الوہیت کا مکاشفہ – آخری دَور کا پیغام
الوہیت کا مکاشفہ – آخری دَور کا پیغام
تعارف
جب انسان خُدا کی تلاش میں نکلتا ہے، تو سب سے پہلا سوال اُس کے دل میں اُبھرتا ہے: "خُدا کون ہے؟ کیا وہ ایک ہے یا بہت سے ہیں؟" بائبل اس سوال کا سادہ مگر طاقتور جواب دیتی ہے
"اَے اِسرائیل سن! خُداوند ہمارا خُدا، ایک ہی خُداوند ہے" (استثناء 6:4)۔
یہ اعلان صرف الفاظ نہیں، بلکہ خُدا کی اپنی گواہی ہے — کہ وہ اکیلا ہے، لاشریک ہے، اور ازل سے ابد تک وہی ہے۔
لیکن افسوس! آج بہت سے لوگ، کلیساؤں کی تعلیمات، روایتی فلسفوں، اور انسانی نظریات کے سبب، اُس ایک خُدا کو پہچاننے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ "تثلیث" جیسے نظریات نے خُدا کو تین حصوں میں بانٹ دیا ہے، جبکہ بائبل ہمیں بتاتی ہے
" کِیُونکہ خُدا ایک ہے اور خُدا اور اِنسان کی بِیچ میں درمیانی بھی ایک یعنی مسِیح یِسُوع جو اِنسان ہے۔" (1 تیمُتھیُس 2:5)۔
خُدا نہ تین ہے، نہ دو، بلکہ ایک ہی خُدا ہے، جس نے اپنے آپ کو یسوع مسیح میں ظاہر کیا — بتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا۔
(یوحنا 1:1، 14)
یہ مضمون صرف ایک عقیدہ نہیں، بلکہ ایک روحانی دعوت ہے — کہ آئیں، ہم اُس واحد، زندہ، اور حقیقی خُدا کو پہچانیں، جس نے خود کو یسوع مسیح میں ہم پر ظاہر کیا، اور آج رُوح القدس کے ذریعے اپنے دلہن کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔
خُدا کی وحدانیت
خُدا کی وحدانیت (Oneness of God)
بائبل کی سب سے عظیم، پاک، اور بنیادی سچائیوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ تعلیم ہے جو تمام انبیاء، رسولوں اور خود خُدا کے بیٹے یسوع مسیح نے دنیا کو سکھائی۔ بائبل کا ہر صفحہ اس پیغام سے گونجتا ہے کہ خُدا ایک ہے، اور اُس کا کوئی شریک نہیں۔ استثناء 6:4 میں تحریر ہے
" سن اَے اِسرائیل!خُداوند ہمارا خُدا، ایک ہی خُداوند ہے۔"
یہ آیت اسرائیلی قوم کے ایمان کی بنیاد تھی، اور آج بھی سچے ایمانداروں کے لیے یہ ایک ناقابلِ تردید سچائی ہے۔
برادر ولیم برینہم نے خُدا کی وحدانیت کو نہایت سادہ اور بائبلی انداز میں واضح کیا۔ اُن کی تعلیم کے مطابق خُدا تین الگ خدا یا تین الگ شخصیتیں نہیں بلکہ ایک ہی خُدا ہے، جو باپ، بیٹے اور رُوح القدس کے وسیلہ سے اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔ خُدا کے ظہور اور کام کرنے کا طریقہ مختلف رہا، لیکن اُس کی ذات ہمیشہ ایک ہی ہے۔
(William Marrion Branham, The Godhead Explained, 61-0425B)
خُدا کا ظہور یسوع مسیح میں
خُدا نے اپنے آپ کو مکمل طور پر یسوع مسیح میں ظاہر کیا۔ یسوع کوئی "دوسرا خُدا" نہیں، بلکہ وہ خود خُدا کا جسمانی ظہور ہے۔ جیسا کہ یوحنا 1:1 اور 1:14 میں بیان ہوا:
"اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا۔… اور کلام مُجّسم ہُؤا اور فضل اور سَچّائی سے معمُور ہوکر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُس کا اِیسا جلال دیکھا جَیسا باپ کے اِکلَوتے کا جلال۔۔
یسوع مسیح خُدا کا بیٹا تھا، یعنی وہ جسم جو خُدا نے اپنے اظہار اور فدیہ کے کام کے لیے تیار کیا۔ یسوع کا انسانی جسم بیٹا تھا، لیکن اُس میں سکونت کرنے والا روح ازلی خُدا تھا۔ اسی لیے خُداوند یسوع کوئی دوسرا خُدا نہیں بلکہ واحد خُدا کا کامل جسمانی ظہور تھا۔
(The Godhead Explained, 61-0425B؛ Come, Follow Me, 63-0601)
خُدا کا ظہور یسوع مسیح میں
پرانے عہد میں خُدا باپ کے طور پر ظاہر ہوا — ایک نادیدہ روح، جو کوہِ سینا پر آگ میں نازل ہوا، موسیٰ سے ہمکلام ہوا، اور نبیوں کو الہام دیا۔
خروج 3:2
"اور خُداوند کا فرشتہ جھاڑی میں آگ کے شعلہ میں اُس پر ظاہر ہوا..."
خروج 19:18
اور کوہ سینا اُوپر سے نیچے تک دُھوئیں سے بھر گیا کیونکہ خُداوند شُعلہ میں ہو کر اُس پر اُترا اور دھواں تنُور کے دھوئیں کی طرح اوپر کو اٹھ رہا تھا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا ۔
عاموس 3:7
یقینا خُداوند خُدا کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمت گُزار نبیوں پر پہلے آشکارانہ کرے۔
1 سموئیل 10:6
تب خُداوند کی رُوح تجھ پر زور سے نازِل ہو گی اور تو اُنکے ساتھ نُبوت کرنے لگیگا اور بدلکر اور ہی آدمی ہو جائیگا۔
عہد عتیق میں خُدا ایک باپ کے طور پر، روح کی صورت میں اپنے نبیوں سے ہمکلام ہوتا تھا۔
نئے عہد میں وہ خود مجسم ہو کر انسان کی صورت میں آیا — یسوع مسیح کے طور پر، تاکہ وہ انسانوں کو گناہ سے نجات دے۔
یوحنا 1:1، 14
"اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا۔… اور کلام مُجّسم ہُؤا اور فضل اور سَچّائی سے معمُور ہوکر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُس کا اِیسا جلال دیکھا جَیسا باپ کے اِکلَوتے کا جلال۔۔
1 تیمُتھیُس 3:16
اِس میں کلام نہِیں کہ دِینداری کا بھید بڑا ہے یعنی وہ جو جِسم میں ظاہِر ہُؤا اور رُوح میں راستباز ٹھہرا اور فرِشتوں کو دِکھائی دِیا اور غَیرقَوموں میں اُس کی منادی ہُوئی اور دُنیا میں اُس پر اِیمان لائے اور جلال میں اُوپر اُٹھایا گیا۔
کلسیوں 2:9
کیونکہ اُلوہیت کی ساری معموری اُسی میں مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔
خداوندیسوع کوئی دوسرا خُدا نہیں، بلکہ وہی ازلی خُدا ہے جو انسانی جسم میں ظاہر ہوا تاکہ اپنے خون سے انسان کی قیمت ادا کرے۔
آج کے زمانے میں وہ رُوح القدس کے طور پر اپنی دلہن کلیسیا میں رہ رہا ہے — ایمانداروں کے دلوں میں بسا ہوا، اور اپنے کلام کی روشنی کے ذریعے راہنمائی کر رہا ہے۔
یوحنا 14:17
یعنی رُوح حق جِسے دُنیا حاصِل نہِیں کرسکتی کِیُونکہ نہ اُسے دیکھتی اور نہ جانتی ہے۔ تُم اُسے جانتے ہو کِیُونکہ وہ تُمہارے ساتھ رہتا ہے اور تُمہارے اَندر ہوگا۔
اعمال 2:4
اور وہ سب رُوحُ اُلقدس سے بھر گئے اور غَیر زبانیں بولنے لگے جِس طرح رُوح نے اُنہِیں بولنے کی طاقت بخشی ۔
رومیوں 8:9
لیکِن تُم جِسمانی نہِیں بلکہ رُوحانی ہو بشرطیکہ خُدا کا رُوح تُم میں بسا ہُؤا ہے۔ مگر جِس میں مسِیح کا رُوح نہِیں وہ اُس کا نہِیں۔
برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق باپ، بیٹا اور رُوح القدس تین الگ خدا یا تین الگ شخصیتیں نہیں بلکہ ایک ہی خُدا کے القابات اور ظہور ہیں۔ وہ باپ کی حیثیت سے ہمارے اوپر، بیٹے میں ہمارے ساتھ، اور رُوح القدس کے وسیلہ سے ہمارے اندر ظاہر ہوا۔
(The Godhead Explained, 61-0425B؛ Jehovah-Jireh #1, 64-0402)
الوہیم اور خُدا کی وحدانیت
یہ نہ صرف خُدا کی ذات کی پہچان سے متعلق ہے بلکہ بائبل کے مکاشفاتی فہم کا مرکز ہے۔
برادر برینہم نے “الوہیم” کو ازلی اور خود موجود خُدا کے لیے استعمال کیا، جو کائنات کی تخلیق سے پہلے تنہا موجود تھا۔ اُس کے اندر ابتدا ہی سے اُس کی صفات، خیالات اور مکمل منصوبہ موجود تھا، جو بعد میں وقت کے ساتھ ظاہر ہوا۔
(Who Is This Melchisedec?, 65-0221E)
الوہیم اور خُدا کی وحدانیت
الوہیم، خُدا کی ازلی اور کامل ذات
"الوہیم" عبرانی زبان کا لفظ ہے جو بائبل میں خُدا کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر پیدائش کی پہلی آیات میں
پیدائش 1:1
"ابتدا میں الوہیم نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔"
الوہیم کا مطلب
الوہیم” عبرانی بائبل میں خدا کے لیے استعمال ہونے والا اہم لفظ ہے۔ اس کی صورت جمع ہے، لیکن جب یہ اسرائیل کے واحد خدا کے لیے آتا ہے تو عموماً واحد فعل اور واحد مفہوم کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ ازلی، خود موجود، کامل اور خالق ہونا خدا کی بائبلی صفات ہیں، لیکن یہ سب لفظ “الوہیم” کا لغوی ترجمہ نہیں ہیں۔
برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق
الوہیم ازلی اور خود موجود خدا ہے۔ کائنات کی تخلیق سے پہلے خدا تنہا موجود تھا، اور اُس کے اندر اُس کی صفات اور مکمل منصوبہ موجود تھا۔
(Who Is This Melchisedec?, 65-0221E)
الوہیم اور وحدانیت
“الوہیم” لفظ اپنی عبرانی ساخت میں جمع صورت رکھتا ہے، لیکن جب یہ اسرائیل کے واحد خُدا کے لیے استعمال ہوتا ہے تو عموماً واحد فعل اور واحد مفہوم کے ساتھ آتا ہے۔ یہ خُدا کی ذات میں بہت سے خداؤں کو نہیں بلکہ ایک ہی خُدا کی کامل اور کثیر صفات کو ظاہر کرتا ہے۔
استثناء 6:4
"سن اَے اسرائیل خُداوند ہمارا خُدا، ایک ہی خُداوند ہے۔"
یسعیا 45:5
میں ہی خداوند ہوں اور کوئی نہیں میرے سوا کوئی خدا نہیں۔ ۔۔
برادر برینہم نے الوہیم کو ازلی خدا کے طور پر بیان کیا، جس کے اندر ابتدا ہی سے اُس کی صفات، خیالات اور مقصد موجود تھے۔
(Who Is This Melchisedec?, 65-0221E)
الوہیم کا ظہور، یسوع مسیح
برادر برینہم نے سکھایا کہ عہدِ عتیق کا یہوواہ، جو موسیٰ کے سامنے جلتی ہوئی جھاڑی میں ظاہر ہوا، نئے عہد میں یسوع مسیح کے وسیلہ سے انسانی جسم میں ظاہر ہوا۔ یسوع کوئی دوسرا خُدا نہیں بلکہ واحد خُدا کا کامل جسمانی ظہور تھا۔
(The Mighty God Unveiled Before Us, 64-0629؛ The Godhead Explained, 61-0425B)
خروج 3:14
"خُدا نے موسیٰ سے کہا: میں وہ ہوں جو ہوں..." (I AM)
یوحنا 8:58
یِسُوع نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ پیشتر اُس سے کہ ابرہام پَیدا ہُؤا مَیں ہُوں۔
یہ کوئی اتفاق نہیں — بلکہ وہی الوہیم، جو ابدیت کا خُدا ہے، وقت کے ساتھ کلام میں ظاہر ہوا، اور پھر جسم میں آ کر یسوع کہلایا۔
یوحنا 1:1، 14
"ابتدا میں کلام تھا... اور کلام خُدا تھا... اور کلام مجسم ہوا..."
کلسیوں 2:9
"کیونکہ اُلوہیت کی ساری معموری اُسی (یسوع) میں مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔"
الوہیم آج بھی وہی خُدا ہے، رُوح القدس کے طور پر
آج الوہیم، وہی خُدا، روح القدس کی صورت میں اپنی دلہن کلیسیا میں موجود ہے
یوحنا 14:17
"وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے، اور تمہارے اندر ہو گا۔"
نتیجہ
الوہیم واحد، ازلی، کامل اور لاشریک خُدا ہے۔
اُس کے خیالات اور صفات کلام کے وسیلہ سے ظاہر ہوئے۔
اُلوہیت کی ساری معموری یسوع مسیح میں جسمانی طور پر سکونت کرتی تھی۔
آج وہی خُدا رُوح القدس کے وسیلہ سے اپنی دلہن کلیسیا میں سکونت اور کام کرتا ہے۔
یہی خُدا کی وحدانیت ہے: تین خدا یا تین الگ شخصیتیں نہیں، بلکہ ایک ہی خُدا جو اپنے مختلف القابات اور ظہور کے وسیلہ سے پہچانا گیا۔
1 تیمتھیس 3:16
" اِس میں کلام نہِیں کہ دِینداری کا بھید بڑا ہے یعنی وہ جو جِسم میں ظاہِر ہُؤا اور رُوح میں راستباز ٹھہرا اور فرِشتوں کو دِکھائی دِیا اور غَیرقَوموں میں اُس کی منادی ہُوئی اور دُنیا میں اُس پر اِیمان لائے اور جلال میں اُوپر اُٹھایا گیا۔
یسوع مسیح میں خُدا کا مکمل ظہور
خُدا کی سب سے بڑی سچائیوں میں سے ایک یہ ہے کہ یسوع مسیح خُدا کا مکمل، ابدی، اور جسمانی ظہور ہے۔ یسوع کوئی دوسرا "خُدا" نہیں، نہ ہی وہ خُدا سے کمتر ہے، بلکہ وہ خود خُدا ہے جو انسان کی صورت میں زمین پر آیا۔
کلسیوں 2:9
"کیونکہ اُلوہیت کی ساری معموری اُسی (یسوع) میں مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔"
یہ آیت نہایت طاقتور ہے۔ یہاں "معموری" اور "مجسم"کا مطلب ہے کہ خُدا باپ، رُوح القدس، اور خُدا کی تمام صفات و قدرتیں یسوع مسیح کے جسم میں موجود تھیں۔
“خُدا کا بیٹا” اُس انسانی جسم اور ظہور کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں ازلی خُدا نے سکونت کی۔ یسوع کوئی دوسرا خُدا نہیں بلکہ واحد خُدا کا کامل جسمانی ظہور ہے۔ اُس میں اُلوہیت کی ساری معموری مجسم ہوکر سکونت کرتی تھی۔
یوحنا 14:9
"جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا۔"
یہ آیت کسی بھی شبہ کو ختم کر دیتی ہے۔ یسوع نے یہ نہیں کہا کہ "میں باپ کے جیسا ہوں" بلکہ فرمایا "جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا۔
یسعیاہ 9:6
اس لیے ہمارے لیے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہم کو ایک بیٹابخشا گیا اور سلطنت اُسکے کندھے پر ہو گی اور اُس کا نام عجیب مشیرخدائے قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہو گا۔
یہ نبوت یسوع کے بارے میں ہے، اور اُس کو "خدائے قادر " اور "ابدیت کا باپ" کہا گیا ہے — اس کا مطلب ہے کہ وہی ازلی خُدا ہے۔
1 تیمُتھیُس 3:16
اِس میں کلام نہِیں کہ دِینداری کا بھید بڑا ہے یعنی وہ جو جِسم میں ظاہِر ہُؤا اور رُوح میں راستباز ٹھہرا اور فرِشتوں کو دِکھائی دِیا اور غَیرقَوموں میں اُس کی منادی ہُوئی اور دُنیا میں اُس پر اِیمان لائے اور جلال میں اُوپر اُٹھایا گیا۔
یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ خُدا نے خود انسان بن کر اپنا آپ ظاہر کیا، اور یہ مجسم صورت یسوع مسیح تھی۔
کلسیوں 2:9
"کیونکہ اُلوہیت کی ساری معموری اُسی (یسوع) میں مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔"
یہ آیت نہایت طاقتور ہے۔ یہاں "معموری" اور "مجسم"کا مطلب ہے کہ خُدا باپ، رُوح القدس، اور خُدا کی تمام صفات و قدرتیں یسوع مسیح کے جسم میں موجود تھیں۔
یسوع مسیح خدا کا بیٹا بمعنی ایک الگ ہستی نہیں، بلکہ وہ وہی خُدا ہے جو اپنے آپ کو انسانی جسم میں ظاہر کرتا ہے۔ وہ خُدا کا مجسم چہرہ ہے۔یسوع کوئی دوسرا "خُدا" نہیں بلکہ خود خُدا ہے۔
یوحنا 14:9
"جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا۔"
یہ آیت کسی بھی شبہ کو ختم کر دیتی ہے۔ یسوع نے یہ نہیں کہا کہ "میں باپ کے جیسا ہوں" بلکہ فرمایا "جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا۔
یسعیاہ 9:6
اس لیے ہمارے لیے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہم کو ایک بیٹابخشا گیا اور سلطنت اُسکے کندھے پر ہو گی اور اُس کا نام عجیب، مشیر، خُدائے قادر، ابدیت کا باپ، سلامتی کا شہزادہ۔
یہ نبوت یسوع کے بارے میں ہے، اور اُس کو "خدائے قادر " اور "ابدیت کا باپ" کہا گیا ہے — اس کا مطلب ہے کہ وہی ازلی خُدا ہے۔
1 تیمُتھیُس 3:16
اِس میں کلام نہِیں کہ دِینداری کا بھید بڑا ہے یعنی وہ جو جِسم میں ظاہِر ہُؤا اور رُوح میں راستباز ٹھہرا اور فرِشتوں کو دِکھائی دِیا اور غَیرقَوموں میں اُس کی منادی ہُوئی اور دُنیا میں اُس پر اِیمان لائے اور جلال میں اُوپر اُٹھایا گیا۔
یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ خُدا نے خود انسان بن کر اپنا آپ ظاہر کیا، اور یہ مجسم صورت یسوع مسیح تھی۔
برادر برینہم نے یسوع مسیح کو کامل خُدا اور کامل انسان بیان کیا اور واضح کیا کہ باپ، بیٹے اور رُوح القدس کی صفات اُس ایک شخص، یسوع مسیح میں ظاہر ہوئیں۔
(William Marrion Branham, Come, Follow Me, 63-0601؛ The Godhead Explained, 61-0425B)
عقیدہ تثلیث غیربائبلی، رومی کلیسا کی ایجاد
تثلیث وہ نظریہ ہے جو کہتا ہے کہ خُدا تین الگ الگ شخصیتوں میں موجود ہےباپ، بیٹا، اور رُوح القدس اور یہ تینوں مل کر ایک خُدا کہلاتے ہیں۔ بظاہر یہ الفاظ سادہ لگ سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ نظریہ بائبل کی سادہ تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔
برادر برینہم نے تثلیثی نظریے کو غیر بائبلی قرار دیا۔ اُن کی تعلیم کے مطابق خُدا تین الگ شخصیتیں نہیں بلکہ ایک ہی خُدا ہے، اور تثلیثی اصطلاحات رسولی کلیسیا کی اصل تعلیم کا حصہ نہیں تھیں بلکہ بعد کی کلیسائی مجالس کے ذریعے باقاعدہ عقیدے کی صورت اختیار کرگئیں۔
(William Marrion Branham, The Godhead Explained, 61-0425B)۔
لفظ “تثلیث” بائبل میں استعمال نہیں ہوا۔ 325ء کی نِکایاہ کونسل اور بعد کی کلیسائی مجالس میں تثلیثی عقیدے کو بتدریج باقاعدہ کلیسائی اصطلاحات اور قانونی حیثیت دی گئی۔ برادر برینہم کے مطابق یہ تشکیل رسولی کلیسیا کی سادہ وحدانیت اور یسوع مسیح کے نام کی تعلیم سے مختلف تھی۔
(The Godhead Explained, 61-0425B)
بائبل کا مؤقف — صرف ایک خُدا
بائبل بار بار اور صاف لفظوں میں اعلان کرتی ہے کہ خُدا ایک ہی ہے، نہ کہ تین
استثناء 6:4
سن اے اسرائیل! خُداوند ہمارا خُدا، ایک ہی خُداوند ہے۔
یسعیاہ 44:6
خڈاوند اسرائیل کا بادشاہ اور اسکا فدی دینے والا رب لافواج یوں فرماتا ہے کہ میں ہی اوّل اور میں ہی آخر ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں۔
1 کرنتھیوں 8:4
۔۔۔اور سِوا ایک کے اَور کوئی خُدا نہِیں۔
یہ آیات نہ صرف توحید کی تعلیم دیتی ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ خُدا کی کوئی شریک ذات نہیں۔
تثلیث کا تاریخی پس منظر
برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق رسولی کلیسیا ایک خُدا پر ایمان رکھتی اور یسوع مسیح کے نام میں بپتسمہ دیتی تھی۔ اُنہوں نے اعمال 2:38، اعمال 8:16، اعمال 10:48 اور اعمال 19:5 کو اس تعلیم کی بنیاد کے طور پر پیش کیا۔
(The Godhead Explained, 61-0425B؛ A True Sign That’s Overlooked, 61-1112)
اعمال 2:38 میں پطرس رسول نے فرمایا
پطرس نے اُن سے کہا کے تُوبہ کرو اور تُم میں سے ہر ایک گُناہوں کی مُعافی کے لئِے یِسُوع مسِیح کے نام پر بپتِسمہ لے تو تُم رُوحُ القدُس اِنعام میں پاو گے ۔
یہاں بپتسمہ براہِ راست یسوع مسیح کے نام پر دیا گیا۔ باپ، بیٹا اور روح القدس کے القابات کو بپتسمہ کے الفاظ کے طور پر نہیں دہرایا گیا، جبکہ توبہ کرنے والوں سے روح القدس کے انعام کا وعدہ کیا گیا۔
نِکایاہ کی کونسل 325ء اور بعد کی کلیسائی مجالس میں تثلیثی عقیدے کو بتدریج باقاعدہ کلیسائی زبان اور قانونی حیثیت دی گئی۔— حالانکہ یہ بائبل کی کسی بھی آیت سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
یسوع کے نام میں خُدا کی معموری
تثلیث ایک دھوکہ ہے، کیونکہ خُدا تین شخصیتیں نہیں، بلکہ ایک ہی ذات ہے جو باپ، بیٹے، اور رُوح القدس کے طور پر مختلف طریقوں سے ظاہر ہوا۔ اور اُس کا نام یسوع ہے!
برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق خُدا تین الگ شخصیتیں نہیں بلکہ ایک ہی الٰہی ہستی ہے۔ باپ، بیٹا اور رُوح القدس اُس ایک خُدا کے القابات اور ظہور ہیں، اور نجات کا ظاہر کیا ہوا نام خُداوند یسوع مسیح ہے۔
(The Godhead Explained, 61-0425B)
اعمال 4:12
اور کِسی دُوسرے کے وسِیلہ سے نِجات نہِیں بخشا گیا جِس کے وسِیلہ سے ہم نِجات پاسکیں۔
فلپیوں 2باب9-11
اِسی واسطے خُدا نے بھی اُسے بہُت سر بُلند کِیا اور اُسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلٰی ہے۔
تاکہ یِسُوع کے نام پر ہر ایک گھُٹنا ٹِکے۔ خواہ آسمانِیوں کا ہو خواہ زمِینیوں کا۔ خواہ اُن کا جو زمِین کے نِیچے ہیں۔
اور خُدا باپ کے جلال کے لِئے ہر ایک زبان اِقرار کرے کہ یِسُوع مسِیح خُداوند ہے۔
نتیجہ:
خُدا ایک ہے، اور نجات کا ظاہر کیا ہوا نام خُداوند یسوع مسیح ہے۔ لفظ “تثلیث” بائبل میں موجود نہیں، اور رسولی کلیسیا نے بپتسمہ یسوع مسیح کے نام میں دیا۔ اس لیے ایماندار کا ایمان انسانی فلسفے یا کلیسائی روایت پر نہیں بلکہ خُدا کے کلام کے واضح مکاشفہ پر قائم ہونا چاہیے۔
(اعمال 2:38؛ اعمال 4:12؛ The Godhead Explained, 61-0425B)
خدا کے خیالات اور صفات
برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق
خُدا ازلی اور خود موجود ہستی ہے۔ ابتدا سے پہلے اُس کے اندر اُس کے خیالات، صفات اور مکمل منصوبہ موجود تھا، جو مقررہ وقت پر کلام کے وسیلہ سے ظاہر ہوا۔
(Who Is This Melchisedec?, 65-0221E؛ When Their Eyes Were Opened, They Knew Him, 64-0312)
خدا کی ذات کوئی بدلتی ہوئی حالت نہیں ہے بلکہ ایک کامل، ابدی اور مکمل ہستی ہے جس کے خیالات اور صفات اس کے اپنے کلام میں ظاہر ہیں۔ خُدا کو جاننے کے لیے، ہمیں اُس کے خیالات کو سمجھنا چاہیے اور وہ خیالات اُس کے کلام میں پوشیدہ ہیں۔
خدا کے خیالات – ابتدا سے پیشتر
ابتدا سے پیشتر، خدا کے ذہن میں ایک کامل منصوبہ تھا - اور ہم اس کے خیالوں میں تھے۔
افسیوں 1:4
چُنانچہ اُس نے ہم کو بنایِ عالم سے پیشتر اُس میں چُن لِیا تاکہ ہم اُس کے نزدِیک محبّت میں پاک اور بے عَیب ہوں۔
دوسرے لفظوں میں، خُدا کے خیالات ازل سے تھے، اور ان خیالات میں اُس کا کلام، اُس کی نجات کا منصوبہ، اور اُس کی دلہن، کلیسیا شامل تھی۔
برادر برینہم کے مطابق حقیقی ایماندار ابتدا ہی سے خُدا کے خیال اور منصوبے میں پہچانے گئے تھے۔ مقررہ وقت آنے پر وہ خُدا کے کلام اور مقصد کو اپنی زندگی میں ظاہر کرتے ہیں۔
(Who Is This Melchisedec?, 65-0221E؛ The Invisible Union of the Bride of Christ, 65-1125)
خدا کی صفات - جو اس کی ذات میں موجود ہیں۔
خدا کی صفات اس کے کردار کی مظہر ہیں۔ یہ صفات وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوئیں تاکہ خدا اپنے آپ کو ظاہر کر سکے۔
بائبل میں خدا کی چند اہم صفات
محبت
1 یوحنا 4:8
"خدا محبت ہے۔"
پاکیزگی
یسعیاہ 6:3
اور ایک نے دوسرے کو پُکارا اورکہا قدوس قدوس قدوس رب الافواج ہے۔ ساری زمین اُسکے جلال سے معمور ہے۔
عدل وانصاف
استثنا 32:4
وہ وہی چٹان ہے ۔ اُسکی صنعت کامل ہے کیونکہ اُسکی سب راہیں انصا ف کی ہیں وہ وفادار خدا اور بدی سے مبرا ہے ۔ وہ منصف اور بر حق ہے ۔
رحم اور شفقت
زبور 103:8
"رب مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔"
علم اور طاقت
یرمیاہ 32:17
آہ اَے خداوند خدا!دیکھ تو نے اپنی عظیم قدرت اور اپنے بلند بازو سے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور تیرے لئے کوئی کام مُشکل نہیں ہے۔
خُدا کو پہچاننے کا طریقہ اُس کی صفات کو پہچاننا ہے — کیونکہ صفات ہی خُدا کے باطنی خیالات کا ظاہری اظہار ہیں۔
خُدا کے خیالات کا مظہر - یسوع مسیح
خُدا کے خیالات کا اعلیٰ ترین اظہار یسوع مسیح میں تھا — وہ خود خُدا کا کلام، اُس کے خیالات، اُس کی ذات کا عکس تھا۔
عبرانیوں 1:3
وہ اُس کے جلال کا پرتَو اور اُس کی ذات کا نقش ہوکر سب چِیزوں کو اپنی قُدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے۔ وہ گُناہوں کو دھو کر عالمِ بالا پر کِبریا کی دہنی طرف جا بَیٹھا۔
یوحنا 1:14
اور کلام مُجّسم ہُؤا اور فضل اور سَچّائی سے معمُور ہوکر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُس کا اِیسا جلال دیکھا جَیسا باپ کے اِکلَوتے کا جلال۔
یسوع مسیح میں خُدا کا کلام مجسم ہوا۔ وہ خُدا کے خیالات، صفات اور نجات کے منصوبے کا کامل جسمانی اظہار تھا۔
(یوحنا 1:1، 14؛ کلسیوں 2:9؛ When Their Eyes Were Opened, They Knew Him, 64-0312)
خُدا کے ابدی منصوبے میں ایماندار کا مقام
اگر ہم بنایِ عالم سے پیشتر مسیح میں چنے گئے ہیں تو ہماری زندگی کا مقصد خُدا کے کلام اور اُس کے مقرر کردہ منصوبے کے مطابق ہونا ہے۔ حقیقی ایماندار اپنی ذات کو نہیں بلکہ مسیح کی زندگی اور فطرت کو ظاہر کرتا ہے۔
رومیوں 8:29
کِیُونکہ جِن کو اُس نے پہلے سے جانا اُن کو پہلے سے مُقرّر بھی کِیا کہ اُس کے بَیٹے کے ہمشکل ہوں تاکہ وہ بہُت سے بھائِیوں میں پہلوٹھا ٹھہرے۔
برادر برینہم نے سکھایا کہ حقیقی ایماندار خُدا کی اُن صفات کا زمینی اظہار ہیں جو ابتدا ہی سے اُس کے خیال میں موجود تھیں۔ خُدا کا رُوح اُن کی زندگی کو مسیح کی صورت اور اُس کے کلام کے مطابق ڈھالتا ہے۔
(The Invisible Union of the Bride of Christ, 65-1125؛ Identification, 64-0216)
نتیجہ
خُدا صرف ایک طاقتور ہستی نہیں، بلکہ ایک سوچنے والا، منصوبہ ساز، محبت کرنے والا خُدا ہے، جس کے خیالات پاک اور کامل ہیں۔ اُس کی صفات اُس کے دل کو ظاہر کرتی ہیں، اور اُس کے خیالات اُس کی مرضی کو۔
آئیے ہم اُس کے خیالات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں — تاکہ ہم نہ صرف خُدا کو جانیں، بلکہ اُس میں پائے جائیں۔
خُدا کے خیالات کا ظہور کلام (لوگوس) میں
“لوگوس” کا مفہوم خُدا کے کلام، اُس کے مکاشفہ اور اپنے آپ کو ظاہر کرنے کے طریقے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
خُدا کے خیالات کا ظہور کلام (لوگوس) میں
برادر برینہم نے واضح کیا کہ پہلے خیال ہوتا ہے، پھر وہ خیال کلام کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس مفہوم میں کلام، ظاہر کیا ہوا خیال ہے۔
(William Marrion Branham, When Their Eyes Were Opened, They Knew Him, 64-0312)
خُدا نے ابتدا میں کچھ سوچا، اور پھر اُس نے اُن خیالات کو ظاہر کیا — اور یہی ظہور "کلام" یا یونانی میں "لوگوس (Logos)" کہلاتا ہے۔ یہ کوئی دوسرا خُدا یا شخصیت نہیں، بلکہ خُدا کا اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا طریقہ ہے۔
خُدا کے خیالات ازل سے تھے
خُدا ہمیشہ سے موجود تھا — اور اُس کے خیالات بھی ازل سے اُس کے ساتھ تھے۔ وہ خیال کبھی فنا نہیں ہوتا، بلکہ وقت کے ساتھ ظہور میں آتا ہے۔
خیال کا پہلا ظہور — لوگوس (Logos)
خُدا ازل سے اپنے خیالات، صفات اور مقصد کے ساتھ موجود تھا۔ جب اُس نے اپنے خیالات کو ظاہر کیا تو وہ کلام کی صورت میں سامنے آئے۔ لوگوس کوئی دوسرا خُدا نہیں بلکہ واحد خُدا کا اظہار تھا، جس کے وسیلہ سے تخلیق، مکاشفہ اور نجات کا منصوبہ ظاہر ہوا۔
(Who Is This Melchisedec?, 65-0221E؛ When Their Eyes Were Opened, They Knew Him, 64-0312)
لوگوس ہی خُدا کا ذریعہِ اظہار رہا
خُدا نے اپنے تمام افعال، تمام تخلیق، اور تمام مکاشفہ کو لوگوس کے ذریعے ظاہر کیا۔
چاہے وہ نبیوں سے ہمکلامی ہو، یا نجات کا منصوبہ — ہر چیز اسی لوگوس کے ذریعے آئی۔
عبرانیوں 1باب 1-2
اگلے زمانہ میں خُدا نے باپ دادا سے حِصّہ بہ حِصّہ اور طرح بہ طرح نبِیوں کی معرفت کلام کر کے۔
اِس زمانہ کے آخِر میں ہم سے بَیٹے کی معرفت کلام کِیا جِسے اُس نے سب چِیزوں کا وارِث ٹھہرایا اور جِس کے وسِیلہ سے اُس نے عالم بھی پَیدا کِئے۔
یہ "بیٹے کی معرفت" دراصل وہی "کلام" (Logos) ہے جو خُدا کے خیالات کو ظاہر کرتا ہے۔
لوگوس مجسم ہوا — یسوع مسیح
کلسیوں 2:9
"اُلوہیت کی ساری معموری اُسی میں (یسوع میں) مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔"
عبرانیوں 1:3
"جو اُس کے جلال کا پرتو اور اُس کی ذات کا نقش ہے..."
یسوع کوئی دوسرا خُدا نہیں بلکہ وہی کلام ہے جو مجسم ہوا۔ اُس میں اُلوہیت کی ساری معموری جسمانی طور پر سکونت کرتی تھی، اس لیے وہ خُدا کی ذات، صفات اور نجات کے منصوبے کا کامل جسمانی اظہار تھا۔
(یوحنا 1:1، 14؛ کلسیوں 2:9؛ The Godhead Explained, 61-0425B)
نتیجہ
لوگوس کے ساتھ ہمارا تعلق
اگر ہم مسیح کی دلہن ہیں تو ہمیں اُس کے کلام کے ساتھ متحد اور اُس کے رُوح سے معمور ہونا چاہیے۔ دلہن خُدا نہیں بنتی بلکہ اپنے زمانے کے کلام کو قبول کرکے اپنی زندگی میں مسیح کی فطرت، کردار اور وعدے کو ظاہر کرتی ہے۔
(The Invisible Union of the Bride of Christ, 65-1125)
افسیوں 5:27
اور ایک اَیسی جلال والی کلِیسیا بنا کر اپنے پاس حاضِر کرے جِس کے بَدَن میں داغ یا جھُرّی یا کوئی اَور اَیسی چِیز نہ ہو بلکہ پاک اور بے عَیب ہو۔
یہ دلہن خُدا کے خیالات کا آخری اور کامل اظہار ہو گی۔
خلاصہ
خُدا کے خیالات اور صفات ازل سے اُس میں موجود تھے۔
خُدا نے اپنے خیالات کو کلام کی صورت میں ظاہر کیا۔
لوگوس کوئی دوسرا خُدا نہیں بلکہ واحد خُدا کا اظہار تھا۔
وہی کلام یسوع مسیح میں مجسم ہوا۔
آج دلہن کلیسیا کلام کے ساتھ متحد ہوکر مسیح کی زندگی اور فطرت کو ظاہر کرتی ہے۔
(When Their Eyes Were Opened, They Knew Him, 64-0312؛ Who Is This Melchisedec?, 65-0221E؛ The Invisible Union of the Bride of Christ, 65-1125)
ایک ہی خُدا کے تین دَور یا ظہور
برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق ایک ہی خُدا نے اپنے آپ کو باپ، بیٹے اور رُوح القدس کے وسیلہ سے ظاہر کیا۔ وہ تین الگ خدا یا تین الگ شخصیتیں نہیں بلکہ ایک ہی خُدا ہے، جو اپنے نجات کے منصوبے میں ہمارے اوپر، ہمارے ساتھ اور ہمارے اندر ظاہر ہوا۔
(The Godhead Explained, 61-0425B؛ Jehovah-Jireh #1, 64-0402)
ایک ہی خُدا کے تین دَور
خُدا ابدی اور غیرمحدود ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو وقت کے ساتھ مختلف طریقوں سے ظاہر کرتا ہے تاکہ ہم اُسے پہچان سکیں۔ بھائِی برینہم نبی فرماتے ہیں
"خُدا باپ کے طور پر، بیٹے کے طور پر، اور رُوح القدس کے طور پر ظاہر ہوا — مگر وہ تین نہیں، ایک ہی خُدا ہے جو مختلف دَوروں میں اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔"
1 "God ABOVE Us "
(Fatherhood Dispensation – Old Testament)
خُدا ہمارے اوپر تھا
“خُدا ہمارے اوپر” سے مراد یہ ہے کہ عہدِ عتیق میں خُدا اپنی آسمانی حاکمیت اور باپ کی حیثیت سے پہچانا گیا۔ وہ روح تھا اور نبیوں، خوابوں، رویاؤں، فرشتوں اور مختلف ظہوروں کے وسیلہ سے اپنے لوگوں سے ہمکلام ہوتا تھا۔ اگرچہ خُدا اپنے لوگوں کے ساتھ تھا، لیکن اُس وقت وہ ابھی یسوع مسیح میں کامل جسمانی صورت میں ظاہر نہیں ہوا تھا۔
خروج 33:20
اور یہ بھی کہا تُو میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اِنسان مجُھے دیکھ کر زندہ نہیں رہیگا ۔
یسعیا 66:1
خداوندیوں فرماتا ہے کہ آسمان میرا تخت ہے اور زمین میرے پاؤں کی چوکی۔۔۔
خُدا نبیوں، خوابوں، رویا اور فرشتوں کے ذریعے ظاہر ہوتا رہا — مگر خود انسان کی مانند نہ تھا۔
برادر برینہم نے اس مرحلے کو باپ کی حیثیت سے خُدا کے اظہار کے طور پر بیان کیا۔ خُدا اپنے لوگوں کے اوپر حاکم تھا اور اپنے نبیوں اور کلام کے وسیلہ سے اُن کی راہنمائی کرتا تھا۔
(The Godhead Explained, 61-0425B)
"God WITH Us"
2. Sonship Dispensation – New Testament
خُدا ہمارے ساتھ تھا
پھر خُدا نے اپنے خیالات کو ظاہر کرنے کا کامل طریقہ چُنا
"کلام مجسم ہوا" — خُدا خود انسانی جسم میں آ کر ہمارے درمیان رہا۔
یہ یسوع مسیح ہے — خُدا کا ظہور، نہ کوئی دوسرا خُدا، نہ کوئی شریک — بلکہ وہی ایک خُدا انسان کی صورت میں۔
یوحنا 1:14
"اور کلام مجسم ہوا اور ہمارے درمیان رہا..."
متی 1:23
"…اور اُس کا نام عمانوایل رکھیں گے، جس کا ترجمہ ہے ‘خُدا ہمارے ساتھ۔’"
برادر برینہم نے سکھایا کہ عہدِ عتیق کا یہوواہ یسوع مسیح میں انسانی صورت اختیار کرکے آیا تاکہ موت کا مزہ چکھے اور فدیہ کی قیمت ادا کرے۔ یسوع کوئی دوسرا خُدا نہیں بلکہ واحد خُدا کا کامل جسمانی ظہور تھا۔
(The Mighty God Unveiled Before Us, 64-0629؛ The Godhead Explained, 61-0425B)
God ABOVE Us: خُدا ہمارے اوپر
باپ کی حیثیت سے خُدا کا اظہار، عہدِ عتیق
God WITH Us: خُدا ہمارے ساتھ
یسوع مسیح میں خُدا کا جسمانی ظہور، نیا عہد
God IN Us: خُدا ہمارے اندر
رُوح القدس کے وسیلہ سے خُدا کی کلیسیا میں سکونت
“God above us, God with us, and God in us!”
“خُدا ہمارے اوپر، خُدا ہمارے ساتھ، اور خُدا ہمارے اندر!”
(Jehovah-Jireh #1, 64-0402)
یسوع کی موت، دفن، اور قیامت کے بعد خُدا نے اپنا ظہور ایک نئے انداز میں کیا — روح القدس کی صورت میں۔
اب خُدا صرف ہمارے اوپر یا ہمارے ساتھ نہیں بلکہ ہمارے اندر رہتا ہے!
یوحنا 14:17
"وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے اور تمہارے اندر ہو گا۔"
1 کرنتھیوں 3:16
کیا تُم نہِیں جانتے کہ تُم خُدا کا مَقدِس ہو اور خُدا کا رُوح تُم میں بسا ہُؤا ہے؟
آج کا دَور رُوح القدس کا دَور ہے — جہاں خُدا اپنی دلہن کلیسیا میں بستا ہے، کلام کو زندہ کر رہا ہے، اور خود کو ظہور میں لا رہا ہے۔
یسوع کی روح کلیسیا میں
برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق وہی رُوح القدس جو پنتکست کے دن کلیسیا میں آیا، آج بھی حقیقی ایمانداروں میں سکونت کرتا اور اپنے زمانے کے کلام کو زندہ کرتا ہے۔
(Jehovah-Jireh #1, 64-0402؛ The Mighty God Unveiled Before Us,
رومیوں 8:9،رومیوں 8:11
لیکِن تُم جِسمانی نہِیں بلکہ رُوحانی ہو بشرطیکہ خُدا کا رُوح تُم میں بسا ہُؤا ہے۔ مگر جِس میں مسِیح کا رُوح نہِیں وہ اُس کا نہِیں۔
یعنی وہی رُوح جو یسوع مسیح پر تھا وہی قوت، وہی محبت، وہی پاکیزگی اور وہی آج حقیقی دلہن کلیسیا میں ظاہر ہو رہی ہے۔
خُدا کا رُوح، مسیح کا رُوح اور رُوح القدس
بائبل “خُدا کا رُوح”، “مسیح کا رُوح”، “یسوع کا رُوح” اور “رُوح القدس” کی اصطلاحات استعمال کرتی ہے۔ یہ الگ الگ روحیں نہیں بلکہ ایک ہی الٰہی رُوح کے مختلف تعارف ہیں۔ رومیوں 8:9 میں “خُدا کا رُوح” اور “مسیح کا رُوح” ایک ہی سلسلۂ کلام میں استعمال ہوئے ہیں۔
اعمال 16:7
اور اُنہوں نے مُوسیہ کے قرِیب پہُنچ کر بِتُونیہ میں جانے کی کوشِش کی مگر یِسُوع کے رُوح نے اُنہِیں جانے نہ دِیا۔
گلتیوں 4:6
اور چُونکہ تُم بَیٹے ہو اِس لِئے خُدا نے اپنے بَیٹے کا رُوح ہمارے دِلوں میں بھیجا جو ابّا یعنی اَے باپ کہہ کر پُکارتا ہے۔
یسوع کی روح کلیسیا میں کیا کرتی ہے؟
کلام کو زندہ کرتی ہے
یوحنا 16:13
لیکِن جب وہ یعنی رُوح حق آئے گا تو تُم کو تمام سَچّائی کی راہ دِکھائے گا۔ اِس لِئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکِن جو کُچھ سُنیگا وُہی کہے گا اور تُمہیں آئیندا کی خَبریں دے گا۔
برادر برینہم نے سکھایا کہ رُوح القدس ہر دَور کے لیے خُدا کے مقرر کردہ وعدے کو حقیقی ایمانداروں میں زندہ اور ظاہر کرتا ہے۔ آخری زمانے کی دلہن بھی اپنے زمانے کے کلام کو قبول کرکے اُس کے مطابق زندگی گزارتی ہے۔
(Christ Is the Mystery of God Revealed, 63-0728؛ The Invisible Union of the Bride of Christ, 65-1125)
الٰہی نشان اور معجزات ظاہر کرتی ہے
مرقس 16:17–18 کے مطابق نشان ایمان لانے والوں کے ساتھ ہوں گے۔ برادر برینہم کی خدمت میں شفا، روحانی پہچان اور دوسرے نشان نمایاں تھے، لیکن اُنہوں نے ہمیشہ خُدا کے کلام کو نشانوں سے بلند مقام دیا۔ نشان کا مقصد کلام کی طرف راہنمائی کرنا ہے، نہ کہ خود توجہ کا مرکز بننا۔
مرقس 16باب 16-18
جو اِیمان لائے اور بپتِسمہ لے وہ نِجات پائے گا اور جو اِیمان نہ لائے وہ مُجرم ٹھہرایا جائے گا۔
اور اِیمان لانے والوں کے درمیان یہ مُعجِزے ہوں گے۔ وہ میرے نام سے بَدرُوحوں کو نِکالیں گے۔
سچی دلہن کلیسیا میں یسوع کی روح آج بھی معجزات، شفا، اور نبوت کے ذریعے ظاہر ہو رہی ہے۔
پاکیزگی اور محبت پیدا کرتی ہے
گلتیوں 5باب 22-23
مگر رُوح کا پھَل محبّت۔ خُوشی۔ اِطمینان۔ تحمُّل۔ مہربانی۔ نیکی۔ اِیمانداری۔
حلِم۔ پرہیزگاری ہے۔ اَیسے کاموں کی کوئی شَرِیعَت مُخالِف نہِیں۔
یسوع کی فطرت کلیسیا کے ایمانداروں میں ظاہر ہوتی ہے۔
کلیسیا کو دلہن بناتی ہے
مکاشفہ 19:7
آؤ۔ ہم خُوشی کریں اور نِہایت شادمان ہوں اور اُس کی تمجِید کریں اِس لِئے کہ برّہ کی شادِی آ پہُنچی اور اُس کی بِیوی نے اپنے آپ کو تیّار کر لِیا۔
یہ یسوع کی روح ہی ہے جو دلہن کو تیار کرتی ہے تاکہ وہ اُس کی آمد پر تیار ہو۔
دلہن کلیسیا = یسوع کا عکس
یسوع کی روح جس کلیسیا میں ہو، وہ صرف تعلیم یا ظاہری عبادت میں مضبوط نہیں، بلکہ اُس کے کردار، محبت، اور کلام میں یسوع کا عکس ہوتی ہے۔
اعمال 4:13
جب اُنہوں نے پطرس اور یُوحنّا کی دلیری دیکھی اور معلُوم کِیا کہ یہ اَن پڑھ اور ناواقِف آدمِی ہیں تو تعّجُب کِیا۔ پھِر اُنہِیں پہچانا کہ یہ یِسُوع کے ساتھ رہے ہیں۔
برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق دلہن مسیح کے کلام اور رُوح کے ساتھ متحد ہوگی۔ اسی لیے اُس کی زندگی میں مسیح کا کردار، محبت، پاکیزگی اور اپنے زمانے کا وعدہ ظاہر ہوگا۔
(The Invisible Union of the Bride of Christ, 65-1125)
آج کلیسیا میں روح کا کام
آج کا دَور "روح القدس کا دَور" ہے — اور سچی دلہن کلیسیا میں یسوع خود اپنی روح کے ذریعے کام کر رہا ہے
کلام کا مکاشفہ، زندگیوں کی تبدیلی، آخری زمانے کی دلہن کی تیاری، اور مسیح کی صورت میں بڑھتے جانا۔
رومیوں 8:11
اور اگر اُسی کا رُوح تُم میں بسا ہُؤا ہے جِس نے یِسُوع کو مُردوں میں سے جِلایا تو جِس نے مسِیح یِسُوع کو مُردوں میں سے جِلایا وہ تُمہارے فانی بَدَنوں کو بھی اپنے اُس رُوح کے وسِیلہ سے زِندہ کرے گا جو تُم میں بسا ہُؤا ہے۔
نتیجہ
رُوح القدس کا کام ایمانداروں کو مسیح کی صورت میں ڈھالنا، اُنہیں کلام کی سچائی میں قائم کرنا اور دلہن کو خُداوند کی آمد کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس طرح دلہن اپنی ذات یا انسانی قابلیت نہیں بلکہ مسیح کے کردار، محبت اور کلام کو ظاہر کرتی ہے۔
(افسیوں 4:13؛ The Invisible Union of the Bride of Christ, 65-1125)
یسوع مسیح: مکمل انسان اور مکمل خُدا
یہ حقیقت بائبل کی گہرائی، مسیح کے فدیہ کی قوت، اور خدا کی محبت کا عکاس ہے۔
بھائی برینہم نے اس سچائی کو نہایت خوبصورتی سے واضح کیا کہ یسوع صرف نبی، استاد یا نجات دہندہ نہیں، بلکہ وہ خُدا خود ہے جو انسان بن کر ظاہر ہوا۔
یسوع مسیح: مکمل انسان اور مکمل خُدا
بھائی برینہم فرماتے ہیں
"یسوع کوئی دوسرا خُدا یا دوسرا شخص نہیں تھا وہ خُدا خود تھا، جو انسان کی صورت میں آیا۔"
یہی حقیقت بائبل میں بھی بار بار بیان کی گئی ہے کہ یسوع مسیح نے دونوں فطرتیں اپنے اندر رکھیں
انسان کی فطرت: درد، بھوک، پیاس، موت
خُدا کی فطرت: قدرت، پاکیزگی، ابدیت، معجزات
یسوع کی انسانیت
یسوع مسیح مکمل انسان تھا — اس نے پیدائش لی، بھوک، پیاس، تھکن، دُکھ اور موت کا سامنا کیا۔
متی 4:2
اور چالیس دِن اور چالیس رات فاقہ کر کے آخر کو اُسے بھُوک لگی۔
یوحنا 19:28
اُس کے بعد یِسُوع نے جان لِیا کہ اَب سب باتیں تمام ہوئِیں تاکہ نوِشتہ پُورا ہوتو کہا کہ مَیں پیاسا ہُوں۔
عبرانیوں 4:15
کِیُونکہ ہمارا اَیسا سَردار کاہِن نہِیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تَو بھی بے گُناہ رہا۔
بھائی برینہم سکھاتے ہیں
"خُدا نے انسان کی کمزوریوں کو خود پر لیا تاکہ وہ ہماری جگہ آ سکے — یہی یسوع کی انسانیت تھی۔"
یسوع کی الوہیت
اسی وقت یسوع مکمل خُدا بھی تھا — اُس میں الوہیت کی ساری معموری مجسم تھی۔
کلسیوں 2:9
"کیونکہ اُلوہیت کی ساری معموری اُسی میں (یسوع میں) مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔"
یوحنا 1:1، 14
"ابتدا میں کلام تھا... اور کلام خُدا تھا... اور کلام مجسم ہوا اور ہمارے درمیان رہا۔"
یسعیا 9:6
"اور اُس کا نام عجیب، مشیر، خُدائے قادر، ابدیت کا باپ، سلامتی کا شہزادہ ہو گا۔"
بھائی برینہم نے فرمایا
"یسوع خُدا کا مجسم چہرہ تھا — وہی خُدا جو جسم میں ظاہر ہوا تاکہ ہمیں چھو سکے، ہمیں بچا سکے، اور ہمارے ساتھ رہ سکے۔"
دو فطرتیں، ایک ہی شخصیت
یسوع میں دو فطرتیں تھیں لیکن ایک ہی شخصیت تھی۔ وہ کبھی انسان کے طور پر بھوکا ہوا، اور اگلے لمحے خُدا کے طور پر روٹیوں کو بڑھایا۔
انسان کے طور پر سویا،
خُدا کے طور پر طوفان کو خاموش کیا
انسان کے طور پر صلیب پر مرا،
خُدا کے طور پر قبر کو فتح کیا!
بھائی برینہم نے فرمایا
"جس دن آپ سمجھ جائیں کہ یسوع ایک ہی وقت میں خُدا اور انسان تھا، اُس دن آپ کو نجات کی گہرائی سمجھ آئے گی۔"
کیوں ضروری تھا کہ وہ خُدا بھی ہو اور انسان بھی؟
انسان کے طور پر وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ دے سکا
خُدا کے طور پر وہ کامل قربانی، لا محدود رحم، اور ابدی زندگی کا منبع بنا
1 تیمتھیس 2:5
کِیُونکہ خُدا ایک ہے اور خُدا اور اِنسان کی بِیچ میں درمیانی بھی ایک یعنی مسِیح یِسُوع جو اِنسان ہے۔
عبرانیوں 9:14
"مسیح نے اپنے آپ کو خُدا کے روح کے وسیلہ سے بے عیب قربانی کے طور پر پیش کیا۔"
نتیجہ
یسوع مسیح کوئی عام انسان نہیں تھا، اور نہ ہی وہ خُدا سے کم تر کوئی ہستی تھی —
وہی خُدا تھا، جو انسان کی صورت میں آیا تاکہ ہمیں نجات دے، ہمیں چھو سکے، اور ہمارے اندر بس سکے۔
یہی "الوہیت کا بھید"
1 تیمتھیس 3:16
اِس میں کلام نہِیں کہ دِینداری کا بھید بڑا ہے یعنی وہ جو جِسم میں ظاہِر ہُؤا اور رُوح میں راستباز ٹھہرا اور فرِشتوں کو دِکھائی دِیا اور غَیرقَوموں میں اُس کی منادی ہُوئی اور دُنیا میں اُس پر اِیمان لائے اور جلال میں اُوپر اُٹھایا گیا۔
یسوع - ایک بار پھر آگ کے ستون کی صورت میں
برادر برینہم کی تعلیم میں آگ کے ستون کا موضوع خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اُنہوں نے سکھایا کہ وہی خُداوند جو عہدِ عتیق میں آگ کے ستون کے وسیلہ سے اسرائیل کی راہنمائی کرتا تھا، یسوع مسیح میں جسمانی طور پر ظاہر ہوا۔ مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد وہی الٰہی حضوری رُوح القدس کے وسیلہ سے کلیسیا کی راہنمائی کرتی ہے۔
(Door to the Heart, 58-0302؛ The Mighty God Unveiled Before Us,
یسوع - ایک بار پھر آگ کے ستون کی صورت میں
برادر برینہم نے خروج کے آگ کے ستون، یسوع مسیح کے جسمانی ظہور اور دمشق کی راہ پر پولوس کے سامنے ظاہر ہونے والی روشنی کو ایک ہی خُداوند کی مسلسل پہچان کے طور پر بیان کیا۔
(Door to the Heart, 58-0302)
یہی وہ "خُدا کا ظہور" ہے جو آج بھی دلہن کلیسیا میں زندہ ہے، کلام کو زندہ کر رہا ہے، اور قیادت دے رہا ہے۔
آگ کا ستون — پرانے عہد میں خُدا کا ظہور
پہلی بار ہم آگ کے ستون کا ذکر پرانے عہد نامے میں دیکھتے ہیں، جب خُداوند نے اسرائیل کی رہنمائی آسمانی نور اور آگ کی صورت میں کی
خروج 13:21
اور خُداوند اُنکودِن کو راستہ دِکھانے کے لئے ستُون میں اور رات کو روشنی دینے کے لئے آگ کے ستُون میں ہو کر اُنکے آگے چلاکر تا تھا تاکہ وہ دِن اور رات دونوں چل سکیں ۔
خروج 14:24
اور رات کے پچھلے پہر خداوند نے آگ اور بادل کے ستون میں سے مصریوں کے لشکر پر نظرکی اور اُنکے لشکر کو گھبرا دیا ۔
برادر برینہم کی تعلیم کے مطابق آگ کا ستون خُدا کی ظاہر شدہ حضوری تھی، جو اسرائیل کی راہنمائی کرتی رہی۔ اُنہوں نے اسے لوگوس اور اُس الٰہی نور سے مربوط کیا جو بعد میں دمشق کی راہ پر پولوس کے سامنے ظاہر ہوا۔
(Door to the Heart, 58-0302)
یسوع مسیح — وہی خُدا، جو مجسم ہوا
وہی "لوگوس"، وہی "آگ کا ستون"، وقت کے ساتھ جسم میں آیا — یعنی یسوع مسیح۔
یوحنا 1:1، 14
"کلام خُدا تھا... اور کلام مجسم ہوا۔"
یعنی وہی خُداوند جو آگ کے ستون میں اپنی حضوری ظاہر کرتا تھا، یسوع مسیح میں جسمانی طور پر ہمارے درمیان ظاہر ہوا۔ آگ کا ستون بذاتِ خود انسانی جسم نہیں بنا، بلکہ کلام مجسم ہوا اور خُدا کی معموری یسوع مسیح میں سکونت کرنے لگی۔
(یوحنا 1:14؛ کلسیوں 2:9)
قیامت کے بعد — دوبارہ روحانی صورت میں
یسوع مسیح قیامت کے بعد اپنے جلالی جسم میں آسمان پر اٹھایا گیا۔ پنتکست کے دن رُوح القدس کلیسیا میں نازل ہوا، اور برادر برینہم نے دمشق کی راہ پر پولوس کے سامنے ظاہر ہونے والی آسمانی روشنی کو اُسی خداوند یسوع کی روحانی حضوری سے مربوط کیا۔ اس روحانی حضوری کو مسیح کی مستقبل کی جسمانی دوسری آمد کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے۔
(اعمال 1:9–11؛ اعمال 2:1–4؛ اعمال 9:3–5؛ Door to the Heart, 58-0302)
اعمال 9:3-5
جب پولوس راستے میں تھا، تو ایک روشنی اُس پر چمکی —
"اور اُس نے کہا: اے خُداوند، تو کون ہے؟ جواب ملا: میں یسوع ہوں، جسے تُو ستاتا ہے۔"
برادر برینہم کے مطابق یہ محض ایک عام روشنی نہیں بلکہ وہی آگ کا ستون اور خداوند یسوع کی روحانی حضوری تھی، کیونکہ اُس روشنی میں سے آواز آئی: “میں یسوع ہوں جسے تُو ستاتا ہے۔”
(Door to the Heart, 58-0302)
بھائی برینہم کے ساتھ آگ کے ستون کا ظہور
Yes sir
Alright 👍
Amen
Praise the God