Resources Word

Women in Ministry Ten Common Questions and Their Biblical Answers

عورت اور کلیسیائی اختیار: دس اہم سوالات، اعتراضات اور ان کے بائبلی جوابات

تعارف

عورت کی خدمت، منبر، اور پانچ رتبہ خدمت کا موضوع آج کی کلیسیا میں سب سے زیادہ زیرِ بحث مسائل میں سے ایک ہے۔ دبورہ، فلپس کی چار بیٹیاں، فتیبے، پرسکیلہ، گلتیوں 3:28، روح القدس کے عطیات، اور عورت کی منادی کے ذریعے لوگوں کے برکت پانے جیسے موضوعات کے حوالے سے بہت سے سوالات اور اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔

اس موضوع پر عموماً درج ذیل سوالات سامنے آتے ہیں :🟦

اگر عورت کو روح القدس ملا ہے تو وہ منبر پر تعلیم کیوں نہیں دے سکتی؟ 🔹
کیا گلتیوں 3:28 ("نہ مرد نہ عورت") اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ عورت اور مرد ہر خدمت میں برابر ہیں؟ 🔹
اگر دبورہ نبیہ اور قاضی تھی، تو آج عورت پاسبان یا رسول کیوں نہیں بن سکتی؟ 🔹
فلپس کی چار بیٹیوں کو نبیہ کیوں کہا گیا، اگر عورت خدمت نہیں کر سکتی؟ 🔹
کیا پرسکیلہ، فتیبے اور دیگر عورتوں نے ابتدائی کلیسیا میں اہم خدمت نہیں کی؟ 🔹
کیا 1-تیمتھیس 2 اور 1-کرنتھیوں 14 صرف اُس زمانے کی ثقافت کے لیے تھے 🔹
یا آج بھی لاگو ہوتے ہیں؟
اگر کسی عورت کی منادی سے لوگ نجات پاتے ہیں، تو کیا یہ خدا کی منظوری کی نشانی نہیں؟🔹
کیا عورت کو اتوار کے اسکول، بچوں یا خواتین کی تعلیم دینے کی اجازت ہے؟ 🔹
کیا عورت کا خاموش رہنا اس کی کمتر حیثیت کو ظاہر کرتا ہے؟ 🔹
اگر کسی کلیسیا میں عورت پاسبان یا منادی کر رہی ہو، تو ایک ایماندار کو اس معاملے 🔹
میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟

یہ وہ سوالات ہیں جو عموماً اس موضوع پر سب سے زیادہ اٹھائے جاتے ہیں، کیونکہ یہ تعلیم کلیسیائی ترتیب، روحانی اختیار، اور مرد و عورت کے کردار کے بارے میں اہم بحث پیدا کرتی ہے۔

اس مختصر مطالعہ میں ہم ان سوالات اور اعتراضات کا جائزہ بائبل مقدس اور برادر ولیم برینہم کی تعلیم کی روشنی میں لیں گے۔ ہمارا مقصد عورت کی قدر و منزلت کو کم کرنا نہیں، بلکہ خدا کے کلام میں ظاہر کی گئی الٰہی ترتیب کو سمجھنا، اس کا احترام کرنا، اور رسولی تعلیم پر قائم رہنا ہے۔

سوالات /اعتراضات اور جوابات

سوال : اگر عورت کو روح القدس ملا ہے تو وہ منبر پر تعلیم کیوں نہیں دے سکتی؟ 🟦

جواب : بائبل سکھاتی ہے کہ روح القدس کے عطیات اور کلیسیائی عہدے ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ خدا عورت کو 🔹
بھی روح القدس، دعا، نبوت، گواہی اور مختلف روحانی نعمتیں عطا کر سکتا ہے، لیکن یہ نعمتیں خود بخود کسی شخص کو کلیسیائی اختیار یا منبر کی تعلیم کا عہدہ نہیں دیتیں۔ اسی لیے پولوس رسول واضح طور پر لکھتا ہے: "میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے یا مرد پر حکم چلائے بلکہ چپ چاپ رہے" (1-تیمتھیس 2:12)۔

روح القدس ہمیشہ انسان کو خدا کے کلام اور اُس کی مقررہ ترتیب کے تابع رہنے کی رہنمائی کرتا ہے، نہ کہ اس کے خلاف چلنے کی۔ اگر خدا نے اپنی کلیسیا میں ایک خاص ترتیب مقرر کی ہے، تو روح القدس کبھی بھی اس ترتیب کو توڑنے کی تحریک نہیں دے گا۔ برادر برینہم نے بھی تعلیم دی کہ خدا نے عورت کے لیے نہایت باعزت اور بابرکت خدمت رکھی ہے، لیکن منبر کی سربراہی اور کلیسیائی اختیار کا عہدہ مرد کے لیے مقرر کیا ہے۔

لہٰذا ہر روحانی نعمت خدا کے مقرر کردہ مقام اور ذمہ داری کے اندر استعمال ہونی چاہیے۔ خدا کی نظر میں سب سے اہم چیز قابلیت یا عطیہ نہیں بلکہ فرمانبرداری ہے، کیونکہ کلام فرماتا ہے: "فرمانبرداری قربانی سے بہتر ہے" (1-سموئیل 15:22)۔ پس سوال یہ نہیں کہ عورت کو روح القدس ملا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ خدا نے اپنے کلام میں اس کے لیے کون سا مقام اور ذمہ داری مقرر کی ہے۔

سوال : کیا گلتیوں 3:28 ثابت نہیں کرتی کہ مرد اور عورت ہر خدمت میں برابر ہیں؟🟦

جواب : گلتیوں 3:28 میں پولوس رسول لکھتا ہے: نہ کوئی یہُودی رہا نہ یُونانی۔ نہ کوئی غُلام نہ آزاد۔ نہ کوئی مَرد نہ عَورت🔹
کیونکہ تُم سب مسِیح یِسُوعؔ میں ایک ہو۔۔ اس آیت کا سیاق نجات اور مسیح میں ہماری روحانی حیثیت کے بارے میں ہے۔ پولوس یہ نہیں سکھا رہا کہ مرد اور عورت کے تمام کردار، ذمہ داریاں اور کلیسیائی عہدے ایک جیسے ہو گئے ہیں، بلکہ وہ یہ بیان کر رہا ہے کہ نجات کے لحاظ سے دونوں خدا کے سامنے یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔

اسی پولوس رسول نے ایک اور مقام پر روحانی ترتیب بھی بیان کی ہے:'پس مَیں تُمہیں آگاہ کرنا چاہتا ہُوں کہ ہر مَرد کا سر مسِیح اور عَورت کا سر مَرد اور مسِیح کا سر خُدا ہے۔ (1-کرنتھیوں 11:3)۔ اگر گلتیوں 3:28 تمام ذمہ داریوں اور ترتیب کو ختم کر دیتی، تو پولوس بعد میں یہ روحانی ترتیب بیان نہ کرتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برابری اور ترتیب ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ دونوں بائبل کی تعلیم کا حصہ ہیں۔

خدا کی بادشاہی میں برابری کا مطلب ایک جیسے فرائض نہیں بلکہ ایک جیسی نجات اور ایک جیسی قدر ہے۔ جس طرح مسیح اور باپ ایک ہیں مگر ان کی ترتیب اور ذمہ داریاں مختلف ہیں، اسی طرح مرد اور عورت بھی خدا کے نزدیک قدر میں برابر ہیں، لیکن ان کے کردار اور ذمہ داریاں مختلف ہو سکتی ہیں۔ برادر برینہم نے بھی یہی تعلیم دی کہ مرد اور عورت کی قدر میں کوئی فرق نہیں، لیکن خدا نے اپنی حکمت کے مطابق دونوں کے لیے مختلف ذمہ داریاں مقرر کی ہیں۔

لہٰذا گلتیوں 3:28 کلیسیائی ترتیب کو ختم نہیں کرتی بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ نجات میں کوئی امتیاز نہیں۔ الٰہی ترتیب اختلاف یا کمتر حیثیت پیدا نہیں کرتی بلکہ کلیسیا، خاندان اور خدا کی خدمت میں ہم آہنگی، برکت اور امن پیدا کرتی ہے۔

سوال : اگر دبورہ نبیہ تھی، تو آج عورت پاسبان یا رسول کیوں نہیں بن سکتی؟🟦

جواب : دبورہ واقعی ایک نبیہ اور قاضی تھی، لیکن اس کی خدمت ایک غیر معمولی حالت تھی، نہ کہ نئے عہدنامہ 🔹
کی کلیسیا کے لیے ایک مستقل نمونہ۔ وہ اسرائیل کے قومی دور میں خدمت کر رہی تھی، جب ابھی کلیسیا کا زمانہ شروع نہیں ہوا تھا اور نہ ہی پانچ رتبہ خدمت قائم کی گئی تھی۔ مزید یہ کہ دبورہ نے خود فوج کی قیادت نہیں سنبھالی بلکہ باراق کو آگے کیا اور اُسے خدا کے حکم کی یاد دلائی (قضاة 4:6-9)۔

بائبل میں کسی غیر معمولی واقعے کو عمومی تعلیم نہیں بنایا جاتا۔نئے عہدنامہ کی کلیسیا کی بنیاد رسولوں اور ان کی تعلیم پر رکھی گئی ہے (افسیوں 2:20)۔ جب ہم رسولی تعلیم کا مطالعہ کرتے ہیں تو کہیں بھی یہ مثال نہیں ملتی کہ کسی عورت کو رسول، بزرگ یا پاسبان مقرر کیا گیا ہو۔ اس کے برعکس، کلیسیائی قیادت کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں، وہ مردوں کے لیے دی گئی ہیں (1-تیمتھیس 3:1-2)اور رسُولوں اور نبِیوں کی نیو پر جِس کے کونے کے سِرے کا پتّھر خُود مسِیح یِسُوع ہے تعمِیر کِئے گئے ہو۔

برادر برینہم نے بھی تعلیم دی کہ کلیسیا کو اپنی ترتیب اور تعلیم نئے عہدنامہ اور رسولی نمونے سے لینی چاہیے، نہ کہ کسی ایک غیر معمولی واقعہ سے۔ اگر دبورہ ایک مستقل نمونہ ہوتی تو رسول بھی عورتوں کو کلیسیائی عہدوں پر مقرر کرتے، لیکن بائبل میں ایسا کہیں نظر نہیں آتا۔

لہٰذا دبورہ کی مثال عورت کی قدر، ایمان اور خدا کے استعمال کو ظاہر کرتی ہے، لیکن اسے نئے عہدنامہ میں عورت کے لیے پاسبان، رسول یا کلیسیائی اختیار کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ خدا کی مقررہ ترتیب کو سمجھنے کے لیے ہمیں غیر معمولی واقعات کے بجائے رسولی تعلیم اور کلیسیا کے واضح نمونے کی طرف دیکھنا چاہیے۔

سوال : فلپس کی چار بیٹیاں نبیہ تھیں، پھر عورت خدمت کیوں نہیں کر سکتی؟🟦

جواب : اعمال 21:9 میں لکھا ہے کہ فلپس مبشر کی چار کنواری بیٹیاں تھیں جو نبوت کرتی تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا🔹
ہے کہ خدا عورتوں کو بھی روحانی نعمتیں عطا کر سکتا ہے اور اُنہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن بائبل یہ نہیں کہتی کہ وہ رسول تھیں، پاسبان تھیں، یا انہوں نے کسی کلیسیا کی قیادت سنبھالی تھی۔ نہ ہی اُنہوں نے کوئی کلیسیا قائم کی یا کلیسیائی اختیار کے منصب پر خدمت کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اعمال 21 میں جب پولوس کے لیے ایک خاص نبوتی پیغام دینا تھا، تو خدا نے فلپس کی بیٹیوں کو استعمال نہیں کیا بلکہ نبی آگبس کو بھیجا (اعمال 21:10-11)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبوت کی نعمت اور نبی کے عہدے میں فرق ہے۔ برادر برینہم نے بھی یہی تعلیم دی کہ ایک شخص کے پاس روحانی نعمت ہو سکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُسے کلیسیائی اختیار یا پانچ رتبہ خدمت کا منصب بھی حاصل ہو گیا ہے۔

نبوت کی نعمت کسی کو خود بخود کلیسیائی اختیار نہیں دیتی۔ بائبل میں بہت سے لوگوں کے پاس مختلف روحانی عطیات تھے، لیکن وہ پانچ رتبہ خدمت میں شامل نہیں تھے۔ خدا اپنی مرضی کے مطابق نعمتیں بھی دیتا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق عہدے بھی مقرر کرتا ہے (1-کرنتھیوں 12باب11، 28)
لیکن یہ سب تاثِیریں وُہی ایک رُوح کرتا ہے اور جِس کو جو چاہتا ہے بانٹتا ہے۔
کیونکہ جِس طرح بدن ایک ہے اور اُس کے اعضا بُہت سے ہیں اور بدن کے سب اعضا گو بُہت سے ہیں مگر باہم مِل کر ایک ہی بدن ہیں اُسی طرح مسِیح بھی ہے۔
کیونکہ ہم سب نے خواہ یہُودی ہوں خواہ یُونانی۔ خَواہ غُلام خَواہ آزاد۔ ایک ہی رُوح کے وسِیلہ سے ایک بدن ہونے کے لِئے بپتِسمہ لِیا اور ہم سب کو ایک ہی رُوح پِلایا گیا۔
چُنانچہ بدن میں ایک ہی عُضو نہیں بلکہ بُہت سے ہیں۔
اگر پاؤں کہے چُونکہ مَیں ہاتھ نہیں اِس لِئے بدن کا نہیں تو وہ اِس سبب سے بدن سے خارِج تو نہیں۔
اور اگر کان کہے چُونکہ مَیں آنکھ نہیں اِس لِئے بدن کا نہیں تو وہ اِس سبب سے بدن سے خارِج تو نہیں۔
اگر سارا بدن آنکھ ہی ہوتا تو سُننا کہاں ہوتا؟ اگر سُننا ہی سُننا ہوتا تو سُونگھنا کہاں ہوتا؟
مگر فی الواقِع خُدا نے ہر ایک عُضو کو بدن میں اپنی مرضی کے مُوافِق رکھّا ہے۔
اگر وہ سب ایک ہی عُضو ہوتے تو بدن کہاں ہوتا؟
مگر اب اعضا تو بُہت سے ہیں لیکن بدن ایک ہی ہے۔
پس آنکھ ہاتھ سے نہیں کہہ سکتی کہ مَیں تیری مُحتاج نہیں اور نہ سر پاؤں سے کہہ سکتا ہے کہ مَیں تُمہارا مُحتاج نہیں۔
بلکہ بدن کے وہ اعضا جو اَوروں سے کمزور معلُوم ہوتے ہیں بُہت ہی ضرُوری ہیں۔
اور بدن کے وہ اعضا جنہیں ہم اَوروں کی نِسبت ذلِیل جانتے ہیں اُن ہی کو زیادہ عِزّت دیتے ہیں اور ہمارے نازیبا اعضا بُہت زیبا ہو جاتے ہیں۔
حالانکہ ہمارے زیبا اعضا مُحتاج نہیں مگر خُدا نے بدن کو اِس طرح مُرکّب کِیا ہے کہ جو عُضو مُحتاج ہے اُسی کو زِیادہ عِزّت دی جائے۔
تاکہ بدن میں تفرِقہ نہ پڑے بلکہ اعضا ایک دُوسرے کی برابر فِکر رکھّیں۔
پس اگر ایک عُضو دُکھ پاتا ہے تو سب اعضا اُس کے ساتھ دُکھ پاتے ہیں اور اگر ایک عُضو عِزّت پاتا ہے تو سب اعضا اُس کے ساتھ خُوش ہوتے ہیں۔
اِسی طرح تُم مِل کر مسِیح کا بدن ہو اور فرداً فرداً اعضا ہو۔
اور خُدا نے کلِیسیا میں الگ الگ شخص مُقرّر کِئے۔ پہلے رسُول دُوسرے نبی تِیسرے اُستاد۔ پِھر مُعجِزے دِکھانے والے۔ پِھر شِفا دینے والے۔ مددگار۔ مُنتظِم۔ طرح طرح کی زُبانیں بولنے والے۔

لہٰذا فلپس کی چار بیٹیوں کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ عورت روحانی نعمتوں میں حصہ رکھ سکتی ہے اور خدا کے کام میں برکت کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن یہ مثال عورت کے لیے رسول، پاسبان یا کلیسیائی اختیار کے منصب کا ثبوت نہیں بنتی۔

سوال : کیا فتیبے اور پرسکیلہ نے خدمت نہیں کی؟🟦

جواب : جی ہاں، فتیبے، پرسکیلہ اور دیگر دیندار عورتوں نے ابتدائی کلیسیا میں نہایت اہم اور بابرکت خدمت انجام 🔹
دی۔ پولوس رسول رومیوں 16 میں فتیبے کو "کلیسیا کی خادمہ" کہتا ہے اور بیان کرتا ہے کہ وہ بہت سے لوگوں، بلکہ خود پولوس کی بھی مددگار رہی ہے (رومیوں 16باب1-2)۔ اسی طرح پرسکیلہ نے اپنے شوہر اکیلہ کے ساتھ مل کر خدا کے کام میں بڑی وفاداری سے خدمت کی اور اپلوس کی بہتر تعلیم و رہنمائی میں بھی حصہ لیا (اعمال 18:26)۔

لیکن بائبل میں کہیں نہیں لکھا کہ فتیبے یا پرسکیلہ رسول تھیں، پاسبان تھیں یا کسی کلیسیا کی بزرگ مقرر کی گئی تھیں۔ ان کی خدمت معاونت، مہمان نوازی، شاگردی اور خدا کے خادموں کی مدد کی صورت میں تھی، نہ کہ منبر کی سربراہی یا کلیسیائی اختیار کی صورت میں۔

برادر برینہم نے بھی عورت کی خدمت کو نہایت اہم اور قیمتی قرار دیا، لیکن اسے منبر کے اختیار اور کلیسیائی قیادت سے الگ رکھا۔ ان عورتوں کی مثال یہ ظاہر کرتی ہے کہ خدا عورتوں کو اپنی بادشاہی میں بڑے مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ کلیسیائی اختیار یا پانچ رتبہ خدمت کے منصب پر فائز ہوں۔

لہٰذا فتیبے اور پرسکیلہ کی مثالیں اس بات کا ثبوت نہیں کہ عورت کو رسول، پاسبان یا بزرگ بنایا جائے، بلکہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عورت خدا کی خدمت میں نہایت برکت کا ذریعہ بن سکتی ہے اور کلیسیا کی ترقی میں ایک اہم اور باعزت کردار ادا کر سکتی ہے۔

سوال : کیا 1-تیمتھیس 2 اور 1-کرنتھیوں 14 صرف اُس زمانے کے لیے تھے؟🟦
1-تیمتھیس 2 :عَورت کو چُپ چاپ کمال تابِع داری سے سِیکھنا چاہیے۔ 12اور مَیں اِجازت نہیں دیتا کہ عَورت سِکھائے یا مَرد پر حُکم چلائے بلکہ چُپ چاپ رہے۔ 13کیونکہ پہلے آدمؔ بنایا گیا۔ اُس کے بعد حوّاؔ۔

جواب : بعض لوگ کہتے ہیں کہ 1-تیمتھیس 2 اور 1-کرنتھیوں 14 کے احکامات صرف پہلی صدی کی ثقافت، مقامی🔹
مسائل یا اُس وقت کے معاشرے کے لیے تھے اور آج ان کا اطلاق نہیں ہوتا۔ لیکن بائبل خود اس نظریے کی تائید نہیں کرتی۔ پولوس رسول اپنی تعلیم کو کسی مقامی رسم و رواج یا ثقافتی مسئلے پر قائم نہیں کرتا بلکہ تخلیق کی ترتیب پر قائم کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے: "کیونکہ پہلے آدم بنایا گیا، اُس کے بعد حوا"(1-تیمتھیس 2:13)۔ چونکہ اس کی بنیاد پیدائش کی کتاب اور خدا کی تخلیقی ترتیب ہے، اس لیے یہ عارضی یا مقامی حکم نہیں بلکہ ایک تخلیقی اصول ہے۔

اسی طرح 1-کرنتھیوں کا خط صرف کرنتھس کی مقامی کلیسیا کے لیے محدود نہیں تھا۔ پولوس اپنے خط کے آغاز میں لکھتا ہے: "خُدا کی اُس کلیسیا کے نام جو کرنتھس میں ہے... اور اُن سب کے نام بھی جو ہر جگہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کا نام لیتے ہیں" (1-کرنتھیوں 1:2)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس خط کی تعلیم صرف ایک شہر یا ایک زمانے کے لیے نہیں بلکہ تمام کلیسیاؤں کے لیے دی گئی تھی۔

پولوس نے اپنی تعلیم مقامی رسم و رواج پر نہیں بلکہ پیدائش کی کتاب پر قائم کی۔ تخلیقی اصول وقت، ثقافت اور قوموں سے بالاتر ہوتے ہیں۔ جو اصول تخلیق سے جڑا ہو وہ تمام زمانوں کی کلیسیا کے لیے رہنمائی رکھتا ہے۔ اسی لیے برادر برینہم نے بھی تعلیم دی کہ رسولی تعلیم کسی دور یا ثقافت کی پابند نہیں بلکہ کلیسیا کے لیے خدا کا دائمی نمونہ ہے۔

لہٰذا 1-تیمتھیس 2 اور 1-کرنتھیوں 14 کو صرف اُس زمانے کی ثقافت قرار دینا بائبل کی مجموعی تعلیم کے خلاف ہے۔ یہ احکامات خدا کی تخلیقی ترتیب اور رسولی تعلیم پر مبنی ہیں، اس لیے آج بھی کلیسیا کے لیے رہنمائی رکھتے ہیں۔

سوال :اگر کسی عورت کی منادی سے لوگ برکت پاتے ہیں تو کیا یہ خدا کی منظوری نہیں؟🟦

جواب : بعض لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر کسی عورت کی منادی سے لوگ نجات پاتے ہیں، شفا پاتے🔹
ہیں یا برکت محسوس کرتے ہیں، تو یقیناً خدا اس خدمت کی تائید کر رہا ہے۔ لیکن بائبل سکھاتی ہے کہ برکت یا ظاہری نتائج ہمیشہ الٰہی منظوری کا قطعی ثبوت نہیں ہوتے۔ کلام فرماتا ہے: "ایسی راہ بھی ہے جو انسان کو سیدھی معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کی انتہا موت کی راہیں ہیں" (امثال 14:12)۔ لہٰذا کسی کام کی سچائی کا معیار اس کے نتائج نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے۔

خدا اپنی رحمت اور فضل میں لوگوں کو برکت دے سکتا ہے، یہاں تک کہ نامکمل حالات میں بھی۔ بعض اوقات خدا لوگوں کی بھوک، ایمان یا اخلاص کو دیکھ کر کام کرتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وہ چیز جو بظاہر کامیاب نظر آئے، لازماً خدا کی کامل مرضی کے مطابق بھی ہو۔ بائبل ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم ہر چیز کو کلام کے مطابق پرکھیں، کیونکہ نتائج ہمیشہ کسی عمل کی بائبلی درستگی کا معیار نہیں ہوتے۔

برادر برینہم نے بارہا تعلیم دی کہ تجربہ، احساسات اور ظاہری کامیابی ہمیشہ کلام سے کم درجہ رکھتے ہیں۔ اگر کسی تجربے اور خدا کے کلام میں اختلاف ہو، تو ایماندار کو کلام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ یسوع نے بھی فرمایا: "بہت سے لوگ اُس دن مجھ سے کہیں گے، اے خداوند، اے خداوند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہ کی...؟ تب میں اُن سے صاف کہہ دوں گا کہ میں نے تم کو کبھی نہیں جانا" (متی 7:22-23)۔

لہٰذا آخری معیار لوگوں کی تعداد، ظاہری برکت یا انسانی کامیابی نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے۔ ایک حقیقی ایماندار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر تعلیم، ہر خدمت اور ہر تجربے کو صحائف کی روشنی میں پرکھے اور خدا کی مقررہ ترتیب کے تابع رہے۔

سوال : کیا عورت بچوں یا خواتین کو تعلیم دے سکتی ہے؟🟦

جواب :جی ہاں۔ بائبل واضح طور پر سکھاتی ہے کہ عورتوں کی ایک اہم روحانی خدمت دوسری عورتوں اور بچوں 🔹
کی تربیت کرناہے۔ پولوس رسول ططس 2باب3-5 میں بزرگ عورتوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ نوجوان عورتوں کو محبت، پاکیزگی، گھریلو ذمہ داریوں اور خدا ترسی کی تعلیم دیں۔ اسی طرح تیمتھیس کے ایمان کی بنیاد اس کی ماں یونیکے اور نانی لوئس کی روحانی تربیت سے رکھی گئی تھی (2-تیمتھیس 1:5)۔

لہٰذا عورت کی خدمت میں بچوں کی تعلیم، خواتین کی تربیت، مشاورت، دعا اور شفاعت جیسے اہم پہلو شامل ہیں۔ خدا نے عورت کو گھر اور خاندان میں ایک طاقتور روحانی اثر عطا کیا ہے، اور ماؤں کی روحانی تربیت آنے والی نسلوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے خدا کے خادموں کی روحانی بنیاد ان کی ماؤں کی وفادار تعلیم اور دعاؤں سے مضبوط ہوئی۔

بائبل عورتوں کو نوجوان عورتوں کی تربیت کی ذمہ داری دیتی ہے، اور یہ خدمت خدا کی نظر میں نہایت قیمتی اور بابرکت ہے۔ برادر برینہم نے بھی عورت کے اس مقام کو بہت بلند قرار دیا اور فرمایا کہ ایک دیندار ماں اپنے بچوں کی زندگی میں ایسا اثر چھوڑ سکتی ہے جو نسلوں تک قائم رہتا ہے۔

لہٰذا اگرچہ بائبل کلیسیائی اختیار اور منبر کی تعلیم کے لیے ایک خاص ترتیب بیان کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ عورت کی خدمت نہایت اہم، مؤثر اور ضروری ہے۔ خدا نے عورت کو خاندان، بچوں اور دوسری عورتوں کی روحانی تعمیر کے لیے ایک خاص اور باعزت ذمہ داری عطا کی ہے۔

سوال : کیا عورت کا خاموش رہنا اس کی کمتر حیثیت ظاہر کرتا ہے؟🟦

جواب : ہرگز نہیں۔ بائبل کبھی بھی عورت کی خاموشی یا تابع داری کو اس کی کمتر حیثیت کے طور پر پیش نہیں 🔹
کرتی۔ عورت بھی مرد کی طرح خدا کی صورت پر پیدا کی گئی ہے (پیدائش 1:27)، نجات کی وارث ہے، اور مسیح میں یکساں قدر اور مقام رکھتی ہے۔ خدا کے نزدیک عورت کی روحانی قیمت مرد سے کم نہیں، بلکہ دونوں اس کے فضل اور محبت کے برابر حصہ دار ہیں۔

بائبل میں عظمت کا معیار عہدہ، اختیار یا نمایاں مقام نہیں بلکہ خدمت، فروتنی اور فرمانبرداری ہے۔ یسوع نے خود فرمایا: "جو تم میں بڑا ہونا چاہے وہ تمہارا خادم بنے"(متی 20:26)۔ لہٰذا خدا کے نزدیک عظمت خدمت اور اطاعت میں ہے، نہ کہ کسی خاص منصب یا عہدے میں۔

برادر برینہم نے بار بار کہا کہ ایک دیندار اور خدا ترس عورت دنیا کی عظیم ترین برکتوں میں سے ایک ہے۔ بائبل عورت کو عزت، احترام اور قیمتی مقام دیتی ہے۔ وہ ماں، مددگار، دعا کرنے والی، تربیت دینے والی اور خاندان کی روحانی بنیاد کے طور پر ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

فرق قدر میں نہیں بلکہ ذمہ داری اور ترتیب میں ہے۔ خدا کی الٰہی ترتیب میں ہر رکن ضروری اور باعزت ہے، چاہے اس کا کردار مختلف کیوں نہ ہو۔ جس طرح جسم کے تمام اعضا ایک جیسے کام نہیں کرتے لیکن سب ضروری ہیں (1-کرنتھیوں 12باب18-20)، اسی طرح خدا نے مرد اور عورت دونوں کو مختلف مگر باعزت ذمہ داریاں دی ہیں۔

لہٰذا عورت کا خاموش رہنا یا کلیسیائی اختیار نہ رکھنا اس کی کمتر حیثیت کی علامت نہیں، بلکہ خدا کی مقررہ ترتیب کا حصہ ہے، جس میں ہر شخص کا اپنا مقام، ذمہ داری اور عزت ہے۔

سوال :اگر کسی کلیسیا میں عورت پاسبان ہو تو ایماندار کیا کرے؟🟦

جواب : اگر کوئی کلیسیا مسلسل خدا کے کلام کی واضح تعلیم کے خلاف چلتی ہے اور رسولی ترتیب کو رد کرتی ہے،🔹
تو ایماندار کا فرض ہے کہ وہ پہلے محبت، دعا اور کلام کی روشنی میں سچائی پیش کرے۔ لیکن اگر کلیسیا پھر بھی کلام کی واضح تعلیم کو قبول نہ کرے، تو ایماندار کو اپنی روحانی رفاقت کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے اور خدا کے کلام کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے۔

بائبل فرماتی ہے: "اُن میں سے نکل آؤ اور الگ رہو، خداوند فرماتا ہے" (2-کرنتھیوں 6:17)۔ اسی طرح مکاشفہ 18:4 میں ایک آواز آتی ہے: "اے میری اُمت! اُس میں سے نکل آؤ، تاکہ تم اُس کے گناہوں میں شریک نہ ہو۔"

لہٰذا ایک ایماندار کا پہلا فرض جھگڑا کرنا یا لوگوں کی مذمت کرنا نہیں، بلکہ خدا کے کلام کے ساتھ وفادار رہنا ہے۔ اگر کوئی نظام مسلسل رسولی تعلیم اور الٰہی ترتیب کے خلاف قائم رہے، تو ایماندار کو دعا اور حکمت کے ساتھ ایسا فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ گمراہی میں شریک نہ ہو بلکہ سچائی پر قائم رہے۔

سوال :اگر عورت سب تعلیم جانتی ہے، بائبل کو سمجھتی ہے، اور مردوں سے بھی زیادہ علم رکھتی ہے، 🟦
تو پھر اسے منبر پر خدمت کی اجازت کیوں نہیں؟
جواب : بائبل کے مطابق خدا کی خدمت صرف صلاحیت، علم یا قابلیت پر مبنی نہیں، بلکہ خدا کی بلاہٹ🔹
اور مقررہ ترتیب پر مبنی ہے۔

کئی عورتیں بائبل کا بہت گہرا علم رکھ سکتی ہیں، اور بعض اوقات بعض مردوں سے زیادہ سمجھ بھی رکھتی ہیں۔ لیکن خدا نے کلیسیائی عہدے صرف قابلیت کی بنیاد پر نہیں دیے۔

مثال کے طور پر:
ہارون موسیٰ سے زیادہ فصیح تھا، لیکن خدا نے قیادت کے لیے موسیٰ کو چنا (خروج 4باب10-16)۔
داؤد اپنے بھائیوں سے چھوٹا تھا، لیکن خدا نے بادشاہی کے لیے داؤد کو چنا (1-سموئیل 16:7)۔
بہت سے کاہن قابل تھے، لیکن صرف وہی خدمت کر سکتے تھے جنہیں خدا نے مقرر کیا تھا۔

اسی طرح، برادر برینہم نے سکھایا کہ:
یہ سوال نہیں کہ عورت کتنی اچھی بول سکتی ہے یا کتنا جانتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خدا نے اپنے کلام میں کیا مقرر کیا ہے۔

: لہٰذا
علم ہونا اور عہدہ رکھنا ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
صلاحیت ہونا اور الٰہی اختیار ہونا ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
خدا کی برکت اطاعت میں ہے، نہ کہ صرف قابلیت میں۔

آخر میں، خدا کے نزدیک سب سے بڑی بات یہ نہیں کہ ہم کون سا عہدہ رکھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے خدا داد مقام میں وفادار ہیں یا نہیں۔
"اور یہاں مُختار میں یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ دِیانت دار نِکلے۔" (1-کرنتھیوں 4:2)

یہ خداوند کے حکم ہیں، اور اگر کوئی نہ جانے تو نہ جانے

آخر میں پولوس رسول یہ واضح کرتا ہے کہ یہ تعلیم اُس کی ذاتی رائے نہیں بلکہ خداوند کا حکم ہے۔

اگر کوئی اپنے آپ کو نبی یا رُوحانی سمجھے تو یہ جان لے کہ جو باتیں مَیں تُمہیں لِکھتا ہُوں وہ خُداوند کے حُکم ہیں۔ اور اگر کوئی نہ جانے تو نہ جانے۔ (1-کرنتھیوں 14باب:37-38)

اسی طرح دوسرے رسولوں نے بھی اپنی تعلیم کو انسانی حکمت نہیں بلکہ خدا کے الہامی کلام کے طور پر پیش کیا۔ پطرس رسول پولوس کے خطوط کو بھی "صحائف" میں شمار کرتا ہے (2-پطرس 3باب15-16)، اور پولوس خود فرماتا ہے: اور ہم اُن باتوں کو اُن الفاظ میں نہیں بیان کرتے جو اِنسانی حِکمت نے ہم کو سِکھائے ہوں بلکہ اُن الفاظ میں جو رُوح نے سِکھائے ہیں اور رُوحانی باتوں کا رُوحانی باتوں سے مُقابلہ کرتے ہیں۔ (1-کرنتھیوں 2:13)۔

لہٰذا رسولی تعلیم کو ثقافت، روایت یا انسانی رائے کی بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ انسان کی نہیں بلکہ خدا کے مقرر کردہ حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اگر کوئی اس تعلیم کو قبول نہ کرے، تو رسول کا جواب سادہ ہے: "اگر کوئی نہ مانے تو نہ مانے۔"

اختتامیہ

بائبل اور رسولی تعلیم کے مطابق مرد اور عورت دونوں خدا کے نزدیک یکساں قدر رکھتے ہیں اور دونوں اُس کی بادشاہی میں اہم خدمت انجام دیتے ہیں۔ تاہم خدا نے اپنی حکمت میں کلیسیا کے لیے ایک الٰہی ترتیب مقرر کی ہے، اور برکت ہمیشہ اسی ترتیب میں چلنے سے آتی ہے۔

اس مطالعہ کا مقصد عورت کی قدر کو کم کرنا نہیں بلکہ خدا کے کلام کو اُس کے سادہ اور الہامی مفہوم میں قبول کرنا ہے۔ آخرکار ہمارا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آج کی ثقافت کیا کہتی ہے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ **خدا کے کلام نے کیا فرمایا ہے۔

"کیونکہ ہم اپنی نہیں بلکہ مسِیح یِسُوع کی مُنادی کرتے ہیں کہ وہ خُداوند ہے اور اپنے حق میں یہ کہتے ہیں کہ یِسُوع کی خاطِر تُمہارے غُلام ہیں۔ " (2-کرنتھیوں 4:5)
آمین

براہ کرم اس پیغام کو اپنے عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب یا چرچ میں — جہاں بھی ہو، یہ پیغام پہنچائیں،
تاکہ لوگ جانیں کہ وقت قریب ہے، اور دلہن تیار ہونی چاہیے۔

✝️
جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے دَرخت میں سے جو خُدا کے فِردَوس میں ہے پھَل کھانے کو دُوں گا۔
(مکاشفہ 2:7)

مسیح یسوع میں آپ کا بھائی جاوید جارج
از ہلسنکی فن لینڈ

1 thought on “Women in Ministry Ten Common Questions and Their Biblical Answers”

Leave a Comment