہاں خدا نے بات ظاہر کی وہاں اسے قبول کرنا، اور جہاں راز رکھا گیا وہاں قیاس آرائی سے رک جانا، زیادہ محفوظ رویہ ہے۔

تیسرا کھچاؤ اور تخلیقی کلام

بھائی برینہم نے بعض غیر معمولی واقعات کو بھی تیسرے کھچاؤ کے ساتھ جوڑا، جن میں خاص طور پر گلہریوں کے ظاہر ہونے کا ان کا بیان مشہور ہے۔بھائی برینہم کی اپنی وضاحت کے مطابق یہاں معاملہ صرف کسی بیمار کے لیے دعا کرنے کا نہیں تھا، بلکہ کلام بولا گیا اور پھر وہ بات واقع ہوئی۔ اسی وجہ سے انہوں نے ایسے تجربات کو تیسرے کھچاؤ کے ایک پہلو کے طور پر بیان کیا۔

یہ تصور بائبل کے ابتدائی اصول کی یاد دلاتا ہے: “اور خدا نے کہا...اور ایسا ہی ہوا” (پیدائش 1)۔ اسی طرح زبور 33:9 میں لکھا ہے: “ کیونکہ اُس نے حُکم دِیا اور واقع ہوا۔ اُس نے حکم دیا اور قائم ہو گیا۔تاہم یہاں ایک اہم فرق قائم رکھنا ضروری ہے کہ بائبل کے مطابق اصل خالق اور قدرت کا سرچشمہ ہمیشہ خدا ہی ہے۔ انسان اپنی ذاتی قدرت سے تخلیق کرنے والا نہیں بن جاتا۔

اس لیے بھائی برینہم کے بیان کردہ واقعات کو ان کی تعلیم کے مطابق سمجھتے ہوئے زور انسان کی قدرت پر نہیں بلکہ خدا کے فرمودہ کلام (سپوکن ورڈ) پر رہتا ہے۔ وہ ان واقعات کو اپنی آزاد ذاتی قوت کے طور پر نہیں بلکہ خدا کی قدرت کی کارروائی کے طور پر پیش کرتے تھے۔ تیسرے کھچاؤ کا مرکز بھی یہی اصول سامنے لاتا ہے: انسان نہیں بلکہ خدا، انسانی قوت نہیں بلکہ خدا کی قدرت، اور انسانی کلام نہیں بلکہ خدا کا کلام۔

حصہ اوّل کا اختتام

تین کھچاؤ کی اس تعلیم میں ہم ایک واضح سفر دیکھتے ہیں۔ پہلے کھچاؤ میں شفا کے نشان نے لوگوں کی توجہ کھینچی، دوسرے کھچاؤ میں دلوں کے بھید ظاہر ہوئے، اور تیسرے کھچاؤ میں توجہ زیادہ گہرائی کے ساتھ کلام اور اُس کے بھیدوں کی طرف منتقل ہونے لگی۔ یوں نشان منزل نہیں تھا بلکہ انسان کو کلام کے سامنے لانے کا ایک ذریعہ تھا۔

خیمے کی رویا، تلوار کی علامت اور سات مہروں کے ساتھ تیسرے کھچاؤ کا تعلق ہمیں ایک اہم مقام تک لے آتا ہے۔ بھائی برینہم کے اپنے بیانات میں اس موضوع کا کچھ حصہ ظاہر کیا گیا، جبکہ کچھ ایسا بھی تھا جسے انہوں نے کھول کر بیان نہیں کیا۔ اسی لیے یہاں احتیاط ضروری ہے کہ ہم اُس بات سے آگے نہ جائیں جو بیان کی گئی ہے۔

لیکن یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: اگر تیسرے کھچاؤ کا مرکز کلام تھا، تو “فرمودہ کلام (سپوکن ورڈ)” یا تخلیقی کلام کے وہ غیر معمولی واقعات اس کے ساتھ کیسے جڑتے ہیں؟ اور اس کا دلہن اور آخری زمانہ سے کیا تعلق ہے؟

حصہ دوم میں آگے...

حصہ دوم میں ہم تیسرے کھچاؤ اور تخلیقی کلام سے آغاز کریں گے۔ گلہریوں کے واقعہ، فرمودہ کلام (سپوکن ورڈ)، یسوع مسیح کی خدمت کے تین مراحل، دلہن اور کلام کے تعلق، اور اس سوال کا مطالعہ کریں گے کہ کیا تیسرا کھچاؤ مکمل ہوچکا تھا یا اس کے بعض پہلو ابھی راز میں رکھے گئے تھے؟

آخرکار یہ مطالعہ ہمیں ایک نہایت اہم آخری زمانہ کے سوال تک لے جائے گا: جب نشان اور عجیب کام نقل بھی کیے جا سکتے ہیں، تو دلہن حقیقی آواز کو کیسے پہچانے گی؟

جاری ہے...

حصہ دوم: “تیسرا کھچاؤ، تخلیقی کلام، دلہن اور آخری زمانہ”

ماخذ اور حوالہ جات

اس مضمون کی تیاری میں بائبل مقدس اور برادر ولیم میرین برینہم کے اصل ریکارڈ شدہ پیغامات کو بنیادی ماخذ بنایا گیا ہے۔ اہم پیغامات میں
Speak To This Mountain (59-1123)، The Seventh Seal (63-0324E)، Standing In The Gap (63-0623M)، Souls That Are In Prison Now (63-1110M)، Look Away To Jesus (63-1229E)، The Voice Of The Sign (64-0313) اور The Anointed Ones At The End Time (65-0725M)
شامل ہیں۔ بھائی برینہم کے پیغامات کے حوالہ جات کی تصدیق کے لیے
Voice of God Recordings (Branham.org)
کے اصل آڈیو اور دستیاب
transcripts
کو ترجیح دی گئی ہے۔

براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔

✝️
جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)

مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج
از ہلسنکی فن لینڈ

2 thoughts on “The Three Pulls: From Signs to the Revealing of the Word -Part1”

Leave a Comment