دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ صرف دو فریقوں تک محدود نہیں رہی۔ اسرائیل، ایران، حوثی، سعودی عرب اور مختلف علاقائی قوتیں ایک پیچیدہ کشمکش کا حصہ بن چکی ہیں۔ ستمبر 2026 میں سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان بھی براہِ راست حملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ یمن میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔
یہ حالات دیکھ کر کلامِ مقدس کے دو حصے خاص طور پر ہماری توجہ کھینچتے ہیں: 2 تواریخ 20 اور متی 24۔
موجودہ حالات وہ واقعات ہیں جو آج ہماری آنکھوں کے سامنے پیش آ رہے ہیں۔ ہم انہیں بائبل کی نبوت کی روشنی میں دیکھ اور پرکھ سکتے ہیں، لیکن ہر جنگ یا سیاسی تبدیلی کے بارے میں فوراً یہ کہنا درست نہیں کہ “یہ فلاں نبوت کی قطعی تکمیل ہے” جب تک کلام خود اس تعلق کو واضح نہ کرے۔
اسی طرح 2 تواریخ 20 بنیادی طور پر یہوسفط کے زمانے کا ایک حقیقی تاریخی واقعہ ہے، جس میں یہوداہ کے دشمن آپس میں لڑ پڑے۔ آج اگر اسرائیل کے مخالف گروہ یا علاقائی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف لڑتی ہیں تو یہ واقعہ ہمیں 2 تواریخ 20 کے بائبلی نمونے کی یاد دلا سکتا ہے، لیکن ہمیں اسے براہِ راست اسی واقعہ کی نبوت قرار نہیں دینا چاہیے۔
برادر برینہم بھی زمانہ کے نشانات کو کلام کی روشنی میں دیکھنے پر زور دیتے تھے۔ اس لیے صحیح ترتیب یہ ہے: پہلے کلام، پھر موجودہ واقعات کو کلام کی روشنی میں پرکھنا۔ ہمیں خبروں کو بائبل پر مسلط نہیں کرنا بلکہ بائبل کی روشنی میں خبروں کو سمجھنا ہے۔
یوں ہم سنسنی یا قیاس سے بچتے ہوئے جاگتے بھی رہتے ہیں، کیونکہ یسوع نے جنگوں کا ذکر کرنے کے ساتھ یہ بھی فرمایا: “خبردار! گھبرا نہ جانا” (متی 24:6)۔
جب یہوداہ کے دشمن آپس میں لڑنے لگے
2 تواریخ 20 میں موآب، عمون اور کوہِ شعیر کی قوتیں یہوسفط اور یہوداہ کے خلاف جمع ہوئیں۔ انسانی اعتبار سے یہوداہ ایک بہت بڑی مشکل میں تھا۔ دشمن طاقتور اور تعداد میں زیادہ تھے، اور یہوسفط جانتا تھا کہ اپنی طاقت سے اس بڑی فوج کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ لیکن اس نے اپنی فوجی طاقت پر بھروسا کرنے کے بجائے خداوند کو ڈھونڈا اور پوری قوم کو دعا اور روزے کی طرف بلایا۔
یہوسفط کی دعا کے الفاظ بہت اہم ہیں: “اور نہ ہم یہ جانتے ہیں کہ کیا کریں بلکہ ہماری آنکھیں تُجھ پر لگی ہیں۔” (2 تواریخ 20:12)۔ یہ الفاظ اس کے ایمان کی حالت ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اپنی کمزوری کو تسلیم کر رہا تھا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی جانتا تھا کہ خداوند حالات سے بڑا ہے۔ پھر خداوند کی طرف سے یہ پیغام آیا: “اے یہوداہ اور یروشلیم! تُم قطار باندھکر چُپ چاپ کھڑے رہنا اور خُداوند کی نجات جو تمہارے ساتھ ہے دیکھنا۔۔” (2 تواریخ 20:17)
اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ جب خدا کے لوگ خداوند کی حمد اور ستائش کرنے لگے تو وہ فوجیں جو یہوداہ کو تباہ کرنے کے لیے اکٹھی ہوئی تھیں، آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہوگئیں۔ کلام بیان کرتا ہے:کیونکہ بنی عمون اور موآب اور کوہِ شعیر کے باشندوں کے مقابلہ میں کھڑے ہو ئے کہ اُن کو بالکل تہِ تیغ اور ہلاک کریں اور جب وہ شعیر کے باشندوں کا خاتمہ کر چُکے تو آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کرنے لگے۔” (2 تواریخ 20:23)۔ یعنی خطرہ باہر سے آیا تھا، لیکن آخرکار دشمنوں کے اپنے لشکروں کے درمیان ہی لڑائی شروع ہوگئی۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بعض اوقات خدا اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے ایسے راستے استعمال کرتا ہے جن کا انسان پہلے تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہوداہ کی نجات صرف اس کی فوجی طاقت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ خداوند پر بھروسا کرنے اور اس کی طرف دیکھنے سے وابستہ تھی۔ جو قوتیں ایک مقصد کے تحت یہوداہ کے خلاف جمع ہوئی تھیں، آخرکار وہی ایک دوسرے کے خلاف ہوگئیں۔
موجودہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ واقعہ ہمارے لیے غور کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر جب اسرائیل کی مخالف علاقائی قوتوں کے درمیان بھی اختلافات اور باہمی تصادم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک اہم فرق قائم رکھنا ضروری ہے۔ 2 تواریخ 20 موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں کی براہِ راست نبوت نہیں بلکہ ایک تاریخی بائبلی واقعہ ہے۔ اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آج کا ہر باہمی تصادم اسی واقعہ کی پیش گوئی کی تکمیل ہے۔
البتہ یہ واقعہ ایک اہم بائبلی نمونہ ہمارے سامنے رکھتا ہے: انسانی اتحاد مضبوط دکھائی دے سکتے ہیں، دشمن ایک مشترکہ مقصد کے لیے جمع ہوسکتے ہیں، لیکن حالات اچانک بدل بھی سکتے ہیں۔ آخری اختیار انسان، فوج یا سیاسی اتحاد کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لیے یہوسفط کے الفاظ آج بھی ایماندار کے لیے معنی رکھتے ہیں: “اور نہ ہم یہ جانتے ہیں کہ کیا کریں بلکہ ہماری آنکھیں تُجھ پر لگی ہیں۔
کیا آج بھی ایسا منظر دکھائی دے رہا ہے؟
آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے 2 تواریخ 20 کے واقعہ سے ایک مماثلت ضرور محسوس ہوتی ہے، لیکن ہمیں کلام سے آگے نہیں جانا چاہیے۔ ہم یہ قطعی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ 2 تواریخ 20 موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی کسی مخصوص جنگ کی براہِ راست نبوت تھی۔ وہ بنیادی طور پر یہوسفط کے زمانہ کا ایک تاریخی واقعہ ہے، اگرچہ اس میں ایک ایسا بائبلی نمونہ ضرور نظر آتا ہے جس پر موجودہ حالات کی روشنی میں غور کیا جا سکتا ہے۔
ستمبر 2026 کی موجودہ صورتِ حال میں ایک قابلِ غور تبدیلی یہ ہے کہ ایران سے منسلک حوثی، جو پہلے اسرائیل اور بحیرۂ احمر سے متعلق کارروائیوں کی وجہ سے زیادہ توجہ میں تھے، اب سعودی عرب کے خلاف بھی حملے تیز کر چکے ہیں۔ 20 ستمبر کو حوثیوں نے ریاض میں اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ سعودی اور یمنی افواج نے بھی حوثی اہداف کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔
(Reuters)
یہ معاملہ اب صرف یمن کی داخلی جنگ تک محدود نہیں رہا۔ حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی عرب پر حملوں نے بحیرۂ احمر اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کی سلامتی کے بارے میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔ یورپی یونین نے بھی اس خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث اپنی بحری موجودگی میں اضافے کی ضرورت بیان کی ہے۔
(Reuters)
دوسری طرف ترکی، پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ نے 22 ستمبر 2026 کو سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ بیان میں بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی۔ اسی بیان میں انہوں نے علاقائی تنازعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کو پائیدار حل کا راستہ بھی قرار دیا۔
(Reuters)
یہاں ایک دلچسپ بائبلی مماثلت سامنے آتی ہے۔ 2 تواریخ 20 میں جو قوتیں ایک مشترکہ مقصد کے لیے یہوداہ کے خلاف جمع ہوئی تھیں، آخرکار ان کے درمیان ہی جنگ شروع ہوگئی۔ آج کی صورتِ حال بالکل وہی واقعہ نہیں، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ مختلف علاقائی قوتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں اور محاذ بدل رہے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ آج کی علاقائی تقسیم اور باہمی تصادم ہمیں 2 تواریخ 20 کے واقعہ کی یاد دلاتے ہیں، نہ کہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ واقعہ آج کی جنگ کی براہِ راست پیش گوئی تھا۔
اس سب کے درمیان ایماندار کے لیے اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون سی قوم اگلی جنگ جیتے گی، بلکہ یہ کہ کلام ہمیں اس زمانہ کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟ خداوند یسوع نے پہلے ہی فرمایا تھا: “تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہیں سنو گے... کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی” (متی 24:6–7)۔ اس لیے بدلتے اتحاد، نئے محاذ اور بڑھتی ہوئی جنگیں ہمیں خوفزدہ کرنے کے بجائے روحانی طور پر بیدار رہنے کی یاد دلاتی ہیں۔
آخرکار ہمیں یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ خدا نے موجودہ جنگ کو لازماً اسی مقصد سے شروع کرایا ہے کہ اسرائیل کے دشمن ایک دوسرے کو تباہ کریں۔ بائبل موجودہ واقعات کے بارے میں ایسی مخصوص تصدیق نہیں دیتی۔ لیکن 2 تواریخ 20 ہمیں یہ ضرور سکھاتا ہے کہ قوموں کے منصوبوں اور فوجی طاقت سے اوپر خدا کی حاکمیت قائم ہے۔ حالات کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوجائیں، دلہن کی نگاہ خبروں، فوجوں اور سیاسی اتحادوں سے بڑھ کر خداوند اور اُس کے کلام پر ہونی چاہیےدار! گھبرا نہ جانا” (متی 24:6)۔
لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہیں
خداوند یسوع مسیح نے آخری زمانہ کے بارے میں فرمایا: “تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہیں سنو گے... کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی۔” (متی 24:6–7)
یسوع نے ساتھ ہی ایک بہت اہم بات فرمائی: “خبردار! گھبرا نہ جانا۔” یعنی جنگوں کی خبریں ایماندار کو خوف میں ڈالنے کے لیے نہیں بلکہ روحانی طور پر بیدار رکھنے کے لیے ہیں۔
دنیا میں جنگیں، سیاسی کشیدگی اور قوموں کے درمیان تصادم بڑھ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایماندار کو خوف کے بجائے خدا کے کلام اور دعا کی طرف دیکھنا چاہیے۔
یسوع نے یہ بھی فرمایا: “لیکن اس وقت خاتمہ نہ ہوگا۔” اس لیے کسی ایک جنگ یا بڑے عالمی بحران کو دیکھ کر فوراً یہ کہنا درست نہیں کہ اسی وقت اختتام آگیا ہے۔
“قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت” ہمیں بدلتے ہوئے عالمی حالات کی یاد دلاتا ہے۔ اتحاد بدل سکتے ہیں، دشمنیاں بڑھ سکتی ہیں اور ایک جنگ دوسرے علاقوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
موجودہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات ہمیں یسوع کے ان الفاظ پر سنجیدگی سے غور کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ لیکن ہر نئی جنگ کو کسی مخصوص نبوت کی قطعی تکمیل قرار دینے میں احتیاط ضروری ہے۔
جنگیں نشان ضرور ہیں، لیکن تاریخ مقرر کرنے کا ذریعہ نہیں۔ نبوت کا مقصد خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ ایماندار کو زمانہ پہچاننے اور خداوند کی آمد کے لیے تیار رہنے کی طرف بلانا ہے۔
دنیا کی نظریں اگلی جنگ اور اگلے سیاسی بحران پر ہوسکتی ہیں۔ لیکن دلہن کی نگاہ اپنے آنے والے دلہا، خداوند یسوع مسیح پر ہونی چاہیے۔
برادر برینہم نے “لڑائیوں اور لڑائیوں کی افواہوں” کے بارے میں کیا کہا؟
برادر ولیم برینہم نے 21 اپریل 1963 کے پیغام “فتح کا دن” میں متی 24 کی “لڑائیوں اور لڑائیوں کی افواہوں” کا ذکر کرتے ہوئے قوموں کے درمیان جنگ کو دنیا کے روحانی نظام سے جوڑا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک قوم دوسری قوم کے خلاف اٹھتی ہے، پھر کبھی وہی قومیں دوستی اور تجارت کرنے لگتی ہیں، اور بعد کی نسلوں میں دوبارہ جنگ شروع ہوجاتی ہے۔
لیکن اسی پیغام میں انہوں نے ایک نہایت اہم توازن بھی دیا۔ ان کی تعلیم کا خلاصہ یہ تھا کہ خدا نے انسان کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے کے لیے نہیں بلکہ بھائیوں کی طرح رہنے کے لیے بنایا۔ انہوں نے کسی قوم، نسل یا زبان کو دوسری سے برتر قرار دینے کے تصور کو رد کیا۔
لہٰذا بردار برینہم کی تعلیم کی روشنی میں جنگ کا پیغام یہ نہیں کہ مسیحی کسی قوم کی تباہی پر خوش ہوں۔ اصل مسئلہ اس روحانی تاریکی کا ہے جو انسان کو انسان کے خلاف کھڑا کرتی ہے۔
دوسری مہر اور زمین سے امن کا اٹھ جانا
برادر برینہم نے “دوسری مہر” اور “چھٹی مہر” کے پیغامات میں متی 24:6 کو مکاشفہ 6 کے سرخ گھوڑے کے ساتھ بھی جوڑا۔
مکاشفہ میں لکھا ہے:
پھِر ایک اور گھوڑا نِکلا جِس کا رنگ لال تھا۔ اُس کے سوار کو یہ اِختیّار دِیا گیا کہ زمِین پر سے صُلح اُٹھا لے تاکہ لوگ ایک دُوسرے کو قتل کریں اور اُسے ایک بڑی تلوار دی گئی۔
(مکاشفہ 6:4)
برادربرینہم نے متی 24:6، یعنی “لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہیں”، اور مکاشفہ 6 میں امن اٹھائے جانے کے درمیان تعلق بیان کیا۔
یہ نقطہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ غور کا مطالبہ کرتا ہے۔ دنیا امن کی بات کرتی ہے، سفارت کاری ہوتی ہے، اتحاد بنتے ہیں، لیکن پھر نئے محاذ کھل جاتے ہیں۔
آج بھی مشرقِ وسطیٰ میں یہی پیچیدگی نظر آتی ہے۔ موجودہ جنگ نے کئی محاذوں کو متاثر کیا ہے اور ایران، اسرائیل، یمن، سعودی عرب اور دوسرے علاقائی فریق مختلف طریقوں سے اس بحران میں شامل ہیں۔
برادر برینہم اور یہوسفط کی جنگ
یہاں ایک اور بہت خوبصورت تعلق سامنے آتا ہے۔برادر برینہم نے 29 جون 1957 کے پیغام “چپ چاپ کھڑے رہو اور خداوند کی نجات دیکھو” میں خاص طور پر 2 تواریخ 20 اور یہوسفط کا ذکر کیا۔
انہوں نے توجہ دلائی کہ یہوسفط ایک ایسی حالت میں تھا جہاں ایک بڑی فوج اس کے خلاف آرہی تھی، لیکن خدا کا پیغام یہ تھا کہ:“یہ جنگ تمہاری نہیں، خدا کی ہے۔”
برادر برینہم نے اس واقعہ کا روحانی اطلاق کرتے ہوئے ایماندار کو خدا پر بھروسا رکھنے کی تعلیم دی۔ جب انسانی راستے بند نظر آئیں، تب بھی خدا اپنا راستہ بنا سکتا ہے۔یہ شاید موجودہ حالات سے ہمارے لیے سب سے اہم سبق ہے۔
اسرائیل، قومیں اور ہماری ذمہ داری
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ واقعات کو دیکھتے وقت ہمیں جذبات کے بجائے کلام کے ساتھ چلنا چاہیے۔
ایک طرف اسرائیل مختلف دشمن قوتوں کے ساتھ تنازع میں ہے۔ دوسری طرف انہی وسیع علاقائی قوتوں کے درمیان بھی اختلاف، جنگ اور بدلتے ہوئے اتحاد موجود ہیں۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ لڑائی اس پیچیدگی کی ایک واضح مثال ہے۔
یہ منظر ہمیں 2 تواریخ 20 یاد دلا سکتا ہے، لیکن ہماری بنیاد مشابہت نہیں بلکہ خدا کا کلام ہونا چاہیے۔
ہمیں ہر خبر کو فوراً نبوت کی قطعی تکمیل قرار دینے سے بچنا چاہیے۔ یسوع نے خود فرمایا:
“خبردار! گھبرا نہ جانا۔”
یہ الفاظ آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
کلیسیا کے لیے اصل پیغام
آخری زمانہ کے بارے میں بائبل کا مقصد صرف یہ نہیں کہ ہم نقشے دیکھیں، جنگوں کو گنیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ اگلا حملہ کہاں ہوگا۔خدا کا مقصد اپنے لوگوں کو جاگنے، دعا کرنے اور تیار رہنے کی طرف بلانا ہے۔
2 تواریخ 20 میں فتح کا آغاز تلوار سے نہیں بلکہ خداوند کو ڈھونڈنے سے ہوا۔یہوسفط نے کہا:اور نہ ہم یہ جانتے ہیں کہ کیا کریں بلکہ ہماری آنکھیں تُجھ پر لگی ہیں۔
یہی آخری زمانہ میں دلہن کی صحیح حالت ہونی چاہیے۔دنیا کی نظریں جنگوں، حکومتوں، فوجوں اور سیاسی اتحادوں پر ہوسکتی ہیں، لیکن دلہن کی آنکھیں اپنے خداوند پر ہونی چاہئیں۔قومیں ایک دوسرے کے خلاف اٹھ سکتی ہیں۔ پرانے اتحادی مخالف بن سکتے ہیں اور مخالف کبھی وقتی اتحادی بن سکتے ہیں۔ “لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہیں” بڑھ سکتی ہیں۔
لیکن خداوند یسوع کے الفاظ اب بھی قائم ہیں:
“خبردار! گھبرا نہ جانا۔”
لہٰذا موجودہ حالات ہمیں خوف کی طرف نہیں بلکہ کلام کی طرف واپس آنے، روحانی طور پر بیدار رہنے، دعا کرنے اور مسیح کی آمد کے لیے تیار رہنے کی طرف بلاتے ہیں۔
جنگ خداوند کی ہے۔ ہماری آنکھیں اُس پر لگی رہیں۔
براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں
واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔
✝️ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)
مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج از ہلسنکی فن لینڈ
1 thought on “When Enemies Begin to Fight Each Other: The Current Middle East and Biblical Prophecy”
God bless you brother ❤️🙏