Resources Word

Christ and Antichrist The Final Battle Between Truth and Deception

مسیح اور مخالفِ مسیح: سچائی اور دھوکے کی آخری جنگ

تعارف

آخر ی زمانہ میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ سچائی کیا ہے اور دھوکہ کیا ہے۔ “مسیح اور مخالفِ مسیح” کا موضوع اسی امتیاز کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف دو ہستیوں کی بات نہیں بلکہ دو روحوں، دو راستوں اور دو نظاموں کی پہچان ہے۔ بائبل خبردار کرتی ہے کہ آخری ایام میں دھوکہ بہت قریب ہوگا، اس لئے ایماندار کے لئے ضروری ہے کہ وہ بیدار رہے۔

آج کا زمانہ ایسا ہے جہاں ہر چیز مذہبی شکل اختیار کر سکتی ہے، مگر ہر چیز سچائی نہیں ہوتی۔ بہت سی آوازیں ایک جیسی معلوم ہوتی ہیں، لیکن ان کی بنیاد مختلف ہوتی ہے۔ اسی لئے صرف ظاہری دینداری کافی نہیں بلکہ کلام کے مطابق پرکھنا ضروری ہے۔

یہ موضوع ہمیں خود اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی طرف بھی لے جاتا ہے۔ ہم کس بنیاد پر کھڑے ہیں؟ کیا ہم خالص کلام پر قائم ہیں یا ہم نے اس میں انسانی خیالات شامل کر لئے ہیں؟ یہ سوال آخر ی زمانہ میں بہت اہم ہو جاتا ہے۔

اس لئے یہ تعلیم صرف معلومات کے لئے نہیں بلکہ بیداری کے لئے ہے، تاکہ ایماندار سچائی کو پہچان کر اس پر قائم رہ سکے اور ہر قسم کے دھوکے سے محفوظ رہے۔

مسیح کون ہے؟

بائبل کے مطابق مسیح خدا کا ظاہر شدہ کلام ہے۔ یوحنا 1:1 ہمیں بتاتا ہے کہ “کلام خدا تھا۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ مسیح خدا کی سوچ، ارادہ اور سچائی کا مکمل اظہار ہے۔ وہی راستہ، حق اور زندگی ہے (یوحنا 14:6)، یعنی خدا تک پہنچنے کا کوئی اور راستہ نہیں۔

مسیح صرف ایک نبی یا استاد نہیں بلکہ خدا کی مکمل صورت ہے جو جسم میں ظاہر ہوئی۔ اُس کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ کلام صرف لکھا ہوا نہیں بلکہ جیتا جاگتا ظاہر ہوا۔ اُس کے الفاظ، اُس کے معجزات اور اُس کی فرمانبرداری سب خدا کے کلام کی تصدیق کرتے ہیں۔

بھائی برینہم نے سکھایا کہ مسیح کو پہچاننے کا اصل طریقہ یہی ہے کہ ہم کلام کو پہچانیں۔ کیونکہ ہر دور میں مسیح اسی کلام کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے جو اُس وقت کے لئے مقرر ہوتا ہے۔ جہاں کلام اپنی اصل حالت میں قبول کیا جاتا ہے، وہاں مسیح کی حضوری ظاہر ہوتی ہے۔

اسی لئے مسیح کو سمجھنا صرف ایک عقیدہ مان لینے کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے۔ جب انسان کلام کو دل میں جگہ دیتا ہے تو وہی کلام اُس کی زندگی میں کام کرتا ہے اور مسیح کی فطرت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک سچا ایماندار مسیح کو صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنی زندگی کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ اُس کا چلن، اُس کی سوچ اور اُس کا ایمان کلام کے مطابق ہوتا ہے، اور یہی بات ظاہر کرتی ہے کہ مسیح واقعی اُس کے اندر زندہ ہے۔

مخالفِ مسیح کیا ہے؟

مخالفِ مسیح کا مطلب صرف “مسیح کے خلاف” نہیں بلکہ “مسیح کی جگہ لینے والا” بھی ہے۔ پہلا یوحنا 2:18 میں لکھا ہے کہ بہت سے مخالفِ مسیح آ چکے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک روح ہے، صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک مسلسل کام کرنے والی قوت ہے۔

اسی طرح2 تھِسلُنیکیوں2:3 میں ایک ایسے نظام کا ذکر ہے جو آخر میں مکمل طور پر ظاہر ہوگا، جسے “گناہ کا شخص” کہا گیا ہے۔ اس سے ہمیں سمجھ آتی ہے کہ مخالفِ مسیح ابتدا میں ایک روح کے طور پر کام کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ ایک نظام اور آخر میں ایک مکمل ظاہری طاقت بن جاتا ہے۔

بھائی برینہم نے تعلیم دی کہ مخالفِ مسیح ہمیشہ مذہبی شکل میں آتا ہے، نہ کہ کھلے عام دشمنی کے ساتھ۔ وہ کلام کو مکمل رد نہیں کرتا بلکہ اس میں تھوڑی سی تبدیلی یا اضافہ کر دیتا ہے، جس سے سچائی اور جھوٹ آپس میں مل جاتے ہیں۔

یہ روح لوگوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ درست راستہ پر ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ آہستہ آہستہ اصل کلام سے دور ہو رہے ہوتے ہیں۔ اسی لئے یہ دھوکہ زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ سچائی جیسا دکھائی دیتا ہے۔

مخالفِ مسیح کا کام ہمیشہ یہی رہا ہے کہ خدا کے کلام کی اصل سادگی کو پیچیدہ بنا دے، اور انسان کو خدا کی سیدھی راہ سے ہٹا کر کسی نظام، روایت یا انسانی سمجھ پر لے آئے۔

آخر ی زمانہ میں یہی روح اپنے پورے عروج پر ہوگی، جہاں ایک ایسا عالمی اور مذہبی نظام قائم ہوگا جو بہت سے لوگوں کو اپنے اندر لے لے گا، مگر صرف وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو خالص کلام پر قائم رہیں گے۔

مسیح اور مخالفِ مسیح کا موازنہ

اگر ہم غور کریں تو فرق واضح ہے مگر باریک بھی، اور یہی باریکی آخر کے زمانہ میں آزمائش بن جاتی ہے۔ کیونکہ دونوں ایک ہی زبان استعمال کرتے ہیں، دونوں مذہبی دکھائی دیتے ہیں، مگر بنیاد مختلف ہوتی ہے۔

مسیح سچائی ہے، جبکہ مخالفِ مسیح سچائی کے ساتھ ملا ہوا دھوکہ ہے۔ یوحنا17:17 میں لکھا ہے کہ “تیرا کلام سچائی ہے”، اس لئے جہاں خالص کلام ہے وہاں مسیح ہے، اور جہاں کلام میں تبدیلی ہے وہاں دھوکہ شروع ہو جاتا ہے۔

مسیح خالص کلام ہے، جبکہ مخالفِ مسیح کلام میں انسانی خیالات شامل کرتا ہے۔ یہ اضافہ کبھی بہت چھوٹا ہوتا ہے، مگر یہی چھوٹی سی بات راستہ بدل دیتی ہے۔ بھائی برینہم نے بار بار کہا کہ “ایک چھوٹی سی ملاوٹ بھی پورے پیغام کو بدل دیتی ہے۔”

مسیح فروتنی میں ظاہر ہوتا ہے، وہ خود کو بلند نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ باپ کی مرضی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس مخالفِ مسیح میں ایک پوشیدہ غرور ہوتا ہے، جو انسان کو خدا کے کلام سے ہٹا کر اپنی سمجھ اور نظام پر لے آتا ہے۔

مسیح روشنی لاتا ہے جو واضح اور سیدھی ہوتی ہے، جبکہ مخالفِ مسیح ایسی تاریکی لاتا ہے جو روشنی جیسی محسوس ہوتی ہے۔ 2کُرنتھِیوں 11:14 میں لکھا ہے کہ شیطان بھی اپنے آپ کو نور نی فرشتہ کی صورت میں بدل لیتا ہے، اس لئے ہر روشنی حقیقت میں روشنی نہیں ہوتی۔

اسی لئے پہچان صرف ظاہری چیزوں سے نہیں بلکہ کلام کی گہرائی سے ہوتی ہے۔ ایک سچا ایماندار ہر بات کو کلام کے ساتھ تولتا ہے، اور وہی فرق ظاہر کرتا ہے کہ کہاں مسیح کام کر رہا ہے اور کہاں مخالفِ مسیح۔

مخالفِ مسیح کی روح کیسے کام کرتی ہے؟

یہ روح ابتدا سے کام کر رہی ہے۔ پیدایش کی کتاب میں سانپ نے حوا سے کہا، “کیا خدا نے واقعی کہا؟” یہی پہلا قدم تھا، کلام پر سوال اٹھانا۔ اس کے بعد اس نے کلام میں تھوڑی سی تبدیلی کی، اور یہی چھوٹی سی بات بڑی گمراہی کا سبب بنی۔

مخالفِ مسیح کی روح کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ سیدھا انکار نہیں کرتی بلکہ شک پیدا کرتی ہے۔ پہلے وہ انسان کے دل میں سوال ڈالتا ہے، پھر اپنی تشریح پیش کرتا ہے، اور آخر میں انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ سچائی پر ہے۔

بھائی برینہم نے سکھایا کہ مخالفِ مسیح کبھی بھی مکمل جھوٹ نہیں لاتا، بلکہ سچائی میں تھوڑا سا اضافہ یا تبدیلی کرتا ہے۔ یہی ملاوٹ سب سے خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ یہ فوراً پہچانی نہیں جاتی۔

یہ روح اکثر مذہبی نظام کے ذریعے کام کرتی ہے۔ لوگ عبادت بھی کرتے ہیں، کلام بھی پڑھتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ اصل سچائی سے دور ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے کلام کے ساتھ انسانی روایت یا اپنی سمجھ شامل کر لی ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ مخالفِ مسیح انسان کو کلام کی سادگی سے ہٹا کر پیچیدگی میں لے جاتا ہے۔ جہاں خدا کی بات سیدھی اور واضح ہوتی ہے، وہاں یہ روح اسے فلسفہ، منطق اور انسانی دلیلوں میں الجھا دیتی ہے تاکہ اصل مقصد چھپ جائے۔

آخر میں اس روح کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ انسان خدا کے زندہ کلام سے ہٹ کر کسی اور بنیاد پر کھڑا ہو جائے۔ اسی لئے ایک ایماندار کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر آواز کو پرکھے اور صرف اسی بات کو قبول کرے جو کلام کے مطابق ہو۔

بائبل میں مخالفِ مسیح کی نشانیاں

یسوع نے خود خبردار کیا۔ متی 24:24 کے مطابق کِیُونکہ جھُوٹے مسِیح اور جھُوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور اَیسے بڑے نِشان اور عجِیب کام دِکھائیں گے کہ اگر مُمِکن ہو تو برگُزِیدوں کو بھی گُمراہ کرلیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف معجزہ دیکھ کر فیصلہ کرنا کافی نہیں۔

اہم نشانیاں یہ ہیں، مگر ان کے پیچھے روح کو سمجھنا ضروری ہے۔ معجزات اور نشان جو لوگوں کو متاثر کریں، مگر ان کا مقصد انسان کو کلام کی طرف نہیں بلکہ کسی نظام یا شخصیت کی طرف لے جانا ہو۔ مکاشفہ 13 میں بھی ایسے ہی نشانوں کا ذکر ہے جو لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے استعمال ہوں گے۔

کلام کی غلط تشریح ایک بنیادی نشانی ہے۔ مخالفِ مسیح کلام کو مکمل رد نہیں کرتا بلکہ اس کا مطلب بدل دیتا ہے۔ الفاظ وہی رہتے ہیں مگر روح بدل جاتی ہے، اور انسان حقیقت کو سمجھے بغیر ایک غلط راستے پر چل پڑتا ہے۔

لوگوں کو ظاہری دینداری میں رکھنا بھی ایک اہم پہچان ہے۔ 2تیمِتھُیس 3:5 کے مطابق “ وہ دِینداری کی وضع تو رکھّیں گے مگر اُس کے اثر کو قُبُول نہ کریں گے۔ اَیسوں سے بھی کِنارہ کرنا۔” یعنی باہر سے سب کچھ درست لگتا ہے مگر اندر روحانی زندگی نہیں ہوتی۔

دنیاوی طاقت اور اثر حاصل کرنا بھی اسی روح کا حصہ ہے۔ جب مذہب سیاست، اختیار اور کنٹرول کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو اکثر کلام کی سادگی کھو جاتی ہے اور ایک نظام بن جاتا ہے جو لوگوں کو اپنے تابع رکھتا ہے۔

بھائی برینہم نے کہا کہ مخالفِ مسیح کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ کلام کے ساتھ ملاوٹ کرتا ہے، اور لوگوں کو یہ احساس بھی نہیں ہونے دیتا کہ وہ گمراہ ہو رہے ہیں۔

یہ سب چیزیں بظاہر درست لگتی ہیں، مگر ان کی بنیاد خالص کلام پر نہیں ہوتی۔ اس لئے ایک ایماندار کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر بات کو روحانی طور پر پرکھے، نہ کہ صرف ظاہری شکل دیکھ کر قبول کرے۔

آخری زمانہ میں مخالفِ مسیح کا ظہور

آخری زمانہ میں یہ روح ایک مکمل نظام کی صورت اختیار کرتی ہے۔ یہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک عالمی اور مذہبی نظام بن جاتی ہے جو لوگوں کی سوچ، عبادت اور زندگی کو ایک خاص ڈھانچے میں لے آتی ہے۔ مکاشفہ کی کتاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایسا نظام ظاہر ہوتا ہے جو نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی اثر بھی رکھتا ہے۔

مکاشفہ کی کتاب کے مطابق یہ نظام کلیسیا کے اندر سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ ابتدا میں یہ ایک چھوٹی سی تعلیم یا فرق کے طور پر شروع ہوتا ہے، مگر وقت کے ساتھ ایک مضبوط ادارہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے کام کرتا ہے، اور اسی لئے پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ نظام لوگوں کو ایک خاص اتحاد اور ظاہری امن کی طرف لے جاتا ہے، مگر اس کی بنیاد خالص کلام پر نہیں ہوتی۔ تھِسلُنیکیوں 2 باب میں “بےدینی کا بھید” پہلے سے کام کرتا ہوا دکھایا گیا ہے، جو آخر میں پوری طرح ظاہر ہوگا۔

مزید یہ کہ آخری زمانہ میں مخالفِ مسیح سچائی کے بہت قریب آ جاتا ہے۔ وہ کلام کی زبان استعمال کرتا ہے، مذہبی شکل رکھتا ہے، اور خود کو درست ظاہر کرتا ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسا نظام چھپا ہوتا ہے جو انسان کو اصل کلام سے دور لے جاتا ہے۔

یہی وہ وقت ہے جب ایماندار کے لئے آزمائش بڑھ جاتی ہے۔ اب صرف روایت، کلیسیائی نام یا تعلیم کافی نہیں رہتی، بلکہ ہر شخص کو خود کلام کے ساتھ جڑنا پڑتا ہے۔ کیونکہ دھوکہ اس قدر باریک ہوتا ہے کہ صرف روح القدس کی راہنمائی ہی انسان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

آخر میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ مخالفِ مسیح کا ظہور ایک اچانک واقعہ نہیں بلکہ ایک تدریجی عمل ہے، جو شروع سے چلتا آ رہا ہے اور آخر کے زمانہ میں اپنی مکمل شکل اختیار کرتا ہے۔ اس لئے بیداری اور کلام میں مضبوطی پہلے سے زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔

مسیح کی دلہن اور اس کی پہچان

حقیقی ایماندار وہ ہیں جو کلام پر قائم رہتے ہیں۔یوحنا 16:13 کے مطابق روح القدس سچائی میں راہنمائی کرتا ہے، اس لئے دلہن کی زندگی کسی انسانی نظام پر نہیں بلکہ روح کی راہنمائی پر ہوتی ہے۔ وہ خالص کلام کو قبول کرتی ہے، اس میں کوئی ملاوٹ برداشت نہیں کرتی، اور ہر بات کو کلام کے مطابق پرکھتی ہے۔ اس کا چلنا بھی روح القدس کے تابع ہوتا ہے، اور وہ انسانی روایت یا تنظیم سے زیادہ خدا کی آواز کو اہمیت دیتی ہے۔

یہ پہچان ظاہری نہیں بلکہ روحانی ہوتی ہے، کیونکہ دلہن کی اصل شناخت اس کے اندر کام کرنے والی روح سے ظاہر ہوتی ہے۔بھائی برینہم نے سکھایا کہ دلہن وہ ہے جو اپنے وقت کے کلام کو پہچان کر اسے قبول کرتی ہے، نہ کہ صرف ماضی کی باتوں پر قائم رہتی ہے۔

دلہن دنیا کے ساتھ میل نہیں رکھتی بلکہ خود کو الگ رکھتی ہے، کیونکہ اس کی توجہ اپنے دولہا یعنی مسیح پر ہوتی ہے۔ وہ آزمائشوں میں بھی ثابت قدم رہتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد احساسات پر نہیں بلکہ کلام کی سچائی پر ہوتی ہے۔

مسیح اور مخالفِ مسیح کی جنگ

یہ جنگ جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہے۔ یہ سچائی اور دھوکے کے درمیان ایک مسلسل مقابلہ ہے جو ہر دور میں جاری رہا ہے، مگر آخر کے زمانہ میں اس کی شدت زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ ایک طرف خدا کا خالص کلام ہے، اور دوسری طرف وہی کلام مگر انسانی ملاوٹ کے ساتھ۔

بائبل میں اس جنگ کی ایک واضح مثال ہمیں متی 4 باب میں ملتی ہے، جہاں یسوع کا سامنا شیطان سے ہوتا ہے۔ شیطان نے بھی کلام کا استعمال کیا، مگر اس کا مقصد گمراہ کرنا تھا، جبکہ یسوع نے خالص کلام کے ساتھ جواب دیا۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ جنگ کلام کے استعمال پر تھی، نہ کہ طاقت پر۔

اسی طرح پیدایش میں قائن اور ہابل کی قربانیوں میں بھی یہی فرق نظر آتا ہے۔ دونوں نے عبادت کی، مگر ایک نے خدا کی مرضی کے مطابق کی اور دوسرے نے اپنی سوچ کے مطابق۔ یہی فرق سچائی اور انسانی خیال کے درمیان جنگ کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ جنگ آج بھی جاری ہے، جہاں لوگ مذہبی بھی ہیں مگر سب سچائی پر نہیں۔ بھائی برینہم نے سکھایا کہ اصل جنگ “صحیح کلام” اور “غلط تشریح شدہ کلام” کے درمیان ہے۔

آخر ی زمانہ میں یہ مقابلہ مزید باریک ہو جاتا ہے، کیونکہ دونوں طرف کلام کا ذکر ہوتا ہے۔ اسی لئے ایک ایماندار کے لئے ضروری ہے کہ وہ صرف سننے پر نہیں بلکہ پرکھنے پر بھی زور دے، تاکہ وہ سچائی کے ساتھ قائم رہ سکے۔

ہم مخالفِ مسیح سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

مخالفِ مسیح سے بچنے کا راستہ سادہ ہے مگر سنجیدہ توجہ مانگتا ہے۔ سب سے پہلے انسان کو کلامِ خدا میں قائم رہنا ضروری ہے، کیونکہ یہی اصل بنیاد ہے جس پر سچائی کھڑی ہے۔ ساتھ ہی دعا کی زندگی اہم ہے، کیونکہ دعا کے ذریعے دل نرم رہتا ہے اور انسان روحانی طور پر بیدار رہتا ہے۔ ہر تعلیم کو بائبل کے مطابق پرکھنا بھی ضروری ہے، تاکہ کوئی بھی بات بغیر جانچے قبول نہ کی جائے۔ یوحنا 16:13 کے مطابق روح القدس سچائی میں راہنمائی کرتا ہے، اس لئے اُس کی رہنمائی کو قبول کرنا سب سے اہم حصہ ہے۔

بھائی برینہم نے کہا کہ اصل معیار ہمیشہ کلام ہے، نہ کہ کوئی شخص یا نظام، اس لئے ایماندار کو اپنی نگاہ ہمیشہ کلام پر رکھنی چاہئے۔

مزید یہ کہ انسان کو عاجزی میں رہنا چاہئے، کیونکہ غرور انسان کو دھوکے کے قریب لے جاتا ہے۔ اور مستقل روحانی بیداری ضروری ہے، تاکہ انسان وقت کی روح کو پہچان کر سچائی کے ساتھ قائم رہ سکے۔

آج کے دور میں مخالفِ مسیح کی مثالیں

آج بھی مخالفِ مسیح کی روح مختلف صورتوں میں کام کر رہی ہے، اور اکثر یہ اتنی باریک ہوتی ہے کہ فوراً پہچانی نہیں جاتی۔ یہ صرف کھلی مخالفت کی شکل میں نہیں آتی بلکہ زیادہ تر مذہبی انداز میں ظاہر ہوتی ہے، جہاں سب کچھ درست محسوس ہوتا ہے مگر بنیاد خالص کلام پر نہیں ہوتی۔

ایسے مذہبی نظام جو کلام سے ہٹاتے ہیں، اس روح کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ جب کوئی نظام اپنے اصول، عقائد یا تعلیمات کو کلام سے زیادہ اہم بنا دیتا ہے، تو آہستہ آہستہ انسان خدا کے اصل ارادہ سے دور ہو جاتا ہے۔ مرقس 7:7 میں لکھا ہے کہ “یہ بے فائِدہ میری پرستِش کرتے ہیں کِیُونکہ اِنسانی احکام کی تعلِیم دیتے ہیں۔”

اسی طرح انسانی روایات کو ترجیح دینا بھی ایک بڑی نشانی ہے۔ جب لوگ کہتے ہیں “ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے” مگر کلام کچھ اور کہتا ہے، تو وہاں سچائی دب جاتی ہے۔ بھائی برینہم نے اس بات پر زور دیا کہ روایت کبھی بھی کلام کا بدل نہیں ہو سکتی۔

ظاہری دینداری مگر اندر روحانی خالی پن بھی اسی روح کا کام ہے۔ لوگ عبادت کرتے ہیں، مذہبی زبان استعمال کرتے ہیں، مگر ان کی زندگی میں کلام کی تاثیر نظر نہیں آتی۔ 2 تیمِتھُیس 3:5 میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ وہ دِینداری کی وضع تو رکھّیں گے مگر اُس کے اثر کو قُبُول نہ کریں گے۔ اَیسوں سے بھی کِنارہ کرنا۔

مزید یہ کہ آج کے دور میں سچائی کو آسان بنانے کے نام پر اس میں تبدیلی کرنا بھی اسی روح کی ایک شکل ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پیغام ان کے مطابق ہو، نہ کہ وہ خود کلام کے مطابق بدلیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ سچائی اپنی اصل شکل کھو دیتی ہے۔

یہ سب نشانیاں ایک ایماندار کو بیدار رکھنے کے لئے کافی ہیں۔ کیونکہ جب انسان ان باتوں کو پہچان لیتا ہے، تو وہ زیادہ سنجیدگی سے کلام کی طرف رجوع کرتا ہے اور ہر چیز کو اسی کے مطابق پرکھتا ہے۔

نتیجہ

مسیح اور مخالفِ مسیح ہمیشہ ساتھ ساتھ رہے ہیں، مگر فرق ہمیشہ کلام کی سچائی میں رہا ہے۔ جو کلام میں قائم رہتا ہے وہ روشنی میں چلتا ہے، اور جو ملاوٹ کو قبول کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ دھوکے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ یوحنا 8:32 کے مطابق “تم سچائی کو جانو گے اور سچائی تمہیں آزاد کرے گی”، اس لئے اصل آزادی بھی سچائی میں قائم رہنے سے ہی آتی ہے۔

آخر کے زمانہ میں سب سے ضروری بات یہی ہے کہ انسان اپنی بنیاد خدا کے زندہ کلام پر رکھے اور روح القدس کی راہنمائی میں قائم رہے۔ کیونکہ وقت ایسا ہے جہاں ہر آواز درست معلوم ہو سکتی ہے، مگر صرف وہی محفوظ ہے جو کلام کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔

بھائی برینہم نے سکھایا کہ دلہن کا واحد سہارا کلام ہے، اس لئے ایماندار کو چاہئے کہ وہ کسی بھی نظام یا شخصیت کے بجائے براہِ راست خدا کے کلام پر اپنی زندگی قائم کرے۔

آخر میں بات مختصر ہے: سچائی ہمیشہ سادہ ہوتی ہے، مگر انسان اسے پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ جو شخص عاجزی کے ساتھ کلام کو قبول کرتا ہے، وہی آخر تک قائم رہتا ہے۔
آمین

براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔

✝️
جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)

مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج
از ہلسنکی فن لینڈ

3 thoughts on “Christ and Antichrist The Final Battle Between Truth and Deception”

  1. سلامتی برکات بردر جی ۔۔۔
    باعث برکت پاور فل
    میسج تھا خداوند اپکو اسی طرح اپنے کلام جلال بزرگی کیلئے استعمال کرے
    مسیح میں جیتے رھیں خوش رھیں اباد رھیں
    GOD Bless you My brother 🙏🙏🙏

    Reply

Leave a Comment